ووٹ کی طاقت سے ہر پست کو بالا کردے
- تحریر حسین شہادت
- جمعہ 17 / نومبر / 2017
- 4236
جمہوری نظام کیلئے جمہور کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ عوام کسی کی مقبولیت کا تعین کرنے ، اسے اقتدار تک رسائی کا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اقتدار کی کرسی پر براجمان ہونے کے بعد ان کے منتخب کردہ افراد ان کی زندگی کو لاحق مسائل حل کرنے کی بجائے ذاتی مفادات کے لئے کام کرنے لگتے ہیں۔
سیاست جب اصولوں پر مبنی ہو اکرتی تھی تب اس میدان میں آنے والے کھلاڑیوں کا تعلق زیادہ تر متوسط طبقوں سے ہوا کرتا تھا ۔ یہ باکردار تھے، معاشرت بھی جانتے تھے، معیشت کو بھی سمجھتے تھے، ذاتی قابلیت کی بنیاد پر سماجی حیثیت میں ایک نمایاں مثال تصور کئے جاتے تھے۔ اور یہی ان کی وجہ شہرت بھی تھی کہ یہ اقتدار میں آکر خدمت کاپہلو نمایاں کرتے ۔ جمہوریت میں اقتدار کے حصول کی اولین شرط عوام کی رائے لینا ہوتی ہے ۔ مطلب عوام کی وجہ سے کوئی فرد یا سیاسی جماعت مسند اقتدار کو پاسکتی ہے ۔ انتخابی عمل کے آغاز سے قبل امیدوار لوگوں کو اپنی جانب راغب کرنے کیلئے مختلف جتن کرتے ہیں۔ وہ وعدہ کرتے ہیں کہ ملک و قوم کو دنیا میں نمایاں حیثیت دلانے کی ہر ممکن کوش کریں گے۔ یہ مرحلہ نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے جو امیدوار کیلئے مہم جوئی ثابت ہو تا ہے۔ عوام کی یہ عدالت جزو وقتی ہوتی ہے اس میں سیاست دان جادوئی انداز میں مختلف پیرائے میں انہیں اپنے سحر میں گرفتار کرتے ہیں ۔ باالفاظِ دیگر بیوقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ماضی قریب تک یہ عوا م سادہ لوح تھے اور بہت آسانی سے سیاست دانوں کے فریب میں آجاتے تھے ، کسی پست اخلاق شخص کو وقتی طور پر مفاد کے حصول یا پھر اپنی سادگی اور بے علمی کے باعث بلندیوں پر پہنچادیتے تھے۔
مہذب سیاسی و جمہوری ماحول میں ہر فرد آزا د اور خودمختار ہے کہ وہ اپنے ووٹ کو اپنی مرضی و منشا کے مطابق کسی کے بھی حق میں استعمال کرسکے۔ اس پر کوئی دباؤ ڈالا جاسکتا ہے اور ہی کسی قسم کی زبر دستی کی جاسکتی ہے ۔ یہ اس کا آئینی و قانونی اور بنیادی حق ہے تاہم نفسیاتی طور پر دباؤ ڈالنے کی روش ابتداء سے اب تک موجود ہے ۔ یہ طریقہ ء کار گو درست نہیں لیکن اس کا استعمال عام ہورہا ہے اور بعض اوقات لوگ باشعور ہونے باجود اس کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ انتخابات کے موقع پر ایک ضابطہ اخلاق بنایا جاتا ہے جس میں اس بات کی یقین دہانی کی جاتی ہے کہ امیدوار نے اپنی ذات سے متعلق درست معلومات فراہم کی ہیں۔ وہ دیانت و امانت کے کے مروجہ اصولوں پر پورااترتا ہو ، بددیانت نہ ہو، صاحبِ کردار ہو ، معاشرے میں اچھی شہرت کا حامل ہو، لوگ اسے مثال قرار دیتے ہوں ، اپنے کردار اور اوصاف سے عوام کو مائل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، مخالفین کی برائیوں اور ان پر کیچڑ اچھالنے سے پرہیز کرتا ہو۔ اگر وہ ان پر پورا اترتا دکھائی دے تو گمان غالب ہے کہ وہ ایک اچھا سیاست دان ہوگا البتہ دوسروں کے عیب فاش کرکے خود کو معتبر ظاہر کرنے والا یقیناً اچھے اوصاف کا حامل نہیں ہوسکتا۔
ہماری فرسودہ سیاست میں یہ چلن عام ہے کہ سیاست دان مخالفین پر کیچڑ اچھال کر اپنی سیاست کی دکان چمکاتے ہیں ۔ موجودہ سیاسی منظر نامہ بھی اس یہی صورتحال پیش کررہا ہے ۔ آج بھی ہمارے ملک کے بڑے بڑے سیاست دان انہی اصولوں کے تابع نظر آتے ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ موجودہ ترقی یافتہ اور ٹیکنالوجی اس جدید دور میں بھی عوام کو اسی طرح سے بے وقوف بنایا جاسکتا ہے ۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس منظر کشی کررہی ہے ۔ اب دور ذرائع ابلاغ کا جدید ترین دور ہے۔ اب لوگوں کو گمراہ کرنا آسان نہیں۔ عوام اب جلسے جلوسوں میں اس انداز سے شرکت نہیں کرتے جس طرح کا والہانہ انداز پہلے ہوا کرتا تھا۔ عوام نے 2013میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرکے بڑی سیاسی قوت کو باور کروادیا تھا کہ اب ان کا فیصلہ اس کے حوالے سے بدل گیا ہے ۔ 2018کے انتخابات قریب ہیں ، پاناما کا ہنگامہ ان کیلئے نئی راہ متعین کررہا ہے۔ اس ہنگامے سے کئی سیاسی رہنماؤں کے بدعنوانی کے پردے چاک ہوتے جارہے ہیں ۔ نظامِ انصاف گو کہ انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے لیکن یہ عوام کی راہنمائی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ کردار اور اخلاق سے عاری سیاست دان بجائے خود میں بہتری لانے کے عدلیہ کو معتصب قرار دے کر جان بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ جبکہ کچھ عدلیہ کے مخالفین سے متعلق فیصلوں کو اپنی بقا سمجھ کر اس کے پیچھے پناہ لینے کی کوشش کررہے ہیں۔
پاکستان کے عوام کے لئے باشعور ہونے کا ثبوت دینے کا موقع آگیا ہے ۔ وہ اسے طاقت دیں جو ان کی طاقت کو عزت اور احترام دے ۔ اسے اپنا ہاتھ تھمائیں جو ان کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چل سکتا ہو۔ ان کی بقا ، کامیابی اور ترقی کا ضامن ہو ۔ ظاہری طور پر خوشنماخواب دکھانے والا تعبیر فراہم کرنے سے اسی طرح قاصر ہوتا ہے جیسے ہر ہاتھ ملانے والے دوست نہیں ہوتا۔