یہ دھرنا نہیں بلکہ سر زمین پر قبضہ ہے

فیض آباد انٹر چینج پر ایک خودساختہ مذہبی گروہ نے دو ہفتوں سے ناجائز قبصہ کر رکھا ہے۔ قبضہ کرنے والوں کی تعداد محض چند سو ہے لیکن ان کی دہشت اور خوف کا یہ عالم ہے کہ پارلیمنٹ میں اپنی مرضی کی  قانون سازی کرنے والی حکومت ان کے آگے بھیگی بلی بنی ہوئی ہے۔ حکومت ٹامک ٹوئیاں مار رہی ہے کبھی کچھ بہانہ اور کبھی کوئی خدشہ اور اب تو کمیٹی پر کمیٹی بن رہی ہے۔ ریاستی کمزوری اور خود ساختہ مفاہمت کا مظاہرہ ہورہا ہے۔ 

اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کی دھجیاں بکھیرنے کے بعد سپریم کورٹ نے دھرنے کا نوٹس لیا ہے۔ لیکن اس میں بھی  رپورٹس منگوانے کا لا متناہی سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔  ڈنڈے اور آتشیں اسلحہ کے ساتھ اسلام آباد کا اہم ترین انٹر چینج پر انتہاپسندوں کے قبضے میں ہے۔ یہ حکومتی اختیار کی  پسپائی ہے۔  دنیا سوچ رہی ہوگی کہ ایٹمی طاقت کی حامل  ریاست کے اس بلند بانگ دعوؤں پر کیوں کر یقین کیا جائے  کہ اس کے ایٹمی اثاثے بالکل محفوظ ہیں۔ اس گروہ کے دھرنے کو اب دھرنا نہیں بلکہ قبضہ کہنا ہو گا۔ دھرنا کی نوعیت کچھ اور ہوتی ہے لیکن یہاں اب قبضہ ہے۔ جیسے ملکی سرزمین پر کوئی زبردستی قبضہ کرکے سب اداروں اور ریاست کو ماننے سے انکار کردے۔ تب ملکی قانون کو پوری طاقت کے ساتھ حرکت میں لانے کی ضرورت ہوتی  ہے۔  ریاست جب  کمزوری کا مظاہرہ کرتی ہے تو اس کا نتیجہ کروڑوں افراد کی تباہی و بربادی کا باعث بنتا ہے۔ اسی لئے ریاستی کمزوری کے اسباب دور کرنے کی اشد  ضرورت ہے۔

اس  میں اب کوئی شک و شبہ نہیں رہا کہ پاکستان میں مذہب کو دشمنان پاکستان کے ایجنڈوں کی تکمیل کے لئے استعمال کیا جانے لگا ہے۔ پاکستان کے سب دشمن پاکستان کی اس کمزوری کو جان  چکے ہیں۔ اسی لئے انہوں نے بھی اس کا فائدہ اٹھانا شروع کردیا ہے۔ ریاست و حکومت دونوں کی پسپائی شروع ہوچکی ہے۔ پاکستان کی عدالتیں ان لوگوں کے بارے میں مذہبی گروہ کا لفظ استعمال کرکے یہ اشارہ کرچکی ہیں کہ اس قسم کے گروہ محض فتنے پھیلانے والے ہوتے ہیں۔ ان کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن تیس سال سے برسراقتدار سیاسی جماعت پھر بھی ان کے ساتھ ایسے معاہدے کی تشکیل کی کوشش کر رہی ہے۔ تمام نیوز چینلز پر اور اخباری کالموں میں اس دھرنے کے بارے میں کہا اور لکھا جا چکا ہے کہ یہ ایک سیاسی و مذہبی باغی گروہ ہے جس نے اسلامی تعلیمات کا اور شعائر کا سرعام مذاق اڑایا ہے۔ ان کے خلاف ملکی قوانین کے تحت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن 23 نومبر تک صورتحال جون کی توں ہی موجود ہے۔

سپریم کورٹ کے دورکنی بنچ نے کل سماعت کے دوران یہ کہا ہے کہ انا اور تکبر سب سے بڑا گناہ ہے اور یہ سب اناکے لئے ہو رہا ہے۔ رحمت کا ذکر کسی کے منہ سے کیوں نہیں نکل رہا ہے سب کے منہ سے گالی گلوچ نکل رہی ہے۔ ایک فاضل جج نے  بہت اچھی بات کہی کہ ایک شخص کی رٹ قائم ہے لیکن ریاست کی رٹ قائم نہیں ہے۔ یہی بات سب مسائل کا جواب ہے۔ پاکستان کے اندر ریاست کی رٹ اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتی جب تک حکومتی معاملات کو مذہب سے الگ تھلگ نہیں کیا جاتا۔ غضب خدا کا دین اسلام نے پندرہ صدی کا سفر طے کرلیا اور پوری دنیا میں پھیل  گیا لیکن پاکستان بننے کے بعد سے اس ملک کے اندر اسلام پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ دنیا میں اور کہیں اسلام خطرے میں نہیں ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ اس پر سب دانشوروں اور محب وطن طبقوں کو سوچنا اور غور کرنا ہوگا۔

حکومت کی اس دھرنے کا  پرامن حل نکالنے کی کوششوں کی ایک حد تک تعریف کی جاسکتی ہے۔ لیکن اب معاملہ ریاستی رٹ اور ملک کے وقار کا مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ گروہ ملکی قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ ملکی عدالتوں کے احکامات کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔  شرعی احکامات کو مسترد کیا جارہا ہے۔ اور عوامی مفاد عامہ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔ سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز کے ایک سوال کے جواب میں اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اب تک اٹھارہ کیسوں میں مقدمات درج کئے جا چکے ہیں اور169افراد گرفتار کئے چاچکے ہیں۔ حکومت کی طرف سے بنائی گئی مصالحتی کمیٹی کا قیام ہی ایک غلط فیصلہ تھا۔ اب اس کمیٹی کے حوالے سے اخبارات میں شائع خبر کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان ایک ڈرافٹ پر اتفاق رائے قائم ہو رہا ہے ۔ یہ  کمزوری کی علامت ہے اس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ گویا دو ملکوں کے درمیان کسی ترقیاتی منصوبے پر دستخط ہو رہے ہیں۔ اگر حکومت کے پاس کوئی ایسی اطلاع ہے کہ اس فتنے کے پیچھے کوئی سازش ہے تو اس کو منظر عام پر لائے۔ مصالتی کمیٹی نے جو خوشخبری سنانے کی بات کی ہے وہ اپنے پاس رکھے ۔