اداروں کی حفاظت ضروری ہے

رب کائنات نے انسان کو اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کیا ہے۔ مگر حضرت انسان اس شرف کو لے کر خود  ہی کو خدا سمجھنے لگ گیا اور یہ سمجھنے سے قاصر ہوگیا کہ وعتصمو بحبل اللہ کیا ہوتاہے۔ قدرت کی دی ہوئی عقل اور دانش کو استعمال کرتے ہوئے انسان نے دنیا کو رہنے کے قابل بنانا شروع کیا اور آہستہ آہستہ اپنی آسائشوں کا سامان بنانے میں ایسی مہارت حاصل کرلی کہ آج دنیا میں  آسائش کی تقریباً ہر شے میسر ہے۔

بدلتی ہوئی دنیا نے انسان کو چاند پر پہنچایا تو دوسری طرف سمندروں کی گہرائیاں بھی جاننے کی طرف راغب کیا۔ انسان نے دنیا میں رہتے ہوئے کائنات کا سفر شروع کر رکھا ہے۔ نسل انسانی شعور کیلئے اب بچے کی عمر نہیں دیکھتی بلکہ بچے کی باتوں،عملی کارناموں اور اس کی چاہ سے اس کے باشعور ہونے کا پتہ چلاتے ہیں۔  پچھلے ادوار میں ترقی کے ضامن محنتی افرادی قوت ہوا کرتی تھی جبکہ دور حاضر میں پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے افراد اداروں کی ضرورت بن چکے ہیں۔ پہلے ادارے محنت کرنے والوں کی قدر کرتے تھے اورمخصوص معاوضہ محنتی لوگوں کیلئے مختص ہوا کرتا تھا۔

پاکستان میں دوسری نوعیت کے افراد کی شدید قلت ہے۔ اداروں کی ترقی اور تنزلی کا تعلق اس میں کام کرنے والے کاریگروں کی پیشہ ورانہ مہارت سے مشروط ہوتا ہے۔ پاکستان میں پیشہ ور انہ مہارت کا فقدان تو نہیں ہے اور نہ ہی محنتی اور لگن سے کام کرنے والے کم ہیں مگر اداروں میں پیشہ ورانہ ماحول کی عدم دستیابی ہے جس کے باعث ہمارے ذہین اور قابل برین ڈرین ہو رہے ہیں یعنی لوگ ملک چھوڑ کر ترقی یافتہ ملکوں کا رخ کر رہے ہیں کیونکہ وہاں پیشہ ورانہ ماحول ان کی اہلیت کا منتظر ہے۔ پاکستان میں اداروں کی تباہی کی ایک اہم ترین وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے اداروں میں وقت کے ساتھ تبدیلی نہیں آسکی اور ہم وقت کی تیزرفتاری کا مقابلہ نہیں کرسکے۔  ادارے آہستہ آہستہ تباہی کی جانب بڑھنا شروع ہوگئے۔ ہمارایک اور بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم کسی بھی قسم کی تنقید کو ذاتی حیثیت میں دیکھتے ہیں اور اس کا رد عمل بھی بھرپور ذاتی طرح کا دیتے ہیں۔  ذاتیات کی جنگ میں ہم ادارے کی ساکھ کا بھی خیال نہیں کرتے۔ جو اس بات کی گواہی ہے کہ ہم لوگ پیشہ وارانہ ماحول مرتب کرنے میں ناکام ہیں۔

ادارے سسک سسک کر اپنی موت تو مر ہی رہے تھے اس پر ہمارے سیاستدانوں نے ان کا گلا دبا دیا۔  اپنی سیاست چمکانے کیلئے اور جزوقتی فائدہ اٹھانے کیلئے ضرورت سے زیادہ اور غیر ضروری بھرتیاں کسی بھی ادارے کی تباہی کا سبب بنتی ہیں۔ اداروں کی تباہی کا سارا الزام سیاستدانوں پر نہیں تھوپا جاسکتا مگر سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ادارے میں کام کرنے والوں کے بغیر کوئی بھی ادارے کو تباہ کرنے کی جرات نہیں کرسکتا۔ ادارے کے ملازمین اپنے ذاتی تھوڑے سے جزوقتی مفاد کی خاطر ادارے کو نقصان پہنچاتے چلے جاتے ہیں اور ایک دن وہی ادارہ جو کبھی بہت فائدہ مند ہوا کرتا تھا بند ہوجاتا ہے۔ سیکٹروں گھروں کے چولہے بند ہوجاتے ہیں۔ لوگ سڑکوں پر آجاتے ہیں اور یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو (وقتی فائدہ اٹھانے والے) آلہ کار بننے والے بھی ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔

آج دنیا ذاتی رویوں سے نکل کر پیشہ ورانہ رویوں میں ڈھل چکی ہے اور ہمیں زندگی گزارنے کے طریقے بھی باقاعدہ سیکھنے پڑ رہے ہیں۔ترقی کی راہ پر گامزن اس دنیا میں ہمارا ہر وقت چاہے وہ کسی کاروباری ملاقات کا ہو یا پھر کوئی نجی تقریب کا ہم سے مخصوص رویوں کا تقاضہ کررہا ہے اور یہ مخصوص رویئے جدید تعلیم کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ ہمارے اداروں کی زبوں حالی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہم کتنے پیشہ ور ہیں۔ پاکستان ابھی ان ملکوں میں شمار نہیں ہوتا جہاں لوگ روائتی انداز کو تبدیل کر چکے ہیں اور انسانی وسائل یا حفاظتی شعبوں پر عبور حاصل کئے ہوئے ہیں۔  اگر ہم قومی اداروں کو بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ جلد سے جلد پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے بھرپور افراد تعینات کریں۔ اور اداروں کو ذاتی مفادات کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔