مذہبی دھرنا اوردھرنا سیاست
- تحریر صاحبزادہ محمد امانت رسول
- اتوار 19 / نومبر / 2017
- 3664
ہمارے ہاں کسی فعل کوجائز قرار دینے کی ایک تاویل یہ ہوتی ہے کہ فلاں شخص، جماعت یا گروہ نے بھی ایسا کیا تھا۔ اس سے پہلے اگر کوئی غلط کام حکومت اور ریاست کی غفلت کے باعث ہوا تھا تو اس غلط کام کوہمیشہ کیلئے جاری رہناچاہئے ۔ اگر آپ تنقید کریں گے یا اس سے منع کریں گے توگویا جرم عظیم کے مرتکب ہوں گے۔ فرقوں کے بعد تقسیم کی پرانی صورت نئے نقوش کے ساتھ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پہ چند دنوں سے بہت نمایاں ہوئی ہے اور وہ سیکولر اور مخالف سیکولر تقسیم ہے ۔
اب کوئی بھی شخص یا جماعت ان دونوں میں سے کسی سے بھی تعلق رکھتی ہے ، اس کے ہم خیال ہر جائز و ناجائز اقدام کی حمایت کو اپنے لئے فرض خیال کرتے ہیں۔ خواہ اس سے کتنا ہی ملک اور عوام کا نقصان ہو۔ حامی حکومت اور مخالف حکومت کے حوالے سے میڈیا کی تقسیم بھی غیرمناسب ہے ۔ اب لوگ بہت آسانی سے سمجھتے اورکہتے ہیں کہ فلاں چینل اوراخبار حکومت کا ہے اور فلاں حکومت مخالف ہے ۔ اس سے میڈیا کا جانبدار ہونے کا تاثر ملتا ہے ۔ سیاستدانوں کی طرح میڈیا بھی اس کی ذرّہ بھرپرواہ نہیں کررہا۔ جس مسئلہ کو ہم حکومت مخالف تحریک میں بطور آلہ استعمال کر رہے ہیں کہیں وہ مسئلہ ہمارے ایمان اور پاکستان کے لئے خطرہ تو نہیں ہے ۔ کوئی گروہ کوئی مسئلہ لے کر حکومت کے خلاف کھڑا ہو جائے میڈیا اس لئے ساتھ دیتا ہے کہ کم ازکم اس بحران سے حکومت کمزور ہوگی یا حکومت پریشان ہوگی ۔
یہی صورتِ حال کچھ روز سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پہ دیئے ہوئے دھرنے کی ہے ۔ گیارہ بارہ روز سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے لوگ پریشان ہیں ۔ ایک طرف دھرنا جمہوری حق ہے تودوسری طرف عوام کی آزاد دانہ نقل و حمل بھی ان کا بنیادی حق ہے ۔ مہذب دنیا میں یہ دونوں حق متاثر نہیں ہوتے۔ جنہوں نے جلوس نکالنا یا دھرنا دینا ہے وہ اس طرح اپنے لئے جگہ کا انتخاب کرتے ہیں جس سے ان کا مقصد پورا ہو اور عوام کو بھی تکلیف نہ ہو۔ ہمارے ہاں اس نکتہ کو اجاگر نہیں کیا جاتا ۔ میڈیا کواپوزیشن کرنے کے بجائے اصلاح کا فریضہ سرانجام دینا چاہیے ۔ احتجاج کرنے والوں کو اکسانے کی بجائے ان کی راہنمائی کریں کہ وہ لوگوں کی زندگیاں اجیرن نہ کریں۔ پاکستان میں دھرنا سیاست کا آغاز قاضی حسین احمد مرحوم نے کیا تھا اور اسے کمال پہ عمران خان اور طاہر القادری نے پہنچایا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں طویل ترین دھرنا دینے کا اعزاز عمران خان کو حاصل ہے ۔ ان کا ریکارڈ ابھی تک ورلڈ کپ کی طرح کسی نے نہیں توڑا۔ اللہ نہ کرے یہ اعزاز ان سے کوئی چھینے ۔
موجودہ دھرنا ختم نبوت کے قانون کے حوالے سے ہے ۔ اس حساس مسئلے پہ تحریک لبیک یا رسول اللہ کا ایک دھڑا دھرنا دے کر حکومت سے اپنی شرائط منوا کر اسلام آباد سے لاہور پہنچا تھا کہ دوسرا دھڑا عازم دھرنا ہوا۔ پہلے گروپ نے اورنہ ہی دوسرے گروپ نے کسی سے مشورہ کیا اور نہ ہی کسی کو اعتماد میں لیا۔ حکومت سے باہر ہی نہیں بلکہ حکومت اور پارلیمنٹ کے اندر بھی علمائے کرام موجود ہیں۔ ان میں سے ہر ایک قابلِ احترام ہے ۔ اس طرح اکیلی پرواز سے بہت ہی غلط اور منفی تاثر ابھرا کہ وہ مسائل جو امت میں وحدت کا سبب ہیں ، کیا ان پہ بھی مذہبی طبقہ متفق نہیں ہے ۔ کسی دور میں متفق علیہ مسائل پہ بلا تفریق مسلک و فرقہ تمام علمائے کرام متحد ہو کر عوام کے پاس جاتے اورحکومت کو ٹف ٹائم دیتے تھے ۔ مولانا نورانی، مولانا مودودی ، مولانا غوث ہزاروی، مولانا مفتی محمود، مولانا عبدالستار خان نیازی اوردیگر علمائے کرام مسلکی اختلاف کے باوجود مل بیٹھتے ، مشورے کرتے اور قدم اٹھاتے تھے ۔
تن تنہا اقدان کرنے کا طرزِ سیاست درحقیقت متشدد انہ سوچ سے کشید ہے۔ ان صاحبانِ دھرنا نے اپنی زندگی اسی تعصب کی آبیاری میں صرف کی ہے، اب وہی رنگ سیاست میں بھی دکھا رہے ہیں۔