لندن سے تاریخی شہر استنبول کا سفر

لندن کی مصروف ترین زندگی سے تنگ آکر ہر انسان دنیا کی سیر یا ایسی جگہ جانا چاہتا ہے ۔ جہاں اسے کچھ پل کے لئے آرام اور سکون ملے۔ زیادہ تر انگریزوں میں دنیا کی کھوج اور سیر کرنے کی خواہش خوب پائی جاتی ہے۔  انگریزوں کے اسی شوق نے انہیں دنیا کہ بے شمار ملکوں کا حاکم بھی بنا دیا۔ انگریزوں کو دنیا کی سیر کرنے کے شوق کی ایک  وجہ یہ بھی ہے کہ برطانیہ میں پونڈ کا مضبوط ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے زیادہ تر لوگ امیر ہیں ۔ جس سے انہیں دنیا کے مختلف ممالک میں  گھومنے پھرنے کے لئے  کسی مالی دشواری کا سمان نہیں کرنا پڑتا ہے۔

مجھے بھی برطانیہ میں رہتے ہوئے اور پیشہ وارانہ کام کرتے ہوئے چوبیس سال ہو گئے ہیں ۔ ان چوبیس سالوں میں سیر و تفریح کا شوق کافی دیر سے جاگا۔ شاید اس کی ایک وجہ ایشیائی ذہنیت تھی جو کام وکاج کے علاوہ گھروں میں اپنا وقت گزارنا لازمی سمجھتے ہیں۔ ممکن ہے مجھے بھی برطانیہ میں رہتے ہوئے اسی طرح جینے کی عادت پڑنے لگی تھی۔ میں کام کرنے کے بعد گاہے بگاہے کسی کے گھر ملنے جاتا او ر کبھی کبھار ہندوستان کا چکّر لگاتا۔ 2015 میں استنبول یونیورسٹی کے شعبہ اردو نے سو سال مکمل ہونے پر عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد کیا تھا۔ یونورسٹی کی دعوت پر جب میں استنبول پہنچا تو مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ میں نے دنیا اب تک مکمل طور پر نہیں دیکھی ہے۔ کیونکہ اتنے سالوں میں دنیا کی سیر کا نہ تو کوئی ارادہ ہوا تھا اور نہ ہی شوق جاگا تھا۔ مجھے اس بات کا اعتراف کرنے میں کوئی جھجھک نہیں  کہ استنبول یونیورسٹی کی دعوت نے میری زندگی میں ایک اہم تبدیلی لا ئی۔ جس کے بعد میں ہر سال دنیا کے مختلف ممالک کی سیر کر رہا ہوں اور مجھے اس بات کا بھی احساس ہو رہا ہے کہ دنیا کتنی خوبصورت اور رنگ برنگی ہے۔

منزل کا تو میں نے کئی مہینے پہلے ہی انتخاب کر لیا تھا۔ دراصل 2015کے استنبول دورے میں ہم نے کانفرنس میں شرکت کرنے کے علاوہ شہر کو اچھی طرح سے نہیں دیکھا تھا۔ اس لئے کچھ ماہ قبل جب سفر کا ارادہ ہوا تو ذہن میں فوراً استنبول شہر جانے کی خواہش پیدا ہوئی۔ ترکش ائیر لائنس سے ٹکٹ بنوا کر بکنگ ڈاٹ کام کے ذریعہ آیا سلطان ہوٹل میں ایک ہفتے کی رہائش کا انتظام کر والیا۔  سنیچر 18 نومبر کی صبح پانچ بجے گھر سے نکل کر لند ن کے معروف ہیتھرو ائیر پورٹ کو روانہ ہوا۔ لگ بھگ چالیس منٹ کے سفر کے بعد میں لندن کے ہیتھرو ائیر پورٹ پہنچ گیا۔ راستے بھر لندن کی سردی نے جہاں میرے جسم کو منجمد کئے ہوئے تھے وہیں استنبول جانے کی خوشی نے میرے اندر آگ سی جلا رکھی تھی۔  ہیتھرو ائیر پورٹ کے ٹرمنل دو پر ترکش ائیر لائنز کا جہاز اپنی آن و شان سے کھڑا تھا۔ پاسپورٹ اور دیگر کاغذات کے کنٹرول کے بعد ائیر پورٹ کے اندر داخل ہونے سے پہلے سخت سیکورٹی چیک کو پار کرنا پڑا۔ آج کے دور میں انسان اتنا حیوان ہو چکا ہے کہ اسے کسی بھی انسان پر بھروسہ نہیں رہا ۔ اس کا احساس مجھے ہیتھرو کے سخت سیکورٹی چیک سے اندازہ ہوا۔ میں اسے ایک ضروری طریقہ کار سمجھتا ہوں کیونکہ اس سے لاکھوں معصوم مسافروں کی جان بچائی جا سکتی ہے۔ تاہم سخت سیکورٹی چیک کے دوران مجھے یہ بات کافی ناگوار گزری جب سیکورٹی آفیسر نے ہمارے جسم کو ہاتھ لگا کر جانچ پڑتال کی ۔ لیکن مجھے اس بات کا بھی اندازہ ہوا کہ ایسا کرنا حالت کے مدّ نظر ضروری ہے۔ پھر ہم نے خاموشی سے سیکورٹی آفیسر کے حُکم اور جانچ پڑتال میں تعاون کیا۔

ہیتھرو ائیر پورٹ کی ڈیوٹی فری دکانوں کی چمچماہٹ نے مجھے ان دکانوں کی خریداری پر مجبور کر دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد جب ہمیں کچھ تھکان محسوس ہوئی تو ہم کافی کے ایک دکان پر بیٹھ گئے اور کافی کا مزہ لینے لگے۔ تھوڑی دیر بعد میری نظر گھڑی پر پڑی تو مجھے پتہ چلا کہ جہاز پر سوار ہونے کا وقت ہو چلا ہے۔ تیز قدمی سے چلتا ہوا میں ہوائی جہاز کے دروازے پر پہنچ گیا۔ دروازے پر ایک خوبصوت ترکی حسینہ نے خوش آمدید کہا اور میرا بورڈنگ پاس دیکھ کر مجھے میری سیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جانے کو کہا۔
جہاز تیزی سے استنبول کی طرف جا رہا تھا اور میں سیٹ پر بیٹھا اپنے سامنے لگے اسکرین پر پروگرام کو دیکھنے میں مگن ہو گیا۔ کئی زبانوں کے پروگرام کے علاوہ دنیا کی کئی فلموں کے چینل بھی دستیا ب تھے۔ ابھی میں اسکرین پر پروگرام کا مطالعہ کر ہی رہا تھا کہ اچنک میری نظر بالی ووڈ کی فلموں پر پڑی۔ یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ میں عام طور فلمیں نہیں دیکھتا ہوں۔ لیکن اکثر ہوائی سفر میں مجھے بحالتِ مجبوری فلمیں دیکھنا پڑتی ہیں۔ جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ سفر جلد کٹ جائے اور ہوائی جہاز کے انجن کی آواز سے راحت ملے۔ خیر میں نے شاہ رخ خان کی ’رئیس‘ فلم کو دیکھا اور ایک بار پھر سوچنے لگا کہ کیوں ہندوستانی فلموں میں مسلمانوں کے مسائل کو جب بھی دکھا یا جاتا ہے تو اس میں یا تو کردار کسی غلط کام میں ملوث ہو تا ہے یا پھر اس کی پہچان سماج کے بدنام شخص کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ممکن ہے اس کی وجہ مسلمانوں کو یا تو نیچا دکھانا ہے یا لوگوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ مسلمان صرف برائیوں میں ملوث ہیں۔

فلم کے ختم ہوتے ہی پائیلٹ نے پہلے ترکی زبان اور پھر انگریزی میں اعلان کیا کہ جہاز کچھ ہی دیر میں استنبول پہنچنے والا ہے۔ مسافر اپنے سیٹ بیلٹ کو باندھ لیں اور تب تک سیٹ پر بیٹھے رہیں جب تک جہاز پوری طرح رک نہ جائے۔ تھوڑی دیر بعد میری نظر کھڑکی سے باہر پڑی تو خوشی کا ٹھکانا نہ رہا۔ اچانک محسوس ہوا کہ ہم استنبول پہنچ گئے ہیں اور استنبول ہمارا استقبال کر رہا ہے۔ اپنے تھوڑے سے سامان کو لے کر میں جہاز سے باہر نکل گیا۔ تیز قدمی سے امیگریشن کنٹرول کی جانب بڑھنے لگا۔ قریب پہنچتے ہی محسوس ہوا کہ استنبول میرے ساتھ دنیا کے ہزاروں لوگ سفر کر رہے ہیں۔ امیگیریشن ڈیسک تک پہنچنے سے پہلے ایک لمبی لائن میں کھڑا ہونا پڑا۔ تھوڑی دیر کے بعد امیگیشن آفیسر نے ہمارا ویزا چیک کیا اور  میرے پاسپورٹ پر استنبول میں داخل ہونے کی مہر لگا دی۔

ائیر پورٹ کے باہر آتے ہی پیلی ٹیکسی کی قطار دکھی۔ ٹوٹی پھوٹی انگریزی زبان میں ڈرائیور نے ٹیکسی میں بیٹھنے کی درخواست کی۔ میں نے ڈرائیور کو آیا سلطان ہوٹل چلنے کو کہا۔ ٹیکسی پر سوار میں استنبول شہر کا جائزہ لے رہا تھا۔ کبھی سمندر دکھتا تو کبھی چوڑی چوڑی سڑکیں۔ کچھ ہی دیر بعد ٹیکسی پرانے شہر کی تنگ سڑکوں سے گزرنے لگی۔ اس وقت مجھے یقین ہوگیا کہ اب ہم سلطنتِ عثمانیہ کے شہر میں پہنچ چکے ہیں۔
ٹیکسی اونچائی پر چلتی ہوئی تنگ سڑکوں سے گزر کر ایک خوبصور ت عمارت کے قریب رک گئی۔ اس عمارت کا نام آیا سلطان تھا۔ ہوٹل سے ایک آدمی نے سامان ٹیکسی سے اتارا اور ہوٹل میں ہمارا استقبال کیا۔
(جاری)