یادیں ، وضاحتیں اور باتیں

  • تحریر
  • جمعہ 01 / دسمبر / 2017
  • 3659

ہمارے ساتھی کالم نگار شاکر حسین شاکر نے اپنے ایک حالیہ کالم میں اس زیاں کار رجحان کی بڑی خوبصورتی سے نشاندہی کی جس کا ہمارے نوجوانوں سمیت ہم ایسے بھی شکار ہیں۔ لکھتے ہیں ، ٌ فیس بک پر بیٹھتے ہوئے اکثر یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کا فائدہ اپنی جگہ لیکن اس کے آنے کے بعد وقت کا ضیاع بہت ہونے لگا ہے۔ یہ رائیگانی اپنی جگہ ، پھر بھی فیس بک پر بیٹھے بیٹھے اکثر ایسی چیزیں سامنے آجاتی ہیں کہ فیس بک سے منہ موڑنے کو جی نہیں چاہتا ۔ٌ  ہمیں یاد ہے کہ ہم نے جب فیس بک اور سوشل میڈیا کی علت نہیں پالی تھی، ان دنوں ہمیں فراخی وقت کا بہت احساس نہ سہی لیکن وقت کی قلت کا اتنا گلہ بھی نہ رہتا تھا۔ کسی دوست عزیز کی طرف جانا ہوتا، کسی علمی و ادبی تقریب میں شرکت کا ارادہ ہوتا ، کوئی کتاب پڑھنے کا قصد ہوتا یا واک کرنے کو جی چاہتا تو کھینچ تان کر وقت نکال ہی لیتے۔ لیکن برا ہو اس سوشل میڈیا کا، ہمارے ہاتھ سے وقت پھسل کر اس کے کبھی نہ بھرنے والے مٹکے میں گرتا رہتا ہے، کبھی کبھی تو احساس زیاں ہوتا ہے مگر وہی چال بے ڈھنگی جو بن گئی سو بن گئی ۔

گزشتہ کچھ عرصے سے مگر یہ احساس ستانے لگا کہ ہم فیس بک کے مجرمانہ حد تک عادی ہو گئے ہیں، محفلیں اور کتابیں دور ہو رہی ہیں۔ سو، شعوری کوشش کرنے لگے کہ ہمہ وقت اس کے پلّو سے لٹکنے کی بجائے کچھ وقت ان اشغال کو بھی دیں جن سے دل کو راحت اور دماغ کو سکون حاصل ہوتا ہے۔ کتب بینی ان اشغال میں سے ایک ہے۔ اس دوران جو کتابیں پڑھیں ان میں سے ایک ابو الحسن نغمی کی کتاب ٌ یہ لاہور ہے ٌ بھی شامل ہے۔ اس کتاب پر پورا کالم لکھنے کا ارادہ ہے کہ اس سحر انگیز کتاب نے جس رومانوی انداز اور شگفتہ انشاء پردازی کے ساتھ ریڈیو پاکستان لاہور کی پچاس، ساٹھ اور ستّر کی دِہائی کی فضاؤں اور تاریخ کو قلمبند کیا ہے، وہ اس قابل ہے کہ اسے پڑھا جائے اور احباب کے ساتھ اس کے واقعات اور تجربات بانٹے جائیں۔
پاکستان کی آزادی کے بعد شکستہ سامانی مگر ایک موج بلا خیز جیسے جذبے کے ساتھ اس ریڈیو اسٹیشن پر علم و فن اور فنون لطیفہ کا ایک سے ایک نادر نگینہ جمع ہوا۔ دفتری ماحول کی روایتی گھٹن اور رسمی ادب آداب کی مشقت کے باوجود اپنے اپنے کام سے لگن نے لاہور ریڈیو کو ایک منفرد ادارہ بنا دیا ۔ بچوں کے پروگراموں سے لے کر موسیقی اور ڈرامے تک، ہر صنف میں اہل کمال کا ہنر سماعتوں سے ہوتا ہوا دل و دماغ کو دیوانہ بنائے رکھتا۔ ٹی وی اسٹیشن کے تعارف نے بیک وقت بصری اور سمعی نشریات کی جدت کی وجہ سے ریڈیو پاکستان کی بہت سی چکا چوند اپنے نام کرلی لیکن اس کے باوجود ریڈیو تا دیر ہم ایسوں کے لئے رابطے اور علم کا ذریعہ رہا۔ تلفظ کی درستگی ہو یا شعر و شاعری ، غزلیں ہوں یا گیت، مباحثے ہوں یا ڈرامے، کم از کم ہمارے لئے ریڈیو ہی ا پنے گاؤں میں بیرونی دنیا اور علم و فن کی دنیا کے رابطے کا ذریعہ رہا ( ہمارے گاؤں میں اس وقت بجلی نہ آئی تھی ) ۔ لاہور کی علمی، ادبی اور فنون لطیفہ کی سرگرمیوں سے ایک مظبوط تعلق اسی ریڈیو سے شروع ہوا ۔   یہ لاہور ہے  کا نوسٹیلجیا سر چڑھ کر بولنے والے جادو کی طرح ہمارے حواس پر سوار تھا کہ ایک ایسی ادبی محفل میں شریک ہونے کا اتفاق ہوا جس میں جانے مانے سینئر اہل سخن اور اہل ہنر شریک تھے اور کچھ نوجوان بھی، کچھ کا تعلق میڈیا سے تو کچھ کا تعلق فلم نگری سے۔ کچھ ٹی وی ڈرامے سے وابستہ تھے تو کچھ ادیب اور سفرنامہ نگار۔ یادوں کی پٹاریاں کھلیں تو وقت کی قلت نے دامن کھینچ لیا۔ طے پایا کہ یہ محفل دوستاں کچھ عرصے بعد برپا ہو تاکہ تشنگی دور کرنے کا سامان ہو سکے۔ چند ہفتے بعد یہ محفل پھر سے آراستہ کی گئی۔ اب کی بار کچھ نئے چہرے اور کچھ پرانے شرکاء۔ آج کے لاہور سے ہوتے ہوئے بے دھیانی میں ہم پرانے لاہور میں جا نکلے۔ حفیظ جالندھری، فیض احمد فیض، قتیل شفائی، احمد ندیم قاسمی، احمد راہی، خالد احمد، عدیم ہاشمی، نور جہاں، نصرت ٹھاکر ، یاور حیات سمیت لاہور ریڈیو، ٹی وی اور ادبی منظر ناموں کا بھرپور تذکرہ رہا۔

بات چل نکلی تو چند ادبی معرکوں اور معاصرانہ چشمک کا بھی ذکر ہوا۔ حفیظ جالندھری سے کچھ مبتذل واقعات منسوب ہیں۔ معروف خطاط، مصور اور شاعر اسلم کمال نے اس امر سے ا ختلاف کرتے ہوئے وضاحت کی کہ حفیظ جالندھری کو قومی ترانے اور شاہنامہ اسلام کے خالق ہونے پر بہت فخر تھا۔ اگر کبھی ناشناسائی سے واسطہ پڑتا تو ناقدری کا گلہ بھی اکثر کر دیتے لیکن جس انداز میں ان سے منسوب کئی واقعات ہیں ، حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے۔ ان واقعات میں رنگ آمیزی اور انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کرنے میں ان کے ان معاصرین کا زیادہ ہاتھ رہا جو ایوب کے زمانے میں قائم ایک ادارے میں ان کے ماتحت یا رفیق کار تھے یا پھر دیگر احباب جو معاصرانہ چشمک کے اسیر تھے۔ یہ احباب بھی شعر و ادب میں معروف شناخت اور شہرت کے حامل تھے لیکن معاصرانہ چشمک اور وقتی ظرافت میں کئی ایسے واقعات غلط طور پر یا غلو کے ساتھ حفیظ جالندھری کی ذات سے منسلک کر دیئے گئے۔ اسلم کمال نے کم از کم دو ایسے واقعات کا ذکر کیا جس کی تصدیق انجمن ترقی اردو کے پروفیسر ظہیر بدر نے بھی کی اور پروفیسر ڈاکٹر نجیب جمال اور پروفیسر جمیل عدیل نے بھی کی۔

نور جہاں کی گائیکی کا ایک جہان معترف ہے۔ فلم نگری میں آواز کی ملکہ ترنم ہونے کے باوجود انہوں نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لئے بھی گایا اور بہت خوب گایا۔ ان کی نشر ہونے والی غزلیں آج بھی کانوں میں رس گھولتی ہیں۔ 65 کی جنگ کے دوران ان کے گائے ہوئے جنگی ترانوں نے فوج کے نوجوانوں کے حوصلے بھی بڑھائے اور سویلین آبادی کے بھی۔ نور جہاں اپنی ظاہری شکل و صورت کی درستگی اور پہناوے کی انفرادیت کا خاص خیال رکھتیں۔ ابصار عبد العلی نے ایک واقعے کا ذکر بھی کیا کہ کس طرح وہ گھر سے کم از کم تین چار ساڑھیاں لے کر آتیں، جو سیٹ ڈیزائن اور رنگ کی مناسبت سے بہترین لگتی ، وہی ساڑھی پہنتی تھیں۔ ان کی ایک منفرد خصوصیت یہ بھی تھی کہ فلم، ریڈیو اور ٹی وی کی دنیا جس میں بالعموم مردوں کا راج تھا ، نور جہاں نے اپنی مرضی کی زندگی بسر کی ، اپنے لئے ایک منفرد مقام بنایا اور اس کی آخر دم تک حفاظت کی۔ واقعات کی ایک جھڑی سی تھی جس میں حفیظ طاہر، افتخار مجاز، اسلم کمال اور ابصار عبدالعلی نے اپنے چشم دید واقعات سنائے۔ نور جہاں کے ہم تو ویسے ہی فین ہیں لیکن ان واقعات سننے کے بعد ان کی عزت دل میں مزید بڑھ گئی۔

وضاحتوں اور باتوں کے تذکرے کے بعد محفل میں پڑھے جانے والے چند اشعار پیش ہیں جو ہمارے عہد کے آئینہ دار ہیں۔ اسلم کمال نے جانے کس دھن اور عالم میں یہ اشعار کہے مگر آج کے عہد کی تصویر سی بن گئی:
سب ہوائیں سارے موسم بے اثر رہ جائیں گے
اب اگیں گے جو شجر وہ بے ثمر رہ جائیں گے
ہم کسی کے سامنے ہوں گے نہ ہونے کی طرح
دیکھ لینا ایک دن ہم اِس قدر رہ جائیں گے
حفیظ طاہر کا مضبوط حوا لہ ٹی وی پروڈکشن میں ان کا طویل کیرئیر ہے جس میں انہوں نے بچوں کے لئے عہد ساز ڈرامہ عینک والا جن تخلیق کیا تو دوسری طرف موسیقی کے لازوال پروگرام بھی پیش کئے۔ شاعر بھی اسی کمال کے ہیں:

کَلی تخلیق کرتا ہوں لبِ دلبر کی نرمی سے
پھر اس کی خوشبوؤں سے تتلیوں کے پَر بناتا ہوں
شفیق سلیمی کا محاورے کی طرح مشہور شعر سنئے:
بے نام دیاروں کا سفر کیسا لگا ہے
اب لوٹ کے آئے ہو تو گھر کیسا لگا ہے

روزمرہ کی زندگی کی کشاکش ، حالات کے جبر اور جینے کے لئے مسلسل کشٹ پر ظہیر بدر کے اشعار ملاحظہ ہوں:
اِک قرض رگِ جاں سے اترنے نہیں دیتا
اِک فرض مجھے حد سے گزرنے نہیں دیتا
رشتوں کی اذّیت مجھے جینے نہیں دیتی
رشتوں کا تقدس مجھے مرنے نہیں دیتا