عمران خان اور نواز شریف کے ٹھس سیاسی نظریات

گزشتہ تین ہفتوں سے جاری اسلام آباد میں مذہبی جماعت کی طرف سے دھرنا وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے استعفیٰ کے بعد انجام کو پہنچا۔  حکومت اور مذہبی جماعت کے درمیان سمجھوتہ ہوا ہے جس کی معاونت ملک کے سب سے بڑے منظم ادارے نے کی۔ اس معاہدے کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کا تبصرہ  قابل غور ہے۔ ان تین ہفتوں کے دوران  میڈیا اور ارباب اختیار کی توجہ دھرنے کی طرف رہی۔ اس کو منتشر کرنے کی کوشش میں 7 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جس کے نتیجہ میں پورے ملک میں دھرنے شرو ع ہو گئے۔ مسلم لیگ (ن) کے راہنماؤں کی رہائش گاہوں پر حملے ہوئے۔ ان تمام مظاہروں کو صحت بخش کارروائی نہیں کہا جا سکتا۔

میڈیا پر ایسی بحثیں ہوتی رہی جس میں دو واضح فریق سامنے آئے۔ ایک کو سیاست دان اور دوسرے کو اسٹبلشمنٹ کا نام دیا گیا۔ کچھ تمام معاملات کا ذمہ دار مقتدرہ طبقات کو ٹھہراتے رہے اور کچھ سیاستدانوں کو قصور وار قرار دیتے رہے۔ یہ کوئی مثبت سوچ نہیں ہے کہ ریاست کے امور کار چلانے والی شخصیات اور اداروں کے درمیان محاذ آرائی کی فضا قائم کی جائے۔ فوج کا ملک میں قیام پاکستان کے بعد اہم کردار رہا ہے کیونکہ ہمارے سول ادارے اتنے مضبوط اور وسائل نہیں رکھتے ہیں کہ قدرتی آفات زلزلوں سیلابوں اور نا گہانی صورتحال سے نمٹ سکیں۔ لہذا ان معاملات اور مسائل کے حل کیلئے سول حکومت فوج کی معاونت حاصل کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ فوج کو اسٹبلشمنٹ کے مترادف قرار دینا غلط ہے۔ حقیقت میں اسٹبلشمنٹ ایک منفی اصطلاح ہے۔ اس  سے مراد ایسا گروہ ہے جو اپنے مفادات کیلئے اتھارٹی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ حالانکہ کے تمام ادارے آئین کے ما تحت ہیں اور اپنے آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام کرتے ہیں۔ مگر بد قسمتی سے بعض سیاستدانوں ، ریٹائرڈ سول اور فوجی افسران اپنے نقطہ نظر کے مطابق سیاسی معاملات سیاستدانوں اور جماعتوں کے کردار کے حوالہ سے تبصرے کرتے رہتے ہیں۔ کچھ اس خدشے کاا ظہار کرتے ہیں پاکستان پیپلزپارٹی یا مسلم لیگ (ن) کا دوبارہ اقتدار میں آنا ملکی حالات کو سدھارنے کیلئے بہتر نہیں ہے۔ یہ تجزیہ نگار ایسے سیاسی گروپوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو کہ ووٹ کے ذریعے انتخابات میں کامیاب نہیں ہو سکتے ہیں۔ بلکہ وہ حکومتی اداروں کی مداخلت اور معاونت کے ذریعے انتخابات جیتنا چاہتے ہیں۔

دھرنا کے معاملات ختم ہو چکے ہیں۔ دھرنا کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب مسلم لیگی حکومت پہلے ہی بحرانوں سے دو چار تھی۔ اپنے لیڈر سے ہاتھ دھونے کے صدمہ سے یہ ابھی باہر نہیں آئی تھی کہ ایک مشکل کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ اس دھرنے کے آغاز سے ہی اس کو سنجیدہ نہ لیا گیا ۔ معاہدہ کی وجہ سے سول حکومت کی اتھارٹی کمزور ہو ئی ہے۔ کیونکہ وہ تنہا معاملات کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے جس میں وزیر داخلہ احسن اقبال کی انتظامی صلاحیت کی کمزوریاں شامل ہیں۔ دھرنے کے دوران دیگر سیاسی اور مسائل پر بحث پس منظر میں چلی گئی تھی۔ نواز شریف نے خود کو نظریہ ثابت کرنے کے حوالے سے بیان دیا۔ اگر نواز شریف کے نظریاتی ارتقائی سفر کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ میاں صاحب کے نظریاتی اور سیاسی سفر کا آغاز جنرل ضیاء الحق کے ساتھ ہوا جس نے جمہوریت اور پارلیمانی نظام کی مخالفت کرتے ہوئے اس کی حمایت میں بانی پاکستان قائد اعظم کی ڈائری پیش کی۔ اس میں صدارتی نظام حکومت کو بہتر قرار دیا گیا ۔ جنرل ضیاء کا دور بارہ سالوں پر محیط ہے جس میں نظریاتی سیاست کو ختم کرنے کیلئے غیر جماعتی انتخابات کرائے گئے۔ پیپلز پارٹی اور دیگر انسانی حقوق کا مطالبہ کرنے والی سیاسی جماعتوں پر ظلم و ستم کیا گیا۔ نواز شریف پنجاب کے وزیر خزانہ سے وزیر اعلیٰ پنجاب اور تین مرتبہ وزیر اعظم پاکستان رہے۔ انہیں ضیاء الحق نے اپنا نظریاتی وارث قرار دیا تھا۔ قومی تحویل میں لی ہوئی صنعتوں کو واپس کرنے کے ساتھ بینکوں سے قرضہ جات دلائے تا کہ وہ اپنی صنعتی امپائر کو ترقی دے سکیں۔

جنرل ضیاء الحق کی برسی کے موقع پر نواز شریف نے اس کے مشن کی تکمیل کا اعادہ کیا۔ اپنی وزارت اعظمیٰ میں امیر المومنین بننے کیلئے آئین میں ترمیم کرنے کی ناکام کوشش کی۔ ہمیشہ خود کو انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والا سیاستدان قرار دیا اور مذہبی جماعتوں کی حمایت سے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ میاں شہباز شریف نے ایک بیان میں طالبان کو اپنا ہم خیال قرار دیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ پنجاب میں حملے نہ کریں۔ گزشتہ الیکشن میں بھی طالبان نے مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف پر حملے نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ میاں نواز شریف نے قومی امور کے حوالے سے کبھی منتخب ایوان کو اعتماد میں نہیں لیا ہے۔ بلکہ کچن کیبنٹ کے ذریعے ملکی امور کو چلانے کی کوشش کی۔ ہر جمہوری حکومت کے خلاف مقتدرہ طاقتوں کی سازشوں میں شریک رہے۔ یوسف رضا گیلانی کے خلا ف میمو گیٹ سکینڈل میں سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے کے بعد بھی مقتدرہ اداروں کے ساتھ تعلقات میں توازن رکھنے میں ناکام رہے۔ آج مسلم لیگ کی حکومت مرکز صوبہ بلوچستان ، صوبہ پنجاب، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ہے مگر پھر بھی اس کی قیادت کو سازشوں کی گونج سنائی دیتی ہے۔ آج اُن کا نظریہ صرف عدلیہ اور ملک کے طاقتور اداروں کی مخالفت ہے ۔حالانکہ ان کی سیاسی کامیابیاں انہیں اداروں کی مرہون منت ہے۔ آج چونکہ اداروں کے فیصلے طبعیت نازک پر نا گوار گزرتے ہیں لہذا اپنے سیاسی مستقبل کو بچانے کیلئے درشت رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔  احتساب عدالتوں اور اعلیٰ جج صاحبان کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

اگر شریف فیملی کا نظریہ دیکھا جائے وہ صرف اقتدار میں رہ کر من مانی کرنا اور اپنی ذاتی دولت میں اضافہ کرنا ہے۔ اسی حوالہ سے مختلف کرپشن اور منی لانڈر نگ میں مقدمات کا سامنا کرنے پر مجبور ہے۔ یاد رہے پاکستان میں نظریاتی سیاست صرف جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی نے کی ہے۔ اور دونوں نے اپنی لڑائیوں میں خود کو بے حال کیا ہے۔ ان کی جگہ غیر نظریاتی جماعتوں نے پر کی ہے، جو کہ وعدوں اور جھوٹے نعروں کے ذریعے ووٹ حاصل کر لیتی ہیں۔  لوگ اور الیکٹ ایبل اپنے ذاتی مفادات کیلئے ان جماعتوں کا ساتھ دیتے ہیں تاکہ وہ اقتدار میں آکر اپنا ذاتی کام کروا سکیں اور چودہراٹ کو قائم کر سکیں۔ ایک نا اہل کو پارٹی کا صدر بنانا ان کے سیاسی بے شعوری  کا ثبوت ہے۔  اب نظریات کی نہیں مفادات کی سیاست ہے۔

نظریاتی سیاست کی علمبردار تحریک انصاف بھی ہے جو کہ نیا پاکستان بنانا چاہتی ہے جس کے اہم خد وخال میں کرپشن کا خاتمہ ہے جو کہ عمران خان کا پسندیدہ موضوع ہے۔ یاد رہے وہ ہمیشہ جرگہ سسٹم کے حامی رہے ہیں ڈرون حملوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ نیٹو سپلائی بند کی تھی۔ طالبان کے حکومت کے ساتھ مذاکرات میں انہیں طالبان نے اپنا نمائندہ قرار دیا تھا ۔ انہوں نے ملک کے اندر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی مخالفت کی تھی مگر آرمی پبلک سکول میں طلبا کے قتل عام کے بعد ان کے نقطہ نظر میں سطحی تبدیلی آئی تھی ۔ جس کا مظہر حالیہ جمعیت علماء سمیع الحق گروپ کے ساتھ اتحاد ہے۔  بے نظیر کے حملہ میں ملوث نوجوان اسی مدرسہ سے پڑھے ہوئے تھے۔   صوبہ پختون خوا کی حکومت نے مدارس اصلاحات کے نام پر ساٹھ کروڑ روپے کی اکوڑا خٹک کے مدرسہ کو امداد دی ہے۔  اتحاد کی خبر ایسے وقت میں آئی جب ایک ہفتہ قبل ملک کی بڑی مذہبی جماعتوں کے درمیان متحدہ مجلس عمل کی بحالی پر اتفاق ہو چکا تھا۔ ظاہری طور پر یہ اتحاد ضرورتوں کی بنیاد پر ہے۔ ان کے حریف مولانا فضل الرحمن کا نقطہ نظر ہمیشہ اقتدار سے وابستہ رہنا ہے۔ مذہبی ووٹ بینک کے حصول کیلئے تحریک انصاف کا سمیع الحق کے ساتھ اتحاد ضروری تھا۔

تحریک انصاف کے وہ حامی جو انفرادیت کے حوالے سے لبرل نظر آتے ہیں لیکن خیال اور تفکر کے حوالہ سے رجعت پسند نظریات رکھتے ہیں یا ایسے خیالات رکھتے ہیں جو دراصل انتہا پسند مکتبہ فکر کے زیادہ قریب ہیں۔ ان حالات میں مجلس عمل بحال ہوتی ہوئی دیکھائی نہیں دیتی ہے۔ تحریک انصاف میں نظریاتی تبدیلی کی نئی لہر سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ ارباب رحیم کی شمولیت سے آ ئے گی جس کی وزارت اعلیٰ کے دوران کراچی میں وکلاء کا قتل عام کیا گیا تھا۔ بے نظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس پر حملے میں کئی سو افراد مارے گئے اور زخمی ہوئے۔  دوسری جماعتوں کے بھگوڑوں کی تحریک انصاف میں شمولیت سے عمران خان کی نظریاتی کرپشن فری سیاست پر بے پناہ سوالات اٹھائے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ نواز شریف اور عمران خان کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا ہے۔  دونوں انتہائی دائیں بازو کے خیالات کے حامل ہیں جس میں غریب طبقا ت کے اوقات کار کو سدھارنے کا کوئی نظریہ نہیں ہے۔

ایسی طاقتور غیر نظریاتی شخصیات کے سیاست پر غالب آنے سے جمہوری اور انسانی حقوق کا تصور کمزور ہوتا ہے۔ کیونکہ ادارے ریاست کے سامنے نہیں بلکہ شخصیات کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں انتہا پسند فرقہ وارانہ تنظیموں کا ابھار سامنے آتا ہے جو کہ اپنے جذباتی بیانیے کے ذریعے عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ملک میں پسے ہوئے طبقات کے حصول کیلئے نظریاتی اور عوام دوست جماعتوں اور قیادت وقت کی اہم ضرورت ہے۔