ترقی کے لئے مذہبی انتہا پسندی پر قابو پانا ضروری ہے
- تحریر مختار چوہدری
- اتوار 19 / نومبر / 2017
- 5409
اس بار میں پاکستان کی ترقی میں رکاوٹوں کے حوالے سے کچھ لکھنا چاہتاہوں۔ ہر کوئی اپنی اپنی سوچ کے مطابق پاکستان کے مسائل کو ترتیب دیتا ہے اور اسی طرح ترقی کے راستے میں جو رکاوٹیں ہیں وہ بھی ہر کسی کی نظر میں مختلف ہو سکتی ہی۔ں لہذا جو میں لکھوں گا وہ ضروری نہیں ہے کہ درست ہو یہ صرف میرا خیال ہو سکتا ہے۔
کسی بھی معاشرے کی ترقی کا دارومدار اس معاشرے کی اجتماعی سوچ، تخلیقی اور ذہنی صلاحیتوں پر ہوتا ہے۔ جسے انگریزی زبان میں ریسرچ (Research ) کہتے ہیں وہ بھی سوچ، مشاہدات اور تجربات کا مرکب ہوتی ہے۔ اور سوچ وہ ہوتی ہے جو جامد یا زنگ آلود نہ ہو بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیوں کو قبول کرنے کا نام سوچ ہے۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے کھلی سوچ، تخلیقی صلاحیتیں اور علم کی فراوانی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں اور علم کی آخری سرحد تک آج تک کسی کو رسائی حاصل ہوئی ہے نہ ہو سکتی ہے۔ علم کے دروازے زمانے کے ساتھ ساتھ ہی کھلتے ہیں اور علم کی کارگاہ سے ہمیشہ کن فایکون کی سدا اٹھتی ہے۔ علم کی کوئی سرحد ہے نہ ہی علم کسی درسگاہ یا نصاب کا مرہون منت ہے۔ علم مشرقی ہے نہ مغربی، علم دینی ہے نہ دنیاوی۔ علم کی ابتدا و انتہا اس پاک ذات سے ہے جس نے توازن کے ساتھ یہ ساری کائنات تخلیق فرمائی ہے اور اس کائنات کا رب بھی وہی ہے۔ علم کو تقسیم کرنے والوں سے میرا سوال یہ ہے کہ وہ کونسا علم تھا جو اللہ نے آدم علیہ السلام کو سکھایا جس کی بنا پر فرشتے بھی آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ ریز ہوئے۔ اور وہ کونسا علم ہے جس کے لیے نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم حاصل کرو چاہے اس کے لیے تمہیں چین جانا پڑے۔ اور وہ کونسا علم ہے جسے حاصل کرنے کے لیے آپ نے یہ دعا فرمائی۔ رب زد نی علما ( اے میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما)۔
سو پاکستان کی ترقی میں پہلی رکاوٹ سوچ کا فقدان اور علم کی کمی ہی قرار پائے گی۔ پاکستان جب سے معرض وجود میں آیا ہے تب سے آج تک وطن عزیز میں تخلیقی سرگرمیاں بہت ہی محدود پیمانے پر ہوئی ہیں اور پاکستان کا نظام تعلیم اس قدر منتشر ہے کہ ہم کبھی ایک قوم ہی نہیں بن سکے۔ اب یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہوگا کہ انگلش میڈیم سکول میں پڑھنے والے بچے، مذہبی مدرسے سے فارغ التحصیل بچے اور بغیر عمارت کے کھلے آسمان تلے یا کسی درخت کے نیچے سرکاری سکول سے پڑھے ہوئے بچے میں کیا فرق ہے۔ اگر ان تینوں میں کوئی چیز مشترک ہے تو وہ یہ کہ تینوں کی تعلیم میں تربیت کا عنصر صفر ہوگا۔ اور تینوں ہی تعلیم سے فارغ ہو کر صرف ایک سوچ رکھتے ہیں اور وہ ہے روزگار۔ کچھ اور سوچنے کی صلاحیت ہی نہیں ہوگی۔ مذہبی تعلیم حاصل کرنے والے کسی ایک فرقے یا مسلک سے منسلک ہو کر باقی ساری دنیا سے الگ تھلگ ہو جاتے ہیں اور سوچنے کی تمام صلاحیتوں سے مرحوم ہو جاتے ہیں۔ اس ساری بحث کا مقصد یہ ہے کہ ملک میں یکسانیت کے لیے ایک قوم تیار کرنے کے لیے یکساں تعلیمی نظام کا ہونا از حد ضروری ہے۔
اس کے بعد پاکستان میں خواتین کے کردار سے بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا کا کوئی ملک یا معاشرہ ایسا نہیں جہاں خواتین کو متحرک کیے بغیر ترقی ہو گئی ہو۔ اس کے لیے میں سب سے پہلے اسلامی ممالک کی مثال پیش کروں گا۔ ترکی ہمارا برادر ملک ہے وہاں ہر شعبے میں خواتین برابر کردار ادا کر رہی ہیں۔ بین الاضلاعی سڑکوں پر جا بجا عورتیں کھانے کے ریستورانوں پر یا تو کام کر رہی ہیں یا خود چلا رہی ہیں۔ اسی طرح ہر شعبے میں خواتین برابر نظر آتی ہیں۔ انڈونیشیا، ملائیشیا اور دوسرے کئی ممالک میں بھی خواتین مختلف شعبوں میں بڑی کامیابی سے کام کر رہیں ہیں۔ اور ان میں اکثریت ایسی خواتین پر مشتمل ہے جو مذہبی روایات کی پابند ہیں۔ ان کے لباس اور اطوار 100% اسلامی روایات کی عکاسی کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں بے شمار شعبے ایسے ہیں جس میں سرے سے کوئی خاتون نظر نہیں آتی۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ عورت گھر سے باہر محفوظ نہیں ہے۔ گویا ایک ایسے ملک میں جو اسلام کے نام پر اسلامی نظام حکومت قائم کرنے کے لئے معرض وجود میں آیا اس ملک میں ہماری بہن بیٹیوں کو تحفظ حاصل نہیں ہے۔ تمام غیر اسلامی ممالک میں خواتین بے دھڑک ہر جگہ آ جا سکتی ہیں اور ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ بالا خوف و خطر کام بھی کر سکتی ہیں۔ میں پاکستانی اور مسلمان مستورات کی ہی بات کر رہا ہوں جو بیشتر یورپی ممالک کے علاوہ امریکہ، کینڈا، آسٹریلیا اور جاپان میں بہت کامیابی کے ساتھ مختلف شعبوں میں کام کرتی نظر آتی ہیں۔
اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ مسلمان خواتین مسلم ممالک میں محفوظ نہیں اور غیر مسلم ممالک میں مکمل محفوظ ہیں۔ تو پھر یاد رکھنا چاہیے کہ ایک ہاتھ سے آدھا کام ہی ہو سکتا ہے۔ دوسرا ہاتھ شامل کیے بغیر آپ ترقی کا سفر کیسے شروع کر سکیں گے۔ ایسی بات نہیں ہے کہ پاکستان میں عورتوں کو ہر کام سے الگ تھلگ رکھا گیا ہے۔ کئی ایک شعبوں میں خواتین بڑی کامیابی سے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ اقوام متحدہ سے لے کر یورپ کی سفارتکاری تک خواتین کا کردار ہے۔ ناروے میں پچھلے 2 سال سے محترمہ رفعت مسعود پاکستان کی سفیر ہیں اور کامیاب سفیر ہیں۔ کسی بھی معاشرے یا ملک کی ترقی میں جو چیزیں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ ان میں لوگوں کی مثبت سوچ، علم اور ریسرچ کی جستجو، درست نظام حکومت(ایسی جمہوریت جس میں عام آدمی کو ریاستی امور میں شامل رکھا جاتا ہے اور سیاسی جماعتوں کی واقعی تنظیم سازی ہوتی ہے اور شخصی کی بجائے اجتماعی فیصلے ہوتے ہیں۔)، سرمایہ کاری، اور عام آدمی یا مزدور کی مزدوری کا مناسب معاوضہ اور مضبوط اور بااختیار ادارے۔ اس طرح احساس ذمہ داری کو اجاگر کیا جانا۔
اس کے علاوہ ترقی میں میڈیا کا بھی بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔ پھر سیاحت ایک ایسی منافع بخش صنعت ہے جو نہ صرف ملکی معیشت کے ضروری ہے بلکہ تہذیب و تمدن اور ثقافت میں بھی اس کا اہم کردار ہے۔ غیر ملکی سیاحوں سے زرمبادلہ کے ساتھ ثقافت کا تبادلہ بھی ہوتا ہے اور ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ آج کی گلوبل ویلج دنیا میں سیاحت کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ یہاں ایک پھر میں اسلامی ممالک کی مثال پیش کروں تو ترکی میں سالانہ 36 ملین سیاح آتے ہیں جو ترکی کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک وقت وہ بھی رہا ہے جب ترکی میں کسی بھی ملک سے زیادہ سیاح آتے تھے۔ اسی طرح عرب امارات کی معاشی ترقی سیاحت سے وابستہ ہے۔ انڈونیشیا، ملائیشیا اور مصر میں بھی ہر سال ملٹی ملین سیاح سیر کرنے آتے ہیں۔ اوپر بیان کیے گئے ترقی کے لیے اقدامات میں سے پاکستان میں کوئی ایک بھی نظر نہیں آتا ہے۔ جمہوریت کو کبھی استحکام نہیں ملا۔ جمہوریت کی بنیاد بلدیاتی ادارے ہوتے ہیں جو پاکستان میں کبھی تسلسل کے ساتھ قائم ہی نہیں ہوئے۔
ہماری ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ مذہبی رجعت پسندی ہے۔ ہمارے مذہبی ٹھیکیدار ہمیشہ ایسے خدشات کا شکار رہتے ہیں کہ ترقی سے ہمارے مذہب کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ حالانکہ کہ ہمارا دین ہی وہ واحد دین ہے جس کو اندیشہ زوال نہیں۔ اگر ہمارے دین کو کوئی خطرہ ہو سکتا ہے تو وہ صرف ہمارے اعمال اور کردار سے ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خوف سے سیاح پاکستان کا رخ نہیں کرتے ورنہ پاکستان بلا شعبہ سیاحتی ترتیب میں دنیا کے پہلے 10 ممالک میں جگہ پا سکتا ہے۔ پاکستان میں سب سے پرانی ثقافت دریافت ہوئی ہیں۔ پاکستان موسموں کے لحاظ سے آئیڈیل ملک ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات قدرتی حسن و جمال میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ پاکستان کو اللہ تعالی نے ساحل سمندر سے نوازا ہے۔ پاکستان میں دنیا کے بہترین اور تازہ پھل وافر مقدار میں پیدا ہوتے ہیں (یہ الگ بات ہے کہ پھلوں کو سنبھالنے کے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں)
اب ذرا ترقی کے لئے ریڑھ کی ہڈی یعنی تحقیق کی بات کرلیں۔ اول تو پاکستان میں کوئی قابل ذکر یونیورسٹی ہی نہیں جہاں اس شعبے میں کام ہوتا ہے۔ دوئم عام طالبعلم کا اس طرف رجحان ہی نہیں کیونکہ تحقیق دراصل ایک خشک اور غیر معروف شعبہ ہے اور اس میں بہت وقت لگتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں لوگ جلد امیر ہونے اور شہرت حاصل کرنے کے متمنی ہیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن کوئی اسلام آباد میں ایک بار اپنے زرعی تحقیقاتی سنٹر کا چکر لگا کر دیکھ لے۔ کہ پچھلے 20 سال میں کیا کچھ ہوا ہے۔ اسی طرح سیاحت کے محکمہ کی بات کریں تو محکمہ موجود ہے۔ تنخواہوں کی مد میں کروڑوں روپے جا رہے ہیں لیکن کارکردگی زیرو ہے۔
ملکی ترقی میں انصاف کا کردار بھی بنیادی حثیت رکھتاہے اور پاکستان میں انصاف کے ساتھ جو انصاف ہو رہا ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ اب اگر میں اپنا خیال پیش کروں تو مذہبی رجعت پسندی، انتہا پسندی اور دہشت گردی ملکی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ امن و امان کا مسئلہ ہو یا سیاحوں کو ملک لانے کا، سرمایہ کاری ہو یا بیرونی تجارت ہر جگہ اور ہر معاملے میں مذہبی انتہا پسندی آڑے آتی ہے۔ اس وقت بھی مولویوں کا ایک گروپ وفاقی درالحکومت کی ناکہ بندی کیے ہوئے ہے۔ اس انتہا پسندی کو یہاں تک لانے میں ہمارے ادارے بھی ذمہ دار ہیں اور کچھ سیاستدانوں کا بھی ہاتھ ہے۔ کیونکہ وقتا فوقتا ہمارے خفیہ ادارے ان مذہبی گروہوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں اور کبھی کبھار کئی سیاستدان بھی یہ کام کرتے ہیں۔ بالخصوص دائیں بازو کے سیاستدان (اب تو دائیں اور بائیں میں تمیز بھی مشکل ہو گئی ہے کیوں کہ کل کے دائیں آج بائیں مڑ چکے ہیں۔ اور جو بایاں تھے وہ سیدھے ہو چکے ہیں)۔ آج کل اسٹیبلشمنٹ کے بہت چرچے ہیں۔ مجھ ایسا کم علم تو آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کہتے کس کو ہیں۔ یہ کبھی سول ہوتی ہے تو کبھی فوجی لیکن کسی کو نظر نہیں آتی۔ بس اس کا ذکر اذکار ہی ہوتا ہے۔ محسوس ایسے ہوتا ہے کہ یہی وہ چڑیا ہے جس کی چونچ میں ملک کی باگ ڈور ہے۔
میں اس اسٹیبلشمنٹ نامی چڑیا سے عرض کرتا ہوں کہ آپ ضرب عضب اور ردالفساد جیسی مشکل ترین جنگوں کی بجائے بس اتنا کرم کر دیں کہ ان مذہبی گروہوں کو استعمال کرنا چھوڑ دیں تو شاید ان جنگوں کی نوبت ہی نہ آئے۔ پاکستان الحمداللہ مسلمانوں کا ملک ہے لہذا ہمارے دین کو کوئی خطرہ ہے نہ کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ہر کسی کو اپنے عقیدے کے ساتھ زندہ رہنے اور اپنے طریقے سے اللہ کی عبادت کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ اگر ملک میں ادارے مضبوط ہوں اور مذہبی حوالے سے کوئی مضبوط پالیسی اپنائی جائے اور ملک کا بیانیہ درست سمت میں رکھا جائے، ملک میں مذہبی پالیسی ہو یا کوئی دوسری صرف متعلقہ ادارے ہی اس کو وضع کرنے کا اختیار رکھتے ہوں، کسی فرد یا گروہ کو اس کا حق نہیں دیا جا سکتا۔ تمام مذہبی مدارس کو ایک نظام میں لایا جائے اور حکومتی سر پرستی میں چلایا جائے۔ تو ہم اس عفریت کو آژدھا بننے سے پہلے ہی قابو کر سکتے ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ سے میری درخواست ہے کہ وہ حق حکمرانی عوام کو دے دیں اور خود ریاستی تحفظ اور امن و امان کی ذمہ داریاں سنبھالیں تو ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی جماعتوں میں بھی جمہوریت کو پنپنے دیں اور جمہوریت کی روح بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنائیں۔ یہ ملک ہم سب کا ہے۔ اس کی حفاظت اور ترقی کی ذمہ داری بھی ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔