تری راہبری کا سوال ہے
- تحریر ارشاد احمد صدیقی
- ہفتہ 18 / نومبر / 2017
- 5852
سوال یہ ہے کہ قافلہ لٹا ہوگا یا بدستور لٹ رہا ہے؟
کیا جاتی امرا کے گرد پولیس کے باوردی کمان دار بدستور ایستادہ ہیں۔ کیا نااہل اور ناامین کا کنبہ پنجاب ہاﺅس کی ساری سہولتوں کے ساتھ براجمان ہے۔ کیا چالیس گاڑیوں کاپروٹوکول اشارے کا منتظر ہے۔ یہ کیا ملک ہے۔ وزراء اپنے منصب کی ادائیگی کی بجائے فرد واحد کی گناہ گاریوں پر پردہ ڈالنے میں مصروف ہیں۔ کیا پنجاب ہاﺅس کے الحمرا میں دربارِ اکبری بدستور آراستہ ہے۔
کیا اسحاق ڈار لندن کے ہسپتال کے آرام دہ بستر پر لیٹے لیٹے ماہانہ چیک موصول کر رہے ہیں۔ اور وزارت خزانہ کی ڈوریاں ہلا رہے ہیں۔ کیا شاہد خاقان عباسی بدستور سوچ رہے ہیں کہ ”میرے وزیراعظم تو نواز شریف ہیں“۔
چوں کنر از کعبہ برخیرد کجا ماند سلمان!
وہ گردان تو بدستور گونج رہی ہے جو اسلام آباد سے شروع ہوئی اور بذریعہ GT روڈ لاہور تک آئی کہ ”مجھے کیوں نکالا“ ۔ ممکن ہے کہ عدالت عالیہ کے تفصیلی بیان کے بعد شاید یہ گردان اپنی موت آپ مر جائے (لیکن ہم حتمی طور پرنہیں کہہ سکتے) وہ تو کہتے ہیں کہ بات پانامہ سے شروع ہوئی اور اقامہ پر رکی۔ شاید وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پانامہ کی بدعنوانیوں میں اقامہ بھی شامل ہے۔ دراصل اقامہ کا جد امجد پانامہ ہے۔ پانامہ اور اقامہ کی سنگت سب نے سنی اور بار بار سنی۔ لیکن حکومت چلانے والے عدالت عالیہ کے تحمل اور بردباری کو سراسرنظرانداز کرتے رہے۔ عدالت عالیہ تو کہتی ہے کہ نواز شریف عدلیہ اور عوام دونوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ کوشش تو کر چکے لیکن ان کی جھولی میں دروغ گوئی ہی ٹپکتی رہی۔ اور پھر بھی کہتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا۔
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
وہ برملا کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ناانصافی ہوئی۔ سزایافتہ مجرم جب عدالت سے باہرنکلتا ہے تویہی کہتا ہے کہ میرے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔ کیا پنجاب ہاﺅس جیسا جلال شاہانہ انصاف نہیں۔ انگلی کے اشارے پر وزیروں کی فوج کا لبیک کہنا انصاف نہیں۔ رعونت کا کوئی حساب نہیں اعتراف جرم میں سب سے زیادہ خطرناک کردار مریم نواز ہیں۔ یہ اندازہ ان کی گفتگو میں سراسرعیاں ہے اور وہ ہر شکوے کے جواب میں جواب شکوہ بھی تحریر کر دیتی ہیں۔
عدالت عالیہ کہتی ہے۔
اِدھر اُدھر نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
تجھے راہزنوں سے گلہ نہیں، تیری رہبری کا سوال ہے
مریم نواز گرہ لگاتی ہیں۔
اِدھر اُدھر نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں، تیری ”منصفی“ کا سوال ہے
جواب شکوہ یا جواب آں غزل سراسر ادبی کاوش ہے جو دوسری زبانوں سے بہتر ہے اور مذہب طرز اظہار ہے۔ اسی طرح مریم نواز جنرل پرویز مشرف کے جواب میں کہتی ہیں۔
یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا
وہ کون بول رہاہے خدا کے لہجے میں
ان کا کہنا بجا سہی لیکن ذرا گریباں میں جھانکیں تو ان کو ماضی میں صرف ایک خدا کی گونج سنائی دے گی جس کا فرمان گزشتہ تیس سال سے گونج رہا ہے۔
سیاست میں جواب آں غزل کو ہم احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ لیکن اب تو اسلام آباد میں یہ رواج بھی فیشن اختیار کر رہا ہے۔ کوئی دل والے یہ کہتے سنتے جا رہے ہیں کہ:
عابد علی، سعد و طلال کو دیکھیں!
شہزادی کو فرشی سلام کرتے ہیں
جاتے جاتے ایک اور بات عرض خدمت کرتے چلیں کہ پانامہ نے نہ صرف اقامہ ہی کو جنم دیا بلکہ اسی کے طفیل حدیبیہ پیپر ملز کی نقاب کشائی ثانی ہوئی جس کووقت کے خداوندوں نے لپیٹ کر سرد خانوں میں دفن کر رکھا تھا۔
خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
خدا بنے تھے یگانہ تب مگر بنا نہ گیا