نظریہ اور مسور کی دال

بزبان خود، بقول خود، نواز شریف کہتے ہیں کہ ”نواز شریف ایک نظریہ کا نام ہے“ یہ الفاظ سن کر ذہن دیر تک بھناتا رہا۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ کبھی کسی عاقل کی زبان سے ایسے الفاظ ادا ہوئے ہیں۔ تاریخ پر نظر ڈالیں تو بہت سے قابل احترام حقائق سامنے آتے ہیں۔ چین کے بزرگ چکم لاوتزد ایک نظریے کا نام ہے۔ کارل مارکس ایک نظریے کا نام ہے۔ اتاترک ایک نظریے کا نام ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح ایک نظریے کا نام ہے۔ زیادہ کھوج لگائیں اور فکر و بچار کریں تو عقل کی گتھیاں مزید الجھنے لگیں گی۔ دل دوسری بات کرکے رہے گا:

عقل ہر بار دکھاتا تھا جلے ہاتھ اپنے
دل نے برباد کیا آگ پرائی لے لے

سوچ کے دھارے نہ جانے کس سمت میں دوڑیں۔ ایک قدیم یونانی تہذیب کی منوون کی معیشت ایک نظریہ تھی؟ کیا صمورابی کی ڈائرین ایک نظریہ کی نشاندہی تھی۔ کیا عیسیٰ علیہ السلام کا یہ کہنا کہ ’وہ شخص پہلا پتھر مارے جس نے زندگی میں کبھی گناہ نہ کیا ہو‘۔ اگر مزید گفتگو کریں تو ہم گناہ و عذاب کی بحث میں الجھ جائیں گے۔ یہاں ہمیں شعور اخلاقیات کی طرف لے جائے گا۔ اگرہم اس طرف نہ جائیں تو یہ مسئلہ کہ دنیا کے سارے عظیم اور قابل احترام مذاہب بھی نظریے کا دوسرا نام ہیں؟ اسلامی احکام ہیں کہ چور کی چوری کا حتمی ثبوت مل جائے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے۔ ہماری جدید تہذیب اس سزا کو گھناﺅنی سزا کا نام دے گی۔ یہ غیر انسانی سزا گردانی جائے گی۔ لیکن ذرا اس کے مرتب کردہ نشان عبرت پر غور کریں کہ ایک شخص جو سوسائٹی کا فرد ہے اور زندہ ہے لیکن ایک ہاتھ سے محروم ہے تو اس کی ساری زندگی پوری سوسائٹی کے لئے عبرت کا نشان ہے۔

سوال یہ ہے کہ چوری کیوں کی جائے؟ یا کس بنا پر کی جائے؟ کس کے اشارے پر کی جائے؟ نہ جانے اس کی کتنی تاویلات مرتب ہوں لیکن غور کریں تو چوری حرص و ہوس کی تسکین کا باعث ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو حرص و ہوس کے لئے ایسا اقدام کرتا ہے وہ منزل کھو بیٹھتا ہے۔ اس کی تسکین کی سرحدیں، سرحدِ ادراک سے بھی آگے نکل جاتی ہیں۔ اس کے سامنے ایک لامحدود اناپیدا (خلا Space) تن جاتاہے جس کی کوئی سرحد نہیں، جس کا کوئی اختتام نہیں۔ کیا اس جبلت کو نظریے کا نام دیا جاسکتاہے۔ ہم بدستور اس فکر میں غلطاں ہیں کہ کس نظریے پر انگلی رکھیں۔ ہمارے سامنے دنیا بکھری پڑی ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹ رہے ہیں۔ کیپٹل ازم، کیمونزم، مارکس ازم، بدھ ازم اور نہ جانے کیا کیا بکھرا پڑا ہے، ہم کس دیوتاکے پجاری ہیں:

سرحد ادراک سے بھی پرے ہے اپنا سجود
قبلہ کو اہل نظر، قبلہ نما کہتے ہیں

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بت پرست روایت میں جنم لیا۔ انہیں حکم ملا کہ ہر جانی پہنچانی چیزیں جس میں اپنائیت نظر آئے اسے ترک کر کے سفر کریں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ابراہیمی نظریے کی بنیاد کو جنم دیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئے۔ اور ایک نئے دین ایک نئے نظریے کی بنیاد رکھی۔ مہاتمابدھ نے ہندو نواز ہوتے ہوئے روحانیت کا نیا باب رقم کیا جو ہندو روایات سے بالکل مختلف تھا اور روحانیت سے لبریز تھا۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم دنیاوی مذاہب کے آخری پیغمبر تھے۔ جن کی زبان عربی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اُن پر اُن کی زبان عربی میں قرآن نازل کیا جس سے ثابت یہ ہو گیا کہ عبرانی زبان بولنے والے مذہب یا نبوت کے اجارہ دار ںہیں۔

بات چلی تھی نظریے سے اور دل بے قرار اسے شعور کے کون کون سے دبستانوں میں لے گیا۔ اگر ہم چاہیں کہ دوسرے ہمارے جذبات کا احترام کریں تو سوچنا چاہیے کہ دوسری بھی ہم سے ایسی ہی توقع رکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم بھی ان کے جذبات کا احترام کریں۔ ہم اکیسویں صدی میں سانس لے رہے ہیں۔ اس صدی میں علم و حکمت کی وہ تمام راہیں وا ہیں جو گزشتہ صدیوں نہ تھیں۔ اور مزید راہیں کھل رہی ہیں:

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کن فیکون

ہماری آج کی گلوبل سوسائٹی کسی بے بنیاد مفروضے کو سننے کا ماننے کی ہرگز روادار نہیں۔ ہماری آج کی گلوبل سوسائٹی ہر بے بنیاد، بے تحقیق نظریہ کو دلائل کے ساتھ ردکرنے کی پوری پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ اور بطور خاص آج ہم ہر رہبر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ سکتے ہیں کہ:

مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے

اگر سارا شریف خان بمعہ نون لیگ کے سارے وزیروں کو ہم نوا بنا کر گلی گلی ایک بے بنیاد نظریے کا شور کرتے رہیں تو سنے گا کون۔ شعور جاگ رہے ہیں، چشم جہاں دیدہ وا ہے، ہم اس دور میں ہیں، اس صدی میں رہبروں کو تنے ہوئے رسے پر چلتا دیکھا چاہتے ہیں:

حرفِ حق دل میں کھٹکتا ہے جو کانٹے کی طرح
آج اظہار کریں اور خلش مٹ جائے