حکومتی ساکھ کا جنازہ
- تحریر سلمان عابد
- جمعرات 30 / نومبر / 2017
- 4349
اسلام آباد میں 22روز تک ختم نبوت میں ترمیم کے مسئلہ پر تحریک لبیک کے دھرنے کے نتیجے میں حکومت اور علامہ رضوی کے درمیان ایک تحریری معاہدہ کے بعد دھرنا ختم ہوگیا ہے ۔ لیکن اس تحریری معاہدہ کے بعد اس کی حمایت اور مخالفت میں ایک نئی بحث مختلف سیاسی ، قانونی ، حکومتی حلقوں میں شروع ہوگئی ہے۔ عمومی طور پر جب دو فریقین میں کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو کوشش کی جاتی ہے کہ اس معاہدہ کو دونوں فریقین کے لیے قابل قبول بنایا جائے ۔ لیکن اس معاہدہ نے حکومتی ساکھ جو پہلے ہی بری طرح مجروح یا کمزور تھی اسے اور زیادہ کمزور اور تماشہ بنادیا ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وزیر داخلہ احسن اقبال کے بقول دھرنا مظاہرین سے حکومتی معاہدہ افسوسناک ہے اور اس پر فخر نہیں کیا جاسکتا، جوظاہر کرتا ہے کہ حکومت کو مظاہرین کے سامنے پسپائی اختیار کرنی پڑی ۔
دوسری جانب اسی معاہدہ پراسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے دیئے گئے فیصلے میں کہا گیا کہ وزیر داخلہ نے مجموعی طور پر انتظامیہ اور پولیس کو ذلیل کردیا اور اہم نقطہ اٹھایا کہ اس معاہدہ میں فوجی کیسے ثالث بن گئے ۔ عدالت نے اس معاہدہ میں تیسرے فریق یعنی فوج کی شمولیت پر بڑا اعتراض اٹھایا ہے ۔ ان کے بقول اگر فوجیوں نے سیاست کرنی ہے تو وہ نوکری چھوڑ کر سیاست کریں ۔ جب ریاست خود دھرنے والوں کے سامنے سرنڈر کرے گی تو ریاستی رٹ کو کون تحفظ دے سکے گا۔ جبکہ چیرمین سینٹ کے بقول مظاہرین سے معاہدہ کیونکر کیا گیا اور پارلیمان کو کیوں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ وزیر داخلہ نے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سب فریقین کو وزیر قانون زاہد حامد کے پیچھے کھڑا ہونا چاہیے تھا، مگر سب نے چنگاری پر پٹرول چھڑکا۔ وزیر داخلہ سمیت حکومت کا موقف تھا کہ دھرنے کے دباؤ پر وزیر قانون سے کسی صورت استعفی نہیں لیا جائے گا اور یہ معاملہ محض حکومتی غلطی کا نہیں بلکہ پوری پارلیمانی کمیٹی کی کوتاہی کا نتیجہ تھا ۔ ان کے بقول اگر دھرنے کے مطالبات پر حکومت اپنی بے بسی دکھا کر کسی بھی وزیر سے استعفی لیتی ہے تو اس سے اس کی حکومتی ساکھ بری طرح متاثر ہوتی ہے ۔ مگر ایک طرف حکومتی بے بسی ہے تو دوسری طرف یہ بات بھی سب کو معلوم ہے کہ یہ معاہدہ حکومت سے زیادہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اوران کے نمائندے میجر جنرل فیض حمید کی ذاتی مداخلت کی بنیاد پر ہوا ہے اور اس کی درخواست بھی خود حکومت نے کی جو حکومتی نااہلی اور بے بسی کو نمایاں کرتا ہے ۔ وگرنہ بیس دن تک خود حکومت سیاسی ، انتظامی طور پر اس مسئلہ سے نمٹنے کی کوشش کررہی تھی مگر کامیابی نہیں مل سکی ۔
اگرچہ یہ معاہدہ ہوگیا ہے اور ایک بڑے بحران سے حکومت نے اپنے آپ کو بچالیا ہے لیکن اس بحران نے حکومت کو پہلے سے زیادہ کمزور کردیا ہے ۔ حکومتی الزام تھا کہ اس سارے کھیل کے پیچھے اسٹیبلیشمنٹ ہے اور ان کی مرضی کے بغیر یہ دھرنا اسلام آباد میں نہیں سجایا جاسکتا تھا ۔ لیکن سب نے دیکھا کہ جو معاہدہ سامنے آیا وہ اسی اسٹیبلیشمنٹ کی مرہون منت ہے اور اگر فوج حکومتی تجویز پر آگے بڑھتی تو جو بحران بڑھتا یا اس کے نتیجے میں جو تشد د ہوتا تو فوج بھی براہ راست اس کی فریق بن سکتی تھی ۔ مسئلہ یہ ہے کہ جو حل اب فوج کی مدد سے حکومت نے نکالا اور وزیر قانون کی قربانی دی یہ عمل بہت پہلے ہی ابتدا میں کرکے اس بحران سے بچا جاسکتا تھا ۔ لیکن اگر کوئی حکومت سیاست سے زیادہ طاقت یا ضد پر قائم ہو تو اس کو سیاسی محاذ پر ایسی پسپائی ہی اختیار کرنا پڑتی ہے ۔ جو لوگ یہ دلیل دیتے تھے کہ اس دھرنے کا مقصد مارشل لا لگانا ، ایمرجنسی لگانا ، ٹیکنوکریٹ، قومی حکومت بنانا ہے ، وہ بھی غلط ثابت ہوا ۔ فوج نے بغیر کسی آپریشن کے مسئلہ کا سیاسی حل ہی نکال کراس تاثر کی نفی کی وہ جمہوری حکومت کو ختم کرنا چاہتی ہے ۔
جو لوگ فوج پر تنقید کررہے ہیں ان کو اس نقطہ پر بھی غور کرنا چاہیے کہ فوج کو دعوت کس نے دی اور کیا وجہ ہے کہ سیاسی حکومت خود سے اس مسئلہ سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے ۔ یہ کہنا کہ فوج کیوں ثالث بنی ، سوال یہ ہے کہ کیا اسے ثالث کے مقابلے میں سازش کا حصہ بننا چاہیے تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فوج پہلی بار اس طرح کے بحران میں ثالث نہیں بنی ، عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے میں بھی حکومت نے فوج سے ثالثی کے کردار کا مطالبہ کیا تھا ۔ عدلیہ تحریک میں اس وقت کے آرمی چیف کو بھی چیف جسٹس کی بحالی میں ثالثی کا کردار ادا کرنا پڑا تھا ۔ اس وقت فوج کی ثالثی پر سب متفق تھے اور سب نے ان کے کردار کو سراہا تھا ۔ عمومی طور پر کسی تیسرے فریق کا ثالثی کا کردار اسی صورت میں ہوتا ہے اول جب آپ خود ناکام ہوجاتے ہیں یا فریقین ایک دوسرے پر اعتماد کھودیتے ہیں۔ اگر فوج یہ کردار ادا نہ کرتی تو اس سے ایک بڑا بحران یا تباہی پیدا ہوسکتی تھی جو خود حکومت ، ریاست اور ملک کے مفاد میں نہیں تھا ۔ حکومت کے بقول جو معاہدہ کیا گیا ہے اسے فتح اور شکست کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ جو کچھ ہوا وہ ملکی مفاد میں کیا گیا ۔ مسئلہ یہ ہے کہ آپ کو چاروں اطراف سے یہ ہی پیغام دیا گیا تھا کہ اس مسئلہ کو اپنی انا اور ضد بنانے کی بجائے سیاسی اورقومی مفاد کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔ لیکن اس حکومت کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ جو بھی کام کرتی ہے وہ ایک بڑے بحران یا ردعمل کے نتیجے میں کرتی ہے، جو مزید بحران کو پیدا کرتا ہے۔ حالانکہ ایک اچھی اور ذمہ دار حکومت کا طرز عمل، فیصلہ سازی ، مسائل سے نمٹنا اورحالات کو اپنے اور ملک کے حق میں سازگار بنا کر عوامی مفادات کو تحفظ دینا ہوتا ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہمیں اچھی سیاست اور حکومت نہیں مل سکی ۔
یقینی طور پر اسلام آباد میں جاری دھرنا سے نمٹنا حکومت کے لیے ایک مشکل معاملہ تھا ۔ کیونکہ حکومت کی مشکل یہ تھی کہ اگر وہ مظاہرین کے مطالبات تسلیم کرتے ہیں تو اس سے حکومتی رٹ کی کمزوری نظر آتی اور اگر ان کے خلاف کوئی سخت گیر آپریشن کرتی تو اس سے جو تشدد کا عمل سامنے آتا وہ بھی حکومت کے لیے بڑا چیلنج تھا ۔ ماضی میں لال مسجد اور سانحہ ماڈل ٹاون کے واقعات موجود ہیں ۔ ایک ایسا جذباتی، حساس، دینی اور ایمانی مسئلہ کی شدت یا حساسیت کو حکومت اور اس کے ذمہ داران بہتر طور پر نہ تو سمجھ سکے اور نہ ہی کوئی ایسی حکمت عملی اختیار کی جاسکی جو سیاسی محاذ پر آپریشن سے قبل کوئی قابل قبول فارمولہ سامنے لاتا۔ حکومت نے ختم نبوت کے مسئلہ پر اپنی کوتاہی تو قبول کی ، مگر اس کے ذمہ داران کا تعین کرنے سے گریز کیا کہ اس ساری ترمیم کی ضرورت کیونکر محسوس ہوئی ۔ وزیر داخلہ احسن اقبال کے بقول اسلام آباد آپریشن کا ان کا فیصلہ نہیں تھا ، بلکہ یہ آپریشن ان کی نگرانی میں نہیں بلکہ عدالتی حکم کی بنیاد پرکیا گیا ہے اور اس کی ذمہ داری ان کی نہیں بلکہ انتظامیہ کی تھی ۔ حالانکہ انتظامیہ حکومتی فیصلہ کے بغیر کچھ نہیں کرتی۔ اگر مسئلہ مذاکرات سے ہی حل کرنا تھا تو وزیر داخلہ کا فرض تھا کہ وہ آپریشن کی بجائے عدالت کو اعتماد میں لیتے لیکن اب اپنی ناکامی کو قبول کرنے کی بجائے ساری ذمہ داری عدالت پر ڈال کر خود کو بری الزمہ قرار دیتے ہیں۔ فوج کو طلب کرنے پر وزرات داخلہ کا نوٹیفیکیشن نے بھی فریقین میں مسائل پیدا کیے ۔ حکومت کو یہ بھی اندازہ نہیں ہوسکا کہ اس آپریشن کے ردعمل میں خود ان کی حکومت ، ارکان اسمبلی ، وزیروں کے گھروں پر حملے بھی ہوسکتے ہیں ۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ حکومت ، وزرات داخلہ نے مظاہرین کے خلاف آپریشن کی صورت میں حالات خراب ہونے کی انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس پر کیونکر غور وخوض نہیں کیا گیا اور کیوں صوبائی حکومتوں سے حتمی آپریشن کرنے سے قبل مشاورت نہیں کی گئی ۔ یہ اندازہ نہیں کیا جاسکا کہ آپریشن کا ردعمل پورے ملک میں پھیل سکتا ہے ۔ اگر وقتی طور پر یہ معاملہ پہلے ہی حل کرلیا جاتا تو صورتحال اتنی سنگین نہ ہوتی ۔ ماضی میں پیپلزپارٹی کی مثال سامنے ہے ۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا پہلا دھرنا زیادہ بڑا تھا لیکن اس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت ، وزیر داخلہ رحمان ملک ، چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الہی ، صدر آصف زرداری کی سیاسی حکمت عملی کی بنیاد مسئلہ کا سیاسی حل نکالا تھا ۔ یہ کام ابتدا میں خود آج کی حکومت بھی کرسکتی تھی ، لیکن اس کا جمہوری مقدمہ پہلے بھی کمزور تھا اور اس واقعہ نے اور زیادہ کمزور کردیا ہے ۔