موسمی تبدیلی، سیاسی سرگرمی اور میاں صاحب کی حیرت

جب سے گلوبل وارمنگ ( اردو میں عالمی گرمائش) کا سلسلہ شروع ہوا ہے نہ صرف گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ  ہر سال گرمیوں کا  دورانیہ بھی بڑھ جاتا ہے۔  جیسا کہ نومبر کا دوسرا عشرہ ختم ہونے والا ہے مگر ان دنوں جس شدت کی سردی ہوا کرتی تھی اب نہیں ہے۔  کیونکہ اب موسم  بدل رہا ہے۔  دن چھوٹے اور راتیں طویل ہوتی جارہی ہیں۔ 

موسم کی گرمی سے جہاں ساری دنیا متاثر ہوتی  ہے تو اسی طرح اس گرمی کا  اثر دنیا کی سیاست میں بھی بہت واضح دکھائی دے رہا ہے ۔ شائد یہ گرمی دنیا جہان کے سیاستدانوں کے دماغوں کو خراب کرنے کا سبب بن رہی ہے ۔ موسم بدل رہے ہیں گرمیاں جا رہی ہیں، جاڑا آرہا ہے مگر دنیا کے حالات موسم کی تبدیلی  سے قطع نظر مسلسل خراب ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ملکی  سیاست میں نیا موڑ لانے کی کوششیں بھی نظر آرہی ہیں۔  میاں نواز شریف کے حواری ابھی تک اعلی عدلیہ کے کردار کو مشکوک قرار دے رہے تھے مگر اب تو میاں صاحب خود بھی ڈھکے چھپے لفظوں میں انصاف کے دوہرے میعار کی بات کر رہے ہیں۔ میاں صاحب اور ان کے اہل خاندان کو اپنے سوا کوئی دکھائی نہیں دے رہا ۔ وہ پاکستان کو ایک مملکت سمجھنے کی بجائے جاتی امراء جیسی کوئی اپنی جائیداد سمجھ رہے ہیں۔ 

اس سے ایک بات تو میاں صاحب اور دیگر سیاستدانوں کو سمجھ آجانی چاہئے کہ پاکستان میں انصاف کے دوہرے معیار کا زنمانہ ختم ہو گیا ہے ۔  نواز شریف جیسے لوگوں کو تو قدرت نے عدالتوں کو قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ذمہ داری دی تھی اوراس ایک طرفہ انصاف کے نظام کو بدلنے کا موقع دیا۔ مگر آپ نہیں بدل سکے ۔ آج آپ کہہ رہے ہیں کہ  پاکستان میں قانون کا دوہرا معیار ہے۔  اگر یہ دوہرا  معیار موجود ہے تو یہ  بااثر لوگوں کیلئے کسی اور طرح انصاف کرتا ہے اور بے اثر لوگوں کیلئے کسی اور طرح کام کرتا ہے۔

لگ یہ رہا ہے کہ موسم کی یہ تبدیلی دنیا کے سیاسی افق پر کچھ نئے چاند چڑھانے والی ہے ۔ پاکستان کے ساتھ ساتھ سعودی عرب نے بھی کرپشن کے خاتمے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات شروع  ہیں جوکہ دونوں ملکوں کے بدعنوان طبقے کیلئے قیامت سے کم نہیں۔ ہمارے عوام کو اب تو سمجھ آجانی چاہئے کہ جیلوں سے ہیرو نہیں مجرم نکلتے ہیں۔ ان پر پھولوں کی پتیاں نہیں ڈالی جاتیں ۔