عمران اور نوازکی سیاست پر ضد کا غلبہ

پاکستان کی سیاست ایک ایسے دوراہے پر آگئی ہے جہاں سیاستدان ہوش کھو بیٹھے ہیں۔ معاملات کو خوش اسلوبی سے نمٹانے کے بجائے ضد میں آکر پھنس گئے ہیں۔ نان ایشوز، ایشو بن گئے ہیں۔ نواز شریف اور عمران خان حقیقت پسندی سے دور ہو گئے ہیں۔ نواز شریف مقدمات کے حوالے سے حقیقت کا ادراک کر رہے ہیں نہ مریم حقیقت پسندی سے کام لے رہی ہیں۔ نہ حسن اور حسین حقیقت کا ادراک کر رہے ہیں۔ نہ اسحاق ڈار کے معاملہ پر عقلیت پسندی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی بھی ہوش کے بجائے جوش کی پالیسی ہی ثابت ہو رہی ہے۔ پتہ نہیں انہیں کس نے مشورہ دیا ہے کہ وہ اداروں سے لڑائی میں جیت سکتے ہیں۔ کیا یہ پتہ چلنے کے بعد کہ کلثوم نواز بیمار ہو چکی ہیں انہیں حلقہ  120 سے انتخاب لڑانے کا فیصلہ سیاسی تھا یا بچگانہ۔

نواز شریف کا نا اہل ہونے کے بعد دوبارہ پارٹی صدر بننا بھی کوئی معتبر فیصلہ نہیں۔ ایک جذباتی فیصلہ ثابت ہو رہا ہے۔ پاناما کے معاملہ کو ہی دیکھ لیں آج سب کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف نے معاملے کو مس ہینڈل کیا ہے۔ آج لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس نا اہلی سے بہتر تھا نواز شریف استعفیٰ دے دیتے۔ کم از کم سیاست تو بچ جاتی۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ حسن اور حسین کو اشتہاری قرار دلوا کر نواز شریف اپنی اور مریم نواز کی سیاست کیسے بچا لیں گے۔ اپنی ساری دولت ملک سے باہر رکھ کر وہ پاکستان کی سیاست کیسے کر لیں گے۔ ایک قطری خط پر وہ ساری قوم کو کیسے مطمئن کر لیں گے۔ کس نے انہیں یہ سمجھا دیا ہے کہ جیل جا کر ان کی سیاست بچ جائے گی۔ سیاست جوش سے نہیں ہوش سے بچ سکتی ہے۔ اور ہوش مندی کے لیے انہیں اپنی ذات کی نفی کرکے سیاسی فیصلے سیاسی انداز میں کرنے ہوں گے۔

نواز شریف کو سمجھنا ہوگا کہ انہوں نے ایک بھر پور سیاسی اننگ کھیل لی ہے۔ ضد کرنے اور انا پرستی سے حقیقت بدل نہیں جائے گی۔ لندن کے چکر لگانے سے ان کی مقبولیت میں اضافہ نہیں ہو سکتا۔ بلکہ ہر چکر سے یہ باور ہو رہا ہے کہ ان کا جینا مرنا پاکستان نہیں ہے۔ حسن اور حسین کے نہ آنے سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ اپنے بچوں کا مستقبل بھی پاکستان میں نہیں دیکھ رہے۔ اب جب خبریں آرہی ہیں کہ وہ مقدمات اور ریفرنسز کے خوف سے پاکستان میں اپنے باقی  اثاثے بھی بیچ رہے ہیں۔ تو اس کا انہیں کیا سیاسی فائدہ ہو سکتا ہے۔  اداروں سے ٹکرا کر انہیں کیا ریلیف مل سکتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں وہ بھٹو بننا چاہتے ہیں۔ لیکن کیا انہیں یہ نہیں پتہ کہ بھٹو کے بعد بینظیرکو بھی اداروں سے مفاہمت کرکے ہی حکومت ملی تھی۔ وہ ایسا کیوں سمجھ رہے ہیں کہ ان کے اور بھٹو کے کیس میں بہت فرق ہے۔  فوج نے بھٹو کا تختہ الٹا  تھا۔ اور انہیں ان کی ہی حکومت میں سزا ہوئی ہے۔

بھٹو کی دفعہ جمہوریت کا بستر گول ہوا تھا۔ اب جمہوریت چل رہی ہے۔ انہی کی پارٹی کا وزیر اعظم ہے۔ بھٹو اکیلا نہیں ان کی ساری جماعت جیل میں تھی۔ کارکن جیل میں تھے۔ نواز شریف وی آئی پی کی طرح گھوم رہے ہیں۔ وہ مکمل حکومتی پروٹوکول انجوائے کر رہے ہیں۔ بھٹو کی بیٹی جوانی میں مارشل لا کی قید میں تھی۔ اس کے بیٹے جلا وطن تھے۔ آپ اور آپ کا خاندان آزاد ہے۔ حکومت آپ کی ہے۔ وزیر آپ کے ہیں۔ آپ کیسے مظلوم۔ اسحاق ڈر کے معاملہ کو ہی دیکھ لیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ اسحاق ڈار انا کا مسئلہ بن گئے ہیں۔ مجھے یہ نہیں اندازہ کہ میری یہ تحریر لکھنے اور چھپنے کے درمیان اسحاق ڈار کے معاملہ کا کیا بن جائے گا۔ لیکن ایسا ضرور لگ رہا ہے کہ یہ معاملہ انا کا سوال بن گیا ہے۔ سوال یہ نہیں رہا کہ کیا ہونا چاہیے۔ سوال یہ ہو گیا ہے کہ ہم کیوں ایسا کریں۔ معاملہ لڑائی اور ضد کا بن گیا ہے۔ کہیں نہ کہیں ایسا لگ رہا ہے کہ یہ بچوں کی لڑائی اور ضد بن گئی ہے۔ ورنہ اگر وہ واقعی بیمار ہو گئے ہیں تب بھی وہ وقتی طور پر مستعفیٰ ہو سکتے ہیں اور ان کی اپنی گھر کی حکومت ہے، جب صحت مند ہو جائیں واپس آسکتے ہیں۔ اور اگر واقعی ریفرنسزکی وجہ سے سنیاس لے گئے ہیں تب بھی مستعفیٰ ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن نواز شریف کی ضد کے آگے سب بے بس۔

مجھے تو یہ بھی سمجھ نہیں آرہا کہ ان کے معاملے کو ہینڈل کرنے والے ان کے دوست ہیں یا دشمن۔ خواہ مخواہ ایک استعفیٰ کو ایشو بنایا جا رہا ہے۔ ان کے معاملہ کو الجھا یا جا رہا ہے۔ ان کی عوامی ساکھ کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ ان کو اپوزیشن کے ہاتھ میں یرغمال بنا دیا گیا ہے کہ لو کر لو حساب پورا۔ یہ اسحاق ڈار کا کیسا دوست ہے جو ان کو یہ سمجھا رہا ہے کہ اس طرح وزارت سے چمٹے رہنے سے ان کے لیے کوئی آسانی پیدا ہو جائے گی۔ معاملے سدھر جائیں گے۔ کوئی بریک تھرو ہو جائے گا۔ نہیں ہر گز نہیں بلکہ وہ جتنے دن اس طرح وزارت سے چمٹے رہیں گے ان کے لیے مسائل بڑھتے جائیں گے۔

اسی طرح ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک یتیم لڑکی کے ساتھ ہونے والا ظلم بھی عمران خان کے لیے بچوں کی ضد بن گئی ہے۔ امین گنڈا پور سے دوستی نے ہوش کھو دیئے ہیں۔ پہلے علیم خان اور جہانگیر ترین سے دوستی نے ہوش ختم کیے اب یہ معاملہ سب کے سامنے ہے۔ عائشہ گلالئی کے معاملہ کو بھی مس ہینڈل کیا گیا۔ اب ڈیرہ اسماعیل خان کے معاملے کو بھی مس ہینڈل کیا جا رہا ہے۔ وہ بھی اپنی ضد اور انا میں یہ باور کروا رہے ہیں کہ بس میں ہی میں ہوں۔ جس طرح ڈیرہ اسماعیل خان کے معاملہ پر انہوں نے اپنے رکن قومی اسمبلی کو نکالا ہے۔ اس کو جمہوری تو نہیں کہا جا سکتا۔ وہ بھی بادشاہ بنتے جا رہے ہیں۔ نواز شریف کی طرح طاقت کا اندھا نشہ۔ بچوں جیسی ضد۔ غصہ۔ پسند نا پسند۔ پارٹی میں بغاوت لیکن ضد نہیں چھوڑنی۔

اگر عمران خان واقعی بیرون ملک میں موجود پاکستانیوں کا پیسہ واپس لانے میں سنجید ہ ہوں تو پہلے جہانگیر ترین کو کہیں کہ بھائی سب پیسے ملک میں لاؤ ورنہ میں تمہیں پارٹی سے نکال دوں گا۔ لیکن وہ تو ڈیرہ اسماعیل خان میں یتیم لڑکی کے لیے آواز اٹھانے پر رکن قومی اسمبلی کو پارٹی سے نکال سکتے ہیں، لیکن جہانگیر ترین کو دولت باہر رکھنے پر نہیں نکال سکتے۔ وہ حکومت کو نیب زدہ ہونے پر مستعفیٰ ہونے کا کہتے ہیں لیکن اپنی پارٹی کے نیب زدگان کونکالنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ پنجاب میں گڈ گورننس پر تو سوال اٹھاتے ہیں لیکن کے پی کے میں سات خون بھی معاف ہیں۔ وہ کے پی کے میں صرف سیر کے لیے جاتے ہیں۔

گڈ گورننس پر شاید سوال پوچھنے کی انہیں بھی اجازت نہیں۔ جب ادارے نواز شریف کے خلاف کارروائی کریں تو اچھے جب انگلی ان کی طرف اٹھے تو غصہ۔ نواز شریف عدلیہ کا احترام کرے۔ یہ ان پر لازم نہیں ہے۔ ہر چیز میں ضد اور انا پرستی عمران خان کے فیصلوں میں بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے۔

میں کیا کروں۔ میں کدھر جاؤں۔ میرے ملک کی سیاسی قیادت ہوش کھو بیٹھی ہے۔ بچہ بن گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے ملک بچوں کے ہاتھ میں چلا گیا ہے اور وہ اس کو کھلونا سمجھ کر کھیل رہے ہیں۔