سازشی تھیوریاں اور فیض آباد کا دھرنا

اگر بات سیدھی سادی ہو، اس میں ڈرامائی موڑ نہ ہوں تو اس سے ہمارے ہنرِ تجزیہ نگاری کو ٹھیس پہنچنے کا احتمال ہوتا ہے۔ تجزیہ نگار اور عام بندے  یعنی عوام الناس میں یہی فرق ہے کہ تجزیہ نگار سات پردوں میں چھپی سازش ڈھونڈ لیتا ہے۔ اسے تفصیل سے بیان اور شواہد سے مزین کرکے داد و تحسین پاتا ہے ۔  قاری بھی اسی وقت مطمئن ہوتا ہے جب وہ وجوہات تک بذریعہ تجزیہ نگار پہنچ جاتا ہے۔

قانون میں ایک ترمیم کی ضرورت پیش آئی جس کا عقیدہِ ختمِ نبوت سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اس پر کمیٹیاں بنیں۔ کمیٹیاں در کمیٹیاں بنیں۔ اپوزیشن کے ارکان نے اسے کنگھالا۔ اس ترمیم کو عام پبلک کے لئے ویب سائٹ پر ڈالا گیا۔ کسی نے اس پر کوئی تبصرہ یا ترمیم کرنے کی ضرورت نہ سمجھی۔  اب کسی نے جان بوجھ کر یا نادانستہ حلف نامے کے الفاظ میں رد و بدل کر دیا۔ جب ترمیم منظور ہوگئی تو اس  معاملے پر کسی رکن پارلیمنٹ کی نظر پڑی۔ اسے  پارلیمنٹ  میں اور ہر فورم بشمول میڈیا پر اجاگر کیا گیا۔ اسے عقیدہِ ختم نبوت   اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر محمول قرار دیا۔ عقیدہ کا مسئلہ انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے اور   اسے سلجھانے کی اعلی سطح پر کوششیں کی جانی چاہئیں ۔ اس پر بجائے اس کے کہ سنجیدگی سے معاملے کا جائزہ لیا جاتا،   حکومت کے چند وزرا جن کا بظاہر کام اپنے قائد اور حکومت کے ہر عمل کا دفاع کرنا  ہے، اس معاملے کو لے اڑے اور مخالفین کے  اعتراضات کو پراپیگنڈا اور جمہوریت دشمنی سے تعبیر کیا۔  جب پارلیمنٹ کے اندر سے معتبر آوازیں ان اعتراضات میں شامل ہوئیں تو حکومت اور اپوزیشن نے حلف نامے میں کی گئی ترمیم کو واپس لے لیا۔

حکومت اس ترمیم کی تصحیح کے لئے سنجیدہ تب ہوئی جب مسلم لیگ (ن) کے نااہل قائد نے اس معاملہ کی تحقیق و تفتیش کے لئے راجہ ظفرالحق کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنا دی جس  کو اس مسئلے کے تمام پہلوؤں پر رپورٹ دینے اور ذمہ داران کا تعین کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔ اس بات کو مزید تشہیر تب ملی جب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اس  ورکرز کے کنونشن میں  شہباز شریف نے اپنے جذباتی خطاب میں اپنے قائد سے درخواست کی کہ جس نے حلف نامے میں ترمیم کی ہے اس شخص کو کابینہ سے نکال دیا جائے۔ یہ کابینہ کے کسی رکن پر پہلا الزام تھا ۔ اس سے پہلے لوگ   صرف حکومت پر اجتماعی الزام لگاتے تھے فردِ واحد پر الزام شہباز شریف نے لگایا۔  اور وفاقی وزیر قانون زاہد حامد اس الزام کی  زد میں آ گئے۔ مطالبات ہونے لگے کہ وزیر قانون کو استعفی دینا چاہئیے۔ ایک مذہبی جماعت نے اسلام آباد میں دھرنے کی دھمکی بھی دے دی۔ وہ جماعت لاہور سے چلی اور اسلام آباد تک اسے  ہر سہولت دی گئی۔ انہوں نے ڈی چوک میں دھرنا دینے کا کہا، انہیں فیض آباد انٹر چینج سے آگے نہ بڑھنے دیا گیا۔  

عدالت نے سو موٹو لیا اور حکم دیا کہ عوام بہت تکلیف میں ہیں اس لئے دھرنے والوں کو فیض آباد انٹرچینج سے اٹھا کر اسلام آباد میں مخصوص مقام پر  بھیج دیا جائے۔ طاقت کا استعمال نہ کیا جائے۔ ہفتے کی صبح پولیس  الٹی میٹم کے بعد حملہ آور ہوئی  لیکن شام تک نہ تو انہیں وہاں سے اٹھا سکی بلکہ پورے پاکستان میں احتجاج پھیل گیا۔ ٹیلی ویژن چینل آف ائر کر دئیے گئے۔ افراتفری اور انتشار پورے ملک میں ۔ حکومت کی رٹ مفقود۔ دھرنا دینے والی ایک دینی جماعت ہے  جو اب سیاسی طور پر رجسٹرڈ بھی ہو چکی ہے۔ ختم نبوت کا عقیدہ ہر مسلمان کا عقیدہ ہے لیکن اس جماعت کے منشور کا حصہ بھی ہے۔ ان کا  سیدھا سادہ مطالبہ تھا کہ وزیر قانون استعفی دیں، تحقیقات ہوں، اگر بری الذمہ قرار پائیں تو دوبارہ وزارت سنبھال لیں۔  حکومت کا موقف تھا کہ ایک غلطی ہوئی، سہوا" یا قصدا" ،  معافی مانگ لی اور تصحیح کر دی، اب استعفی دینا کمزوری کا تاثر دے گا اور ریاست کو کمزور نظر نہیں آنا چاہئیے۔ بظاہر دونوں کے موقف اصولی طور پر ٹھیک تھے لیکن دونوں مذاکرات میں ایک دوسرے کو قائل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ یہ تو ہے سیدھا سادہ مسئلہ۔ اب  سازش تلاش کرتے ہیں تاکہ منصبِ تجزیہ نگاری سے عہدہ برآ  ہو سکیں۔

آئیں سازش کے تانے بانے بنتے ہیں۔  اور یقین جانیں جو چینل کھولیں وہاں بیٹھے تجزیہ نگار آپ کو سازش کے مختلف پہلوؤں پر قیاس آرائیاں کرتے نظر آئیں گے۔ اپنی پسند کے ٹکڑے جمع کرلیں۔ پہلی تھیوری یہ ہے کہ اس دھرنے اور انتشار کے پیچھے نواز شریف  اور مریم نواز ہے۔ آئیں اس تھیوری جو کہ بہت دل پسند تھیوری کے طور پر بیچی جا رہی ہے کو غور سے دیکھتے ہیں۔

جب نواز شریف وزیر اعظم تھے اور راحیل شریف نے ریٹائر ہونا اور نئے آرمی چیف کا انتخاب ہونا تھا تو ایک مذہبی جماعت کے سربراہ جو مسلم لیگ (ن) کی مدد سے سینیٹر بنے ہیں، نے  ایک امیدوار کے قادیانی ہونے کا شوشہ چھوڑا تھا بعد میں اس بیان کو واپس لے لیا گیا تھا۔ لیکن کبھی اس شوشے کے چھوڑنے کی تحقیقات نہیں کی گئیں ۔  چند دن پہلے دامادِ اعلیٰ نے پارٹی لائن سے ہٹ کر قادری زندہ باد  اور قادیانیوں کے خلاف   نعرے بازی پارلیمنٹ سے نکلتے ہوئے کی۔  محمد مالک کے پروگرام میں مولانا طاہر اشرفی نے دھرنے والوں کو کہا گیا تھا کہ آپ اسلام آباد جائیں اور جیسے ہی آپ وہاں پہنچیں گے راجہ ظفرالحق رپورٹ ان کے ہاتھ میں دے دی جائے گی اور وہ عزت سے واپس آ سکتے ہیں۔ دھرنے کو مضبوط ہونے دیا گیا اور اس وقت تک مذاکرات ناکام کئے گئے جب تک عدالت نے سو موٹو نہ لے لیا۔ پولیس ایکشن میں طاقت کا استعمال کیا گو کہ عدالت نے منع  کیا تھا۔ پولیس ایکشن کو فیل کرکے فوج کی مداخلت یقینی بنائی جائے۔ فوج  کے ساتھ عوام کا تصادم مقصود ہے۔  تاکہ انتشار پھیلا کر فوج کو اقتدار پر قبضہ پر مجبور کیا جائے۔ پھرہنواز شریف یہ کہہ سکیں کہ مجھے کرپشن پر نہیں نکالا گیا بلکہ جمہوریت پر وار کیا گیا۔ 

سیاسی شہادت اقتدار کے لئے بہت ضروری ہے۔  اگر فوج عوام کے ساتھ تصادم میں  الجھ گئی تو آرمی چیف کے عقائد پر سوالات جلتی پر تیل کا کام دیں گے۔ بہت سے لوگ اس تھیوری پر یقین کریں گے کہ نواز شریف کا ماضی گواہ ہے کہ وہ اقتدار کے لئے مذہب کو استعمال کرتے رہے ہیں۔  اگر یقین نہ آئے تو  25نومبر کے بریکنگ ویوز ود مالک میں اس کے کچھ عناصر پر بحث دیکھ  لیں  ۔ جہاں اس کے تانے بانے امریکہ کے اس بیان کہ ختم نبوت کا قانون ختم ہو اور مزید امداد کے لئے اس پر عمل درآمد کا اس حکومت کا ذکر۔ یعنی یہ ترمیم جان بوجھ کر امریکہ کے حکم کی پاسداری میں کی گئی۔

مضمون کی طوالت اس بات کی اجازت نہیں دیتی وگرنہ کچھ تھیوریاں اور بھی مارکیٹ میں ہیں جن پر پھر کبھی بات ہوگی۔