فاٹا اصلاحات نا گزیر ہیں!
- تحریر افتخار بھٹہ
- منگل 21 / نومبر / 2017
- 4647
فاٹا اصلاحات اعلان کے بعد قبائلی علاقہ جات کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ جات جلد ہونے والے ہیں۔ اس حوالہ سے لائحہ عمل طے کرنے کیلئے طویل مشاورتی عمل اختیار کیا گیا تاکہ مستقبل میں پیدا ہونے والے ممکنہ چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے ۔ قبائلی علاقہ جات ویسے تو وفاق پاکستان کا حصہ ہیں مگر وہاں کے شہریوں کو پاکستان کے دیگر علاقوں میں بسنے والے لوگوں کے برابر شہری حقوق حاصل نہیں ہیں۔ انہیں ایف سی آر کے قانون کے تحت ڈیل کیا جاتا ہے۔ ہر ایجنسی میں حکومتی نمائندگی پولیٹیکل ایجنٹ کرتا ہے۔
قبائلی علاقہ جات صوبہ پختونخوا کے ساتھ انضمام کی سب سے زیادہ مخالفت مسلم لیگ (ن) کے اتحادیوں جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور محمود اچکزئی کی طرف سے آئی ہے۔ ان علاقہ جات میں مذہبی حوالہ سے سب سے با اثر جماعت جمعیت علماء اسلام ہے۔ وہ فاٹا کے انضمام اور پختونخواہ میں شمولیت کو غیر ملکی سازش قرار دیتی ہے جبکہ اچکزئی پختون کلچر کے حوالے سے تنگ نظر نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ وہ قبائلی علاقائی کلچر کی مختلف روایات لباس اور رواج کے قانون کو بر قرار رکھنا چاہتے ہیں۔ یہی صورتحال مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے ہے۔ ان کو اس بات کا ڈر ہے کہ علاقہ کے پختونخوا میں شامل ہونے سے وہاں پر جمہوری عمل جاری ہوگا اور دیگر سیاسی جماعتیں ان علاقوں میں رسائی کر لیں گی۔ جس سے جمعیت علماء اسلام کی سیاسی اجارہ داری کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ویسے بھی افغان جہاد کے دوران یہ علاقے مجاہدین اور افغان راہنماؤں کیلئے پناہ گاہ ثابت ہوئے ہیں کیونکہ یہ لوگ مسلح تھے لہذا وہاں پر روایتی جرگہ نظام اور خوانین جو کہ فیڈریشن کی نمائندگی کرتے تھے، کمزور ہوئے ہیں۔ ان مسلح گروہوں اور مذہبی رہنماؤں نے وہاں پر قوت کے ذریعے خلاء کو پر کرنے کی کوشش کی ہے۔ ویسے بھی جہاد افغانستان میں پاکستان اور امریکہ کو ان گروہوں کی حمایت کی ضرورت تھی، جس کے حوالے سے عالمی منظر نامہ اور ضروریات تبدیل ہو چکی ہیں۔
مولانا فضل الرحمن فاٹا کو علیحدہ صوبہ میں تبدیل کرنے کے خواہش مند ہیں تاکہ وہاں پر اپنی خود مختار صوبائی حکومت قائم کر سکیں۔ پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتیں سوائے چند ایک کے قبائلی علاقوں کو صوبہ پختونخوا میں شامل کرنے کی حمایت کر چکی ہیں۔ موجودہ حکومت فاٹا کے پختونخواہ میں ادغام کے بارے میں کافی سنجیدہ ہے۔ وزیر اعظم پاکستان اب اسی اصلاحات نفاذ کمیٹی کے چیئر مین ہیں جس میں پختونخواہ کے چیف منسٹر، چیف آف آرمی سٹاف اور دیگر فوج کے اعلیٰ افسران شامل ہیں۔ فاٹا میں بسنے والے پاکستانیوں نے طویل عرصہ تک بہتر زندگی اور انسانی حقوق کیلئے انتظار کیا ہے۔ یہ علاقہ گزشتہ چالیس سال سے افغان جنگ کی وجہ سے عالمی قوتوں کی پراکسی وار کا شکار رہا ہے۔ کبھی یہاں پر ڈرون حملے ہوئے ہیں، کبھی جہادیوں نے پناہ گاہیں قائم کی ہیں۔ ان گروہوں کی انتقامی کارروائیوں کا شکار فیڈریشن کی حمایت کرنے والے قبائلی سردار اور خان ہوتے رہے ہیں۔ پھر بھی مقامی لوگ پاکستان کی فیڈریشن کے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔ برطانوی دور کے دوران جرگہ سسٹم کو قائم رکھا گیا۔ تمام دیوانی اور فوج داری مقدمات کا فیصلہ جرگہ کی طرف سے کیا جاتا تھا جس کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا۔ بعد میں برطانیہ نے اس میں کچھ اصلاحات کے بعد فرنٹیئر کرائم ریگو لیشن (ایف سی آر) کا نفاذ کیا۔
قیام پاکستان سے قبل جون1947میں قائد اعظم محمد علی جناح نے غفار خان کے ساتھ تعاون کے حوالے سے گفتگو کی۔ خان غفار خان نے قائد اعظم کی مشروط حمایت کا اعلان کیا کہ فاٹا کے علاقہ جات کا انضمام سابق صدر سرحد( صوبہ پختونخواہ) میں کر دیا جائے۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق ایک معاہدہ میں قبائلی علاقہ جات کے سابق انتظامات کو جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا جس کے بدلے میں پاکستان کی حمایت کی جائے گی۔ اس معاہدہ میں قبائلی علاقہ جات میں مزید کنٹرول حاصل کرنے کیلئے1952میں ترمیم کی گئی۔ 1970میں وا دی سوات ، چترال، مالاکنڈ اور ہزارہ کے علاقوں کو صوبہ سرحد (NWFP)میں شامل کر لیا گیا۔ باقی فاٹا کے علاقہ جات کو وفاق کے زیر اہتمام دے دیا گیا۔ اس طرح صوبہ سرحد میں دو طرح کے قبائلی علاقہ جات قائم کیے گئے۔ فاٹا اور پاٹا (صوبائی زیر اہتمام) وفاقی علاقے کی ذمہ داری گورنر سرحد کو سونپی گئی۔ آئینی طور پر فاٹا کی حیثیت عالمی باڈرپر ڈیورنڈ لائن کی حفاظت تھا اور اس پسماندہ علاقہ میں ترقی اور غربت کے خاتمہ کیلئے کام کرنا تھا۔
انتظامی طور پر فاٹا میں دو طرح کے علاقہ جات ہیں جن میں ساتھ پولیٹکل ایجنسی، باجوڑ ، مالا کنڈ، خیبر اورکزئی ، کرم، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور لکی مروت شامل ہیں۔ اس علاقہ کے انتظامات وفاق کے کنٹرول میں پولیٹیکل ایجنٹ کرتے ہیں۔ 1997میں اس علاقے کے لوگوں کو ووٹ کا حق دے دیا گیا مگر انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوئے فاٹا میں پہلی مرتبہ جماعتی بنیادوں پر انتخابات 2013میں کروائے گئے۔ یہ لوگوں کیلئے جمہوریت ، جمہوری نظام میں شمولیت اور چیلنج کے مواقع تھے کیونکہ ان علاقوں کا کلچر روایات انتہائی منفرد اہمیت کا حامل ہے۔ حال ہی میں جنوبی وزیر ستان میں بننے والی ایک کمیٹی نے عورتوں کے تنہا باہر نکلنے پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جس سے محسوس ہوتا ہے کے غیر دانستہ طور پر طالبان کلچر کو پروموٹ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ جس کے ساتھ یہاں پر جمہوری عمل اور انسانی حقوق کے لیے کی جانے والی اصلاحات کے نفاذ میں رکاوٹ آ سکتی ہے۔ قبائلی سردار اپنے کلچر کو چیلنج کرنے والی اصلاحات کی مخالفت کر سکتے ہیں جس میں عوام کی بجائے خوانین کو ووٹ دینے کی اجازت تھی۔ ان کی قانونی شناخت موجود تھی۔ ان اصلاحات کے نفاذ سے ان کی سماجی اور سیاسی قوت میں کمی آ سکتی ہے۔ ان کو یہ اختیارات کافی طویل عرصہ تک حاصل رہے ہیں اور انہیں حکومت پاکستان کی طرف سے نامزد کیا جاتا تھا۔ ان اجارہ داریوں کی وجہ سے کرپشن اور بد عنوانی کی وجہ سے یہ علاقے پسماندہ اور غریب رہے ہیں۔
علاقہ کے لوگ آئین پاکستان کے تحت دیئے گئے کئی حقوق سے محروم ہیں اور انتظامات ایف سی آر کے ظالمانہ قانون کے تحت کیے جاتے ہیں۔ یہ علاقے پاکستان کی عدالتوں کے دائرہ کار سے باہر ہیں اور سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ ان قبائلی سرداروں کو پاکستان کی کچھ سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل رہی ہے جو کہ قومی اسمبلی میں ان کی جیت کیلئے مدد کرتی ہیں۔ فاٹا کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی رپورٹ کے مطابق فاٹا میں73فیصد لوگ انتہائی نچلی سطح کی غربت میں زندگیاں گزار رہے ہیں۔ یہاں پر شرح خواندگی 33فیصد ہے جو کہ پاکستانی قومی سطح کی شرح 58فیصد سے کہیں کم ہے۔ بالغوں کی تعلیمی شرح 28فیصد جبکہ قومی 75فیصد ہے۔ رپورٹ کے مطابق علاقے پاکستان میں غریب ترین ہیں۔ طالبان کے اثر رسوخ نے پسماندگی میں اضافہ کیا ہے۔ عورتوں کی شرح خواندگی صرف آٹھ فیصد ہے۔ علاقے میں جنگی صورتحال اور امن و عامہ کی خرابی کی وجہ سے ترقیاتی کام سر انجام نہیں دیئے جا سکے ہیں۔ یاد رہے ماضی میں بعض علاقوں میں افواج پاکستان کا داخلہ ممکن نہیں تھا۔ پاک فوج نے یہاں پر باغی طالبان گروہوں کے خلاف اپریشن کرکے وفاقی رٹ کو قائم کیا ہے۔ نئی مجوزہ اصلاحات کے مطابق فاٹا کا پختون خوا میں انضمام کر دیا جائے گا یا علیحدہ صوبہ بنایا جائے گا یا اس کو گلگت بلتستان کا درجہ دیا جائے گا ۔
فاٹا کے علاقہ جات کو صوبہ پختونخواہ میں شامل کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ یہاں پر انسانی حقوق اور جمہوریت کو پروموٹ کیا جا سکے کیونکہ علاقہ میں امن کیلئے کیے گئے آپریشن محض وقتی طور پر صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے ہیں۔ ان اقدامات سے صحیح نتائج کے حصول کیلئے وہاں پر انتظامی ڈھانچے کو مستقل طور پر قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ آج بھی فاٹا کے لاکھوں لوگ افغان جہاد اور امن کیلئے کیے جانے والے فوجی آپریشنز کی وجہ سے اپنے گھروں سے باہر کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی اپنے گھروں کو واپسی ضروری ہے۔ حکومت کو چند افراد کی سیاسی حمایت حاصل کرنے کی خاطر فاٹا اصلاحات کے نفاذ میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔
یہ بات بہت دلچسپ ہے کہ فضل الرحمن فاٹا اصلاحات کو امریکہ کا ایجنڈا قرا ر دیتے ہیں جبکہ دوبارہ متحدہ مجلس عمل کی بحالی کی صورت میں فاٹا کے صوبہ پختونخوا میں انضمام کے حامی جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق کے اتحادی ہوں گے۔ اس طرح امریکہ مخالف اور دوست ایجنڈے پر ایک ساتھ عمل کیا جائے گا۔ مسلم لیگ (ن) فاٹا اصلاحات کے نفاذ کے بعد یقینی طور پر اپنے مقبولیت کے گراف کو اونچا کر سکتی ہے۔