دھرنا، کوئٹہ اور نااہلیت!
- تحریر شیخ خالد زاہد
- منگل 21 / نومبر / 2017
- 3615
سیاست کسی پیشے سے کم نہیں ہے۔ باضابطہ طور پر انتخابات میں شرکت کے بعد اقتدار سنبھالنے سے لے کر اگلے انتخابات تک تقریباً دنیا کے تمام ممالک میں منتخب نمائندے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام دیتے ہیں۔ اور اس کا اندازہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی معاشی اور معاشرتی صورتحال سے لگایا جاسکتا ہے۔ معینہ مدت میں اپنی کاردگی کا اندازہ اگلے انتخابات سے لگایا جاتا ہے اور ناکامی کی صورت میں گھر چلے جاتے ہیں۔ اگر بدعنوان ہوتے ہیں تو عدالتوں کا سامنا کرتے ہیں۔
اب تومجھے یہ لکھتے ہوئے بھی شرم آتی ہے کہ پاکستان مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے (اگر کسی دن پاکستان کو زبان مل گئی تو وہ مجھ سے یہ ضرور پوچھے گا کہ بھائی مجھ پر آسانی آئی کب تھی)۔ گزشتہ دنوں حکومت وقت نے ایک ایسا قدم اٹھایا جس سے پاکستانی تو کیا دنیا جہان میں رہنے والے پاکستانیوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ ہم مسلمانوں کیلئے ہمارے پیارے نبی ﷺ سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے۔ میں، میرا خاندان میرے نبی ﷺ پر قربان۔ ختم نبوت پر ایمان اسلام کے بنیادی اراکین میں ایک ہے اور یہی پاکستان بنانے کی اساس ہے۔ حکومت نے ختیم نبوت کے حلفنامہ کو حذف کرنے کی کوشش کرکے نااہلی کا بھرپور ثبوت پیش دیا۔ بظاہر تو یہ مسلۂ حل ہوگیا اور ترمیم واپس لے لی گئی مگر تشویش کی بات یہ ہے کہ اس سازش کے پیچھے کون لوگ ہیں۔ یہ جاننے کے لئے دھرنا دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اب حکومت ان دھرنا دینے والوں سے مذاکرات کی ناکامی کی باعث ایک بار پھر سے فوج کی جانب دیکھ رہی ہے۔ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کا سانحہ ابھی ذہنوں سے محو تو نہیں ہوا ہوگا۔
دھرنا ابھی جاری ہے جڑواں شہروں کے شہری ٹریفک کے اضافی مسائل سے دوچار ہیں کہ ایک اور دل سوز واقع کوئٹہ میں رونما ہوگیا جہاں پنجاب کے 20 نوجوانوں کو گولیاں مارکر ان کی زندگیاں چھین لی گئیں۔ اس واقعہ سے ایک بار پھر پوری قوم کو گہرا رنج و صدمہ ہوا۔ اور خوف و ہراس کی فضا طاری ہو گئی۔ پاکستان مسلسل سیاسی بحران کی ذد میں ہے اور اس بحران کا سبب سیاستدانوں کی ضد اور انا کے سوا کچھ یکھائی نہیں دیتا۔ دیکھنے والی آنکھیں شاید بتا سکیں کے کس سیاستدان کی ڈور کہاں سے ہلائی جاتی ہے۔ اس سارے معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کا کیا کردار ہے۔ محسوس یہ ہوریا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بھی کچھ تذبذب کی شکار دیکھائی دے رہی ہے۔ جمہوریت کی بقا کی آوازیں لگانے والے آج خود جمہوریت کو اپنی ذاتی انا کی بھینٹ چڑھانے پر تلے ہوئے ہیں۔
‘را‘ کی موجودگی کی گواہی تو کلبھوشن نے دے دی ہے۔ ‘را‘ کی ایجنٹ پاکستان کو مستحکم نہیں ہونے دینا چاہتے۔ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ کراچی میں ایک بار پھر لوگ لاپتہ ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ اگر ہماری خفیہ ایجنسیاں کراچی میں لوگوں کے اس طرح غائب ہونے کا نوٹس نہیں لیں گی تو پھر عوام کہاں جائیں گے۔ برس ہا برس سے ایسا ہوتا آرہا ہے کہ ملک جب کبھی بھی ترقی کی شاہراہ پر پیش قدمی شروع کرتا ہے، اس طرح کے غیر معمولی واقعات تیزی سے رونما ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ ہمارے ملک کو ہر بار غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اس غیر یقینی کا فائدہ ہمارے دشمنوں کو ہوتا ہے۔ ہمارے دشمن نے یہ تو دیکھ اور سمجھ لیا ہے کہ ہماری افواج کسی سے ڈرنے والی نہیں ہیں اور دہشت گردی کا کیسا منہ توڑ جواب دیا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی ساری سیاسی اور مذہبی جماعتوں ایک ہونا پڑے گا ورنہ ہمارا یہ دشمن ہماری سالمیت کیلئے خطرہ بنا رہے گا۔