تعلیم میں تحقیق کا فقدان

حقیقی تعلیم ترقی کی کنجی ہے ۔ قومو ں نے تعلیم کی بنیاد پر ہی  سیاسی ، سماجی اور معاشی میدان اور سائنس و ٹیکنالوجی کے عمل میں ترقی کی۔ تعلیم کا دعویٰ کرنا آسان ہوتا ہے ، جبکہ تعلیم کے حقیقی عوامل کو پورا کرنا مشکل کام ہے۔  اس کے لئے ایک مضبوط سیاسی کمٹمنٹ درکار ہوتی ہے۔ وہیں تعلیم سے متعلق فہم ، ادراک اور تدبر سمیت دنیا میں ہونے والی تعلیمی تجربات سے مکمل استفادہ بھی حاصل کرنا ہوتا ہے ۔ جبکہ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم دنیا میں ہونے والی تعلیمی ترقی کے مقابلے میں ماضی کی روایات اور روائتی طور طریقوں میں گھرے نظر آتے ہیں ۔

یہ ہی وجہ ہے کہ  نہ تو ہم تعلیم کے میدان میں کوئی بڑی کامیابی حاصل کرسکے اور نہ ہی تعلیم کے شعبہ میں دنیا میں قابل قبول معیارات قائم کرسکے۔  دنیا میں کسی بھی ملک یا ریاست کے بارے میں تصورات کا پیدا ہونا اہم عمل ہوتا ہے ۔ پاکستان کا تعلیمی تصور وہ نہیں جو اصولی طور پر ہمارا ہو نا چاہیے تھا ۔  دنیا سمیت خود ہمارے اپنے ملک میں یہ تصور عام ہے کہ تعلیم ہماری اہم ترجیحات کا حصہ نہیں ۔ تعلیم کے بارے میں سیاسی نعرے بازی اور مقابلہ بازی زیادہ ہے  جبکہ عملی اقدامات کمزور اور نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ ایک مسئلہ ریاست ، ملک اور معاشرہ کو درپیش سیاسی ، سماجی ، معاشی ، اخلاقی ، انتظامی ، داخلی اور خارجی مسائل کا ہے ۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے تعلیم اور اس میدان میں تحقیق کا عمل ہمیں آگے بڑھنے کا راستہ دیتا ہے ۔ لیکن جس انداز کی تعلیم کے میدان میں تحقیق ہمارے یہاں ہورہی ہے اس پر ماتم ہی کیا جانا چاہیے۔ ہماری تعلیمی تحقیق کا معیار نہ تو داخلی اور نہ ہی خارجی سطح پر علمی اور فکری مجالس ، اداروں اور ریاستی نظام میں اپنی قبولیت یا ساکھ رکھتا ہے۔ یہ  توجہ طلب مسئلہ ہے ۔

مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے ہاں ٹیلنٹ یا نئی نسل میں صلاحیتوں کی کمی ہے ۔ مسائل کی جڑیں کافی گہری ہیں اور اس میں کئی طرح کی درجہ بندی ہے ۔ مثال کے طور پر مضبوط سیاسی کمٹمنٹ کا فقدان ، ترجیحات کا تعین ، وسائل کی کمی ، تحقیق کے شعبہ میں کام کرنے والے انفرادی یا ادارہ جاتی سطح کی حوصلہ شکنی ، سیاسی مداخلتیں ، متبادل بیانیہ کی قبولیت ، روائتی تعلیمی و تحقیق کے انداز، عالمی معیارات پر عدم توجہ ، تحقیق کے موضوعات کے چناؤ میں عدم دلچسپی ، ملکی ضروریات اورتحقیق کے درمیان خلا، آزادانہ سیاسی و تعلیمی ماحول کی عدم فراہمی ، حساس موضوعات پر آزادانہ کام کرنے کی آزادی کا نہ ہونا ، تعلیمی ماہرین اور تحقیق کے شعبہ میں کام کرنے والے افراد یا اداروں کا ریاستی و حکومتی نظام سے عملی جڑت کا نہ ہونا ، حساس موضوعات میں نئی تحقیق کو قبول نہ کرنے کے رجحانات جیسے مسائل سرفہرست ہیں ۔ یہ مسائل ایسے نہیں جو حل نہیں ہوسکتے۔ اصل مسئلہ معاملات کے فہم اور درپیش مشکلات کو قبول کرنا ہے ۔ میں ایسے کئی اعلی تعلیمی دماغ کے حامل پالیسی ساز، ماہرین اور اہل دانش کو جانتا ہوں جو انفرادی اور ادارہ جاتی دونوں سطحوں پر اپنے علم ، فہم اور تجربہ کی بنیاد پر نئے نئے طور طریقے تجاویز کی صورت میں اہل فیصلہ ساز یا اقتدار میں شامل لوگوں کو دیتے ہیں۔ لیکن ان اہم اہل دانش اور سنجیدہ فکر کے حقیقی دوستوں اور اداروں کا المیہ یہ ہے کہ ان کو ریاستی وحکومتی نظام کی فیصلہ سازی میں نہ تو کوئی رسائی ہے او رنہ ہی پزیرائی ۔ ایسے اعلی دماغ کے لوگوں کو ریاستی و حکومتی یا حکمرانی پر مبنی گٹھ جوڑ کے روائتی نظام نے ان کو پس پشت ڈال دیا ہے اور ان کے تجربات سے  استفادہ حاصل کرنے کی لگن ، شوق اور دلچسپی نہیں ۔ ایسے ہی کئی اعلی دماغ ہیں جو اپنی صلاحیتوں کو اپنے ملک میں استعمال کرنا چاہتے ہیں  لیکن ریاستی و حکومتی عدم دلچسپی اور سیاسی مداخلتوں کے باعث وہ اپنا علم او رتجربہ باہر کی دنیا کو دے کر اپنے لیے راستہ تلاش کرتے ہیں ۔

نیا علم اور تحقیق ان ہی معاشروں میں پنپتی ہے جہاں نئی باتوں کو سیکھنے اور قبول کرنے کا رجحان موجود ہوتا ہے ۔ جب تک تحقیق کے میدان میں لوگوں کو آزادانہ ماحول میں کام کرنے اور پہلے سے موجود معاملات کو چیلنج کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جائے گی ، یہ عمل کبھی بھی ترقی کے عمل میں آگے نہیں بڑھ سکے گا ۔ مجھے معلوم ہے کہ ہمارے بڑے تعلیمی اداروں میں جو تحقیق سے وابستہ ہیں وہاں بہت سے لوگوں کو آزادانہ بنیاد پر اپنی تحقیق کے موضوعات کے چناؤ کا بھی حق نہیں ۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ حساس معاملات پر نئی بات کرنے پر پابندی ہے، ان میں تحقیق ممکن نہیں ۔ اگر کہیں کچھ اجازت دے بھی دی جائے تو اس کا دائرہ کار ایسے طے کیا جاتا ہے کہ پہلے سے موجود ریاستی و حکومتی بیانیہ کو کسی بھی شکل میں چیلنج نہیں کیا جائے گا ۔ حالانکہ تحقیق کا مقصد ہی پہلے سے موجود علم کو چیلنج کرنا اور نئے متبادل علم کو پیش کرنا ہوتا ہے ۔

اعلی تعلیم سے جڑے ہوئے تعلیمی اداروں کی حالت یہ ہے کہ نئی نسل کی وہاں تحقیق کے عمل میں کوئی حوصلہ افزائی نہیں کرتا ۔ جو لوگ تحقیق کے عمل سپروائزر یا ذمہ داری کا حق رکھتے ہیں وہ کسی بھی سطح پر دیانت داری سے نئی نسل کی معاونت نہیں کرتے ۔ تحقیق کرنے والے لڑکے اور لڑکیوں کو بے یارو مادگار اور بغیر کسی وسائل کے میدان میں اتار دیا جاتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ پھر تحقیق کا نتیجہ بھی وہی کچھ ملے گا جو ہمارے کسی کام کا نہیں ہوتا۔ یونیورسٹیوں کی سطح پر ہونے والی تحقیق ہمارے معاشرے کی بہتری میں کوئی مدد نہیں کرتی اور نہ ہی ایسی تحقیق جس کے معیارات وہ نہیں جو ہماری ضرورت کے زمرے میں آتے ہوں ، کیسے قابل قبول ہوں گے۔  وہ بس ادھر ادھر کی چیزیں لے کر اپنی تحقیق کو مرتب کرتے ہیں اور زیادہ تر ان کا کام ڈیسک ورک تک محدود ہوتا ہے۔ لیکن اس کی ذمہ دار بھی یونیورسٹیاں خود بھی ہیں ۔

ایک مسئلہ ہمارے ریاستی ، حکومتی اور نجی شعبہ کا بھی ہے ۔ یونیورسٹیوں اور تحقیق کے اداروں کے درمیان رابطہ کا فقدان ہے ۔ حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں علمی میدان میں جو نئی تحقیق سیاسی ، سماجی اورمعاشی یا عدالتی نظام میں درکار ہیں اس پر ان دونوں فریقین کے درمیان مشترکہ حکمت عملی اور معاونت کے میکنیزم بنائے جائیں۔  تحقیق کا عمل سیاسی تنہائی میں مکمل  نہیں ہوتا ۔ آج ہمارا معاشرہ بکھرا ہوا ہے اور ہر طرف ایک ناامیدی کا پہلو ہے اس کی وجہ ہی یہ ہے کہ ہم اول تو نیا علم تلاش نہیں کررہے اور اگر کررہے ہیں تو اس پر عملدرآمد کے لیے کوئی تیار نہیں۔ ہماری یونیورسٹیوں کی سطح پر تحقیق کے شعبہ میں وسائل کم نہیں لیکن واقعی ان وسائل کا آڈٹ ہونا چاہیے کہ اس کا استعمال کیا اور کیسے ہورہا ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب تک ہم تعلیمی اور تحقیق کے اداروں میں سیاسی پسند و ناپسند کی بنیاد سے جان نہیں چھڑائیں گے ، اصل افراد کو اداروں کی سربراہی نہیں دی جائے گی ، کچھ نہیں بدلے گا ۔  دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ہمیں ماہرین تعلیم کی نہیں بلکہ ایک اچھے منتظم کی ضرورت ہے جو ان اداروں کو انتظامی بنیادوں پر کنٹرول کرسکے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ریاستی و حکومتی نظام میں سیاسی اقرا پروری ، میرٹ کا قتل اور اہل افراد کے مقابلے میں سیاسی بندوں کی تقرریاں ہوں گی تو پھر یہ کچھ دیکھنے کو ملے گا جو ہم دیکھ رہے ہیں ۔

آپ اداروں سے سربراہان کا بھی دکھ سنیں کہ ان کو آزادنہ ماحول میں کتنا کام کرنے کی واقعی آزادی ہے اور ان کے اپنے ادارے فیصلے کرنے میں کس حد تک خود مختار ہیں ۔ یہ پورا نظام عملی طور پر تعلیم اور تحقیق کی  دشمنی پر استوار ہے ۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ جب حکمران اور بالادست طبقہ کے اپنے بچے دوسرے ملکوں تعلیم حاصل کریں گے تو یہ لوگ ریاستی نظام کی اصلاح میں کیوں  دلچسپی لیں گے۔ اس لیے اعلی یا معیاری تعلیم سمیت تحقیق کے میدان میں کچھ کرنے کے لیے پہلے سے موجود ریاستی و حکومتی نظام کو بھی چیلنج کرنا ہوگا  جو عملی طور پر بڑی رکاوٹ ہے ۔