قرضوں میں ڈوبا ملک اور غربت سے پریشان عوام
- تحریر افتخار بھٹہ
- سوموار 27 / نومبر / 2017
- 3955
جمہوریت ہو مارشل لاء یا پھر کوئی اور طرز حکومت پاکستان میں کچھ وزارتیں ملکی اور غیر ملکی اداروں کے کنٹرول میں ہوتی ہیں۔ ایک ایسی بھی وزارت ہے جو کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے تابع ہوتی ہے۔ اس کا وزیر خواہ مقامی ہو یا درآمد شدہ اس کا کام قرضوں اور امداد کے حصول کیلئے حکم بجا لانا ہوتا ہے۔ ہماری تاریخ میں یہ سچ ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے ہماری ریاست کو قرضوں کی ادائیگی کے ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے وزیر اعظم بھی بھیجے تھے، جن میں ایک غیر منتخب وزیر اعظم معین قریشی تھا۔ ایک شوکت عزیز تھا۔ جب کہ مالیاتی مشیر ہمیشہ کسی نہ کسی مالیاتی ادارے کے ملازم رہے ہیں۔
شوکت عزیز کو ہم نے منتخب کروا کے جمہوریت کا بھرم رکھا وزارت خزانہ بھی اس کے پاس تھی۔ گویا پالیسیاں بھی اسی کی تھیں۔ اس دور حکومت میں کرائے کی سرمایہ کاری کے ذریعے صنعتوں کی مصنوعات کی فروخت کا بندو بست کیا گیا جس میں بینکوں کے ذریعے عام آدمی اورملازمین کیلئے Consumers قرضوں کا اجرا تھا جن کو قسطوں کی صورت میں وصول کیا جانا تھا۔ ان میں گاڑیوں، ریفریجریٹر، اے سی، ٹیلی ویژن اور دیگر ضروریات کو خریدنے کیلئے قرضہ جات شامل تھے ۔ اس طرح لوگوں کی آمدنی کا زیادہ حصہ قسطوں کی ادائیگوں میں چلا جاتا تھا۔ ان سارے کاموں میں بینکوں کے منافع میں اضافہ ہوا جبکہ بچتوں میں کمی ہوئی جن کا تعلق براہ راست سرمایہ کاری سے ہے۔ کیونکہ بینک اپنے کھاتہ داروں کو زیادہ منافع نہیں ادا کرتے۔ لہذا( رئیل اسٹیٹ، جائیداد ) کی خریدو فروخت ہی منافع بخش کاروبار رہ گیا ہے۔ دوسری طرف موجودہ حکومت اپنے سرکاری ادارے نیشنل سیونگ سنٹر میں شرح منافع میں مسلسل کمی کرتی جا رہی ہے ۔ چونکہ وہاں پر پیسہ جمع کروانے والے زیادہ پنشنر اور بوڑھے لوگ ہوتے ہیں۔ منافع کی شرح میں کمی اور مہنگائی کی وجہ سے ان کی قوت خرید میں کمی ہوئی ہے، جس سے ان کا عام اخراجات پورا کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔
دوسری طرف حکومت عالمی مالیاتی اداروں سے مسلسل قرضے حاصل کئیے جا رہی ہے جبکہ ملکی مالیاتی اداروں سے بھی قرضے لیے جا رہے ہیں ۔ جس سے مقامی بینکوں کو حکومت کی گارنٹی کی صورت میں محفوظ سرمایہ کاری کی سہولت حاصل ہوئی ہے۔ اس طرح حکومت اور بینک دونوں خوش ہیں جبکہ بیچارے کھاتے داروں کو کچھ بھی نہیں مل رہا ہے۔ موجودہ حکومت نے پاکستان میں پچھلے68سالوں میں چالیس ارب کے قرضے حاصل کئے گے تھے جبکہ موجودہ حکومت نے25ارب ڈالر کے قرضوں کا بوجھ قوم پر لاد دیا ہے جس کے ساتھ ٹیکسوں کی شرح میں انتہائی اضافہ ہوا ہے۔ ایک عام آدمی پندرہ ہزار روپے کی خریداری پر تین ہزار سے زیادہ ٹیکس ادا کر رہا ہے۔ حکومت نے کئی قرضے سٹرکچرل اصلاحات کے نام پر حاصل کیے ہیں جس میں پی آئی اے، سٹیل ملز، ایف بی آراور کئی دیگر سرکاری محکمے شامل ہیں۔ مگر کسی کو معلوم نہیں یہ قرضے کہاں خرچ کیے گئے ہیں، کون سی شاہراہیں تعمیر کی گئیں ہیں۔ حکومت پنجاب جس کے ترقیاتی کاموں کے چرچے ہمیں اخبارات اور میڈیا کے ذریعے دکھائی دیتے ہیں، موسم برسات نے تمام منصوبہ جات کی قلعی کھول دی ہے۔ مجھے پنجاب کے جن شہر یا دیہات میں جانے کا موقع ملا ہے وہاں پر خستہ سکول، ہسپتال ، سڑکیں اور نکاسی کا ناقص نظام حکومتی دعوؤں کا منہ چڑا رہا ہوتا ہے۔ قرضوں کی مالیت مجموعی قومی پیدا وار کے 80فیصد ہو چکی ہے۔ موجودہ حکومت نے اپنے حالیہ عرصہ اقتدار کے دوران زرداری حکومت کی نسبت تین گنا قرضے حاصل کیے ہیں جبکہ بجلی کے نرخوں میں تیل کی کم قیمتیں ہونے کے باوجود تین گنا اضافہ ہو اہے۔
غریب آدمی اپنی آمدنی کے تناسب سے کہیں زیادہ ٹیکس ادا کر رہا ہے۔ اس کی آمدنی کا زیادہ حصہ اشیائے خورد و نوش کی خریداری پر خرچ ہو جاتا ہے اور تعلیم اور صحت کیلئے اس کے پاس کچھ نہیں بچتا ہے۔ 60فیصد سے زیادہ افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ یاد رہے کسی ملک میں قرضوں کے ذریعے خوشحالی نہیں لا ئی جا سکتی ہے۔ ہماری ریاست جاری اخراجات اور ترقیاتی منصوبوں کے لئے آئی ایم ایف اور دیگر قرضہ دینے والے اداروں کی شرائط پر قرضے حاصل کرتی ہے تاکہ ان کی اقساط کی ادائیگی کو یقینی بنا جا سکے۔ سابق دور اور موجودہ دور میں بھی وزارت خزانہ عالمی مالیاتی اداروں کی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے۔ مگر ان تمام کاموں کیلئے اعداد و شمار کا ماہر ہونا ضروری ہے تاکہ عوام کو اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں الجھا کر اپنی کارکردگی کو بہتر طور پر دکھایا جا سکے۔ یہ اعزاز صرف نواز شریف کے مستقل وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو حاصل ہے کیونکہ وہ ہر قسم کے قانونی اور غیر قانونی مالیاتی امور کی چال بازیوں کے ماہر ہیں۔ جس میں ترقی اور غربت میں کمی ثابت کرنا ضروری ہے بلکہ اعداد و شمار کی ہیرا پھیری سے بین الاقوامی مالیاتی ادروں کو بے قوف بنانا بھی خاصی فنکاری ہے۔ ان تمام کاموں کا مقصد قرضے دینے والے اداروں کو گمراہ کرنا ہوتا ہے۔
شوکت عزیز جنرل پرویز مشرف کے درآمدی وزیر خزانہ تھے۔ انہوں نے خط غربت کو دو ڈالر تک اونچا کر دیا تھا۔ اس وقت خط غربت کا معیار ایک ڈالر فی کس روزانہ آمدنی تھا، دو ڈالر کیا مقرر ہوئے پاکستان پر ترقی کے دروازے کھل گئے ، غریبوں کی تعداد میں کمی ہو گئی۔ یہی معیار آج بھی مقرر ہے جس کے تحت ہمارے ہاں تمام تر مہنگائی، بے روز گاری اور افراط زر ، معیشت کے تنزل اور معاشرتی تباہی کے باوجود خط غربت سے نیچے گزارنے والوں کی تعداد 33فیصد سے زیادہ نہیں۔ یہی تو سرکاری ہنر مندی کاکمال ہے مگر ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 60فیصد عوام خط غربت سے لڑھک چکے ہیں۔ یعنی 12کروڑ عوام خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں لیکن ہمارے حکمران ترقی کے دعوے کرتے ہوئے تھکتے نہیں۔ موٹر وے ، اورنج ٹرین، میٹرو بسوں ، سڑکوں اور پلوں کو ترقی قرار دینے والے بھول جاتے ہیں 21فیصد آبادی کو خوراک کے قحط کا سامنا ہے۔ توانائی کے بحران سے بند ہوتی صنعتیں سرمایہ کی بیرون ملک منتقلی تیل کی قیمتوں کی وجہ سے سعودی عرب اور گلف میں ملازمتوں اور بے روز گاری کا بحران جس سے بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات میں کمی ہو سکتی ہے۔ اس طرح غربت مزید بڑ ھ سکتی ہے۔ یہ غریبوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ترقی کو بے نقاب کر رہی ہے جب کہ امیروں کے اثاثوں میں بیرون ملک اضافہ ہو رہاہے۔
ملک میں 44فیصد بچے غذائی قلت سے دو چار ہے اور ان کی جسمانی گروتھ رک چکی ہے۔ شاید ہماری آئندہ نسلیں پستہ قد ہوں۔ یونی سیف کی رپورٹ کے مطابق ہر سال نئی نسل کے قد کی گروتھ میں ایک انچ کمی ہو رہی ہے اگر یہی ترقی کے ثمرات ہیں لیکن ہمیں حکمرانوں سے کوئی شکایت نہیں کرنی چاہیے۔ ہم ان کی چکنی چپڑی باتوں کے سحر میں جھگڑے ہوئے ہیں۔ موجودہ حکومت جاری اخراجات پورے کرنے کیلئے روزانہ6ارب روپے کے قرضے بینکوں سے حاصل کر رہی ہے جو کہ اس کی مالی بد انتظامیوں اور بیڈ گورننس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے ۔ ملک کے سرکاری محکموں میں کرپشن کے تذکرے عام ہیں جس میں ہماری سیاسی قیادت بھی بھی ملو ث ہے۔ ہماری اشرافیہ کا کام صرف اسمبلی میں بیٹھنا ہے تاکہ وہ اپنے ذاتی اور ووٹرز کے کام کروا سکیں۔ ان کے پاس کوئی نظریہ نہیں ہے جس سے سماج میں بہتری آ سکے۔
آج ملک کے بڑے مسائل غربت اور بے روز گاری ہیں۔ ملک کی تمام جماعتوں کے پاس عام آدمی کے مسائل کے حل کیلئے کوئی ایجنڈا موجود نہیں ہے۔ تمام جماعتیں نان ایشوز کی باتیں کر رہی ہیں۔ کہیں پر دھرنے دیئے جاتے ہیں، اربوں روپے جلسے جلوسوں پر خرچ کئے جا رہے ہیں۔ مگر اس سارے عمل میں عوام کے مفادات کیلئے کچھ موجود نہیں ہے۔ کیونکہ سیاسی جماعتوں کے پاس کوئی منشور یا ترقی کا روڈ میپ نہیں، جس میں غربت کا خاتمہ تعلیمی مواقع میں اضافہ اور بیرو زگاری میں کمی شامل ہے۔