طاقت کا توازن کہاں ہے
- تحریر سرور غزالی
- اتوار 19 / نومبر / 2017
- 4057
اس ملک میں کسی وزیر آعظم کو تختہ دار پر لٹکانا ہو یا اسے معزول کرکے گھر بھیجنا ہو تو ایسا کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔ لیکن کسی ایسے فرد کو جس کے خلاف ان گنت مقدمات ہوں، جسے قیدوبند کی سزا بھی ہو چکی ہو، کو اس کے مجرمانہ فعل سے باز رکھنا کسی کے بس کی بات نہیں- یہ بات آن دا ریکارڈ ہے کہ لال مسجد کے مولانا اور جنرل مشرف کی آپس میں ٹھنی اور نتیجے کے طور پر جنرل صاحب، خواہ ظاہری وجوہات کچھ بھی ہوں جلا وطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ مولانا صاحب اب بھی اپنے عالمانہ خطاب کے ذریعے طلباوطالبات کے تزکیہ نفس پر معمور ہیں۔
پاکستان میں سیاستدانوں کی کردار کشی، سیاسی جماعتوں کی منفی منظرکشی اور جمہوری حکومت کے عدم استحکام کی تشہیر میں میڈیا اور نامعلوم قوتیں پیش پیش رہتی ہیں مگر بارہ دنوں سے بند دارالحکومت اور اس کا جڑواں شہر راولپنڈی اور اس کے نتیجے میں عوام کو پیش آنے والی مصیبتوں کے ذمہ دار شخص کے بارے میں میڈیا اور سوشل میڈیا مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ یہ شخص پولیس کو مطلوب ہے لیکن قابل گرفت نہیں۔ اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کے لیے مطالبات کوعوام الناس سے مل کر جلسہ وجلوس کی صورت میں حکومت وقت کے سامنے پیش کرنا ساری دنیا میں جمہوری حق مانا جاتا ہے۔ جبکہ تحریری صورت میں یادداشتیں پیش کرنا، اخبارات و رسائل کو استعمال میں لانا، مذاکرات میں شمولیت، جمہوریت کے اہم نکات ہیں۔
لیکن پاکستان دنیا کہ چند گنے چنے ملکوں میں سے شاید ایک ہو جہاں عوام کی خوشنودی اور مرضی کے نام پر عوام کے لیے عام روزمرہ زندگی میں مشکلات کھڑی کرکے ان کی زندگی کو ہفتوں اور مہینوں اجیرن کرکے اسے سیاست اور جمہوریت کا نام دیا جاتا ہے۔ اسے ان کے مسلک و مذہب کی بحالی کا عنوان دیا جاتا یے۔ اور حکومت، عدلیہ، انتظامیہ اور طاقت کےدیگر ذرائع جن کو عوام ٹیکس دے کر سہارا دیتی ہے، بے بس عوام کی بے بسی پر خاموش ہیں۔ اور ایسے میں عوام کا خود اور دیگر سیاسی جماعتوں کا بھی ایسی کسی تالہ بندی کے خلاف اٹھ کر آواز کا نہ بلند کرنا بھی تعجب خیز ہے۔
چند ہزار افراد بغیر کسی طلسمی طاقت یعنی مالی قوت کے لاکھوں افراد کو بھلا کیونکر یرغمال بناسکتے ہیں۔ اندرون و بیرون ملک سے ملنے والی معاشی تعاون ہی اس طرح کے دھرنے کی کامیابی کی ذمہ دار ہیں۔ عدلیہ کے نرم اور مبہم احکامات جو از خود ان کی حکم عدولی کا پیغام لیے ہوئے ہیں اور جس سے انتظامیہ کو کارروائی کرنے میں پس وپیش کرنے کا جواز دکھائی دے رہا ہے۔ سب کچھ ملک کو ناکام ریاست (بانانا ری پبلک) نہیں بلکہ بقول ایک فیس بک ٹوئٹر کے مولانا رپبلک بنا رہی ہے۔