اسٹیبلیشمنٹ کی سیاست، کون قصور وار ہے
- تحریر سلمان عابد
- منگل 28 / نومبر / 2017
- 4936
پاکستان میں بدقسمتی سے اسٹیبلیشمنٹ کی سیاست کو بڑی بالادستی حاصل رہی ہے ۔ یہ بالادستی فوجی حکومتوں کے علاوہ سیاسی حکومتوں میں بھی دیکھی جاسکتی ہے ۔ آج بھی جو جمہوری سیاست چل رہی ہے، اس میں سیاسی پنڈت مجموعی طور پر اسٹیبلیشمنٹ کو ایک طاقت ور فریق کے طور پر دیکھتے ہیں ۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنے خلاف ہونے والے تمام فیصلوں کوقانون کی نظر سے دیکھنے کی بجائے سول اور فوجی بیورورکریسی پر مبنی اسٹیبلیشمنٹ کے کھیل کے ساتھ جوڑتے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اسٹیبلیشمنٹ کے پس پردہ کھیل نے اس ملک میں جمہوری عمل کو مضبوط بنانے کی بجائے مفاداتی سیاست کو تقویت دی ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج بھی جمہوریت اپنے ارتقائی عمل سے گزر رہی ہے ۔
مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی سیاست سے جڑے ہوئے مختلف فریقین اور اہل دانش کا ایک بڑا طبقہ جمہوری عمل کی کمزوری یا ناکامی کو محض خارجی مسئلہ سمجھ کر مؤقف پیش کرتا ہے ۔ اس طبقہ کے بقول خرابی کی جڑ طاقت ور اسٹیبلیشمنٹ ہے جس نے مجموعی طور پر پوری سیاست کو یرغمال بنایا ہوا ہے ۔ پھر کیا وجہ ہے کیا وجہ ہے کہ ہمارے اہل سیاست اور دانش یہ تسلیم کرنے سے انکاری ہیں کہ اس مسئلہ میں جہاں خارجی عوامل کارفرما ہیں وہیں ان کا اپنا داخلی بحران بھی سنگین نوعیت کا ہے ۔ کیونکہ سیاست کی سمجھ بوجھ اور فہم رکھنے والا کوئی بھی فرد یا ادارہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ خارجی مسئلہ داخلی تضادات اور ٹکراؤ سے جڑا ہوتا ہے ۔ لیکن ہم اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کا سچ قبول کرنے کی بجائے مسئلہ کی ذمہ داری دوسرے فریق پر ڈال کر اپنا دامن بچانا چاہتے ہیں ۔
اسٹیبلیشمنٹ کی سیاست اور فیصلوں میں بے شمار خرابیاں ہیں اور ہوں گی ، لیکن ہر مسائل کو ان کے ساتھ جوڑنا بھی کوئی مناسب دانش کی بات نہیں ۔ کچھ تو خود ہمارے داخلی مسائل ، طرز عمل ، رویے ، سوچ، فیصلے ہیں جو ہمیں بھی کمزور کرتے ہیں اور جمہوری عمل کو بھی کمزور کرنے کا سبب بنتے ہیں ۔ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ہمیں اگر جمہوری سیاست کو طاقت فراہم کرنی ہے تو تین کام ترجیحی بنیادوں پر کرنے ہوں گے۔ اول ہمیں سیاست ، جمہوری ، سیاسی جماعتوں اور اس کے نظم و نسق سمیت قیادت کو مضبوط بنیادوں پر جمہوری اور شفافیت کے عمل سے جوڑنا ہوگا۔ دوئم سیاست اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان ایک توازن قائم کرنا ہوگا جو دونوں فریقین کو اپنے اپنے دائرہ کار تک محدود رکھے اور فریقین میں اعتماد سازی اور تعاون کے امکانات کو مضبوط کرے ۔ سوئم ایک دوسرے سے مقابلہ بازی کا رجحان ، الزام تراشیوں پر مبنی سیاست اور ایک دوسرے کو ناکام بنانے کی حکمت عملیاں وضع کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے طرز عمل سے بادشاہت پر مبنی نظام چاہتے ہیں جہاں ہم ایک دوسرے کو جوابدہ ہونے کی بجائے خود ہی عقل کل ہوں۔ اس کے برعکس جمہوری نظام کی بنیادی کنجی باہمی مشاورت، مشترکہ فیصلہ سازی ، سیاسی اداروں کا بالادستی اور قانون کی حکمرانی ہے ۔ اس کے برعکس ہمارا جمہوری نظام مفادات کی بنیاد پر کھڑا رہتا ہے تو سیاسی نظام میں ایک خلا پیدا ہوتا ہے ۔ یہ خلا ایک طرف سیاسی بحرانوں میں شدت پیدا کرتا ہے تو دوسری طرف ان مسائل کو بنیاد بناکر دوسرا فریق یعنی اسٹیبلیشمنٹ اپنے لیے راستہ ہموار کرتا ہے ۔ ہماری سیاسی تاریخ دیکھیں تو اس میں خود اہل سیاست کا ایک بڑا طبقہ جن میں بڑی سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت بھی شامل ہے اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ مل کر جمہوری اور سیاسی نظام کو کمزور کرنے کے کھیل میں برابر شریک ہوتی ہے ۔
سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادتیں مشکل وقت میں اسٹیبلیشمنٹ کے خلاف کھڑی ہوتی ہیں اور للکارتی ہیں کہ ان کی وجہ سے جمہوری عمل کمزور ہے ، لیکن موقع ملنے پر یہ ہی سیاسی فریق اسی اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت و تائید سے حکمرانی کے کھیل میں حصہ دار بنتے ہیں ۔ سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان جو گٹھ جوڑ ہے وہ انہیں محض اقتدار سے باہر آنے کے بعد ہی برا لگتا ہے ۔ اسی طرح جب سیاسی قیادتیں اسی اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ساز باز کرکے اقتدار میں حصہ دار بنتے ہیں تو پھر ان کے تابعدار بننے کی بجائے ان کو للکارتے ہیں جو تعلقات کی خرابی کا سبب بنتے ہیں ۔ کئی بار سیاسی قیادتیں اعلان کرچکی ہیں کہ وہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر اسٹیبلیشمنٹ کی سیاست کا آلہ کار نہیں بنیں گے مگر جیسے ہی ان کو اقتدار کے کھیل میں موقع پرستی دکھائی جاتی ہے تو وہ تمام اصولوں کو پس پشت ڈال کر اسی اسٹیبلیشمنٹ کے کھیل میں اپنی مرضی اور منشا کے ساتھ شامل ہوتے ہیں۔
ایک مسئلہ یہ بھی ہے جس طرح سے سیاست میں تقسیم گہری ہوتی جارہی ہے اسی طرح سے ملکی سیاست میں اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت اور مخالفت کا کھیل بھی عروج پر ہے ۔ سیاسی سطح سے لے کر اہل دانش تک یہ تقسیم گہری ہے اور اس میں سنجیدگی اور جذباتیت دونوں سطح کے پہلو نمایاں ہیں ۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اس کھیل میں سیاسی فتوؤں کو بھی عروج حاصل ہوگیا ہے اور ایک باقاعدہ فیشن بن گیا ہے کہ ہم کسی کو پس پردہ قوتوں کا حامی اور مخالف سمجھ کر اپنی فکر قائم کرتے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جو اہل سیاست اور اہل دانش جمہوری لبادہ اوڑھ کر خود کسی کو اسٹیبلیشمنٹ کا آلہ کار کہتے ہیں ان کا اپنا ماضی اور حال اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ مفاداتی اور مالی فوائد سے جڑا ہوا ہے ۔ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو یہاں محض ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ اگر اسٹیبلیشمنٹ کسی ایک یا دو سیاسی فریقین سے ڈیل کرے تو سب سے اچھی ہے اور اگر وہ ان کے مقابلے میں کسی اور کی سرپرستی کرے تو وہ جمہوری عمل کے لیے خطرناک ہے ۔ یہ بات بجا کہ اسٹیبلیشمنٹ کا کوئی سیاسی کردار نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن اگر ساری سیاسی قوتیں اس بنیادی نقطہ پر متفق ہوجائیں کہ وہ اسٹیبلیشمنٹ کے کھیل میں شریک کار نہیں ہوگی تو اس مضبوط اسٹیبلیشمنٹ کے سامنے ایک بندھ کو باندھا جاسکتا ہے۔ مسئلہ محض ملکی اسٹیبلیشمنٹ کا نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی اسٹیبلیشمنٹ کا بھی ہے جو یہاں سیاسی اور مقامی اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ مل کر اپنے مفادات کے کھیل کو طاقت فراہم کرتی ہے۔ کیونکہ اب ہمیں اپنے داخلی معاملات کو کسی سیاسی تنہائی میں نہیں دیکھنا چاہیے اور اس کے تانے بانے اور مسائل کی نوعیت بیرونی اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ بھی جڑی ہوئی ہے ۔
اسی طرح ہمیں ایک اور نقطہ سمجھنا ہوگا کہ اب سیاسی وجمہوری حکومتوں اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان دنیا میں بڑھتے ہوئے سیکورٹی مسائل کی وجہ سے تعلقات کار کو نئے سرے سے سمجھ کر نیا فریم ورک بھی بنانا ہوگا ۔ یہ کہنا کہ فیصلہ سازی کے عمل میں ان سے کوئی مشاورت نہیں ہوگی ، ممکن نہیں ۔ دنیا میں بدقسمتی سے سیکورٹی ریاستیں بن رہی ہیں اس میں اسٹیبلیشمنٹ کا کردار بھی بڑھ گیا ہے ۔ اسی طرح خود اسٹیبلیشمنٹ کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کے سامنے بھی سیاسی نظام کو مستحکم کرنے کا ایجنڈا سرفہرست ہی ہونا چاہیے ۔ فیصلے کا اختیار یقینی طور پر سیاسی حکومت کو ہی ہوگا لیکن یہ عمل باہمی مشاورت پر مبنی نہیں ہوگا تو بداعتمادی پیدا ہوگی ۔ کسی بھی ذمہ دار ریاست میں نہ تو سیاست گالی ہوتی ہے اور نہ ہی اسٹیبلیشمنٹ ۔ فریقین کو ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھ کر مستقبل کی طرف پیش قدمی کرنی چاہیے ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کی سیاست میں جو کچھ ہورہا ہے وہ ہماری سیاست ، ریاست سے جڑے ہوئے مفادات کے بالکل برعکس ہے ۔ ہم خود اپنے اداروں کی تذلیل کا باعث بن رہے ہیں اور الزام دوسروں پر لگاتے ہیں کہ وہ ہمیں تباہ کررہا ہے ۔ سیاست دانوں، سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ موجودہ طرز عمل کا تجزیہ کریں اور دیکھیں کہ اس بداعتمادی اور ٹکرا ؤ کی پالیسی سے خود ہماری ریاست تماشہ بن رہی ہے ۔ اہل دانش کا وہ طبقہ جو اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت اور مخالفت کو محض اپنے ذاتی مفادات سے جوڑ کر کسی ایک فریق کا غلام بن کر دانشورانہ کرپشن کرتا ہے اس کا ہر سطح پر احتساب ہونا چاہیے ، کیونکہ یہ ہمیں دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے ۔
کیا وجہ ہے کہ ہم دنیا کے دیگر ممالک یا ریاستوں کے تجربات سے سیکھنے کے لیے تیار نہیں ۔ وہاں جو تجربے یا حکمت عملیاں سیاسی حکومتوں اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان موجود ہیں، ان سے ضرور سیکھا جائے ۔ کیونکہ جو تماشہ یہاں سجایا گیا ہے ، وہ ہماری سیاسی ، جمہوری ، آئینی ، قانونی اور عوامی مفادات پر مبنی سیاست کے خلاف ہے ۔ اس کی ہر سطح پر مزاحمت ہونی چاہیے ۔