پاکستان کے تعلیمی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے

پاکستان میں صحت اور تعلیم کے شعبوں کو سب سے زیادہ نظرانداز کیے جانے والے شعبے سمجھا جاتا ہے، اور یہ بات زیادہ غلط بھی نہیں ہے۔ ملک کے چاروں صوبوں میں صحت کی ابتر صورتِ حال ہر روز میڈیا کے ذریعے قوم کے سامنے آتی رہتی ہے۔ البتہ تعلیم کی زبوں حالی کا اتنا تذکرہ نہیں ہوتا کہ اس میدان میں سیٹھوں کی سرمایہ کاری بہت زیادہ ہوچکی ہے۔ تاہم چند سال بعد یہ تباہی ایسے دھماکے کی صورت میں سامنے آئے گی کہ سب سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے۔

آج صورتحال میہ ہے کہ سرکاری اسکولوں کو منصوبے کے تحت تباہ و برباد کرکے پرائیویٹ اسکولوں کو آگے لایا گیا۔ مرکزی اور صوبائی حکومتیں اب نئے کالج بنانے پر تیار نہیں۔ چند سرکاری یونیورسٹیوں کے مقابلے میں سینکڑوں پرائیویٹ یونیورسٹیاں بن چکی ہیں جن کا کوئی معیار ہے اور نہ ان کی کوئی مانیٹرنگ ہورہی ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد مختلف پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے بارے میں اشتہارات دے دیتا ہے کہ طلبہ یہاں داخلہ نہ لیں کہ یہ ضابطے پورے نہیں کررہیں، مگر یہ یونیورسٹیاں داخلے کرتی رہتی ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان یونیورسٹیوں میں اساتذہ کا کوئی معیار ہے نہ ان کے حقوق کے تحفظ کا بندوبست۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے اساتذہ کو روزگار کا تحفظ توحاصل ہے لیکن اُن کی ہر سطح پر تربیت کا معقول بندوبست نہیں۔ حکومت کی خواہش ہے کہ یہ ادارے بند ہوں تاکہ حکومتی حاشیہ برداروں کو پرائیویٹ تعلیمی ادارے بنانے کا موقع ملے اور خود حکمران ان اداروں کی زمینیں خرید کر وہاں تجارتی پلازے بنا لیں۔

تعلیم کے بارے میں غیرسنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ حکومت نے بار بار کے مطالبے کے بعد اب تعلیم کا بجٹ بمشکل چار فیصد کیا ہے جبکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں یہ 30 سے 40 فیصد تک ہے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی تعلیم کی قائمہ کمیٹیاں سوئی ہوئی ہیں، ان کی جانب سے کوئی سفارشات آتی ہیں نہ تنبیہ۔ طلبہ و طالبات میں پڑھنے کا ذوق مسلسل کم ہورہا ہے۔ نصابی کتب کے سوا وہ کچھ پڑھنے کو تیار نہیں۔ والدین روزی روٹی کے چکر سے ہی باہر نہیں آپاتے۔ ایسے میں اس شعبے کی ساری ذمہ داری اساتذہ پر آپڑتی ہے۔ ان کے اپنے مسائل ہیں، لیکن پھر بھی اس شعبے سے وابستہ لوگ فکرمند بھی ہیں اور اپنی سی کوششیں بھی کررہے ہیں۔ اساتذہ میں بھی کالی بھیڑیں موجودہیں لیکن اسے قومی ذمہ داری سمجھ کر ادا کرنے والے اساتذہ کی بھی کمی نہیں۔

تنظیم اساتذہ پاکستان ایسے ہی محب وطن اور ذمہ دار اساتذہ کی تنظیم ہے۔ یہ لوگ حُبِّ وطن کے جذبے سے سرشار ہیں، اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں، بچوں کو تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی و اخلاقی تربیت اور کردار سازی بھی کرتے ہیں۔ یہ اساتذہ نئی نسل کو ایک اچھی قوم میں تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ تنظیم گزشتہ 38 سال سے پرائمری سے یونیورسٹی کی سطح تک کے اساتذہ میں کام کررہی ہے۔ اس کے موجودہ صدر پروفیسر ڈاکٹر میاں محمد اکرم ایک متحرک اور دردِ دل رکھنے والے استاد ہیں۔ ان کے ساتھی بھی اس میدان کے قابلِ فخر افراد ہیں۔ تنظیم اساتذہ نے گزشتہ دنوں لاہور میں ایک تعلیمی قومی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ پہلے یہ کانفرنس پنجاب یونیورسٹی میں ہونا تھی۔ انتظامات مکمل تھے کہ انتظامیہ نے معذرت کرلی۔ چنانچہ اتوار 19 نومبر کو یہ کانفرنس ایوانِ اقبال لاہور میں منعقد ہوئی، جس میں ملک کے چاروں صوبوں کے علاوہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا سے بھی اساتذہ کی کثیر تعداد لاہور پہنچی۔

ایوانِ اقبال کا وسیع ہال شرکاء اساتذہ سے صبح کے وقت ہی بھر گیا۔ کانفرنس صبح ساڑھے آٹھ بجے شروع ہوئی۔ کانفرنس کے کُل تین سیشن رکھے گئے تھے۔ پہلے سیشن کے مہمان خصوصی اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال تھے۔ صدر تنظیم ڈاکٹر میاں محمد اکرم نے اس کانفرنس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی، جبکہ پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد منصوری، پروفیسر عبدالرؤف ظفر، پروفیسر رضوان الحق، پروفیسر راؤ جلیل احمد، پروفیسر مہرسعید اختر نے مختلف موضوعات پر خطاب کیا۔ مہمانِ خصوصی رانا محمد اقبال نے تسلیم کیا کہ اردو کو عملی طور پر قومی زبان کا درجہ ملنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب اسمبلی کی ساری کارروائی اردو میں ہوتی ہے دوسرے سیشن میں ڈاکٹر انیس احمد نے کلیدی خطاب کیا۔ جبکہ تیسرے سیشن میں پروفیسر ڈاکٹر عبدالحمید نے بڑی گہرائی کے ساتھ امتحانی نظام کی خوبیوں اور خرابیوں پر روشنی ڈالی۔ مختصر سے کھانے اور نماز کے وقفے کے بعد یہ کانفرنس تسلسل کے ساتھ شام چار بجے تک چلی اور قومی ترانے پر کانفرنس کا اختتام ہوا۔

کانفرنس کے انتظامات کے لیے مختلف کمیٹیوں نے بھرپور کام کیا۔ مقررین اور اہم مہمانوں کو شیلڈز پیش کی گئیں۔ میڈیا کمیٹی نے فوری طور پر ٹکرز اور خبریں اخبارات اور چینلز کو جاری رکھیں۔ کانفرنس میں مختلف قراردادیں اور سفارشات بھی منظور کی گئیں۔ کانفرنس کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ:
وطنِ عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ مادی اور انسانی وسائل عطا کیے ہیں، جبکہ آزمائش کی ہر گھڑی میں ہماری قوم نے حیران کن اور بے مثال کردار ادا کیا ہے۔ لیکن افسوس کہ اس کا کوئی ادارہ ایسا نہیں جو مسائل اور بحران کا شکار نہ ہو۔ بحیثیتِ مجموعی ہماری قوم اور خصوصاً نوجوان نسل فکری، اخلاقی اور عملی انحطاط و انتشار کا شکار ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارا نظام تعلیم ایسا ناقص اور فرسودہ ہے کہ نہ تو قومی و ملکی ضروریات کو پورا کررہا ہے اور نہ ہی آئینی و نظریاتی تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ یہ بے سمت بھی ہے اور طبقاتی بھی۔ یہ ہمارے نوجوانوں میں یکجہتی، ہم آہنگی، محبت و اخوت، ایمان و یقین، دیانت داری، حب الوطنی، شرافت و اخلاق اور رواداری جیسے اعلیٰ اوصاف پیدا نہیں کررہا، اور پیشہ ورانہ اہلیت و کمال کو بھی اس درجے پر نہیں لارہا جس کی اِس وقت اشد ضرورت ہے۔
70 سال گزارنے اور آدھا ملک گنوانے کے بعد بھی ہم سنبھلنے اور اپنے حالات کو بدلنے کے لیے تیار نہیں۔ نہ تو ہم اپنی تہذیب و ثقافت کو پروان چڑھا کر فکر و نظر میں یکسوئی و اتحاد پیدا کررہے ہیں اور نہ قومی زبان کو یکجہتی و رابطے کا ذریعہ بنارہے ہیں۔ نہ ہمیں شرح خواندگی کو بڑھانے اور تعلیم کو ہر بچے تک پہنچانے کی فکر ہے، اور نہ ہم اپنے تربیتی اداروں کو مضبوط اور مؤثر بنارہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے تعلیمی مقاصد اور تعلیمی معاملات کو ایسے ماہرینِ تعلیم کے ذریعے درست کرنے کی کوشش کریں جو پیشہ ورانہ اہلیت و صلاحیت اور تجربے کے ساتھ قومی سوچ، ملّی جذبے، حب الوطنی، اچھی شہرت اور مضبوط اخلاق و کردار کے حامل ہوں۔

آٹھویں تعلیمی کانفرنس نے ماہرینِ تعلیم کی آراء کی روشنی میں تیار کی گئی قومی دھارے کا رخ تبدیل کرنے کے لیے سفارشات پیش و منظور کیں۔ اس کانفرنس میں درج ذیل قراردادیں پیش کی گئیں جنہیں ملک بھر سے آئے ہوئے اساتذہ نے متفقہ طور پر منظور کیا۔ ایک قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان قرآنِ حکیم کی تعلیم لازمی قرار دینے پر حکومتِ وقت کو مبارکباد پیش کرتا ہے اور اس امر پر گہرے  اطمینان کا اظہار کرتا ہے اور اس سلسلے میں وفاقی وزیر تعلیم جناب انجینئر میاں بلیغ الرحمن کی مساعی کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اور دعاگو ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو قبول فرمائے اور ان کے لیے توشۂ آخرت بنائے۔ آمین۔ تاہم تحدیثِ نعمت کے طور پر یہ تذکرہ کرنا فائدے سے خالی نہیں سمجھتا کہ قرآن حکیم کی تعلیم کو لازمی قرار دینے کا مطالبہ تنظیم اساتذہ پاکستان کا دیرینہ مطالبہ تھا اور اس سلسلے میں قرآن حکیم کے ایک ترجمے پر قوم کے تمام مسالک کے علماء کو متفق کرنے کا کام بھی وفاقی سطح پر تنظیم اساتذہ کے ذمہ داران کی ذاتی دلچسپی اور کوشش کے نتیجے میں انجام پذیر ہوا تھا۔ اب یہ ایوان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ایک تو قرآن حکیم کی تدریس کے لیے قابل، اہل اور راسخ العقیدہ مسلمان اساتذہ کے تقرر اور تربیت کے لیے مستقل بنیادوں پر سنجیدگی سے اقدامات کرے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ڈر ہے کہ یہ اہم ترین اقدام کہیں بازیچہ اطفال نہ بن کر رہ جائے اور جیسا کہ قوم جانتی ہے کہ سقوطِ ڈھاکا کا بنیادی باعث یہ تھا کہ وہاں اسلامیات کا مضمون ہندو اساتذہ پڑھاتے تھے جنہوں نے طلبہ کے ذہنوں کو پراگندہ کیا۔ چنانچہ قرآن حکیم کی تدریس میں ابھی سے یہ بنیادی اقدام اٹھانا ازبس ضروری ہے۔ دوسرے قرآن حکیم کی تدریس کے اس مستحسن اقدام کو گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت پاکستان کے چاروں صوبوں کے نصابِ تعلیم کا حصہ بنا کر رائج اور نافذ کیا جائے۔

ایوان نے مطالبہ کیا کہ تعلیم کو ترجیح اوّل بناکر کُل قومی آمدنی کا پچاس فیصد تعلیمی بجٹ کے طور پر مختص کیا جائے۔ سرکاری اداروں میں تعلیمی سہولیات اور انفرااسٹرکچر بہتر بناکر ان کو عالمی معیار کے برابر لایا جائے۔ ایوان کا کہنا تھا کہ تعلیم ایک مقدس فریضہ اور انسانی اخلاق، رویوں اور سوچ کی اصلاح کا عظیم مشن ہے۔ بدقسمتی سے اٹھارویں ترمیم میں اس عظیم مشن اور مقدس فریضے کا قبلہ تبدیل کرکے، اسے انڈسٹری اور مال کمانے کا ذریعہ بنادیاگیا ہے۔ چنانچہ یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ ایک نئی ترمیم لاکر اسے انسانیت کی اصلاح اور فلاح و بہبود کا ذریعہ بنایا جائے۔ دوسرے اسی اٹھارویں ترمیم میں تعلیم کو مرکز سے لے کر صوبوں کے حوالے کرکے قومی سوچ اور یکجہتی کو شدید خطرات سے دوچار کردیا گیا ہے، جس کے عملی مظاہر صوبائیت اور لسانیت کی صورت میں سامنے آرہے ہیں۔ چنانچہ یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ تعلیم کو ایک اور ترمیم لاکر، وفاق کی ذمہ داری قرار دیا جائے اور اسے صوبوں سے لے کر مرکز کے کنٹرول میں پھر سے دیا جائے، اور اس طرح قومی وحدت اور یکجہتی کو فروغ دیا جائے۔

ایک اور قرارداد میں کہا گیا کہ جس طرح پوری علمی دنیا میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قوم کے نونہال اپنی قومی زبان میں بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اور تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔ ہماری قومی زبان اردو، جو دنیا میں سب سے زیادہ سمجھی اور بولی جانے والی زبان ہے اور ہر لحاظ سے تعلیم دینے کے لیے موزوں اور اہل ہے، یہی آئینِ پاکستان اور عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ اور مطالبہ بھی ہے چنانچہ اس ایوان کا مطالبہ ہے کہ پاکستانی بچوں کو قومی زبان اردو میں تعلیم دے کر انہیں قومی شناخت دی جائے اور انہیں مزید ذہنی اور فکری غلامی سے نجات دی جائے۔ ایوان نے مطالبہ کیا کہ قومی افکار و نظریات اور اخلاق و اقدار اور ضروریات پر مبنی نئی تعلیمی پالیسی وضع کی جائے، اسے غور و فکر کے لیے مشتہر کیا جائے۔ اس میں تمام اسٹیک ہولڈرز، یعنی پرائمری، سیکنڈری، کالجز اور یونیورسٹی، ہر سطح کے اساتذہ اور طلبہ تنظیموں اور والدین کے نمائندوں کی آراء اور تجاویز کو شامل کیا جائے۔ کسی بھی سطح پر غیرملکی ماہرین کو شامل نہ کیا جائے اور غیرملکی دباؤ سے اسے مکمل آزاد رکھا جائے تاکہ یہ حقیقی معنوں میں قومی تعلیمی پالیسی کہلائی جاسکے۔

نیز یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی پر عملدرآمد کے لیے ایک آزاد اور خودمختار تعلیمی کمیشن بنایا جائے، جو نہ صرف خامیوں کی نشاندہی کرے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عملدرآمد کے لیے تجاویز اور لائحہ عمل تیار کرے اور ان کے نفاذ کو اپنی نگرانی میں یقینی بھی بنائے۔ نیز تعلیم کے اندر سیاسی اور بیرونی مداخلت کو روکنے کے لیے قانون سازی کی جائے۔ تعلیم گاہوں کو ہر قسم کی سیاسی اور بیرونی مداخلت سے پاک رکھا جائے۔ میرٹ اور معیار پر داخلوں اور بھرتیوں کو یقینی بنایا جائے۔ حکومتِ پنجاب نے کچھ اضلاع کے تعلیمی اداروں میں حالیہ ایام میں 1 تا 4 اسکیل کی خالی اسامیوں پر ایم پی ایز اور ایم این ایز کے ذریعے بھرتی کرنے کا پروگرام بنایا ہے جو سراسر میرٹ کی خلاف ورزی ہے۔ ایسے تمام اقدامات کو ختم کرکے میرٹ کی بالادستی قائم کی جائے۔

کانفرنس میں کہا گیا کہ نصابات کے اندر پورے ملک میں، اصلاح تعلیم کے نام پر جو گھناؤنا کھیل کھیلا جارہا ہے اور تعلیمی اداروں کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کی خواہشات و خرافات کی تکمیل کی آماجگاہ بنایاگیا ہے، تعلیمی اداروں کے اندر تعلیم کے سوا باقی سب کچھ ہورہا ہے، جس کا ہمارا معاشرہ کسی طور پر متحمل نہیں ہوسکتا، چنانچہ یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ اس سلسلے کو فوری طور پر روکا جائے۔ تعلیمی نصابات کو نظریۂ پاکستان، قومی اخلاق و روایات اور اسلامی تہذیب و تمدن کا آئینہ دار ہونا چاہیے، تاکہ ایک پاکیزہ اور صاف ستھرا بااخلاق ، صحت مند اور ہنرمند معاشرہ وجود میں آسکے۔ پورے ملک میں طبقاتی نظام تعلیم کے خاتمے کے لیے، یکساں نظام تعلیم کو اس طور پر رائج کیا جائے کہ ایک ہی نصاب ہو، ایک ہی قومی زبان ذریعہ تعلیم ہو، اور ایک ہی نظامِ امتحانات ہو، تاکہ پورے ملک میں ایک وحدت اور ایک قومی شعور پیدا ہوسکے اور پروان چڑھ سکے اور طبقاتی تقسیم کا خاتمہ ہو۔

ایوان کا کہنا تھا کہ تعلیم چونکہ نہ تجارت ہے اور نہ انڈسٹری۔۔۔ یہ اصلاحِ معاشرہ کا مقدس ترین ذریعہ ہے۔ اسے حکومت کی سرپرستی اور نگرانی کی ضرورت ہے۔ لہٰذا یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ تعلیم کی نجکاری کا سلسلہ بند کیا جائے۔ بایں وصف یہ تسلیم ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کا تعلیم کی ترویج میں بڑا کردار ہے، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی اداروں کی اصلاح کے ساتھ ساتھ نجی تعلیمی اداروں کو بھی اس نظام اور انہی قوانین کا پابند بنایا جائے جن کا اطلاق سرکاری اداروں پر ہورہا ہے، تاکہ یکساں نظام قائم ہوسکے اور ایک ہی قومی سوچ پروان چڑھ سکے۔ ایوان نے مطالبہ کیا کہ خواتین کی بہترتعلیم و تربیت کے لیے مخلوط نظامِ تعلیم کا خاتمہ کرتے ہوئے ان کے مزید الگ تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں تاکہ وہ یکسو ہوکر بلاخوف، پورے اطمینان کے ساتھ اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں۔  یہ بھی کہا گیا کہ یہ کانفرنس سمجھتی ہے کہ اس وقت نمبروں کی دوڑ میں طالبات، طلبہ سے عموماً بہت آگے ہیں، چنانچہ ملکی جامعات میں طلبہ کی نسبت طالبات کی تعداد بہت بڑھ چکی ہے، جبکہ طلبہ کی تعداد تشویشناک حد تک کم ہورہی ہے۔ ہیومن ریسورس کا یہ چیلنج اور یہ صورت حال اہلِ علم کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ جبکہ کارگہِ حیات میں مردوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے ان کی اہمیت معاشرتی ماہرین سے اوجھل نہیں ہے، چنانچہ یہ مجلس تجویز کرتی ہے کہ طالبات کے اداروں میں مزید اضافہ کیا جائے تاکہ پاکستان کی باگ ڈور سنبھالنے والے رجال کی کم ہوتی تعداد کا تدارک کیا جاسکے۔

ایک قرارداد میں کہا گیا کہ تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ جن اقوام نے جب بھی اساتذہ کو اپنے معاشروں میں اعلیٰ مقام عطا کیا، ان کی تکریم کی، وہ دنیا میں سربلند ہوئیں اور دنیا کی امام بنیں۔ اور جب بھی جن اقوام نے اساتذہ کی تذلیل کی وہ قعرِ مذلت میں گر گئیں اور صفحۂ ہستی سے نقشِ ناتمام کی طرح مٹ گئیں۔ یہی صورتِ حال آج بھی مسلمہ حقیقت کی طرح آشکارا ہے کہ امریکہ و یورپ کی اقوام کے ہاں استاد کو معاشرے میں اعلیٰ مقام حاصل ہے تو وہ دنیا میں سربلند ہیں اور دنیا کی امام ہیں، جبکہ پاکستان میں صورتِ حال اس کے بالکل معکوس ہے۔ چنانچہ یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ پاکستان میں اساتذہ کی تکریم اور ان کے معاشرتی مقام کو بلند کرنے کے لیے حکومتی سطح پر تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔

ان سفارشات اور قراردادوں کی منظوری کے بعد کانفرنس کے باقاعدہ اختتام کا اعلان کیا گیا۔ اس موقع پر شرکاء دیر تک صدر تنظیم ڈاکٹر محمد اکرم کو کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد دیتے رہے۔