حضور اکرم ﷺ کی ہجرت مقدسہ
- تحریر علامہ عبدالحق مجاہد
- منگل 28 / نومبر / 2017
- 29124
ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی ﷺ 12 ربیع الاول بروز 2 شنبہ (سوموار ) مطابق اپریل570 میں مکہ مکرمہ میں صبح صادق کے وقت والدہ ماجدہ سیدہ آمنہ کے بطن مبارک سے یتیمی کے عالم میں ظہور پزیر ہوئے ۔اور 12 ربیع الاول بروز سوموار 11 ہجری 63 برس عمر مبارک پا کر مدینہ منورہ میں خالق حقیقی سے جا ملے ۔ عمر مبارک کے 53 سال مکہ مکرمہ میں گذارے جن میں 40 سال اعلان نبوت سے پہلے کا زمانہ ہے اور تیرہ سال بعد از نبوت کا دور ہے ۔
قبل از اعلان نبوت چالیس سالہ زندگی وہ ہے جس میں قریش کی آنکھوں کے نور تھے اور محبتوں کے محور و مرکز تھے ۔حسن اخلاق اعلی وارفع اطوار کی بناء پر امین محمد صادق محمد کے القاب سے یاد کیے جا تے تھے ۔چالیس سال کی عمر مکمل ہونے پر اللہ تبارک و تعالی نے نبوت و رسالت کی دولت سے سرفراز فرمایا اور وحی کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا ۔اس وقت عربوں میں مکمل جہالت پائی جاتی تھی اور جہالت کے نتیجے میں جتنی بھی برائیاں جنم لے سکتی ہیں وہ سب ان میں موجود تھیں ۔بالخصوص اللہ تبارک و تعالی کی ذات کے سا تھ شرک ہر طرف پھیلا ہوا تھا۔ اللہ تبارک و تعالی کے پاک گھر بیت اللہ شریف کو بتوں کا گھر بنایا ہوا تھا ۔اور ہر گھر میں بھی بت موجود تھے جن کو وہ اپنا معبود جانتے تھے ۔حضور اکرم ﷺ نے جونہی توحید کی آواز بلند فرمائی اور لوگوں کو بتلایا کہ کائنات کا واحد مالک و خالق اللہ تبارک و تعالی ہے اور وہی ہر قسم کی عبادت کے لائق ہے یہ بتوں کی پوجا پاٹ محض گمراہی ہے۔ اس اعلان کا فرمانا تھا کہ تمام مکہ والے سخت مخالف ہو گئے ۔اور بقیہ تیرہ سالہ مکہ مکرمہ کی زندگی دکھوں مصیبتوں اور پریشانیوں کی نظر ہو گئی ۔اس 13 سالہ زندگی میں ہمارے پیارے پیغمبر ﷺ نے شب و روز اللہ تبارک و تعالی کا پیغام لوگوں تک پہنچایا ۔ گردو پیش کے لوگ جو کہ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبے ہوے تھے ان میں سے چند خوش نصیبوں کے سوا اکثریت نے توجہ نہ دی بلکہ دشمنی مخالفت پر اتر آئے۔ جن حضرات کو اللہ تعالی نے ایمان کی دولت سے نوازا ان پر ہر قسم کے ظلم ڈھانے لگے ۔ کتنے حضرات کو جام شہادت نوش کرنا پڑا اور کتنے مردو زن ان کے ظلم و جور اور زیادتیوں کا نشانہ بنتے رہے۔
تین سال تک 7-8-9 نبوی میں مکہ والوں نے خاندان بنو ہا شم سے ترک موالات کیے رکھا اورا نہیں پہاڑ کی ایک گھاٹی میں جسے شعب ابی طالب کہتے تھے مجورا پناہ لینی پڑی۔ اسی دوران مہربان چچا جناب ابو طالب کی بھی وفات ہو گئی اور جان نثار زوجہ مطہرہ سید خدیجۃ الکبری سلام اللہ علیھا بھی خالق حقیقی سے جا ملیں ۔اسی تیرہ سالہ زندگی میں صحابہ کرام کو حبشہ کی طرف دو دفعہ ہجرت بھی کرنا پڑی۔ انہی حالات میں 13 سال گذر گئے ۔اس دوران 11 نبوی کو آپ کو دولت معراج سے سرفراز فرمایا گیا اور 11نبوی میں حج کے موقع پر منی میں آپ کی ملاقات مدینہ طیبہ سے آئے ہوئے ایک گروہ سے ہوئی جن کو آپ ﷺ نے دعوت ایمان دی ۔انہوں نے پیغام الہی کو تسلیم کیا اور آپ کی بیعت فرمائی جسے عقبہ کی پہلی بیعت کہتے ہیں۔ اگلے سال12 نبوی میں مدینہ طیبہ کے لوگ پھر حج پر آئے اور 12 حضرات مشرف با اسلام ہوئے ۔آپ نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ کو ان کے سا تھ دین کی تعلیم دینے کے لیے مبلغ اسلام بنا کر روانہ فرما دیا ۔13 نبوی میں مدینہ طیبہ کے حجاج کرام پھر تشریف لائے اور عقبہ کے مقام پر 73 مرد اور عورتوں نے حضور اکرم ﷺ کے دست مبارک پر بیعت فرمائی۔ اور ساتھ ہی آں جناب کو مدینہ طیبہ تشریف لانے کی دعوت دی ۔حضور اکرم ﷺ نے انہیں فرمایا کہ میرا ہر عمل میرے پروردگار کے حکم کے تابع ہے۔ میں اس کے حکم کا انتظار کروں گا بحر حال مدینہ طیبہ کے لوگوں نے انتہائی پر خلوص طریقے سے آں جناب کو مدینہ طیبہ میں تشریف لانے کی دعوت دی اور روانہ ہو گئے۔
اس دوران حضور اکرم ﷺ نے باذن خداوندی اپنے پیارے صحابہ کرام کو فردا فردا مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ۔ اور بہت سے صحابہ کرام مدینہ طیبہ تشریف لے گئے ۔سب سے پہلے حضرت ابو سلمی حضرت صہیب حضرت ہشام بن عاص نے بہت تکلیف سے ہجرت کی پھر فاروق اعظمؓ نے شان و شوکت اور وجاہت کے سا تھ سفر ہجرت فرمایا۔ حضرت مصعب بن عمیرؓ اور حضرت عمر بن خطابؓ فاروق اعظمؓ اور اصحاب رسول کے مدینہ طیبہ میں ورود مسعود کا نتیجہ یہ نکلا کہ پورا مدینہ شہر جسے یثرب کہتے تھے نور اسلام سے منورہو گیا۔ کفار نے جب یہ صورت حال دیکھی تو انہوں نے بچے کھچے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھاناشروع کر دیے اور حضور اکرم ﷺ کے سا تھ دشمنی میں آخری درجے تک پہنچ گئے ۔
ایک روز کفار کے نمائندے دارالندوہ میں جمع ہوئے اور اسلام پر آخری ضرب لگانے کا مشورہ ہوا۔ تمام قبائل کے نمائندگا ن نے مل کر طے کیا کہ حضور اکرم ﷺ کے گھر پر حملہ کر دیا جائے اور آپ ﷺکو شہید کر دیاجائے ۔ کفار کے اس مشورہ کی اطلاع اسی وقت اللہ تبارک و تعالی نے بذریعہ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نے آپ کوفرمادی۔اور ہجرت کا حکم بھی فرمایا اور ہجرت کا راستہ اور منزل بھی متعین فرما دی ۔طے شدہ پروگرام و مشورہ کے مطابق قریش نے آپ کے مکان کو گھیر لیا اور آپ کے باہر نکلنے کا انتظار کرتے رہے کیونکہ عرب کسی کے مکان میں گھسنا معیوب سمجھتے تھے۔ اس لیے باہر ٹھہرے رہے ۔قریش کو باوجود عداوت کے آپ کی دیانت پر بہت اعتماد تھا ۔اپنی امانتیں حضرت کے پاس ہی رکھتے تھے ۔آپ ﷺ نے اپنے بستر پر حضرت علیؓ کو لٹایا تاکہ آپ کے بعد لوگوں کی امانتیں احتیاط سے مالکوں کو حوالہ کریں اور حضرت علیؓ کو تسلی دی کہ کافر تمہارا بال بیکا نہ کر سکیں گے۔پھر خود بنفس نفیس سورہ یسین کی ابتدائی آیات وجعلنا من بین ایدیھم سدو ومن خلھم سدافاغشینھم فھم لا ھبصرون پڑھتے ہوئے باہر تشریف لائے اور ایک مٹھی میں کنکریاں لے کر کافروں کی طرف پھینکیں۔ اللہ تبارک و تعا لی نے اپنے فرشتوں کے ذریعے کفار کی آنکھوں میں مٹی جھونک دی ۔اور آپ بڑے سکون کے ساتھ ان کے نرغے سے باہر تشریف لے گئے۔
اپنے دولت کدہ سے سیدھے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی رہائش گاہ پر پہنچے اور مختصر حال احوال کے بعد دونوں محبوب ہستیاں غار ثور کی طرف روانہ ہو گئیں۔ غار ثور پر پہنچ کر صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ اندر داخل ہوئے غار کی صفائی کی اپنے کندھے کی چادر کو پھاڑ کر تمام سوراخ بند کیے ایک سوراخ جو باقی بچا اس پر ایڑھی رکھ لی اور محبوب رب العلمین کوو جلوہ فگن ہونے کے لیے اندر بلایا آپﷺ اندر تشریف لے گئے صدیق اکبرؓ نے اپنی گود میں اپنے محبوب کا سر مبارک رکھا اور آپ اسے تکیہ بنا کر سو گئے اس دوران ایک کالے ناگ نے نکلنے کی کو شش کی۔ رکاوٹ پا کر صدیق اکبرؓ کی ایڑھی پر ڈنگ مارا جس پر صدیق اکبرؓ کے تکلیف کی وجہ سے آنسو نکلے چہرہ پر نور پر گرے تو سرکار دو عالمﷺ بیدار ہوئے۔ حالات سن کر ایڑھی پر لب مبارک لگایا دکھ درد دور ہو گیا۔ تین دن تک غار ثور میں قیام رہا ۔روزانہ رات کو سیدنا صدیق اکبرؓ کی بڑی صاحبزادی حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا تازہ کھانا پکا کر اپنے بھائی عبداللہ کو سا تھ لے کر غار میں پہنچاتی تھی۔ عامر بن فہیرہ غلام اردگرد بکریاں چراتے اور موقع پا کر دودھ پلاجایا کرتے تھے ۔پہلے دن ابو جہل کفار کی ایک جماعت لے کر غارکے منہ پر پہنچ گیا مگر ایک مکڑی نے غار کے منہ پر جالا تن رکھا تھا ایک کبوتری جس نے ایک طرف انڈے دے رکھے تھے ۔ انہیں دیکھ کر اللہ تعالی نے اس کی عقل پر پردہ ڈال دیا ۔اور وہ نامراد واپس لوٹ گیا۔ تین دن غارثور میں قیام کے بعد سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے غلام عامر بن فہیرہ حسب پروگرام دو اونٹنیاں لے کر غار کے پاس تشریف لے آئے۔ ایک اونٹنی پر آپ ﷺ سوار ہو گئے اور دوسری پر حضرت ابو بکر صدیقؓ اور عامر بن فہیرہ سوار ہوئے۔ ایک شخص عبداللہ بن اریقط اپنے اونٹ پر راستے کی رہنمائی کے لیے ساتھ چلے ۔
یہ قافلہ اتوار کے روز رات کے پہلے حصے میں روانہ ہوا ۔صبح ہوتے ہی حضرت ام معبد کے خیمہ کے پاس سے گذرا جہاں آپ ﷺ کا معجزہ ظہور پزیر ہوا اور ایک خشک تھنوں والی بکری نے دودھ سے ام معبد کے تمام برتن لبریز کر دیے ۔ وہاں سے قافلہ آ گے چلا ۔کفار مکہ کے جو سوار ان مقدس ہستیوں کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے ان میں سے ایک پہلوان سراقہ کا سامنا ہو گیااس نے آپ حضرات کو للکار۔ا حضور اکرمﷺ نے رخ انور اس کی طرف پھیرا تو اس کے گھوڑے کی تمام ٹانگیں زمین میں دھنس گئیں اس نے منت سماجت کی اور رہائی پائی۔ اس موقع پر حضور اکرم ﷺ نے اسے کسری کے کنگن پہننے کی بشارت دی جسے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں پورا کر دیا گیا تھا ۔ یہاں سے قافلہ آ گے روانہ ہوا۔مدینہ طیبہ کے نواح میں ایک شخص بریدہ اسلمی اپنے 70 آدمیوں کو لے کر حضور اکرم ﷺ کی گھات میں چھپا ہوا تھا جو یک دم سامنے آگیا۔ آپ ﷺ نے اس سے گفتگو فرمائی اور اسے اللہ تعالی نے ایمان نصیب فرما دیا۔ اس نے اپنی پگڑی کو اپنے نیزہ کے اوپر باندھا اور ایک جھنڈا بنا کر نبی ﷺ کے آ گے آ گے حفاظت کے لیے چلنا شروع کر دیا۔ کائنات کے سردار کا یہ سفر 8 دن جاری رہا اس دوران مدینہ طیبہ کی آبادی انتہائی بے قراری اور بے چینی سے آپ کی آمد کی منتظر رہی۔
8 دن کے سفر کے بعد بستی قباء میں ورود مسعود ہوا ۔قباء کی بستی کے باہراہل مدینہ نے فقید المثال استقبال فرمایا اور خوشی خوشی بستی میں لے گئے آپ ﷺنے حضرت امر بن عوف کے خاندان کے سردار کلثوم بن ہدم کے گھر کوانوارات نبوت سے منور فرمایااور وہیں بقیہ ایام مقیم رہے۔ وہاں 14 روز قیام رہا اور ایک مسجد جو کہ آ ج مسجد قباء کے نام سے زیارت گاہ خواص و عام ہے جہاں دو رکعت نماز کا ثواب ایک عمرہ کے برابر ملتا ہے، اس کی بنیاد رکھی 14۔ روز کے بعد مدینہ طیبہ کی طرف روانگی ہوئی ۔
قباء سے مدینہ پاک تین کلومیٹر ہے سڑک کے دونوں طرف عشاق موجود تھے چھوٹی بچیاں دف بجا بجا کر استقبالیہ نغمے عربی زبان میں پیش کر رہی تھیں ۔ راستے میں بنی سالم کا با غ آ یا جہاں جمعہ کا وقت شروع ہو گیا۔ وہیں نماز جمعہ ادا فرمائی جہاں پر اس وقت مسجد جمعہ موجود ہے ۔ وہاں سے مدینہ طیبہ کی طرف روانگی ہوئی۔ مدینہ چھتوں پر خواتین بچے نظارہ کرنے کے لیے کھڑے تھے۔ آپ ﷺ کی ناقہ مبارکہ کی مہار گلے سے لپیٹ دی گئی اور اسے اللہ تبارک و تعالی کے حوالے کر دیا گیا۔ ناقہ مبارکہ نے پورے شہر کا چکر لگایا اور بالاخر وہ اس عظیم ہستی جنہیں میزبان رسول پاک حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ان کے مکان پر جا ٹھہری۔ سرکار دو عالم ﷺ نے وہیں چند روز قیام فرمایا۔ مدینہ طیبہ کی آب و ہوا کے خوشگوار کے ہونے کی اور ناپ تول میں برکت کی دعائیں فرما تے رہے ۔ اس طرح سفر ہجرت مکمل ہوا ۔اس دوران سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ اور بہت سے دوسرے اصحاب بھی مدینہ طیبہ ہجرت کر کے تشریف لے آئے اور چند روز بعد مسجد نبوی کی تعمیر شروع فرمائی۔ تعمیر مسجد کے بعد ایک طرف ایک دینی مدرسہ کونے میں قائم کیا جس کا نام مدرسہ صفہ مشہور ہو۔ ا اس کے بعد امہات المومنین کے لیے حجرے تعمیر کرائے گئے۔اور و باضابطہ طور پر مدینہ طیبہ کو ایک فلاحی ریاست قرار دے کر پہلی اسلامی سلطنت کی بنیاد رکھ دی گئی۔ رسول پاکؑ کی بقیہ دس سالہ زندگی مدینہ طیبہ میں گزاری۔
یہ سفر ہجرت کی انتہائی اختصار کے سا تھ کہانی ہے اور یہ بہت بڑا خیرو برکت کا سفر تھا۔ اس سفر کی ابتداء 27 صفر المظفر بروز پنچ شنبہ بعد از عشاء ہوئی یکم ربیع الاول بروز اتوار بعد از عشاء غار ثور سے روانگی ہوئی ۔8 ربیع الاول بروز سوموار دو پہر کے وقت قباء میں ورود مسعود ہوا 22 ربیع الاول کو قباء سے مدینہ طیبہ کی طرف روانگی فرمائی ۔