پیر حمید الدین سیالوی اور بریلوی سیاست
- تحریر محمدعامرحسینی
- سوموار 04 / دسمبر / 2017
- 9354
تحریک لبیک یارسول اللہ اور پاکستان سنّی تحریک کے اشتراک سے ختم نبوت کی شق کے انتخابی حلف نامے میں مبینہ ترمیم کے تنازعے پہ اسلام آباد میں دیا جانے والا دھرنا مسلم لیگ نواز کی وفاقی حکومت کی طرف سے آئی ایس آئی کی ثالثی کے ذریعے سے ختم کرلیا گیا۔ فوجی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ آئی ایس آئی، رینجرز کو کردار ادا کرنے کو وزیر اعظم خاقان عباسی نے کہا تھا۔ اسلام آباد کا دھرنا تو اپنے اختتام کو پہنچ گیا لیکن لاہور میں موجود دھرنا تحریک لبیک یارسول اللہ کے رہنما ڈاکٹر محمد اشرف جلالی کی قیادت میں جاری و ساری رہا ۔
ڈاکٹر اشرف جلالی کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر قانون کے استعفے سے بات نہیں بنے گی۔ وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ کو بھی مستعفی ہونا پڑے گا۔ ختم نبوت کے ایشو پہ جاری اس کشاکش میں ایک نیا عنصر داخل ہوا ہے ۔ یہ سرگودھا میں سیال شریف کی طاقتور روحانی گدی کے سجادہ نشین پیر حمید الدین سیالوی ہیں۔ جھنگ سے ایم این اے شیخ محمد اکرم نے جیو نیوز ٹی وی کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ سرگودھا ڈویژن سے مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے 14 ارکان اسمبلی نے اپنے استعفے پیر حمید الدین سیالوی کے پاس جمع کردایئے ہیں اور اس کا سبب ختم نبوت کے ایشو پہ موجودہ حکومت کی پالیسی ہے ۔ پنجاب حکومت کے ترجمان زعیم قادری نے پیر حمید الدین سیالوی سے رابطہ کیا تو انہوں نے پنجاب حکومت کو تین دن کی ڈیڈ لائن دی ہے اور کہا کہ اگر اس دوران صوبائی وزیرقانون رانا ثنائاللہ کا استعفا نہ آیا تو وہ اپنے مریدین کے ساتھ لاہور کی طرف مارچ کریں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ختم نبوت کے سلسلے میں پنجاب حکومت کی سنجیدگی کا ثبوت صرف اس وقت ملے گا جب رانا ثناء اللہ کا استعفا سامنے آئے گا۔ ایسے ہی وہاڑی سے تعلق رکھنے والے پاکستان مسلم لیگ نواز کے ایم این اے چودھری طاہر اقبال نے بھی پارلیمانی سیکرٹری شپ چھوڑنے اور اپنی نشست سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے ۔ چشتیاں سے چودھری طاہر بشیر چیمہ، عالم داد لالیکا اور اصغر شاہ آزاد نے بھی مسلم لیگ نواز کو خیرباد کہنے کا اعلان کیا ہے ۔ وہاڑی اور چشتیاں سے مسلم لیگ نواز کے ارکان اسمبلی کی مسلم لیگ نواز کو چھوڑ دینے کی وجوہات بارے معلوم ہوا ہے کہ وہاں کی تاجر تنظیموں، بریلوی علمائے کرام، پیر حضرات اور بااثر شخصیات نے ان ارکان پہ واضح کیا تھا کہ اگر انہوں نے مسلم لیگ نواز سے وابستگی برقرار رکھی تو ان کی آنے والے انتخابات میں بھی ڈٹ کر مخالفت کی جائے گی۔
سنّی بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علما و مشائخ کی سیاست پاکستان بننے کے بعد پنجاب کے جن علاقوں میں اپنا پارلیمانی اثر رکھتی تھی ان میں سرگودھا ڈویژن سر فہرست تھا جبکہ ملتان ڈویژن میں
بھی یہ کافی مضبوط تھی۔ بریلوی علماء و مشائخ کی سیاست کی نمائندگی جمعیت علمائے پاکستان کرتی تھی۔ سرگودھا ڈویژن میں پیر قمرالدین سیالوی کے والد پیر حمید الدین سیالوی کا سیاست پہ زبردست ہولڈ قائم ہوگیا تھا۔ ان کی قیادت میں جمعیت علمائے پاکستان نے 70 میں قومی اسمبلی کی سات نشستوں پہ کامیابی حاصل کی تھی۔ اسّی کی دہائی میں پنجاب میں بریلوی سیاست اس وقت زوال پذیری کی طرف بڑھی جب جمعیت علمائے پاکستان کے اندر شکست و ریخت کے آثار نظر آئے ۔ جے یو پی کے اس وقت کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی اس کا الزام ڈکٹیٹر جنرل محمد ضیاء الحق کو دیا کرتے تھے ، کیونکہ اینٹی بھٹو اتحاد میں جے یو پی واحد پارٹی تھی جس نے اول دن سے جنرل ضیاء الحق کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کردیا تھا۔ جمعیت اسلام پاکستان کو سب سے پہلے تو جھٹکا اس وقت لگا جب کراچی سے حنیف طیب، مولانا شفیع اوکاڑوی، فیصل آباد سے عبدالمصطفی رضوی نے جے یو پی سے اپنی راہیں جدا کر لیں۔ ان کے ساتھ ساتھ سیال شریف، شرقپور شریف سمیت پنجاب سے کئی پیر گھرانے جے یو پی سے الگ ہوگئے اور یہ اس وقت کی ابھرتے ہوئے نوجوان سیاست دان نواز شریف کے ساتھ ہوگئے ۔ 90 میں جے یو پی مزید کمزور ہوئی، مولانا عبدالستار نیازی، صاحبزادہ فضل کریم (حامد رضا رضوی کے والد) جے یو پی سے الگ ہوگئے ۔ ایک وقت وہ آیا کہ جے یو پی کے تین سے چار دھڑے بن گئے ۔ اگرچہ بعد ازاں ان دھڑوں میں اتحاد بھی ہوا اور کئی بار بریلوی تنظیموں کو اکٹھا کرنے کی کوشش ہوئی لیکن سب ناکام ہو ئیں۔ پنجاب کی سیاست میں تحریک لبیک یارسول اللہ پارٹی کا جنم سنّی بریلوی فرقے کے علماء و مشائخ کی روایتی سیاست کے احیا کا پیش خیمہ بتایا جارہا ہے۔ اہلسنت کی 28 مختلف سیاسی و مذہبی تنظیموں نے مل کر ایک پلیٹ فارم بھی تشکیل دیا ہے جس میں ابھی تک تحریک لبیک یارسول اللہ شامل نہیں ہے۔ پاکستان عوامی تحریک کو تو اس میں شمولیت کی دعوت ہی نہیں دی گئی۔
پیر حمید الدین سیالوی نے جس طرح 14 ایم این اے ، ایم پی ایز کی طاقت کو اپنے پاس جمع کیا ہے ، اس نے بریلوی علماء و مشائخ کی سیاست میں نئی روح پھونک دی ہے ۔ بریلویوں کی مذہبی طاقت کے سیاسی طاقت میں بدلاؤ اور اظہار کا سب سے حیران کن عنصر یہ ہے کہ اس نے مسلم لیگ نواز کے اندر نواز شریف کے استعفے کے بعد نہ ہونے والی افراتفری کو ٹوٹ پھوٹ میں بدل کر رکھ دیا ہے ۔ مسلم لیگ نواز کی پارلیمانی سیاست کو پنجاب کے اندر جو دھچکے لگے ہیں، اس بارے مسلم لیگ نواز کے حامی تجزیہ کار اور اس سیاست کو اسٹیبلشمنٹ بمقابلہ جمہوری سیاست دان بنا کر دکھانے والے صحافیوں نے تو سازشی مفروضوں کو پھیلانا شروع کیا ہوا ہے ۔ نواز شریف کو ایک اینٹی اسٹبلشمنٹ آئیکون بناکر دکھانے کے شائق پاکستانی لبرل صحافیوں اور تجزیہ کاروں کا ایک بڑا سیکشن پنجاب میں سنّی بریلوی علما و مشائخ کی سیاست کے احیا کو اسٹیبلشمنٹ کی سازش اور منصوبہ بناکر پیش کررہا ہے ، جیسے یہ سیکشن پاکستان تحریک انصاف کو بھی اسٹیبلشمنٹ کی برین چائلڈ کے سوا کچھ اور خیال نہیں کرتا۔ سنّی بریلوی فرقے کے مولوی اور پیروں کی سیاست میں دوبارہ سے اپنے کردار کو منوانے کی یہ کوشش اسٹبلشمنٹ کی تخلیق نہیں ہے بلکہ اس میں ریاست اور خود میاں محمد نواز شریف اور شہباز شریف کی سیاسی پالیسیوں کا بڑا ہاتھ ہے ۔
مسلم لیگ نواز کے ساتھ 80 اور 90 کی دہائیوں میں جو بریلوی علماء اور پیر ملے تھے ان کو بتدریج شریف برادران کی جانب سے نظر انداز کرنے ، پنجاب اور وفاق کے اندر ان کے حریف دیوبندی اور اہلحدیث فرقوں کے مولویوں کو زیادہ اہمیت دینے کی شکایت پیدا ہونا شروع ہوگئی تھی۔ 2008 میں پنجاب میں مسلم لیگ نواز کی حکومت آنے کے بعد حکومت نے سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت سے اتحاد بنایا اور پنجاب کے اندر رانا ثنا اللہ کو ڈی فیکٹو وزیر اعلیٰ بنادیا گیا۔ رانا ثناء اللہ کے دیوبندی فرقے کے ریڈیکل عناصر کی طرف جھکاؤ اور شہباز شریف کی جانب سے دیوبندی اور سلفی عسکریت پسندوں کو رعایت فراہم کیے جانے سے سنّی بریلوی مسلک کے اندر کافی تناؤ پیدا ہوا۔ اسی دوران داتا دربار سمیت کئی مزارات پہ دیوبندی طالبان نے خودکش بم دھماکے کیے اور ڈاکٹر سرفراز نعیمی سمیت کئی سنّی بریلوی علما و مشائخ خودکش بم دھماکوں اور قاتلانہ حملوں میں مارے گئے ۔ صاحبزادہ فضل کریم نے مسلم لیگ کی پنجاب حکومت کے جن وزرا پہ کالعدم دہشت گرد تنظیموں سے روابط اور تعلقات کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں نکالنے کا مطالبہ شریف برادران کے سامنے رکھا تھا، ان میں رانا ثنااللہ کے استعفے کا مطالبہ بھی سرفہرست تھا۔ شریف برادران نے ان مطالبات پہ کان نہ دھرا تو فضل کریم مسلم لیگ نواز سے نہ صرف الگ ہوئے بلکہ انہوں نے سنّی اتحاد کونسل کے نام سے ایک اتحاد قائم کیا اور اسی اتحاد کے تحت وہ الیکشن میں گئے ، جس دوران ان کی موت ہوگئی۔ مسلم لیگ نواز کی پنجاب حکومت اور وفاق میں آنے والی حکومت کے دیوبندی و اہلحدیث عسکریت پسندوں اور فرقہ پرست تنظیموں سے تعلقات اور ان کو نوازنے کے خلاف بریلوی کمیونٹی کے اندر پائی جانے والی بے چینی نے سب سے پہلے پاکستان عوامی تحریک کے ڈاکٹر طاہر القادری اور سنّی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حامد رضا کو پنجاب میں نمایاں کیا تو اب خادم رضوی، ڈاکٹر اشرف جلالی اور پیر حمید الدین سیالوی ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ ملتان سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر صاحبزادہ حامد سعید کاظمی اور ان کے بھائی اور بریلویوں کی نمائندہ مذہبی تنظیم جماعت اہلسنت کے امیر مظہر سعید کاظمی پہلے ہی مسلم لیگ نواز کے خلاف سرگرم ہیں۔
مظہر سعید کاظمی کی جماعت کا اکثر سنّی بریلوی مساجد اور مدارس پہ کنٹرول ہے ۔
بریلوی علما اور پیر صاحبان کی بڑی تعداد پنجاب کی سیاست میں مسلم لیگ نواز کی مخالف سمت میں سفر کررہی ہے ۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ پیر حمید الدین سیالوی کے زیر اثر 14 لیگی ارکان اسمبلی کی اگلی منزل کونسی سی سیاسی جماعت ہوگی۔ لیکن یہ طے کہ بریلوی علما اور پیر پنجاب کی سیاست میں کسی بھی مین سٹریم سیاسی جماعت کو سنّی بریلوی کمیونٹی کی خواہشات کو نظر انداز کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ شہباز شریف کی سیاست کے امتحان کا وقت بھی آن پہنچا ہے ۔ بریلوی علما اور پیر، شہباز شریف کی جانب سے اپنی کچن کابینہ سے ان لوگوں کو دور کرنے پہ ہی کوئی بات کرنے پہ راضی ہوں گے جن کو دیوبندی فرقے کے اندر پائی جانے والی جہادی، فرقہ پرست تکفیری عسکریت پسندی کی سرپرستی کرنے والا بتایا جاتا ہے۔ اب تک دیکھا یہ گیا ہے کہ شہباز شریف نے رانا ثنا اللہ کو تمام تر دباؤ اور تناؤ کے باوجود اپنے سے دور نہیں کیا۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے نتیجے میں وہ بظاہر وزرات سے الگ کیے گئے تھے لیکن پھر بھی وہ ڈی فیکٹو چیف منسٹر کے طور پہ ہی کام کرتے رہے ہیں اور آج بھی کر رہے ہیں۔
اب اور کتنا عرصے وہ اپنے عہدے پر رہتے ہیں اس کا فیصلہ کچھ دن میں ہو جائے گا۔