دھرنے کے بعد حکومت کے لئے نئے بحران کا آغاز
- تحریر حسین شہادت
- جمعرات 30 / نومبر / 2017
- 4131
6نومبر کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر فیض آباد کے مقام کو ختم نبوت ﷺ کو موضوع بناکر موجودہ حکومت کیلئے ایک آزمائش کا انتظام کیا گیا ۔ یہ 2014 کے بعد دھرنا آزمائش کی ایک اور لہر تھی ۔ پاناما کے بعد اس نئے امتحان میں سب ہی کردار پرانے ہیں۔ 22دن بعد اس دھرنے کا اختتام حکومت کے تئیں ہیپی انڈنگ تھا ، دھرنا تقریباً پر امن انداز میں اختتام کو پہنچا۔ حالانکہ 20ویں دن دھرنا دینے والوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کا آغاز دن چڑھتے ہی کردیا تھا۔ اور فیض آباد انٹر چینج میدان جنگ بن گیا۔
آپریشن کے خلاف ملک بھر میں حامیان تحریک لبیک نے غم و غصہ کا اظہار کیا، احتجاج کا دائرہ دیکھتے ہی دیکھتے ملک کئی شہروں میں پھیل گیا۔ نظامِ زندگی معطل کرنے کی بھی کوششیں کی گئیں۔ لوگوں میں حکومت کے خلاف ردعمل بھی دیکھا گیا۔ حکومت آپریشن شروع تو کربیٹھی لیکن اس کے اوسان اس کے ساتھ نہیں تھے۔ ابتدا میں ٹی وی چینلز کو براہِ راست نشریات کو روکنے کے احکامات صادر ہوئے اور پھر حکومت نے بد حواسی میں خبروں کے تمام نجی ادروں کی نشریات ہی بند کرڈالیں۔ سوشل میڈیا بھی اس پابندی کی زد میں آگیا۔ اس پابندی نے ملک بھر میں غیر یقینی صورتحال پیدا کردی ، افواہیں اور قیاس آرائیوں نے جنم لینا شروع کردیا۔ یہ حکومت کی نااہلی اور حماقت کی اولین دلیل ثابت ہوئی۔ البتہ آرمی چیف کی براہِ راست مداخلت سے 27گھنٹوں بعد اس پابندی کا خاتمہ ہوا اور آپریشن روک کر افہام و تفہیم ، خیر سگالی اور خوش اسلوبی کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے سے معاملات طے کئے جانے پر زور دیا گیا۔ عسکری و سیاسی قیادت میں طے پایا کہ فوج دارالحکومت میں سرکاری تنصیبات کی حفاطت کرے گی جبکہ دھرنے کے خلاف جاری آپریشن میں حصہ نہیں لے گی ۔ قمر جاوید باجوہ نے بات چیت کو حتمی نتائج کا راستہ کھولتے ہوئے کہا کہ فوج اپنے عوام پر طاقت کا استعمال نہیں کرے گی۔ بدامنی اور انتشار کی صورتحال ٹھیک نہیں۔ دنیا میں ملک کی بدنامی کا سبب بنے گا۔ بالآخر حکومت نے اس ادارے کی رائے پر عمل کیا جو اس کے ماتحت تھا۔ یہ اس معاہدے کا ثالث بھی بنا جو27نومبر کو حکومت اور تحریک لبیک کے مابین ہوا۔
وفاقی وزیرِ قانون جو اس معاملے کے اہم کردار تصور کئے جاچکے تھے انہیں وزارت کی قربانی بھی دینا پڑی۔ بائیس روزہ دھرنے کے سارے منظر نامے پر غور کریں تو یہی لگتا ہے کہ سوائے عدلیہ کے حکومت یا کسی اور کو عوام کی کوئی پرواہ تھی اور نہ ہی ملک کی عزت و سلامتی کا کسی کو خیال تھا۔ تمام تر صورتحال میں یہی لگتا رہا کہ حکومت نے شروع دن سے ہی احتجاج پر قابو پانے کیلئے کوئی سنجیدگی کا مظاہر ہ کیا۔ یہ حکومت کی ضد اور ہٹ دھرمی تھی جس نے حالات اس نہج تک پہنچادیئے تھے۔ اگر ذمے داروں کو بروقت بے نقاب کردیا جاتا تو شاید صورتحال اس قدر خراب نہ ہوتی۔ اس تمام تر صورتحال میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی پس منظر میں رہے ، حالانکہ ان کے منصب کا تقاضہ تھا کہ وہ اس بحرانی کیفیت میں اپنا حسن تدبر استعمال کرتے ۔ مگر محسوس ایسا ہوتا ہے جیسے و ہ خیال کرتے ہیں کہ ان کا اولین مقصد اور منصب پارٹی سربراہ سے وفاداری نبھانا ہی رہ گیا ہے۔ احسن اقبال نے اپنے اس آپریشن کا بوجھ اتارکر تمام ملبہ عدلیہ پر ڈالا دیا کہ ڈی سی اور آئی جی جس آپریشن کو انجام دے رہے ہیں وہ عدلیہ احکامات کی پاسداری ہے وہ اس کا حصہ نہیں کیونکہ انہیں تو عدالت نے شو کاز نوٹس دے رکھا ۔ 27 نومبر پاکستان کی سیاسی تاریخ کا اہم باب بن گیا جب خادم حسین رضوی کی قیادت میں ہونے والا دھرنا ایک ایسے معاہدے کے بعد سمیٹ لیا گیا جس میں ساری من مانی مظاہرین کی تھی اور ثالثی کا کردار فوج نے ادا کیا۔ عدالت کو حکومت کی جانب سے بھی اطمینان کرادیا گیا کہ معاملہ افہام و تفہیم سے حل ہوگیا ہے۔
ملک میں نون لیگ کا کردار روز بروز تزلی کی جانب جارہا ہے۔ پارٹی میں اختلاف رائے سے بات کہیں آگے جاچکی ہے۔ احسن اقبال ہی کے منصب پر رہنے والے سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدی نثا ر ان دنوں کافی کھل کر اظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے دھرنے کے خلاف آپریشن اور پھر بعد کے حالات کا ذمہ دار بھی احسن اقبال کو قرار دیا ہے اور اسے ان کی بدانتظامی و خراب منصوبہ بندی بھی گردانتے ہیں ۔ ممتاز قادری کی پھانسی سے قبل کون جانتا تھا کہ تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ کیا ہے ۔ خادم حسین رضوی سے کتنے لوگ آشناتھے۔ ممتاز قادری کی اچانک پھانسی نے انہیں ملک میں متعارف کروایا ۔ پھر یہ تحریک
NA-120 میں خصوصی طور پر نون لیگ کے خلاف الیکشن لڑی ، اب اس نے ختم نبوت ﷺ کے حلف نامے میں ترمیم پر اپنی سیاست چمکاکر دنیا کو اپنے ہونے کا بھر پور احساس دلایا۔ سیاست کی بات چمکانے کا اس لئے کہا کیونکہ جب اس ملک میں قادیانیوں کے خلاف باقاعدہ تحریک چلی ، قانون پر کام شروع کیا گیا تب ایک مجلس ختم نبوت ﷺ نے جنم لیا تھا ۔ جس نے علماء کرام کے ساتھ مل کر ختم نبوت ﷺ کی تحریک چلائی۔ قادیانیوں کو بھی اپنے دفاع کا پورا پورا موقع دیا تھا ، انہیں قائل کرکے ہی قانون بنا یا گیا جس پر پھر کسی کو کوئی اعتراض نہ ہوا۔ بائیس روزہ سرگرمی میں ہم نے اس مجلس کو کہیں نہیں پایا، کسی نے اس جانب توجہ بھی نہیں دی ۔
تحریک لبیک نے چاہے اسے سیاسی مقد کیلئے استعمال کیا ہے لیکن اس کا ردعمل عالمی سطح پر بھی محسوس کیا گیا ہے ۔ اقوامِ متحدہ کے تحت انسانی حقوق کا ایک زیلی ادارہ ہے جس کے تحت دنیا کے ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لیا جاتا ہے جسے PERIODIC REVIEWکہا جاتا ہے ۔ لبیک والوں کے دھرنے کے ساتویں روز یعنی 13نومبر کو اس جائزے کے اجلاس میں امریکی نمائندے جیسی برنسٹین Jesse Berstein نے اس جائزہ گروپ کو پاکستان سے متعلق تین سفارشا ت پیش کیں۔ پہلی سفارش میں کہا گیا کہ پاکستان فوری طور پر توہینِ رسالت کے قانون کو ختم کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ تمام پابندیاں بھی اٹھائی جائیں جن کے ذریعے قادیانی مسلمانوں ( قادیانیوں ) کو ہراساں کیا جاتا ہے اور اقوام متحدہ اپنا خصوصی نمائندہ بھی پاکستان بھیجے جو وہاں آزادی رائے اور اظہار کے تحفظ کو یقینی بنائے ۔ جائزے میں دیگر سفارشات کا تذکرہ موضوع سے مختلف ہے لہٰذا اسے چھوڑتے ہیں۔ البتہ جائزے کے آخر میں دوبارہ سے قادیانیوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ ہم توہین رسالت کے نفاذ کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یہی تشویش قادیانیوں پر عائد پابندی سے متعلق ہے ۔ ہمیں اس بات پر بھی تشویش ہے کہ توہینِ رسالت کے قانون اور دیگر ایسے قوانین کو سیاسی مخالفین کو دبانے اور ذاتی دشمنی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ امریکا کی جانب سے پہلی بار کھل کر اس تشویش کا اظہا ر کیا گیا ہے اور یہ بات بھی واضح کردی ہے کہ وہ ان لوگوں کو دوست نہیں رکھنا چاہتا جو بنیادی طور پر اسلام کے تما م احکامات کو مانتے ہوں ، عمل پیر ا ہوں اور یہ ان کے ایمان کا حصہ ہوں ۔
جائزہ گروپ کی سفارشات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ غلطی نہیں تھی بلکہ ایک ایسی سازش تھی جو مقامی سطح پر نہیں بلکہ عالمی سطح پر تیا ر کی گئی تھی۔ یہ وہ طاقتیں ہیں جو ہمارے ایمان کا سودا کرنے کے لئے ہر دور میں موجود ہوتی ہیں ۔ یہ پاکستان کی کی برباد ی کا ایک خطرناک اور چھپا ہوا ہتھیار ہے جو استعمال ہونے کو ہر وقت تیار ہے۔ حالیہ دھرنے میں حکومت اور مظاہرین نے فوج کی بات مان کر کئی لوگوں حیران کردیا ہے۔ حکومت اپنے تابع ادارے کو ثالث بنالے گی اس کا کسی کو احساس اس طرح سے نہیں تھا۔ یہ پاناما سے زیادہ ہنگامہ پرور ہے۔ اب حکومت پر لازم ہوگیا ہے کہ وہ فوج کے نطور ثالث ہونے کے کردار کو بھر پور انداز میں ثابت کرے ورنہ نیا بحران آیا چاہتا ہے جس کی لپیٹ میں جانے کون کون آجائے۔