اقبال اور ہمارا قومی مقدر
- تحریر پروفیسر فتح محمد ملک
- سوموار 27 / نومبر / 2017
- 4682
علامہ اقبال نے ہوش سنبھالتے ہی مسلمان معاشروں کو جن بیماریوں میں مبتلا پایا اُن میں سے ایک مہلک بیماری کا نام مقدر پرستی ہے۔ انسان کی تقدیر کے بارے میں یہ تصور راسخ ہوچکا تھا کہ ہر شخص پیدائش کے وقت اپنا مقدر ساتھ لاتا ہے۔ یہ مقدر کسی صورت میں بھی تبدیل نہیں ہو سکتا۔ کوئی بھی انسانی جدوجہد انسان کے مقدر کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ چنانچہ آدمی کو غربت سے لے کر غلامی تک ہرچیز کو تقدیر کا فیصلہ سمجھ کر چپکے چپکے برداشت کرتے رہنا چاہیے۔ اقبال مقدر پرستی کے اس تصور کو قرآنِ حکیم کی تعلیمات کے منافی قرار دیتے ہیں:
اسی قرآں میں ہے اب ترکِ جہاں کی تعلیم
جس نے مومن کو بنایا مہ و پرویں کا امیر
تن بہ تقدیر ہے آج ان کے عمل کا انداز
تھی نہاں جن کے ارادوں میں خُدا کی تقدیر
مسلمانوں میں تن بہ تقدیر ہو کر بیٹھ رہنے کے اس چلن کو اقبال شہنشاہیت کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک مسلمانوں میں مقدر پرستی کا مروجہ اسلامی تصور ملوکیت کی دین ہے۔ مستبد اور جبر حکمرانوں نے اپنے مخصوص مفادات کے تحفظ کی خاطر مقدر پرستی کے اس مذموم تصور کو رواج دیا۔ اُن کے خیال میں یہ تصور اموی دور میں حکمرانوں کی ایک سیاسی ضرورت تھا۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کی خاطر قرآنی تعلیمات کو غلط رنگ میں پیش کیا گیا۔ اقبال نے اپنے استدلال کو آگے بڑھاتے ہوئے مقدر کو بیج سے تشبیہہ دی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ جس طرح بیج کے اندر پورا درخت موجود ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر شخص کی ذات میں اللہ نے وہ امکانات رکھ دیئے ہیں جنہیں وہ اپنی محبت سے بروئے کار لا سکتا ہے۔ جس طرح بیج ڈالنے کے بعد اگر کسان محنت نہ کرے تو بیج مٹی کے ساتھ مٹی ہو جائے گا، کونپل نہیں پھوٹے گی۔ اس کے برعکس محنت سے بیج کے اندر سے کونپل پھوٹ نکلے گی۔ پھر بادِ ساز گار، آبیاری اور محنت کے ساتھ وہی بیج ایک چھتنار درخت کی صورت اختیار کر جائے گا۔ اسی طرح انسانی فطرت میں ودیعت کیے گئے امکانات کو اگر کوئی شخص اپنی محنت سے، اپنی جہدِ مسلسل سے پروان نہیں چڑھائے گا تو اُس کا مقدر پھوٹ جائے گا اور وہ ترقی نہیں کر پائے گا مگر مگر جو شخص اللہ کے دیئے ہوئے ان امکانات کو بروئے کار لانے کے لیے مشکلات و مصائب سے پنجہ آزما ہوتا رہے گا وہ مسلسل ترقی کرتا چلا جائے گا۔ یہی حال قوموں کے مقد کا بھی ہے۔ جو قومیں اللہ کے دیئے ہوئے وسائل کو قومی نظم و ضبط کے ساتھ محنت کرتے ہوئے مسلسل بروئے کار لاتی رہیں گی اُن قوموں کا مستقبل بھی مسلسل سنورتا ہی چلا جائے گا۔ جو افراد اور اقوام محنت و مشقت اور جہدِ مسلسل سے کام نہیں لیتیں اُن کی مثال اُس بیج کی سی ہے جو زمین کے اندر ہی مر کر رہ جاتا ہے۔
علامہ اقبال کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ انسان کا مقدر اُس کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ انسان اپنے مقدر کی خرابی کی ذمہ داری خُدا پر نہیں ڈال سکتا۔ اس خرابی کا ذمہ دار وہ خود ہے۔ چنانچہ اقبال نے اپنے فلسفہ اور اپنی شاعری ہر دو میدانوں میں مقدر پرستی کے اس تصور کی تردید بڑے مؤثر انداز میں کی ہے۔ اقبال نے فلسفیانہ سطح پر بھی عقلی دلائل کے ساتھ مقدر پرستی کی تردید کی ہے اور اپنی شاعری کے فیضان سے بھی دفنیائے اسلام کو اس بیماری سے نجات دلانے کے لیے خوب کام لیا ہے۔ وہ دُنیائے اسلام سے پوچھتے ہیں:
ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا؟
وہ خود فراخئ افلاک میں ہے زار و زبوں
اور پھر خود ہی اس سوال کا جواب دیتے ہیں:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر!
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ۱
تاریخ شاہد ہے کہ خود اقبال ایک ایسے فرد ثابت ہوئے جنہوں نے اپنے فکر و عمل سے اپنی قومی کے مقدر کو بدل کر رکھ دیا۔ علامہ اقبال اس اعتبار سے اپنی مثال آپ ہیں کہ نہ تو اُن سے پہلے اور نہ ہی اُن کے بعد، آج تک کی پوری انسانی تاریخ میں کوئی، ایسا شاعر گزرا ہے جس کے افکار سے ایک نئے ملک کا جغرافیائی وجود پھوٹا ہو۔ پاکستان اقبال کی اسلامی انقلابی شاعر کا بدن ہے۔ قائداعظم کے سوانح نگار ہیکٹر بولائتھو نے کُل ہند مسلم لیگ کے ستائیسویں سالانہ اجلاس منعقدہ لاہور کے حوالے سے لکھا ہے کہ:
’’اس اجلاس کے کچھ عرصے بعد جناح نے اپنے پرائیویٹ سیکرٹری مطلوب الحسن سید سے جو لاہور کے اجلاس میں شریک تھے کہا: “اقبال اگر آج زندہ ہوتے تو یہ دیکھ کر کتنے خوش ہوتے کہ ہم نے بالآخر وہی فیصلہ کیا جس کی انہیں آرزو تھی۔۔۔‘‘
یہ بات بہت معنی خیز ہے کہ 22، 23 اور 24 مارچ 1940 اور کا یہ اجلاس قراردادِ پاکستان کی منظوری کے بعد یومِ اقبال کی صورت اختیار کر گیا تھا۔ یومِ اقبال کی پہلی نشست چوبیس ہی کی شام کو منعقد ہوئی جس کی صدارت قراردادِ پاکستان پیش کرنے کی سعادت حاصل کرنے والے بنگال کے وزیرِ اعلیٰ مولوی اے کے فضل الحق نے فرمائی تھی۔ اپنے صدارتی کلمات میں انہوں نے اعتراف کیا کہ:
’’اقبال نے ہم کو ایک پیغام دیا ہے۔۔۔ پاکستان کی اسکیم کا پہلے اقبال نے تصور پیش کیا تھا جس کو آج آل انڈیا مسلم لیگ نے ایک مطالبہ کی صورت میں منظور کر لیا ہے۔‘‘
دوسرے اجلاس کی صدارت خود قائداعظم نے فرمائی اور اقبال سے اپنی گہری سیاسی اور ذاتی رفاقت کا ذکر کرتے ہوئے اے کے فضل الحق کے اعتراف کی تائید فرمائی۔ خود اقبال نے اپنے قومی کارناموں کی جانب اپنے درج ذیل شعر میں بڑا بلیغ اشارہ کیا ہے:
دیا اقبال نے ہندی مسلمانوں کو سوز اپنا
وہ اِک مردِ تن آساں تھا، تن آسانوں کے کام آیا
اقبال برطانوی ہند کے ایک محکوم شہری تھے۔ اپنی اور اپنی قوم کی محکومی کا خیال اُن کے لیے سوہانِ روح تھا۔ اقبال انسانی ارادہ و عمل کی آزادی کے بہت بڑے مغنی تھے مگر جب وہ اپنے مثالی تصورات کو غلامی کی سفاک حقیقت کے سیاق وسباق میں دیکھتے تھے تو اُن کے دل میں قومی آزادی کے حصول کے لیے سرگرمِ عمل ہونے کا عزم اور بھی زیادہ پختہ ہو جاتا تھا۔ چنانچہ وہ عمر بھر بڑے استقلال کے ساتھ قومی آزادی کی جدوجہد میں فکری اور عملی طور پر شریک رہے۔ جب انہوں نے شعور کی آنکھ کھولی تو انہیں گرد و پیش کی زندگی پر غلامی کے بھیانک اثرات کارفرما نظرآئے۔ ان کے دل میں قوم کی بے حسی اور بے عملی کا رنج اس قدر شدید تھا کہ انہوں نے اپنی ایک مختصر نظم میں اپنی ذات پر اللہ میاں کے الطاف و عنایت کا شکر ادا کرنے کے بعد یہ گلہ کرنا بھی ضروری سمجھا:
لیکن مجھے پیدا کیا اُس دیس میں تو نے
جس دیس کے بندے ہیں غلامی پہ رضامند!
اقبال نے غلامی کی اس تیرہ و تار فضا میں اپنا فنی و فکری مجاہدہ اس عزم و استقلال کے ساتھ شروع کیا تھا کہ:
میں ظلمتِ شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شرر فشاں ہوگی آہ میری ، نفس مرا شعلہ بار ہوگا
چنانچہ اقبال کی شاعری نے اسلامیانِ ہند کو خوابِ غفلت سے بیدار کیا، مشکلات و مصائب سے مردانہ وار پنجہ آزما ہونے کو تیار کیا، اپنی منفرد اور جداگانہ ہستی کو شعور بخشا، پھر اپنی اس جداگانہ ہستی کی بقا اور استحکام کی خاطر قومی جمود کوتوڑ کر حرکت و عمل پر آمادہ کیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اُن کے سامنے کامل آزادی اور دائمی بقا کا ایک واضح انقلابی نصب العین رکھا:
بنتے ہیں مری کارگہِ فکر میں انجم
لے اپنے مقدر کے ستارے کو تو پہچان!
تاریخ نے مقدّر کے اس ستارے کو تصورِ پاکستان کا نام دیا ہے۔ ہندی مسلمانوں کو بیک وقت برطانوی استعمار اور کانگریسی استبداد سے آزادی کی راہ پر گامزن ہونے کا مشورہ دیتے وقت اقبال نے سن 1930 میں پیش گوئی فرمائی تھی کہ پاکستان کا قیام مقدر ہو چکا ہے۔ اپنے خطبۂ الہ آباد میں اقبال نے دو ٹوک انداز میں اعلان کیا تھا کہ ہندی مسلمان ایک اقلیت نہیں بلکہ ایک جداگانہ قوم ہیں۔ وہ جدید معنوں میں ایک الگ مسلمان قوم ہیں۔ چنانچہ اسلامیانِ ہند کو چاہیے کہ وہ مستقبل کے اکھنڈ بھارت میں تحفظات کی بھیک مانگنے کی بجائے قوموں کے حقِ خود اختیاری کی رُو سے اپنی الگ قومی ریاستیں قائم کر لیں۔ اسلامیانِ ہند نے اپنے مقدر کے اس ستارے کو خوب پہچانا۔ صرف سترہ برس کی مسلسل اجتماعی جدوجہد کے بعد پاکستان قائم ہو گیا۔ پاکستان کا قیام ایک عوامی جمہوری تحریک سے عمل میں آیا تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد اقبال کے تصورِ پاکستان کو پاکستان کی عملی زندگی میں نافذ کرنا ہمارا وّلین فریضہ تھا مگر سانحہ یہ ہوا کہ بابائے قوم کی وفات اور وزیراعظم لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد اقتدار سول اور فوجی افسر شاہی کے گھر کی کنیز بن کر رہ گیا۔ اقبال کا تصورِ پاکستان ایک انقلابی تصور ہے۔ سیاسی، معاشی اور روحانی جمہوریت کا قیام اس تصور کے نفاذ کی جانب پہلا قدم ہے مگر قیامِ پاکستان کے صرف چند برس بعد ہمارے ہاں پہلی فوجی آمریت قائم ہو گئی۔ فوجی آمریت سلطانئ جمہور کی ضِد ہے۔ تصورِ پاکستان آمریت کے تسلط کی اجازت نہیں دیتا۔ اس لیے آمروں نے اپنے مخصوص مفادات کے تحفظ کی خاطر تصورِ پاکستان کو دھندلانا شروع کر دیا۔
ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں مطالعۂ پاکستان کو ثانوی اور اعلیٰ ثانوی تعلیمی نصاب میں جگہ دی گئی۔ ثانوی جماعتوں کے لیے پنجاب ٹیکسٹ بُک بورڈ کی شائع کردہ کتاب میں تصورِ پاکستان کی بجائے نظریۂ پاکستان کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ نظریۂ پاکستان کو درج ذیل الفاظ میں متعارف کرایا گیا:
’’ہر معاملے میں اصل معیار اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل یعنی قرآن و سنت ہوتا ہے۔ مسلم قوم کا یہی نظریۂ حیات، تحریکِ پاکستان کی اساس بنا۔ پاکستان ایک نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا ہے اور یہ نظریہ مسلمانوں کا دینِ اسلام ہے۔ یہی نظریہ پاکستان کا مفہوم ہے۔ گویا یہاں سیاسی، معاشی، معاشرتی غرضیکہ پوری زندگی کا نظام اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ہوگا اور ہر معاملے میں رہنمائی قرآن اور سنتِ رسول اللہ، صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حاصل کی جائے گی۔‘‘
یہ فقط اوپر دیئے گئے اقتباس پر ہی موقوف نہیں بلکہ ساری کی ساری کتاب میں اور حصوصاً ’’قیامِ پاکستان‘‘ کے با ب میں بڑی محنت اور کمال ذہانت کے ساتھ فکری انتشار کا سامان مہیا کیا گیا ہے۔ اس درسی کتاب میں نظریۂ پاکستان کی وضاحت یوں کی گئی ہے:
’’پاکستان ایک نظریہ کی بنیادپر قائم ہوا ہے۔ یہ نظریہ مسلمانوں کا دینِ اسلام ہے۔ یہی نظریۂ پاکستان کا مفہوم ہے۔‘‘
سوال یہ ہے کہ اگر دینِ اسلام ہی نظریۂ پاکستان ہے تو کیا تمام مسلمان ممالک نظریۂ پاکستان ہی پر قائم ہیں۔ کیا بھارت کے مسلمان بھی نظریۂ پاکستان پر قائم ہیں۔ یہ ایک تاریخی صداقت ہے کہ 1930 کے خطبۂ الہ آباد سے لے کر 1940 کی قراردادِ پاکستان تک اور پھر قرارداد سے لے کر قیامِ پاکستان تک برصغیر کی مذہبی سیاسی جماعتوں نے تحریکِ پاکستان کی فکری اور عملی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا۔ کیا وہ بھی نظریۂ پاکستان پر کاربند تھیں۔ دم تو وہ بھی دینِ اسلام ہی کا بھرتی تھیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بات غلط ہے۔ افغانستان، ایران، ترکی، جزیرہ نمائے عرب کی تمام ریاستیں، مغربِ اقصیٰ کی مختلف مسلمان ریاستیں نظریہ پاکستان پر ہر گز قائم نہیں۔ ہاں دینِ اسلام پر ضرور قائم ہیں۔ اسی طرح برصغیر کی جن مذہبی سیاست جماعتوں نے تحریکِ پاکستان کی بڑی شد و مد کے ساتھ مخالفت کی تھی وہ بھی دینِ اسلام کی منکر نہ تھیں صرف دو قومی نظریہ یعنی جُداگانہ مسلمان قومیت کے تصور سے انکاری تھیں۔
بلاشبہ ہم سب کا دین ایک ہے مگر ممالک جُدا جُدا ہیں۔ پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر قائم ہوا ہے۔ یہ نظریہ برٹش انڈیا کے علاوہ کسی اور ملک میں پیدا ہی نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لیے کہ دیگر مسلمان ملکوں کی صورتِ حال برٹش انڈیا کے مسلمانوں سے بالکل مختلف تھی۔ متذکرہ بالا ممالک کے مسلمان اکثریت میں ہیں اور وہاں اُن کے دین، اُن کی تہذیب اور اُن کی اجتماعی ہستی کو کسی اقلیت سے کوئی خطرہ نہیں۔ اس کے برعکس برٹش انڈیا کے مسلمان اقلیت میں تھے اور یہاں اُن کی اجتماعی ہستی کو ایک اندھی اکثریت کی جارحانہ یلغار کا سامنا تھا۔ اپنی اجتماعی شناخت کو مٹنے سے بچانے کی خاطر یہاں انھوں نے متحدہ ہندوستانی قومیت کو رد کرکے ایک جداگانہ مسلمان قومیت کا تصور اپنایا تاکہ اپنے لیے جداگانہ قومی وطن حاصل کر سکیں۔ جداگانہ مسلمان قوم کا یہ تصور سب سے پہلے اپنی نکھری ستھری اورقطعی شکل میں علامہ محمد اقبال نے 1930 میں پیش کیا تھا۔ اس تصور نے مسلمان عوام کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ 1940 میں لاہور میں اس تصور کو ایک سیاسی پروگرام کی شکل دی گئی۔ اس سیاسی پروگرام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی خاطر ایک عوامی جمہوری جدوجہد کا آغاز کیا گیا۔ سات سال کی کٹھن جدوجہد کے بعد بالآخر پاکستان وجود میں آ گیا۔ پہلے تصورِ پاکستان، پھر تحریکِ پاکستان اور بالآخر قیامِ پاکستان ۔۔۔۔۔۔ یہ ہیں ہماری قومی ، سیاسی اور تہذیبی جدوجہد کے تین مرحلے۔ ان میں سے ہر ایک مرحلے پر غیروں نے ہی نہیں، اپنوں نے بھی یعنی خود مسلمانوں کے مذہبی رہنماؤں نے بھی دینِ اسلام کے نام پر قیامِ پاکستان کی ڈٹ کر مخالفت کی۔ یہ مخالفانہ جدوجہد تحریکِ پاکستان کا حصہ ہے۔ اس لیے آج جب ہم اپنے بچوں کو یہ پڑھاتے ہیں کہ نظریۂ پاکستان کا مطلب ہے دینِ اسلام تو بڑا ظلم کرتے ہیں۔
محمد اقبال نے ایک خاص وقت 1930 میں اور ایک خاص مقام الہ آباد میں دو قومی نظریے کی صورت میں پیش کی تھی۔ پھر دس برس بعد برٹش انڈیا ہی کے مسلمانوں نے قائداعظم کی قیادت میں اس تصور کو اپنانے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان بھی برٹش انڈیا ہی کے ایک شہر لاہور میں، جدید آئین اصطلاحات میں کیا گیا تھا۔ اس اعلان کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر برطانوی ہند کے طول و عرض میں ایک عوامی جمہوری تحریک چلائی گئی تھی اور یوں سیاسی عمل کے ذریعے پاکستان قاوم کیا گیا تھا۔ یہ سادی سی کہانی آسان سے لفظوں میں اپنے بچوں تک پہنچانے کی ضرورت ہے مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارا حکمران طبقہ ایسا کرنے سے مسلسل ڈرتا چلا آ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہمارا حکمران طبقہ تصورِ پاکستان کو سادہ و آسان، سچے اور سیدھے انداز میں پیش کرنے سے کیوں خائف ہے۔ اس سوال کا جواب بہت آسان ہے۔ حقیقی تصور پاکستان کو جمہوریت، معاشی انصاف، سیاسی آزادی اور قومی خود مختاری کے جدید انسانی تصورات سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تصورات ہمارے حکمران طبقے کے مخصوص مفادات کے لیے موت کا پیغام ہیں اور موت سے کون نہیں ڈرتا ۔۔۔۔۔۔۔
گزشتہ نصف صدی کے دوران ہمارے حکمران وقتاً فوقتاً اپنے اپنے نظریۂ ضرورت کے مطابق نظریۂ پاکستان ایجاد کرنے میں مصروف رہے ہیں۔ ایک واضح، قطعی اور توانا تصور کو دھندلاتے دھندلاتے ہم نے اس قدر مبہم بنا دیا ہے کہ آدھے سے زیادہ پاکستان ہم سے چِھن چکا ہے اور باقی ماندہ پاکستان میں بیٹھے آج ہم اس فکر میں مبتلا ہیں کہ کہیں ہم اسے بھی گنوا نہ بیٹھیں!
ہماری آج کی مایوسی اور نامرادی کا سب سے بڑا سبب ہی یہ ہے کہ ہم نے تصورِ پاکستان کو اقبال کی انقلابی فکر سے کاٹ کر الگ کر دیا ہے۔ موجودہ فکری اور سیاسی بحران سے نجات کی فقط ایک راہ ہے اور وہ یہ کہ ہم یہ ٹوٹا ہوا رشتہ پھر سے جوڑیں اور اقبال کی آواز پر کان دھریں:
بنتے ہیں مری کارگہِ فکر میں انجم
لے اپنے مقدر کے ستارے کو تو پہچان!
بے شک ہمارا مقدر اقبال کے خیالات کے کارخانے میں ڈھل رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اقبال کی کارگہِ فکر میں جائیں اور وہاں سے اپنے انفرادی اور اجتماعی مقدر کا ستارہ ڈھونڈ نکالیں!