ترکی کے شہر کیسری کی سیر

22 نومبر سے 26 نومبر تک کے چار روزہ ترکی کی سیر کرنے اور  اور وہاں اردو کے فروغ کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا جو دلچسپ اور اطمینان کا باعث رہا۔ برلن سے میں ترکش ائر ویز کے ذریعہ استنبول پہنچا اور اوسلو سے میرے دوست اور افسانہ نگار نگار فیصل نواز چوہدری بھی وہاں آگئے۔ استنبول سے کیسری ہوائی جہاز میں کیسی پہنچے۔  ہم ایک گھنٹہ دس منٹ میں کیسری شہر میں اترے۔

کیسری پہنچ کر ہم نے ٹیکسی پکڑی اور کیسری یونیورسٹی کے کیمپس میں واقع ہوٹل پہنچے۔ ٹیکسی والے سے مول تول کرنا چاہا تو اس نے اشارے کی زبان میں سمجھا یا کہ قریب قریب ساٹھ تلا۔۔۔ ترکی روپیہ لگے گا لیکن وہ میٹر کے مطابق ہی پیسے لے گا۔ اور ٹھیک 65 تلے میں ہم ہوٹل پہنچ گئے۔ یونیورسٹی کے داخلے کے گیٹ پر لگی روک کو کھلوانے کا واحد ذریعہ میرا موبائل فون تھا۔ جس میں سیئناتھ کا بھیجا ہوا واٹس ایپ پیغام تھا۔ جس میں ہوٹل کا نام و پتہ درج تھا۔ زبان نہ جاننے کے باوجود ہم نے دربان کو آسانی سے بتا دیا کہ ہم اس ہوٹل میں قیام کرنا چاہتے ہیں جو یونیورسٹی کے کیمپس کے اندرواقع ہے۔ چند لمحے بعد ہی ہم ہوٹل کے ریشپسن پر کھڑے تھے۔ تاہم ہوٹل کے عملے نے یہ بری خبر سنائی کہ ہم غلط ہوٹل پرآگئے ہیں۔ مگراس بری خبر کے ساتھ اچھی خبریہ تھی کہ ہم اس ہوٹل سے جہاں ہمارا کمرہ بک ہے صرف سومیٹر کے فاصلے پر کھڑے ہیں۔ جب ہوٹل کی ریسپشن پر متعین لڑکے نے مجھے بتایا کہ آپ کو سوکلومیٹرپیدل جانا ہوگا تو میری تو سٹی گم ہوگئی کہ اس اندھیری رات میں اور رات نہ بھی ہوتی تو ہم دن کے وقت بھی کیا اتنا فاصلہ طے کرسکتے۔ لیکن میں جان چکا تھا کہ اس لڑکے کی انگریزی خاصی کمزور ہے۔  اس بات کی تصدیق تب ہوگئی جب وہ کاؤنٹر سے اتر کر نیچے آیا اور ہمیں باہر آنے کا اشارہ کرتے ہوئے ہوٹل سے باہر نکل گیا۔ داخلے کے دروازے پر سے ہی اس نے ہمیں پاس ہی ایک اورروشن عمارت کی طرف اشارہ کرکے کہا آپ اس عمارت میں چلے جائیں۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا جناب یہ تو شائید صرف سو میٹر ہو۔ آپ نے تو سو کلومیٹر کا کہہ کر ہماری جان ہی نکال دی تھی۔ وہ تھوڑا خجل ہوا اور سوری کرکے اندر چلا گیا۔

ہوٹل تک کے راستے میں مجھے باربار یہ خیال آتا رہا کہ نہ معلوم یونیورسٹی کیمپس کے اندر واقع ہوٹل کیسا ہوگا۔ کہیں طلباء کے ہاسٹل جیسا نہ ہو۔  دوقدم ہی چلے تھے کہ سیئناتھ مل گئے اور پھر ان کی معیت میں جب ہم ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوئے تو دل باغ باغ ہوگیا۔ ہم ایک شاندار ہوٹل کے ایک خوبصورت اور جدید سہولیات سے مرصع کمرے میں کھڑے تھے۔ سیئناتھ ہم لوگوں کے لیے سینڈویچ اور پانی کا تھیلا میز پر رکھ کر چلے گئے۔ دوسری صبح  ڈٹ کر ناشتہ کیا اور اسی دوران سیئناتھ بھی پہنچ گئے۔

 کیسری شہرکاسراغ لگانے کونکلے توپتہ چلاکہ اس کے نشان رومیوں تک اورشائیداس بھی آگے جاملتے ہیں۔ کیسری شہرپہاڑوں کے دامن میں بسا ہواہے۔ دوپہاڑجن کے نام علی اوراریشیازمشہورہیں۔ اسی نام سے کیسری کی یونیورسٹی میں ساٹھ سترہزارطلبا و طالبات علم کی پیاس بجھانے آتے ہیں۔ شعبہ انڈین اسٹڈ یزمیں سیئناتھ اسسٹنٹ پرفیسرہیں۔ صبح نوبجے علی کچوکلر ڈین آف فیکلٹی آف آرٹس اور ہیڈ آف انڈولوجی سے  ملاقا ت طے تھی۔ وہ نہایت خند ہ پیشانی سے ملے۔ بات چیت رہی۔ ان سے میری ملاقات سال گزشتہ ایک کانفرنس میں ہوچکی تھی۔ ہم نے انہیں ایک چھوٹا سا چاکلیٹ کا ڈبہ پیش کیا جس پر وہ بہت خوش ہوئے۔ میری اور فیصل نواز کی کتابیں لے کر انہوں نے سیئناتھ سے کہا کہ وہ انہیں انڈولوجی ڈپارٹمنٹ میں رکھوانے کے لیے ان کا اندراج کروائیں۔ ان کے ساتھ بے تکلفی سے بات چیت ہوئی۔ پھراپنے کمرے سے باہر نکل کر وہ ہمیں چھوڑنے آئے تو سامنے ہی لائیبریری کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے اب آپ دونوں کی کتابیں ہماری اس لائیبریری کی زینت بنیں گی۔ علی اتنے سادہ دل انسان ہیں اور اتنے خلوص سے ملے کہ لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ اتنے بڑے عہدے پر فائز ہیں۔ ترقی پذیر ملکوں اور ترقی یافتہ ملکوں میں ایک بڑا فرق بڑے عہدیداروں کے رویے میں پوشیدہ ہوا کرتا ہے۔

علی سے رخصت ہو کر ہم لوگ جانان اردیمیرکے کمرے میں آگئے۔ ان خاتون سے بھی میں انطالیہ کی اردو کانفرنس میں مل چکا تھا۔ آپ بہ حیثیت ریسرچ اسسٹنٹ  انڈولوجی کے شعبے سے منسلک ہیں اور پریم چند کے افسانوں میں ناری کے کردارپرپی ایچ ڈی کررہی ہیں۔ ان کے کمر ے میں ایک اور خاتون ریسرچ اسکالر میہان سے بھی ملاقات ہوئی۔ جوریسرچ اسسٹنٹ آف چاپانی اسٹڈیزڈپارمنٹ ہیں۔ یونیورسٹی کی کینٹین میں کھانا کھانے کہ بعد چائے کا دور چلا اور سیئناتھ ہمیں لیکر کیسری کی دریافت کونکل کھڑے ہوئے۔ ٹیکسی پکڑکر کیسری میں سیدبرہان الدین کے مزارپرحاضری دینے سے سیرشروع ہوئی۔ آپ کا نام حسین تھا اور آپ ازبکستان سے سلجوقی دور میں آئے تھے آپ سید سرداربرحان الحق ودین حسین الترمیذی کے لقب سے مشہور ہیں۔ آپ مولاناجلال الدین رومی کے استاد ہیں۔ فاتحہ خوانی ہوئی اورپھر قریبی میوزے نامی میوزیم میں تانبے کے رومیوں کے دورکے ظروف ومرتبان وغیرہ مشاہد ے میں آئے۔ یہاں سے نکل کرایک بڑی اورقدیم جامع مسجد گئے  جس کا ترکی نام مہ پری ہانت ہتون کلیاسی ہے ۔ اس مسجد جس کے ساتھ مقبرے، مدرسہ اور ایک حمام کا کمپلکس بنا ہوا ہے۔ یہ سلجوقی سلطان علاؤالدین کیقباد کی بیگم کا عطیہ تھا جو انہوں نے 1237  میں تعمیر کروایا تھا اور انہی کے نام سے موسوم ہے۔  یہاں کافی دیرتک گرمی کھانے کے بعد باہرنکلے اورکیسری شہرمیں واقع دنیا کا اولین دماغی ہسپتال گئے جوکہ اب ایک میوزیم بنادیاگیا ہے۔ قدیم دورمیں علاج معالجے کے طریقے اورمختلف ماحول کے اثرات میں زیرعلاج رہنا نہ معلوم کیسارہاہوگا۔ تاہم صحت مند رہنا ہی سب سے اچھاہے کا تاثرلیے یہاں سے نکلے توکیسری گرینڈبازارپہنچے۔ قریبی چوک پراتاترک کا ایک بڑاسا ایستادہ مجسمے کیساتھ تصویریں لی گئیں اوربلاآخرشاپنگ مال پہنچ گئے۔ شاپنگ مال سے نکل کرٹرام پکڑکرہم لوگ یونیورسٹی کے احاطے میں واقع ہزریگلوہو ٹل واپس آگئے۔ سیئناتھ کی رہائش بھی صرف دوقدم کے فاصلے پرواقع ہے۔ ہوٹل میں کچھ دیرسستا کر ان کے گھر پہنچے۔  شام کے کھانے پران کی بیگم نے پرتکلف ہندستانی کھانوں سے میزسجارکھی تھی۔

کیسری بہت قدیم زمانے سے آباد شہر ہے۔ مگر اسے جدید دور سہولیات میسر ہیں۔ ایسا لگتا نہیں کہ یہ شہر کبھی تباہ وبرباد ہوا ہو۔ حالانکہ منگولوں نے بھی جب وہ یہاں آئے تو تباہی پھیلائی۔ یہ شہر اس کے ہمنام صوبے کا دارالحکومت بھی ہے جو کہ کپا دھوکیہ میں واقع ہے۔ کپادھوکیہ کی پہاڑیوں کے قدموں پر بسا یہ شہر صوبے کی ترقی کا مظہر ہے۔ تمام شہر میں گھوم پھر کر آپ یہ سوالات خود سے کر سکتے ہیں کہ اس شہر کے لوگ پھلوں کے چھلکے، پلاسٹک کی تھیلیاں اور دیگر کچرے کا کیا کرتے ہیں۔  کیا وہ انہیں کسی خفیہ جگہ لے جاکر دفن کر دیتے ہیں یا یہاں کی شہری انتظامیہ سارے کچرے  کو  اٹھا کر لے جاتی ہی۔ کچھ بھی ہو پورا شہر آئینے کی طرح صاف ستھرا چمک رہا تھا۔ یقیناً شہری انتظامیہ تو فعال ہوگی ہی مگر کیا لوگ بھی  مہذب نہیں کہ کچرے کو سڑکوں گلیوں میں  پھینکتے ہی نہیں۔