سیاہ منگل کو ہونے والا سیاہ فیصلہ
- تحریر انجینئر افتخار چودھری
- جمعرات 07 / دسمبر / 2017
- 3899
اسے بلیک ٹیوز ڈے black tuseday کہئے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس میں منتقل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی صدر دنیا کو وہ آرڈر دکھا کر چلا گیا۔ اس شخص کے پیچھے کون تھا اور کیوں یہ فیصلہ کیا گیا جو اسی کی دہائی سے معلق تھا۔ اس لئے وقت آ گیا ہے کہ طیب اردگان اسلامی کانفرنس کا انعقاد کر کے امت مسلمہ کے خوابیدہ ضمیر کو جگائیں۔ یہ ایک انتہائی غلط فیصلہ پے جسے اسلامی ملکوں کے علاوہ پوری انصاف پسند دنیا مسترد کر دے گی۔
یہ سقوط سقوط ڈھاکہ کی طرح ایک اور صدمہ ہے۔ یہ تھا نیو ورلڈ آرڈر جس کے بارے میں جارج بش نے اقدامات شروع کئے تھے۔ آج کی اسلامی دنیا انتہائی کمزور ہے۔ آج ہم ایک بھیڑ بکریوں کا ریوڑ بن چکے ہیں ہم زندہ رہنے کے لئے موت کے خریدار بنے ہوئے ہیں۔ مجھے دلی دکھ ہوا ہے۔ مشرق وسطی کے حلات ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت خراب کئے جا رہے ہیں۔ امریکی صدر نے آج جو بیج بویا ہے اس سے بم اگیں گے، دنیا غیر محفوظ ہو جائے گی۔ یہ فلسطینی عوام سے نہیں ساری دنیا کے امن پسندوں کے ساتھ ظلم ہوا ہے ۔ وہ لوگ جو آنے والی نسلوں کو امن کا ترکہ دینے چاہتے تھے آج ان کے لئے کوئی دیوار گریہ کا بند وبست کیا جائے۔ زیتون کی شاخ کی بجائے آج امریکی صدر ان کے ہاتھ میں گرنیڈ دے گئے ہیں۔ یہ لوگ خود بھی مریں گے اور ساری دنیا کو بھی خوف و وحژت میں مبتلا کر دیں گے۔ کیا ایسی دنیا کا خواب دیکھا تھا ہمارے پرکھوں نے۔ اس سے فلسطینی بری طرح متاثر ہوں گے آخر ان کا دیس ہے۔ ہم نے کب کہا ہے کہ یہودی امن سے نہ رہیں مگر یہ کیسا امن ہے جس کے لئے باقی لوگ بد امنی کا شکار ہو جائیں۔
مجھے کہنے دیجئے یہ ایک سیاہ منگل کا روز ہے۔ آج دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ بات صرف تل ایبیب سے بیت المقدس میں امریکی سفارت خانہ منتقلی کی نہیں۔ یہ ایک اصول کا معاملہ ہے۔ یہ انصاف اور ناانصافی کے بیچ فیصلہ ہے۔ دنیا کے 57 السامی ملک سوائے احتجاج کے کچھ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ ایٹمی اسلامی ملک پاکستان سوائے مذمت کے کیا کرے گا کچھ نہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو مستحکم کیا ہے اور فلسطینیوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ ایسے وقت جب مسلم امۃ ذلیل و خوار ہو رہی ہے کیا یہ بات ہمارے لیڈران کو سمجھ آ رہی ہے۔ مصر میں مرسی کی حکومت کا خاتمہ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی اور سعودی عرب کے اوپر یمن کے حوثی لوگ ایک خوف بن ا کر بٹھا دیئے گئے۔ آج ڈونلڈ کا تلوار ڈانس سمجھ میں آ گیا ہو گا۔
مسلمانوں کو کمزور اور مجبور کردیا گیا ہے۔ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینا سیاہ فیصلہ ہے۔