پاکستان پیپلزپارٹی کی گولڈن جوبلی ۔عروج و زوال کی داستان
- تحریر افتخار بھٹہ
- جمعرات 23 / نومبر / 2017
- 4403
اس سال پانچ دسمبر کو پیپلز پارٹی کی قیادت نے پارٹی کے قیام کی گولڈن جوبلی منانے کا فیصلہ کیا ہے جس کی مرکزی تقریب اسلام آباد ٹریڈ گراؤنڈ میں ہوگی۔ ضلعی تنظیمیں 30نومبر کو مقامی سطح پر یوم تاسیس کے موقع پر سیمینار منعقد کریں گی۔ اگر پاکستان کی ستر برس کی سیاسی تنظیموں کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اس میں انسانی حقوق اور جمہوری نظام کے قیام کیلئے جدو جہد کرتی صرف پیپلزپارٹی ہی دکھائی دیتی ہے۔ جس کے کارکنوں نے ایوب سے ضیاء تک آمریت کے خاتمے اور انسانی معاشی حقوق پر مبنی نظام کیلئے جدو جہد میں جیلوں میں قید و بند کی صعبوبتیں برداشت کیں، کوڑے کھائے، پھانسیوں پر جھولے، خود سوزی کی جبکہ پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو کو وزارت اعلیٰ سے معزول کرکے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ شاہنواز اور مرتضیٰ بھٹو کو قتل کر دیا گیا۔ ملک کی دو مرتبہ منتخب ہونے والی خاتون وزیر اعظم کو دن دہاڑے جلسہ عام میں خطاب کے بعد لیاقت باغ راولپنڈی میں گولیوں کا نشانہ بنا دیا گیا۔ اس کے قتل کے ذمہ دار وزیر اعظم خان لیاقت علی شہید کی طرح ابھی تک سر بستہ راز میں ہیں۔
پارٹی سے پیار کرنے والوں نے الذوالفقار کی شکل میں مسلح جدو جہد کا راستہ اپنانے کی کوشش بھی کی۔ یہ سب سختیاں اور مصائب کو برداشت کرنا دراصل رومانیت پسندی اور سیاسی شعور کا اظہار تھا جو پارٹی کے قائد ذوالفقار علی بھٹو کے پسے ہوئے طبقات کی تقدیر بدلنے والے نظریات کے ساتھ اخلاص کا مظہر تھا۔ پارٹی کی نظریاتی بنیادیں تین نعروں کی گونج تھی۔ اسلام ہمارا دین ہے، طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں اور سوشل ازم ہماری معیشت ہے۔ یوں تو پاکستان میں محنت کشوں، کسانوں اور نچلے طبقات کی خاطر سماج میں تبدیلی کیلئے بائیں بازو کے گروپ اور جماعتیں اپنے نظریاتی دائرہ کار کے اندر جدو جہد کر رہی تھیں۔ ان کو ٹریڈ یونین کی حمایت حاصل تھی، ریلوے مرکز یونین ، پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن اور کسان کمیٹیوں کی شکل میں کئی تنظیمیں سیاسی جماعتوں کی قیادت میں کام کر رہی تھیں۔ مگر نظریاتی، ثقافتی اور سماجی حوالوں سے مقامی دھرتی کے ساتھ جڑت قائم کرنے میں ناکام رہی تھیں۔ انہوں نے روسی اور چینی کمیونسٹ بلاک اور پارٹیوں کے نقطہ نظر سے خود اور اپنے سپورٹر کو فکری طور پر الجھا دیا تھا۔ جس میں تبدیلی کی خاطر حقیقی لائحہ عمل طے کرنے کے راستے مسدود ہو گئے تھے۔
ان ہی تضادات میں بکھرے ہوئے بائیں بازو کو مزید انتشار سے دو چار کیا مغربی پاکستان میں نیشنل عوامی پارٹی کا دھڑا سویت یونین کا حامی تھا، جبکہ مشرقی پاکستان میں نیپ کی قیادت مولانا عبدالحمید بھاشانی جو کہ چین کا حامی تھا جس نے ایوبی آمریت کے خلاف تحریک میں فیصلہ کن پالیسی اختیار کرنے سے گریز کیا۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا محنت کشوں کا شہر تھا جہاں پر طبقاتی تفریق عروج پر تھی ۔ ان کی جدو جہد 1972تک جاری رہی، قومی بنیادوں پر خصوصاً مشرقی پاکستان میں تاریخ کا رخ مڑ جانے کی سب سے اہم وجہ بائیں بازو کی قیادت کا ایک طبقاتی قیادت اور آزادانہ سوشلسٹ متبادل تعمیر نہ کر سکنا تھا۔ بائیں بازو کا ایک تیسرا حصہ جو پیپلزپارٹی بنانے کا موجب بنا اس کی نظریاتی بنیادیں اتنی پختہ نہیں تھیں حالانکہ اس کے بانیوں میں بائیں بازو کے مشہور راہنما بابا ئے سوشل ازم شیخ رشید احمد ، شیخ رفیق احمد ، ڈاکٹر مبشر حسن، محمد حنیف رامے، معراج محمد خان، جے اے رحیم، میاں محمود قصوری، خورشید احمد میر اور دیگر سرکردہ نظریاتی اور طالب علم راہنما شامل تھے۔ پیپلزپارٹی کا جنم 30نومبر1967 کو ہؤا۔ اس وقت پوری دنیا ایک انقلابی لہر کی لپیٹ میں تھی۔ ایوبی آمریت کے خلاف ابھرنے والی عوامی تحریک کے ساتھ پیپلزپارٹی کے جنم کا امتزاج ہوا۔ یہی وجہ ہے پیپلزپارٹی راتوں رات پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی جماعت بن گئی۔ اس وقت پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھنے والے بیشتر لیڈر ماوئسٹ اور سٹالنسٹ تھے۔
عوامی جمہوری انقلاب اور قومی انقلاب کے نعرے میں کنفیوز تھے۔ انہوں نے ایک ترقی پسند بورژا سیاست دان کی خوبیاں تلاش کرنے کی کوشش کی۔ ایوبی آمریت کے خلاف نفرت عمومی طور پر پاکستان کے سرمایہ داروں جاگیر داروں اور سامراجی استحصال کے ساتھ جڑی حقارت کے ساتھ جڑی تھی۔ 1968-69کی انقلابی تحریک پاکستان کی سیاسی تاریخ کا نقطہ آغاز بھی سمجھا جائے۔ اس نے سماج کے تمام طبقات پر فیصلہ کن نتائج مرتب کئے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار سونپا گیا۔ عوامی تحریک کے دباؤ کے تحت پیپلز پارٹی نے عوام اور محنت کشوں کے حقوق کی خاطر قانون سازی کی۔ لیبر اور قومی صحت پالیسی کا اعلان کیا گیا ، جس کے تحت سوشل سیکیورٹی اور اولڈ ایج بینیفیٹ کے ادارے قائم ہوئے جس سے آج بھی لاکھوں مزدور اور محنت کش فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ بینکوں کو قومی تحویل میں لے کر کسانوں اور عام آدمی کیلئے قرضوں کے حصول کو یقینی بنایا گیا۔ بلکہ کسانوں میں مفت زرعی قرضے تقسیم کیے گئے۔ تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لے کر غریب عوام کو مفت تعلیم حاصل کرنے کی سہولت دی گئ۔ لاکھوں عارضی ورکروں کو مستقل نوکریاں دی گئیں مگر ان تمام اصلاحات بالخصوص صنعتوں اور بینکوں کے سرکاری تحویل میں جانے سے سرمایہ داروں کے مفادات کو نقصان پہنچا تو سازش میں 1970کے انتخابات میں دھاندلی سے شروع ہونے والی سیاسی تحریک کو مذہبی تحریک میں تبدیل کرکے جنرل ضیاء الحق کیلئے اقتدار میں آنے کی راہ ہموار کی ۔ 1968 کے انقلاب اور ترقی پسند سیاسی روایات کو بھٹو کو پھانسی لگانے کے بعد رجعت پسندی اور فرقہ پسندی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ بے نظیر بھٹو کو ضیاء الحق کے عہد میں طویل عرصہ تک قید تنہائی میں رکھا گیا۔ جنرل ضیاء نے اپنے اہداف بھٹو مخالف سیاسی جماعتوں کی سازش سے حاصل کیے۔
اس کے عہد میں پارٹی کی قیادت اور کارکنوں نے بے پناہ قربانیاں دیں مگر تمام لوگ پارٹی کے ساتھ وابستہ رہے۔ 1986میں بے نظیر کی پاکستان واپسی کے بعد پارٹی دوبارہ متحرک ہوئی مگر پیپلزپارٹی کی قیادت نے بائیں بازو کے نظام بات کرنے والی پارٹی ہے تبدیل کرکے وقتی مصلحتوں کے تحت اس کو سوشل ڈیمو کریٹ پارٹی بنا دیا۔ 1988کی نسبت1993کی حکومت نے فوج اور ریاست اور امریکہ سے زیادہ گہرے اور ناطے استوار کر لئے۔ نیو لبرل ازم کے نجکاری کے ایجنڈے پر عمل کرکے نظریاتی بنیادوں سے انحراف کیا۔ ایسا نظام معیشت اور پالیسیاں اختیار کی گئیں جو کہ نیو ورلڈ آرڈر کے تابع ہوں۔ اس نظریاتی ساکھ سے انحراف نے تنظیمی اور پارٹی ورکروں پر مخصوص اثرات مرتب کیے۔ جس سے پارٹی کی اجتمامی جدو جہد کی جگہ ذاتی مفادات اور خود غرضی کی نفسیات کو جنم دیا ۔ سوشل ازم ہماری معیشت کے نعرے کو پارٹی منشور سے خذف نہ کرنے کے باوجود بے نظیر نے اپنی تقریروں میں سوشلزم اور کمیونزم کو مسترد کیا۔ پیپلزپارٹی میں آغاز سے ہی انقلابی کیڈر کی کمی رہی جس کی وجہ سے نجکاری کے عمل سے محنت کشوں کو فائدہ نہیں پہنچایا گیا تھا۔ بلکہ ٹریڈ یونین راہنماؤں نے پارٹی کی پالیسیوں پر عمل کرنے کی بجائے قیادت کو ہڑتالوں اور لاک اپ کے ذریعے بلیک میل کیا۔ پارٹی کی حالیہ کمزوری میں نظریاتی فیکٹر اہم ہے کیونکہ کسی جماعت کا منشور ہی ورکر کے لئے دلکشی اور دلچپسی کا ذریعہ ہوتا ہے ۔
2008 کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کی کامیابی کی وجوہات محترمہ بے نظیر بھٹو کی تازہ شہادت تھی مگر پارٹی پھر بھی پنجاب جہاں پر محترمہ کی شہادت ہوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ جس کی وجہ دہشت گردی کے خوف سے مربوط انتخابی مہم نہ چلانا تھا۔ جبکہ سیاسی مخالفین اپنی انتخابی کمپین کھلے عام چلاتے رہے۔ 2013تک صدر آصف علی زرداری نے حکومت پر کرپشن کے الزامات، سازشوں اور مخالفتوں کے باوجود پانچ سال کا عرصہ اقتدار مکمل کیا۔ اس عرصے میں 18ویں ترمیم کے ذریعے آئین کو وفاقی پارلیمانی روح کے ساتھ بحال کیا گیا۔ صوبہ سرحد میں پختونوں کو صوبہ پختون خوا کے نام سے شناخت دی، نیشنل فنانس ایوارڈ کا اجراء ممکن بنایا گیا جس کا اعلان کرنے میں مسلم لیگ نون کی حکومت ناکام رہی۔ صوبائی خود مختاری کو بحال کیا گیا۔ ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن اور چین کے ساتھ گوادر پورٹ اور اس کے ساتھ منسلک منصوبوں کا معاہدہ کیا گیا۔ سوات میں انتہا پسند طالبان کے خلاف کامیابی سے آپریشن کے بعد پاکستانی جھنڈا دوبارہ لہرایا گیا۔ مگر بد قسمتی سے پیپلز پارٹی سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے جوڈیشل ایکٹوزم کا نشانہ بنی رہی۔ آئے روز سو موٹو نوٹس نے پارٹی کی ساکھ خراب کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ زرداری حکومت کے آزادانہ فیصلوں میں عدالت عالیہ نے رکاوٹیں ڈالیں۔ 2013کے انتخابات میں ناکامی کے بعد لوگ دوسری جماعتوں میں شامل ہونے لگے جو سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ اس کی وجہ پارٹی کی قیادت سے مقامی راہنماؤں اور جیالوں کی ناراضگی ہے۔ 2008میں منتخب نمائندوں نے اپنی پارٹی کے کارکنوں کے کام کرنے کی بجائے دوسری جماعتوں کے ووٹروں اور بڑے لوگوں کے کام کیے۔ اس غصے کا اظہار ورکروں نے 2013میں انتخابات کا بائی کاٹ یا پارٹی امید واروں کو ووٹ نہ دے کر کیا۔ بلاول بھٹو زرداری کے پنجاب اور پختونخوا میں جلسوں کے باوجود ابھی تک ووٹروں کو انتخابی عمل میں حصہ لینے کیلئے متحرک نہیں کیا جا سکا ہے۔ یہ تیسری دنیا کی سیاست کا حصہ ہے کہ بر سر اقتدار آنے کے بعد پارٹی قیادت کے اہداف تبدیل ہو جاتے ہیں۔ خصوصا پاکستان جہاں پر ہمیشہ کنٹرول ڈیمو کریسی رہی ہے جس میں منتخب نمائندوں کو محدود اختیارات دیئے جاتے ہیں۔ اہم قومی فیصلوں اور امور پر کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ہے۔ پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں ذوالفقار علی بھٹو اپنی تمام سیاسی کمزوری کے باوجود پہلی اور تیسری دنیا کا پہلا سویلین وزٹنگ کارڈ تھ ا(اگر چہ ایوب خان کے عہد میں بھٹو صاحب اس کا حصہ رہے ہیں)
پاکستان میں بھاری صنعتوں کے قیام کا کریڈیٹ بھی بھٹو کو جاتا ہے۔ اس کے عہد میں پاکستان اسٹیل مل، ایٹم بم منصوبہ، متحرک خارجہ پالیسی اور باقاعدہ آئینی دور کا آغاز ہوا ۔ پارٹی چار بار بر سر اقتدار آئی مگر صرف ایک بار ہی آئینی مدت پوری کر سکی۔ بھٹو کی بیٹی نے پانچ سال اقتدار میں ٹکے رہنے کی بھاری قیمت ادا کی۔ وہ پارٹی جس کو آمریت اور ڈکٹیٹر کی ظالمانہ پالیسیاں کونے میں لگانے میں ناکام رہیں، وہ پارٹی کی مفاد پرست قیادت کی مفاہمتی سیاست کی وجہ سے بکھر گئی۔ وفاقیت کی عمل بردار اور مقبول جماعت کو محض سندھ تک محدود کر دیا گیا۔ پارٹی نے1970میں لاہور کے انتخابات میں قومی اسمبلی کی چھ نشستیں حاصل کیں۔ 2017کے ضمنی انتخابات میں محض چند سو ووٹ حاصل کر سکی ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ کی کارکردگی دیگر صوبوں کی نسبت بہتر نہیں ہے۔ اس کی وجہ وہاں پر طاقتور نسلی بنیادوں پر موجود پریشر گروپ ہیں۔ قیادت پر کرپشن کے بے پناہ الزامات ہیں ، شکست اور پارٹی کی پسپائی کے بارے میں غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ پارٹی کیلئے مقاصد کا حصول عوام دوستی اور معاشی حقوق کے نعروں کے ساتھ منسلک ہے۔ آج جماعت اسلامی کی قیادت بھی انقلابی نعرے لگا رہی ہے مگر اس کا ووٹ بینک سکڑتا جا رہا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کو آزادانہ طور پر کام کرنے سے روکا جا رہا ہے ۔ اس طرح پارٹی نا دانستہ طور پر ایسے لوگوں کے قبضہ میں جا رہی ہے جن کے بارے میں کبھی کسی نے سوچا نہیں تھا۔ ایک ایسی جماعت جو خود کو چاروں صوبوں کی زنجیر کہتی تھی اب اس کی لیڈر شپ اپنے ورکروں کی قدر و قیمت اور احترام کو بھولتی جا رہی ہے۔ جب عوامی سیاست کے وارثوں کا یہ طریقہ کار ہو تو پھر ہمیں دائیں بازو کی لیڈر شپ یا کسی وردی یا بنا وردی ڈکٹیٹر کو جمہوریت دشمنی کا الزام دینا نہیں چاہئے۔ آصفہ بھٹو، بختاور بھٹو اور بلال بھٹو زرداری کو کم از کم ڈاکٹر مبشر کا وہ لان دیکھنا چاہئے جہاں نصف صدی قبل اس پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اور سماج کو بدلنے کے کام کو عملی پروگرام طے پایا تھا۔