سماجی شعور سے محروم معاشرہ
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 03 / دسمبر / 2017
- 14263
کوئی بھی سماج سماجی سرمایہ کی بنیاد پر ہی آگے بڑھتا ہے ۔ آپ سماج میں جو رویے، مزاج ، طور طریقے، زبان، کلچرل، انداز وبیان، تہذیب، تمدن، تفریح، رہم سہن، تعمیرات کو فروغ دیتے ہیں وہ ہی معاشرہ کی عکاسی بھی کرتا ہے ۔ ماضی کے لوگوں سے پوچھیں تو وہ ماتم کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ سماج میں جو تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اس نے پورے معاشرتی کلچر کو ہی بدل دیا ہے ۔ یہ بات سچ ہے کہ معاشرہ اور اس کا کلچر یا تمدن بڑی تیزی سے بدل رہا ہے لیکن یہ بدلنا فطری امر ہوتا ہے ۔ مسئلہ بدلنے کا نہیں بلکہ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ جو کچھ تبدیل ہورہا ہے وہ اس سماج میں کیا مثبت یا منفی تبدیلیاں لانے کا سبب بنا ہے ۔
بنیادی طور پر سماج میں انفرادی یا اجتماعی سطح پر وہ ہی عناصر ترقی یا خوشحالی پیدا کرتے ہیں جو سماجی شعور رکھتے ہیں۔ سماجی آگاہی ایک طرف انسان کو اچھے یا برے کے بارے میں سماجی شعور دیتی ہے تو دوسری طرف اس فکر کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ اسے اپنی ذات کے ساتھ ساتھ معاشرہ کو بھی بدلنا ہے ۔ کیونکہ جو علم اور فہم انسان کو تبدیل کرنے میں محض اس کی ذات تک محدود کرتا ہے، وہ علم سماج کی ضرورت کے زمرے میں نہیں آتا ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ انسانی سماج میں فرد کی تبدیلی کا عمل فطری طور پر سماج کی تبدیلی کے ساتھ بھی جڑ ا ہوتا ہے۔ ایک نقطہ تعلیم اور تربیت کے درمیان باہمی تعلق کا ہوتا ہے ۔ اگر تعلیم میں سے تربیت کا عمل نکال دیا جائے تو تعلیم کردار سازی نہیں کرسکتی ۔ ایسی تعلیم سماج پر محض بوجھ ہوتی ہے ۔ پاکستانی معاشرہ میں جو تبدیلیاں تیزی سے رونما ہورہی ہیں کچھ تو فطری ہیں جو واقعی ماضی کے مقابلے میں تبدیل ہی ہونی تھی ۔ لیکن کچھ اہم تبدیلیوں کا عمل ہمارے رویہ یا طرز عمل و مزاج سے جڑا ہوا ہے ۔ پاکستانی معاشرہ مجموعی طور پر نہ صرف کمزوری کا شکار ہے بلکہ اس نے معاشرہ یا سماج کے بنیادی اصولوں کو بھی چیلنج کردیا ہے۔ مشرق اور مغرب میں بنیادی فرق یہ ہے کہ انسان سماج یا معاشرہ کو اپنا معاشرہ سمجھتا ہے اور اس کی اہمیت اس کے لیے گھر کی طرح ہی ہوتی ہے ۔ یہ عمل بنیادی طور پر معاشروں میں " Civic Education" یعنی سماجی تعلیم یا شعور پیدا کرتا ہے۔ لیکن پاکستانی معاشرے کی گھر سے باہر کے نظام یا مجموعی طور پر حکمرانی کے نظام پکا جائزہ لیں تو لگتا ہے کہ لوگ سماجی فہم یا ادارک سے محروم ہوگئے ہیں ۔
انسان کو ایک مشین یا اپنی ذات میں گھرا ہوا فرد بنا کر اس کو بس یہ ہی تعلیم دی جارہی ہے کہ اس کے لیے صرف اس کی ذات اہم ہے اور سماج کچھ نہیں ہوتا۔ اسے سماج کو بدلنے کی بجائے بس اپنے آپ کو بدلنا چاہیے اور اگر اس کا بدلنا سماجی اصولوں کے خلاف بھی ہو تو اس کی اسے کوئی فکر نہیں کرنی چاہیے۔ یہ وہ سوچ اور فکر ہے جس سے معاشرے بنتے نہیں بلکہ عملی طور پر بگاڑ کا شکار ہوتے ہیں ۔ آپ دیکھیں سڑک کیسے کراس کرنی ہے ، پیدل کیسے چلنا، صفائی کا نظام ، پارکوں میں موجود پھولوں کی دیکھ بھال، جانوروں سے محبت، کمزوروں کی حمایت اور مدد کرنے جذبہ، سرکاری املاک کی حفاظت کرنا ، قانون کی پاسداری کرنا ، اپنی باری کا انتظار کرنا ، گندگی نہ پھیلانا ، ٹریفک قوانین کا احترام ، ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آنا ، اپنے گھر ، علاقہ ، محلہ اور ملک کی بہتری کے لیے کام کرنا ، رضاکارانہ کام کا شوق پیدا کرنا ، پیدل چلنے والوں کو راستہ دینا ، بڑے اور چھوٹوں کے درمیان فرق کو قائم رکھنا ، عورتوں ، بچیوں سے محبت اور شفقت سے پیش آنا ، تفریح کرنے کا انداز، تنقید اور تضحیک کے درمیان فرق کو سمجھنا ، والدین کی اطاعت، استاد کا احترام جیسے کئی اہم پہلو ہیں جو بنیادی طور پر ہر سماج کا حسن ہوتے ہیں۔ لیکن ہم اس سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔
یہ دلیل دی جاتی ہے کہ سماجی شعور کو طاقت فراہم کرنے میں چند بڑے عوامل کارفرما ہوتے ہیں ۔ ان میں اول گھر کا ماحو ل، دوئم والدین کی تربیت، سوئم سکول اور استاد کا کردار، چہارم علمائے کرام ، پنجم سیاسی قیادت و لیڈر ششم اہل دانش جیسے طبقات ہوتے ہیں جو سماجی شعورکی بیداری کو آگے لے جانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ۔ لیکن یہ عمل محض سیاسی وسماجی دعوؤں ، تقریروں اور واعظ سے آگے نہیں بڑھتا۔ ہمارا مسئلہ طبقاتی اور انسانی شخصیت میں موجود تضادات کا مجموعہ ہے جو نئی نسل کے لیے رول ماڈل نہیں۔ جب بڑے خود سماجی اصولوں پر عمل نہیں کریں گے تو نئی نسل کیسے کرے گی ۔ اب تو بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ کیا واقعی عملی طور پر اچھے ماڈل یعنی والدین ، استاد، دانشور، علمائے کرام اور سیاست دان وغیرہ قابل رشک کردار کے حامل ہیں تو جواب عمومی طور پر نفی میں ملتا ہے۔ معاشرے میں اچھے لوگوں کو پزیرائی نہیں ملتی۔ ہمارا گھریلو، خاندانی ، تعلیمی ، سماجی اور سیاسی نظام اخلاقیات سے ختم ہوتا جارہا ہے۔ ہم یہ سمجھانے میں ناکام ہوگئے ہیں یا یہ اب ہماری کسی بھی طرح کی ترجیحات کا حصہ نہیں کہ اول لوگوں کا سماج کی تشکیل میں کیا کردار ہے اور دوئم سماج کچھ نہیں ہوتا بس انسان کی ذات سب کچھ ہوتی ہے۔ اسی سوچ اور فکر نے ہمیں سماجی شعور سے دور بھی کردیا ہے ۔ لوگ سیاسی نظام میں بہتری یا جمہوری عمل کی مضبوطی کے لئے ووٹ دیتے ہیں لیکن اب زیادہ تر ووٹ ڈالنے کا عمل برادری ، مذہبی، لسانی، فرقہ وارانہ ، شخصیت پرستی ، دھونس، لالچ، پیسہ کی بنیاد پر ہوتا ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں منتخب ہونے والے افراد یا حکومتیں وہ کچھ نہیں کرتیں جو ہماری حقیقی ضرورت ہے ۔
آپ مذہبی عناصر کو دیکھ لیں ہر وقت مذہب کی باتیں تو بڑی شدت سے کرتے ہیں لیکن انسانوں کو سماج کی تبدیلی میں کیا کردار کرنا چاہیے اور ان کا اپنا کیا کردار ہونا چاہیے، پر کوئی بات چیت نہیں ۔ مذہبی علمائے کرام کے تضادات نے اس معاشرے کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اس کی فوری تلافی ممکن نہیں ۔ اب آپ لوگوں کو قائل کریں کہ آپ غلط ہیں یا جو کچھ کررہے ہیں اس سے سماج کو فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہوگا ، تو اس کا جواب ہوتا ہے کہ آپ کو کیا مسئلہ ہے ۔ ہم انفرادی رویوں کے مسائل کو سماج کے مسائل سے جوڑکر معاملات کو سمجھنے کا عملی فہم کھوچکے ہیں ۔ آپ آپنے اردگرد ٹریفک کو دیکھیں تو معاشرتی افراتفری کا اندازہ ہوتا ہے۔ ہم ہر کام میں جلدی کرنے کا مزاج رکھتے ہیں جو معاشرے کی بے ترتیبی کو اجاگر کرتا ہے ۔ ایک وجہ ہمارے حکمران اور بالادست طبقات کی ناکامی ہے ۔ اس طبقہ نے لوگوں کی سوچ، فکر کو اس حد تک بگاڑ دیا ہے کہ بعض اوقات لگتا ہے کہ ہم اپنی اصلاح کا عمل کہاں سے اور کیسے شروع کریں ۔ والدین کو گلہ ہے کہ بچے اور بچیاں ان سے تہذیب سے بات نہیں کرتے ، ان کا ادب نہیں کرتے یا ان کا حکم نہیں مانتے ۔ ایسا ہی گلہ اب استادوں کو بھی اپنے طالب علموں سے ہے ۔ لیکن کوئی یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ بچے اور بچیوں کو اپنے والدین ، استاد اور لیڈروں سے بھی بہت سے شکوے ہیں ۔ جب ہم ہر بات کو دھونس ، ڈرا دھمکا کر اور تشدد کے ساتھ لوگوں پر مسلط کریں گے تو وہ بھی اپنے سے چھوٹوں کے ساتھ وہی کچھ کریں گے جو آج آپ ان کے ساتھ کررہے ہیں ۔ اس لیے اس بڑے طبقات کو اپنا بھی احتساب کرنا چاہیے ۔
المیہ یہ ہے کہ یہاں جو سیاسی تحریکیں چلتی ہیں اس کا مقصد محض اقتدار کی سیاست ہے۔ اس میں سے اصلاحی اور سماجی تحریکیں ختم ہوکر رہ گئی ہیں۔ جو معاشرہ اپنے اندر سماجی اور اصلاحی تحریکوں کو مضبوط بناتا ہے ، قائم کرتا ہے او راس کے ساتھ خود بھی جڑتا ہے اور دوسروں کو بھی ترغیب دیتا ہے کہ ہمیں ایسا کچھ کرنا ہے کہ سماج میں اچھے انسان، اچھے معاشرے کے طور پر زندہ رہ سکیں ، وہی سماج ترقی بھی کرتا ہے اور اپنی ہر سطح پر اچھی ساکھ کو بھی منواتا ہے ۔ یہ ہی ہمارا ایجنڈا ہونا چاہیے جو اس وقت سماج کی بہتری میں کنجی کی حیثیت رکھتا ہے ۔