پاکستان میں کمزور ہوتی جمہوریت اور سیاسی جماعتوں کا کردار
- تحریر مختار چوہدری
- سوموار 27 / نومبر / 2017
- 9622
میں عام طور پر سیاسی موضوعات پر کم ہی لکھتا ہوں۔ میں وطن عزیز کے سماجی مسائل کو اپنا موضوع بناتا ہوں ۔ میرے خیال میں نچلی سطح کے مسائل پر بات کرنا اور لکھنا زیادہ ضروری ہے کیونکہ پاکستان کے پسے ہوئے طبقات کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور ان کے مسائل سے بالائی طبقات کا کوئی سروکار نہیں ہے۔ تاہ سیاسی موضوع بھی اہم ہے کیوں کہ اس کا عوام کی صورت حال سے بھی تعلق ہوتا ہے۔
پاکستانی سیاست کی مثال اس خاتون جیسی ہے جس کے ساتھ ہرکوئی تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔ وہ ہر محفل کی جان ہوتی ہے لیکن کوئی بھی اس کے ساتھ وفاداری کرنے کو تیار نہیں۔ سب ہی سیاست بی بی کو اپنے نام سے جوڑ کر نام کمانا چاہتے ہیں لیکن اس کی عزت کرنے کو تیار نہیں۔ وطن عزیز کی سیاست بی بی کا یہ حال ہے لیکن دنیا کے تمام مہذب ممالک میں سیاست بی بی کی بہت عزت کی جاتی ہے۔ بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں اس کا نام عبادت بی بی ہے اور اس سے تعلق والے لوگ خود بخود ہی باکردار لوگوں کی صف میں شامل ہو جاتے ہیں۔ جس کے نام کے ساتھ سیاست بی بی کا نام لگتا ہے وہ پرہیز گار ہو جاتا ہے اور ہر جگہ پھونک پھونک کر پاؤں رکھتا ہے کیونکہ وہ یہ جانتا ہے کہ کسی بھی اور انسان سے کوئی کوتاہی سرزد ہو جائے تو اسے معافی مل سکتی ہے یا سزا میں کمی ہو سکتی ہے لیکن سیاست بی بی کے دوستوں کے پاس کسی بھی لغزش کی گنجائش نہیں ہوتی۔ سیاست بی بی کے بھائی جس کا نام میڈیا ہے، وہ ان تمام لوگوں پر گہری نظر رکھتے ہیں جن کا تعلق سیاست بی بی سے ہوتا ہے۔ ادھر کوئی غلطی ہوئی ادھر میڈیا نے شور مچا دیا۔ اور پھر کسی دھرنے کا انتظار ہوتا ہے نہ کسی رقیب کے نعرے کا ۔۔۔ بس جس سے لغزش ہوئی وہ خود ہی سیاست بی بی سے تعلق توڑ کر خود کو کٹہرے میں لا کھڑا کرتا ہے۔
سیاست بی بی کی کوکھ سے جمہوریت جنم لیتی ہے اور یہ جاننے کے لیے کسی سائنسی آلے کی ضرورت نہیں ہے کہ ماں لاغر ہوگی تو اس کی اولاد کیونکر توانا ہوگی۔ جس ماں کو خود آج تک کوئی مقام نہ مل سکا وہ اپنی اولاد کو کیسے طاقتور لوگوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ جن معاشروں میں سیاست بی بی کو اپنانے والے لوگ مخلص اور باوفا تھے اور انہوں نے سیاست بی بی کو اس کا حقیقی مقام دیا اس کی عزت کی اور اس کو عبادت سمجھ کر اپنایا وہاں وہ مضبوط ہوئی۔ اور اس کی کوکھ سے جنم لینے والی جمہوریت بھی توانا و تندرست ہے۔ وہ ملک اور معاشرے ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں۔ اور ہمارے ہاں سیاست بی بی سے تعلق والے لوگ شرفا میں نہیں آتے اور نہ ہی سیاست بی بی کو اچھی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ بلکہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ ایک گالی تصور کی جاتی۔ اور شرفا اپنی شرافت کا بھرم رکھنے کے لیے ساست بی بی سے فاصلہ قائم رکھتے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ جس سیاست بی بی کو مہذب دنیا عبادت کا درجہ دیتی ہے اور اس کے بطن سے پیدا ہونے والی جمہوریت کو اپنے لیے لازمی گردانتی ہے اور جمہوریت روز افزوں توانا سے طاقتور ہوتی جا رہی ہے۔
سیاست کا پاکستان میں یہ حشر کس نے کیا ہے۔ پاکستان میں سیاست کو برا کیوں سمجھا جاتا ہے۔ جمہوریت اتنی کمزور کیوں ہے اور سیاست کے بھائی میڈیا اپنی بہن کی حفاظت کرنے کی بجائے اس کے دشمنوں کے ساتھ کیوں کھڑے ہیں۔ جیسا کہ جمہوریت کے مخالف ڈکٹیٹر ہمیشہ سے طاقتور ہیں اور پاکستان بننے کے ساتھ ہی انہوں نے سیاست بی بی پر اور جمہوریت پر دباؤ ڈال دیا ۔ پاکستان کی تاریخ پر ایک نظر ڈالنے سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کے ابتدائی سالوں میں اس وقت کے فوج کے چیف جنرل ایوب خان نے جمہوریت کے ساتھ مختلف کھیل کھیلے اور قائداعظم محمد علی جناح کی دست راست سیاسی قیادت کو پاؤں جمانے کا موقع نہیں دیا۔ اور ملک میں وقفے وقفے سے مارشل لگتے رہے۔ جمہوریت بھی فوجی جرنیلوں کے رحم وکرم پر رہ گئی۔ جس کے نتیجے میں پاکستان دو لخت بھی ہوا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سیاستدانوں کا کردار کیا رہا ہے اور انہوں نےآمروں کے مقابلے میں جمہوریت کو مضبوط کرنے میں کیا کردار ادا کیا۔ عطاالحق قاسمی صاحب کا ایک مشہور زمانہ شعر ہے کہ " ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں، انصاف کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہیے " اگر جمہوریت مخالف آمروں نے جمہوریت کو پنپنے کا موقع نہیں دیا تو کیا جمہوریت پسند سیاست دانوں نے جمہوریت کی مضبوطی کیلئے کچھ کیا ہے۔ بظاہر تو ایسا کہیں کچھ نظر نہیں آتا ہے۔ پاکستان قائداعظم کی ولولہ خیز سیاسی قیادت میں سیاستدانوں کے ذریعے معرض وجود میں آیا تھا۔ قائداعظم کو زندگی نے زیادہ مہلت نہ دی (ان کے انتقال میں بھی معنی خیزی کا ذکر ہے) وہ ملک کے لیے آئین نہ بنا سکے۔ ان کے بعد جتنے حقیقی سیاسی راہنما تھے نواب لیاقت علی خان، خواجہ ناظم الدین، چوہدری محمد علی، حسین شہید سہروردی اور محمد علی بوگرہ اور دوسرے سیاستدانوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہیں۔ پاکستان کو معرض وجود میں آئے ابھی ایک ہی عشرہ گزرا تھا کہ ملک پر براہ راست مارشل لاء نافذ کر دیا گیا۔
یہ تو تھیں آمروں کی ریشہ دوانیاں لیکن میں بات سیاستدانوں کے کردار کی کرنا چاہتا ہوں۔ سیاسی جماعتوں کی بات کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے جمہوریت کی مضبوطی کیلئے کیا اقدامات کیے۔ ادھر بھی کوئی خاص قابل ذکر کردار نہیں نظر آتا۔ بلکہ مجھے تو یہ کہنے میں بھی کوئی عار نہیں کہ پاکستان میں کوئی حقیقی سیاسی جماعت ہے نہ جمہوری ذہن کا کوئی سیاستدان۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں اگر ہم 70 کی دہائی سے 2017 تک جائزہ لیں تو ہمیں کوئی بھی جمہوری دور ایسا نظر نہیں آتا جس میں جمہوریت کو مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔ کوئی ایسی سیاسی جماعت نظر نہیں آتی جس کی صحیح معنوں میں تنظیم سازی ہوتی ہے اور باقاعدگی سے حقیقی پارٹی انتخابات کروائے جاتے ہوں۔ تمام جماعتوں پر خاندانوں کا قبضہ ہے اور شخصی فیصلے مسلط کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی گھر کے مالک کسی سیاسی راہنما سے کسی گستاخی پر ناراض ہو جاتے ہیں تو پھر مائنس ون کی آوازیں اٹھنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اگر سیاسی جماعتیں اداروں کی مانند ہوں اور ان میں باقاعدہ ممبر سازی کے ذریعے اور حقیقی جماعتی انتخابات کے ذریعے قیادت سامنے لائی جاتی ہو تو پھر مائنس 10 بھی ہو جائیں تو جماعت کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔
کوئی بھی سیاسی جماعت بغیر کسی نظریے کے نہیں بنتی اور نہ ہی کسی راہنما کا نام نظریہ ہوتا ہے۔ سیاسی جماعت کسی ایک نظریاتی سوچ کے حامل بہت سے لوگوں کے ایک گروہ کے مل جانے سے بنتی ہے اور اسی پر قائم رہ سکتی ہے۔ لوگ آتے رہتے ہیں اور اپنے وقت کے ساتھ چلے بھی جاتے ہیں۔ اگر ہم خورشید قصوری جیسے جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے اس استدلال کو مان بھی لیں کے ساؤتھ ایشیا کے حالات کے تناظر میں خاندانوں کی اجارہ داری لازمی ہے تب بھی جماعت کے اندر دوسرے اور تیسرے نمبر کی قیادت کا ہونا بہت ضروری ہے۔ خاندان کے افراد بھی جماعت میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر اپنی باری پر پارٹی سربراہ بننے چایئے صرف خاندانی نسبت سے نہیں۔ عمران خان بہت دیر تک یہ نعرہ لگاتے رہے کہ ہم پارٹی الیکشن کروائیں گے اور دوسری جماعتوں پر الزامات لگاتے رہے کہ وہ خاندانی جماعتیں ہیں۔ صحیح جماعتی انتخابات نہیں کرواتے، پھر کیا ہوا۔ خان صاحب نے ایک انتخابات کروائے جس کی بھینٹ وجیہ الدین صاحب جیسے ایماندار شخص سمیت کئی اچھے پارٹی ورکر اور راہنما چڑھے۔ اور اس کے بعد خان صاحب نے توبہ کرلی۔
دنیا کا کوئی ملک (کم از کم موجودہ دور میں) جمہوریت کے بغیر آگے جا سکتا ہے، نہ ترقی کر سکتا ہے اور بلدیاتی نظام کے بغیر جمہوریت کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن وطن عزیز میں 70 سے آج تک کسی بھی سیاسی جماعت نے بلدیاتی اداروں کے استحکام کے لیے کام نہیں کیا۔ اول تو جمہوری ادوار میں بلدیاتی انتخابات ہی نہیں کروائے جاتے اور بلدیاتی ادارے عضو معطل کی طرح رہتے ہیں۔ اگر کبھی بلدیاتی انتخابات کروا بھی دیئے جائیں تو بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات نہیں دیئے جاتے کیوں کہ جماعتی قیادت سارے اختیارات اپنی ذات میں مرکوز رکھنا چاہتی ہے۔ ایم این ایز حضرات قانون سازی کی بجائے گلی اور نالی سازی کے کام کو ترجیح دیتے ہیں۔ پاکستان میں آج تک کوئی مستقل بلدیاتی نظام بن پایا ہے نہ باقاعدگی سے بلدیاتی انتخابات ہوئے ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ وزرات عظمی سے نکالے جانے پر پھر یہ سوال کیوں پوچھا جاتا ہے کہ " مجھے کیوں نکالا "۔ جی آپ کو اس لیے نکالا کہ آپ اپنے مضبوط سیاسی اور جمہوری نظام کے بغیر کمزور تھے۔ اورجن ستونوں کے اوپر آپ کا تخت ہونا تھا یا تو وہ ستون تھے نہیں یا پھر بہت کمزور تھے۔
اگر آپ جمہوریت کو مضبوط کرنے کے متمنی ہیں، اگر آپ منتخب ہونے کے بعد اپنی مدت پوری کرنے کے خواہش مند ہیں، اگر آپ ملک کے چیف ایگزیکٹو بننے کے بعد اپنے اختیارات استعمال کرنے کی آزادی چاہتے ہیں اور اگر آپ اپنے ملک کو صحیح معنوں میں جمہوری ملک بنانا چاہتے ہیں تو پھر جمہور میں اختیارات تقسیم کریں۔ آج سے عہد کریں کہ ہم اپنی سیاسی جماعتوں کو اداروں کی مانند صحیح سیاسی جماعتیں بنائیں گے۔ ہم اپنی جماعت میں حقیقی ممبر سازی کے ذریعے اور حقیقی جماعتی انتخابات کی بنیاد پر قیادت کی آبیاری کریں گے۔ آج سے عہد کرتے ہیں کہ ہم ایک مربوط بلدیاتی نظام قائم کریں گے اور ہر 4 سال بعد بلا تعطل بلدیاتی انتخابات کروائیں گے۔ بہتر یہ ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی مدت بھی 4 سال کر دی جائے اور ان کے انتخابات اس طرح کروائے جائیں۔اس سے ملک میں جمہوری نظام مضبوط ہوگا اور جمہوری نظام کے خلاف سازشوں میں کمی آئے گی۔
کوئی بھی نظام راتوں رات نہیں بن سکتا لیکن اس کو بنانے کی ابتداء کسی ایک دن رکھی جا سکتی ہے۔ حقیقی راہنما مشکل فیصلے لیتے ہیں اور اگلے انتخابات کے بجائے اگلی نسلوں کا سوچتے ہیں۔ جب تک سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتیں خود جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے مخلص نہیں ہوں گے اور اقتدار اقتدار کا کھیل کھیلنے میں مشغول رہیں گے اور اقتدار حاصل کرنے کے لیے عوام کو خوش کرنے کی بجائے مقتدر اداروں کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش میں رہیں گے اور اپنے عوام پر اعتبار کرنے سے زیادہ امریکہ سے وفاداری کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے دن رات ایک کرتے رہیں گے، تو پھر یہ سوال بھی نہیں بنتا کہ " مجھے کیوں نکالا " کیونکہ جو آپ کو لاتے ہیں وہ نکالنے کا حق بھی رکھتے ہیں۔