خطے کی بدلتی صورتحال میں پاکستان کے لئے مشکلات

  • تحریر
  • جمعہ 08 / دسمبر / 2017
  • 2844

گزشتہ ہفتے بھی حسبِ معمول خبروں کا ریلا اپنے زوروں پر رہا۔ پشاور میں ایک بار پھر دہشت گردی کی واردات میں نو قیمتی جانیں گئیں اور 37 زخمی ہوئے۔ سیاسی درجہ ء حرارت اس قدر کھول رہا ہے کہ اِدھر اس واقعے میں خونِ ناحق کے دھبے دھلے اُدھر کارزارِ سیاست میں وہی ہنگامے پھر سے شروع ہو گئے ۔ پنجاب کے وزیرِ قانون کے استعفیٰ پر اصرار اپنے اگلے مرحلے کی طرف گامزن ہے۔ عدالت کے حکم پر ماڈل ٹاؤن کمیشن کی رپورٹ پبلک کر دی گئی ہے ۔ اب اس میں ہر فریق اپنے مطلب کا مطلب نکالنے پر مصر ہے۔

پیپلز پارٹی اپنی گولڈن جوبلی پر شاداں و فرحاں ہے تو پی ٹی آئی کے سربراہ دھڑا دھڑ اپنے جلسوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ احتساب عدالت میں حاضری اور عدم حاضری کے مراحل بھی جاری و ساری ہیں۔ ایسی پھڑکتی ہوئی خبروں کے ہنگامے میں امریکی وزیرِ دفاع ایک روزہ دورے پر آئے اور چلے بھی گئے۔  امریکی وزیرِ دفاع کی آمد سے قبل یہ قیاس آرائیاں میڈیا کی زینت بنیں کہ وہ اگست میں صدر ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کے تسلسل میں پاکستان کو سخت پیغام دیں گے۔ ان کی آمد سے قبل پشاور میں ہونے والے دہشت گرد واقعے نے البتہ پاکستان کے اس موقف کو مزید تقویت دی کہ پاکستان خود شدید دہشت گردی کا شکار ہے۔ امریکہ کی افغانستان میں امن کی خواہش بجا لیکن امن پاکستان کا بھی حق اور خواہش ہے۔ جس آسانی سے سرحد پار در انداز دہشت گردوں نے پشاور میں واردات کی، وہ اس امر کا ثبوت تھا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں اور پاکستان دشمنی کے لئے استعمال ہو رہی ہیں۔

افغانستان میں سیکیورٹی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر ڈو مور کا مطا لبہ کم و بیش ہر امریکی حکومت کا ایک مستقل پالیسی بیانیہ رہا ہے۔ اگست میں صد ر ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی پر پاکستان نے حقیقت پسندانہ موقف اپنایا کہ کہ اب ڈومور کی باری امریکہ کی ہے بلکہ افغانستان کی بھی ہے ۔ اس بار امریکی وزیرِ دفاع ایک روزہ دورے پر آئے تو ڈومور کی بجائے ایک اور بیانیہ لے کر آئے ، پاکستان دہشت گردوں کے خلاف اپنی کوششوں کو مزید دوہرا کر دے یعنی Redouble ۔ جنرل میٹیز نے تو بظاہر سفارتی رکھ رکھاؤ کے ساتھ بات کی لیکن ان کی آمد سے قبل سی آئی اے کے حالیہ اور ایک سابق چیف نے جو باتیں کیں ان میں رکھ کھاؤ نام کو نہ تھا بلکہ ایک طرح سے سیدھا سیدھا الزام تراشی اور اپنی بے بسی کا رونا تھا۔ گزشتہ ہفتے امریکی ریاست کیلی فورنیا میں ریگن نیشنل ڈیفنس فورم میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیک پومپیو ( Mike Pompeo) سے سوال کیا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کس طرح پاکستان کو اپنی نئی افغان پالیسی پر آمادہ کرے گی۔ موصوف نے جواب دیا کہ پہلے تو ہم انہیں تعاون کرنے کے لئے کہیں گے۔ جنرل میٹیز اگلے ہفتے پاکستان کو صدر ٹرمپ کی ترجیحات صاف صاف بتا دیں گے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔ امریکہ کی خواہش ہے کہ پاکستان ان ٹھکانوں کو ختم کردے کیونکہ ان کی وجہ سے امریکہ افغانستان میں جو کامیابیاں حاصل کرنا چاہتا تھا ، حاصل نہ کر سکا۔ اس کے بعد موصوف کا ارشاد یہ تھا کہ پاکستان نے اگر یہ ٹھکانے ختم نہ کئے تو امریکہ کے بس جو بھی ہو سکا ، وہ ان ٹھکانوں کو ختم کرنے کے لئے کر ے گا۔

امریکہ کی طرف سے 2004 سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے کئے جاتے رہے ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں سے میڈیا میں یہ رپورٹس گردش کر رہی ہیں کہ پاکستان سے حسبِ خواہش تعاون نہ ملنے پر ٹرمپ انتطامیہ ڈرون حملوں کا سلسلہ پاکستان کے اندر دیگر علاقوں تک پھیلا سکتی ہے۔ اس پسِ منظر میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر کی جانب سے اپنے مقاصد کے لئے یہ انتہائی طریقہ اختیار کرنے کا عزم آنے والوں دنوں کا ایک خوفناک  اشارہ ہے۔ پاکستان کے بارے میں اس جھنجھلاہٹ میں یہ موصوف اکیلے ہی نہ تھے ، اسی فورم میں ان کے پیش رو لیون پینیٹا ، جو صدر باراک اوبامہ کے دور میں سی آئی اے کے سر براہ تھے ، نے بھی پاکستان کے بارے میں انتہائی سخت موقف اختیا ر کیا۔ لیون پینیٹا نے کہا کہ پاکستان ہمارے لئے ہمیشہ ہی سے ایک درد سر رہا ہے۔ یہاں افغانستان حکومت مخالف دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں رہی ہیں جہاں یہ لوگ افغانستان میں حملے کرکے واپس آ جاتے ہیں۔ ہم نے اپنے دور میں پاکستان کو ان کاروائیوں کے روکنے کی بہت کوششیں کیں لیکن پاکستان نے ہمیشہ دہشت گردی کی بابت دو دھاری پالیسی اپنائے رکھی ۔ ایک طرف تو وہ اپنے ملک میں دہشت گرد حملے نہیں چاہتے لیکن دوسری طرف وہ افغانستان اور انڈیا سے معاملات طے کرنے میں دہشت گردی کو ایک Leverage یعنی ایک شکایت کے طور پر بھی سامنے رکھ دیتے ہیں۔ ان کے بقول ہمارے پورے دور میں پاکستان کی یہی پالیسی رہی، اسی لئے پاکستان ہمارے لئے ایک مستقل سوالیہ نشان رہا ہے۔ اب دیکھئے جنرل میٹیز اور نئے سی آئی اے چیف پاکستان کو اپنے موقف پر قائل کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے یا نہیں۔ اس پر تقریب کی نظامت کرنے والے نے پلٹ کر مائیک پومپیو سے پوچھا کہ آیا پاکستان کی اپروچ میں کچھ تبدیلی آئی ہے یا نہیں۔ مائیک پومپیو کا جواب تھا کہ اب تک تو نہیں آئی !

اس پسِ منظر میں امریکی وزیر دفاع کی نپی تلی گفتگو کے تہہ دار مطلب اورڈھکے چھپے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں ممکنہ ردِ عمل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں امریکی وزیر خارجہ نے دہشت گردی سے افغانستان کے علاوہ  ‘دیگر‘ ملکوں کا بھی ذکر کیا ، جس کا لا محالہ مطلب بھارت ہی تھا۔ اسی  دیگر ملک بھارت نے گزشتہ ہفتے ایران کے ساتھ چاہ بہار بندرگاہ کے توسیعی منصوبے کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ پاکستان کے شپنگ کے وزیر میر حاصل بزنجو بھی اس تقریب میں شامل ہوئے جس میں ایرانی صدر نے چاہ بہار پورٹ کی گنجائش کو تین گنا بڑھانے کے لئے ایک ارب ڈالر کے منصوبے کا افتتاح کیا۔ بھارت اس منصوبے کے لئے پہلے ہی 235 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اس مجوزہ توسیع سے اس بندرگاہ کی گنجائش ساڑھے آٹھ ملین ٹن سالانہ تک بڑھ سکے گی۔  یہ منصوبہ 2003 میں سوچا گیا۔ اس پر عمل درآمد کے بعد اس میں سوا لاکھ ٹن خشک وزن کے جہازلنگر انداز ہو سکیں گے۔

افغانستان پاکستان کا اہم اور بڑا ٹریڈ پارٹنر ہے۔ سمندری راستوں تک براہ راست رسائی نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ اس کا راہداری کا معاہدہ ہے۔ حالیہ سالوں میں سرحد کے دونوں طرف امن و امان کے مسائل کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت بار بار معطل ہوئی۔ افغانستان کی عرصے سے کوشش ہے کہ اسے پاکستان کے علاوہ بھی کوئی متبادل زمینی راستہ دستیاب ہو سکے۔ واہگہ سے افغانستان تک راہداری کے لئے پاکستان کے انکار کی وجہ سے بھارت بھی کوشاں ہے کہ افغانستان اور وسطی ایشیاء کے لئے کوئی متبادل راستہ ڈھونڈا جائے۔ چاہ بہار انہی کوششوں کا ثمر ہے۔ گو ایرانی صدر نے افتتاحی تقریر میں کہا کہ ایران تعمیری مسابقت میں یقین رکھتا ہے ، اس لئے دیگر علاقائی پورٹس سے مقابلے کا تاثر درست نہیں لیکن حالات چغلی کھا رہے ہیں کہ یہ تمام ممالک نئے راستوں کی تلاش پر متحد اور کوشاں ہیں۔  افغانستان اور پاکستان کے درمیان کچھ عرصے سے تعلقات میں تناؤ ہے، باہمی الزامات کا سلسلہ بھی رہا ہے۔ پاکستان کو گلہ ہے کہ سرحد پار سے دہشت گرد پاکستان میں کاروائیاں کرنے سے باز نہیں آتے جبکہ کابل حکومت ان کی حوصلہ شکنی کرنے پر بھی آمادہ نہیں۔ اشرف غنی کے صدر بننے کے کچھ عرصہ بعد تک دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں گرم جوشی رہی لیکن رفتہ رفتہ افغان صدر اشرف غنی کا لب و لہجہ ان کے شریک حکومت عبداللہ عبداللہ جیسا ہو چکا ہے، الزامات، شک اور گلے۔

امریکہ کی نئی افغان پالیسی میں بھارت کے ممکنہ کردار اور افغانستان کے ساتھ بھارت کی کئی سالوں سے بڑھتی قربتیں اب ایک نئے اتحاد کو جنم دے رہی ہیں جس میں افغانستان، ایران اور بھارت اپنے اپنے مقاصد کے لئے قریب ہو رہے ہیں۔ ایسے میں افغانستان میں جاری گوریلا جنگ میں امریکی ناکامی کا پاکستان پر ملبہ بیانئے کی حد سے آگے جانے کے خدشات بھی ہیں۔ اس صورتحال سے بھارت، ایران اور افغانستان اپنے اپنے انداز میں فائدہ اٹھانے کے لئے کوشاں ہیں۔ اس پسِ منظر میں آنے والے دن علاقائی سیکیورٹی کے حوالے سے بہت مشکل اور پیچیدہ دکھائی دے رہے ہیں۔