فوری انتخابات کا راستہ
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 19 / نومبر / 2017
- 4304
پاکستان کی سیاسی اورجمہوری سیاست میں انتخابات اور جمہوری تسلسل کا مسئلہ ہمیشہ سے بگاڑ کا شکار رہا ہے ۔ جمہوریت اور فوجی حکمرانی کے درمیان جاری بحران نے ہمیشہ مسائل پیدا کئے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سیاسی اور فوجی حکومتوں کے درمیان آنکھ مچولی کا کھیل دیکھنے کو ملتا رہتا ہے ۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کے سیاسی منظر نامہ میں جو بحرانی کیفیت غالب ہے اس کا ایک حل نئے انتخابات کی طرف فوری پیش قدمی ہے ۔ اگرچہ فوری نئے انتخابات کا نعرہ محض پاکستان تحریک انصاف اورعمران خان نے لگایا ہے اور اس نعرہ کو دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے پزیرائی نہیں ملی ۔ لیکن اس کے باوجود کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اب مسئلہ کا حل نئے انتخابات ہی ہیں۔
اگرچہ نئے انتخابات اگلے برس 2018ستمبریا اکتوبر میں متوقع ہیں ۔ ان انتخابات کے لیے موجودہ اسمبلیوں کو جون 2018میں ختم ہوکر ایک نئے نگران سیٹ آپ کی طرف جانا ہے۔ اگر کوئی ایک سیاسی فریق یہ سمجھتا ہے کہ اس وقت فوری انتخابات کی طرف جانا چاہیے تو یہ اس کی ذاتی خواہش تو ہوسکتی ہے لیکن اس خواہش کو سیاسی جماعتوں پر مسلط نہیں کیا جاسکتا۔ بنیادی طور پر اگر موجودہ حکومت سمجھتی ہے کہ اس کو نئے انتخابات کی طرف پیش قدمی کرنی ہے تو یہ اس کا صوابدید ی اختیار ہے ۔ فوری انتخابات کا مطالبہ کو ئی غیرآئینی اور غیر جمہوری عمل نہیں ۔ دنیا کے جمہوری ممالک میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں سیاسی بحران کے حل میں قبل ازوقت انتخابات کے راستے کو اختیار کرکے مسئلہ کا حل تلاش کیا گیا ۔ عمومی طور پر چارحوالوں سے قبل ازوقت انتخابات کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے ۔ اول حکومت سمجھے کہ اس وقت اس کی سیاسی پوزیشن بڑی مستحکم اور مقبول ہے او راس کا فائدہ اٹھا کر ہم نئے مینڈیٹ کے ساتھ اگلے پانچ برس کے لیے اپنی حکومت کو مستحکم کرسکتے ہیں ۔ دوئم وہ سمجھتی ہے کہ اگر کوئی ایسی بحرانی کیفیت ہے جس کا نقصان حکومتی ساکھ کو ہورہا ہے تو وہ اس بحران سے بچنے کے لیے فوری انتخاب کا راستہ اختیارکرکے خود کو سیاسی طور پر محفوظ بناتی ہے ۔ سوئم اگر سیاسی جماعتوں کی مجموعی اکثریت دباؤ کی مدد سے فوری انتخابات کا مطالبہ کرکے بحران پیدا کردے یا خود حکومتی صفوں میں انتشار پیدا ہوجائے تو حکومت کو فوری انتخاب کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے ۔
اس وقت حکمران طبقہ کا خیال یہ ہے کہ ملک میں کوئی ایسا بحران نہیں جو ہمیں فو ری انتخابات کا تقاضہ کرتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عمران خان کے مطالبہ کو تسلیم کرنے کی بجائے حکومتی موقف یہ ہی ہے کہ انتخابات اپنے وقت پر ہی ہوں گے ۔ مسلم لیگ نون کی جو دوروزہ سیاسی مجلس لاہور میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے زیر صدارت ہوئی جس میں وزیر اعظم سمیت کئی اہم راہنماوں نے شرکت کی، اس میں فوری انتخابات کا معاملہ بھی زیر بحث آیا ۔ کچھ ارکان نے اس کی حمایت بھی کی لیکن مجموعی طور پر اس کو کوئی بڑی حمایت نہیں مل سکی ۔ لیکن اس کے باوجود عمران خان کے علاوہ کچھ سیاسی پنڈت فوری انتخابات کو یکسر نظرانداز نہیں کرتے۔ یہ سب کچھ ایسے وقت میں زیر بحث ہے جہاں کچھ سیاسی حلقے اور پس پردہ انتخابات کا راستہ بھی نہیں دیکھ رہے ۔ ان کے بقول فوری یا بروقت انتخابات مسئلہ کا حل نہیں۔ اس کے مقابلے میں کسی نئے ٹیکنوکریٹ یا قومی حکومت کے عمل کو سامنے لانے کے امکانات ہیں ۔ ایسے میں کچھ سیاسی پنڈت یہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت خود ہی فوری انتخابات کا راستہ اختیا رکرلے تو کسی نئے تجربے سے بچا جاسکتا ہے ۔
حکمران جماعت کا المیہ یہ ہے کہ اسے انتخابات سے ایک برس قبل ہی ایک بڑے سیاسی بحران یا بھونچال سے گزرنا پڑرہا ہے ۔ اول نواز شریف کی بطور وزیر اعظم نااہلی ، دوئم نواز شریف اور ان کے خاندان سمیت کئی راہنماوں پر مقدمات، سوئم نااہلی کے نتیجے میں حکومت اور اداروں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج یا بداعتمادی، چہارم جماعت کے داخلی معاملات میں انتشار اور حکمت عملیوں کی بنیاد پر پیدا شدہ تقسیم ، پنجم جماعتی سطح پر مزاحمت اور مفاہمت کے درمیان پائی جانے والا کنفیوژن۔ عمومی طور پر کسی بھی سیاسی حکومت کے لیے انتخابات سے ایک برس قبل کا عرصہ سب سے ٖزیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔ کیونکہ وہ انتخابات سے ایک برس قبل نئے انتخابات میں اپنی مرضی کے نتائج کے لیے ووٹروں کو راضی کرنے کے لیے ترقیاتی پیکج اور سیاسی جوڑ توڑ کی مدد سے انتخابی فضا کو اپنے حق میں ہموار کرکے اپنی سیاسی پوزیشن کو مستحکم کرتی ہے ۔ لیکن پانامہ کے مقدمہ اور نواز شریف کی نااہلی سمیت خاندان پر مقدمات نے قیادت سمیت پوری جماعت کو ایک بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے ۔
جماعت میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو نواز شریف اور مریم نواز کی مزاحمت یا اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی کو پارٹی سمیت انتخابات میں بہتر نتائج کے حوالے سے ایک منفی عمل کے طور پر دیکھتے ہیں ۔ مسلم لیگ کے اندر ایک مضبوط گروپ ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ ابھی تو سابق وزیر اعظم کو نااہلی کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن اگر نیب کی عدالتوں سے نواز شریف اور ان کے خاندان کو سزائیں سنادی جاتی ہے تو اس کا بڑا نقصان ان کو نئے انتخابات کے نتائج میں دیکھنے کو مل سکتا ہے ۔ یہ ہی طبقہ دلیل دیتا ہے کہ نواز شریف خود ہی فوری انتخاب کی مدد سے خود کو بھی بچاسکتے ہیں اورجماعت بھی ایک بڑے بحران سے بچ سکتی ہے ۔ اس طبقہ کے بقول نواز شریف کو آنے والے دنوں میں زیادہ سیاسی اور قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس سے پارٹی کی مقبولیت بھی کم ہوگی اور پارٹی کا انتشار بھی بڑھے گا۔ سیاسی و جمہوری حکومت کے سامنے مسئلہ حکمت عملی کا ہوتا ہے ۔ اس کو دیکھنا پڑتا ہے کہ کونسی حکمت عملی اس کو سیاسی فائدہ دے سکتی ہے ۔ مسئلہ چند مہینوں بعد یا پہلے انتخابات کا نہیں بلکہ اپنی سیاسی ساکھ کو برقرار رکھ کر انتخابات کے نتائج پر کنٹرول کرنا ہوتا ہے ۔ اس لیے حتمی فیصلہ تو حکومت کو ہی کرنا ہوتا ہے ۔ لیکن ایک اچھی اور سیاسی حکومت حالات کی نزاکت کو دیکھ کر کچھ ایسے فیصلے بھی کرتی ہے جو عمومی طور پر اسے ایک محفوظ راستہ کی تلاش میں مدد دیتے ہیں ۔ مسلم لیگ میں ایک طبقہ یہ دلیل دیتا ہے کہ اگر حکومت فوری انتخاب کا راستہ اختیا رکرتی ہے تو اس کو اس کے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر اور اگلے برس سینٹ کے انتخابات میں اکثریت سے محروم ہونا پڑے گا ۔ یہ دلیل وزن رکھتی ہے لیکن اگر اس کے برعکس جو سیاسی اور قانونی بحران نواز شریف اور ان کے خاندان سمیت پارٹی کو درپیش ہے اس کا فوری حل ان کے حق میں نہ نکل سکا تو ترقیاتی منصوبے اور سینٹ کی اکثریت بھی ان کو کچھ نہیں دے سکے گی ۔
اس خدشہ کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے کے اس وقت نواز شریف جس انداز سے اپنے ، حکومت اور اداروں کے درمیان ٹکراؤ پیدا کررہے ہیں اس سے خود سیاسی نظام کے تسلسل کو بھی خطرہ ہے ۔ ان کا یہ کہنا کہ ان کو نکالا نہیں بلکہ نکلوایا جارہا ہے یعنی ان کے بقول کوئی طاقت یعنی اسٹیبلیشمنٹ ان عدالتوں کے پیچھے کھڑی ہے ۔ یہ ہی وہ نکتہ ہے جو نواز شریف کی سیاست سمیت آنے والے انتخابات پر سوالیہ نشان بھی بن سکتا ہے ۔ کیونکہ اگر نواز شریف اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی اختیار کرتے ہیں جو کربھی رہے ہیں، اس سے سیاسی بحران یا اداروں کے درمیان کشیدگی پھیلے گی اس میں نیا انتخاب بھی سوالیہ نشان ہوگا ۔ نواز شریف کی ایک مشکل یہ بھی ہے کہ وہ خود تو 2018 کے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے ، دوسرا ان کو اب یہ بھی محسوس ہورہا ہے کہ اگر موجودہ حکومت اسی طرح سے چلتی رہی تو نئے وزیر اعظم کا سیاسی کنٹرول بڑھ سکتا ہے اور وہ غیر اہم ہوسکتے ہیں ۔ حکومت کا مسئلہ بھی یہ ہے کہ شاہد خاقان عباسی کو بطور وزیر اعظم کچھ کرنے کے لیے نواز شریف کی طرف ہی دیکھنا ہوتا ہے جو حکومتی نظام کو بھی کمزور کررہا ہے۔ کیونکہ حکومت میں رہ کر اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی مشکل ہوتی ہے۔ یہ ہی مشکل اس وقت حکومت کو ہے جو بیک وقت نواز شریف اور اداروں کے درمیان تماشہ بنی ہوئی ہے ۔
اس لیے نئے انتخابات کا مسئلہ محض عمران خا ن کا ہی نہیں بلکہ خود حکومت اور بالخصوص نواز شریف کے پاس بھی ایک بہتر آپشن یہ ہی ہے کہ وہ حالات کی نزاکت اور بحران کو سمجھ کر فوری انتخابات کا راستہ اختیار کرکے سیاسی اور جمہوری عمل کو مضبوط بنیاد فراہم کرسکتے ہیں ۔