ٹرمپ کا دھماکہ خیز اعلان اور امت مسلمہ کی تقسیم
- تحریر افتخار بھٹہ
- جمعہ 08 / دسمبر / 2017
- 5717
امریکی صد ر ٹرمپ نے اپنے اتحادی اور حامی عرب ممالک کی تنقید اور مخالفت کے باوجود یورو شلم کو اسرائیل کا دار الحکومت تسلیم کرنے اور وہاں پر مستقل امریکی سفارتخانہ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس نے اپنی انتخابی مہم کے دوران سفارتحانہ تل ابیب سے یورو شلم منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ کے بقول امریکی کانگریس نے 22سال پہلے 1995میں مکمل اتفاق رائے سے فیصلہ کیا تھا کہ تل ابیب سے دار الحکومت منتقل کیا جائے گا۔ ہر امریکی صدر چھ ماہ بعد اس عمل کو موخر کرنے کیلئے آرڈر پر دستخط کرتا رہا ہے۔ ٹرمپ سے پہلے صدور اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہے مگر ٹرمپ نے وعدہ پورا کر دیا۔
عالمی برادری اس بات پر متفق ہے کہ مذاکرات کے ذریعے امن کا مستقل حل تلاش کیا جائے اور یورو شلم کے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائے۔ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان یورو شلم کے متعلق کوئی فیصلہ کرنا علاقائی عمل کیلئے تباہ کن اور امن کے قیام کے تمام امکانات ختم ہو جائیں گے ۔ 2014 میں سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے مشن کی ناکامی کے بعد امن منصوبہ مکمل ناکام ہو چکا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان صلح کے حوالے سے کوئی مذاکرات نہیں شروع ہوئے ہیں۔ ٹرمپ نے تل ابیب سے سفارت خانہ منتقل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بعض ماہرین کے نزدیک ٹرمپ صدارتی انتخابات کے دوران روس سے خفیہ سازش کے پھندے میں پھنس گیا تھا اور مواخذہ کے بادل چھا رہے تھے۔ اس لیے یورو شلم کے مسئلے پر ہنگامہ کھڑا کرکے بلا کو سر سے ٹالنے کی کوشش کی ہے۔ یوروشلم کو دار الحکومت بنانے کا یہودیوں کا مطالبہ تھا۔ ان کی تنظیموں نے ٹرمپ کی انتخابی مہم کیلئے پندرہ ملین ڈالر خرچ کئے تھے۔ اس نے انتخابات سے قبل اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان صلح کا ایسا فارمولہ پیش کرے گا جسے تمام سابق صدور پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ مگر اس معاملہ کی تہ تک پہنچنے کیلئے ایک سال کا عرصہ لگا ۔ صدر ٹرمپ کے مشیر اور یہودی داماد جارڈ کوشنر نے اس ضمن میں سعودی عرب اور امریکہ کے کئی دورے کیے اور سعودی ولی عہد شہزاد ہ محمد بن سلیمان سے بات چیت کی۔
ان دوروں کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ امریکہ یورو شلم کو اسرائیل کا دار الحکومت تسلیم کرے گا ، اس کے عوض امریکہ فلسطین کی مملکت کو تسلیم کرنے پر امادہ ہو جائے گا۔ لیکن مشرقی یورو شلم کو فسلطین کا قومی دار الحکومت تسلیم نہیں کیا جائے گا جبکہ اقوام متحدہ کی قراد داد کے مطابق یورو شلم تین مذاہب اسلام، عسائیت اور یہودیت کا مشترکہ شہر مانا جائے گا۔ اسرائیلی نشریاتی ذرائع کے مطابق فلسطین کی سر زمین پر تعمیر شدہ یہودی بستیوں کو ختم نہیں کیا جائے گا۔ اس منصوبہ کے تحت اسرائیل کی سیکیورٹی کی خاطر ان یہودی بستیوں کے قانونی جواز کو تسلیم کرے گا۔ اسرائیل کے دفاع کی خاطر دریائے اردن کے کنارے تک اسرائیلی فوج تعینات کی جائے گی بلکہ اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کے مطابق فلسطینی علاقے میں سیکیورٹی کنٹرول اسرائیل کے پاس ہونا چاہیے۔ اگر یہ مطالبہ تسلیم کر لیا جائے اس صورت میں فلسطینی ریاست کی خود مختاری آزادی اور حاکمیت بے معنی ہو جائے گی۔ معلوم ہوا ہے کہ سعودی ولی عہد اپنے عرب اتحادیوں سے اس منصوبہ کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ عام خیال ہے امریکہ اپنی غیر جانبدارانہ حیثیت کو کھو بیٹھا ہے۔ اسرائیل نے 1967کی جنگ کے دوران عرب علاقوں پر قبضہ کیا تھا۔ غیر قانونی بستیاں بنا کر دو لاکھ یہودیوں کو آباد کرکے اس کا نقشہ عملی طور پر تبدیل کر کے اس کو اسرائیل میں شامل کر لیا ۔
1967 سے پہلے یورو شلم اردن کے زیر اثر تھا ۔ اس وقت فلسطینوں کی آبادی تین لاکھ تھی اب یہودیوں کے برابر ہو گئی ہے۔ یورپ کے بارے میں ٹرمپ کے اعلان کا اہم پہلو یہ بھی ہے امریکہ کے اناجیل عیسائی یورو شلم کو اسرائیل کا دار الحکومت بنانے کے حامی ہیں کیونکہ ان کے قائد کے مطابق اسرائیل قیام اللہ تعالیٰ کا معجزہ ہے اور اسرائیل کی بقا اسی سے وابستہ ہے۔ اس عقیدہ سے تعلق رکھنے والے عیسائیوں نے ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن اور وزیر دفاع جنرل میتھز سفارتی اور سیاسی مضمرات کی وجہ سے اس انتہائی قدم کے حق میں نہیں تھے ۔ بروکنگ انسٹیٹیوٹ کے سروے کے مطابق 63فیصد عوام اس اقدام کے خلاف ہیں۔ ٹرمپ یہ اعلان کرتے وقت یہ بھول گیا تھا کہ اس کے فیصلے کے خلاف کس قدر غم و غصے کا اظہار ہو سکتا ہے۔ حماس نے اس کے خلاف تحریک چلانے کیلئے انتفادہ کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ تاریخی بات ہے کہ جب فلسطینوں کا گھیراؤ کر لیا جائے تو زخمی شیر کی طرح جھپٹتے ہیں۔ 30سال قبل انتفادہ میں فلسطینوں کی تحریک کے دوران1962فلسطینی شہید ہوئے اور1277اسرائیل فوجی اور افسر ہلاک ہوئے۔ پچھلے دنوں جب مسجد اقصیٰ میں جمعہ کی نماز کیلئے جانے والے راستوں کو بند کیا گیا تو فلسطینوں کے احتجاج کے بعد رکاوٹوں کو ہٹانا پڑا۔ اس جمعہ 8دسمبر کو انتفادہ کی سالگرہ ہے۔ اس کا کیا ردعمل ہوتا ہے اس کے بارے میں قیاس کیا جا سکتا ہے۔
27نومبر کو سعودی دار الحکومت ریاض میں ہونے والی اسلامی کانفرنس کے سربراہ کیا ٹرمپ کے اقدام کو روکنے کیلئے کچھ کر سکیں گے۔ یا اسلامی کانفرنس صرف اشک بہا نے کے ساتھ صرف مذمتی قرار داد ہی منظور کرے گی۔ اس وقت ہمیں عالم اسلام انتشار سے دو چار دکھائی دیتا ہے۔ علاقہ میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان سرد جنگ اور خطے میں پراکسی لڑائیاں شدت اختیار کرچکی ہیں۔ مسلمان ممالک میں قیادت کا فقدان ہے۔ شاہ فیصل ذوالفقار علی بھٹو کرنل قذافی ، حافظ الاسد اور صدام جیسی قوم پرست اور سامراج مخالف کوئی قیادت موجود نہیں ہے۔ بد قسمتی سے یہ تمام قیادتیں سامراجی سازشوں کی بھینٹ چڑھ گئی ہیں۔ شام عراق اور لیبیا تباہ کر دیئے گئے ہیں۔ ایران اور سعودی عرب علاقائی بالا دستی کے حصول کیلئے یمن کو میدان جنگ بنائے ہوئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں امن کا خواب ٹرمپ کے اقدام سے مزید دھندلا گیا ہے۔ ایسی صورتحال جس میں تمام عالم اسلام بالخصوص مشرق وسطیٰ کے ممالک باہمی تضاد سے دو چار اور دست و گریباں ہیں۔
امریکہ کے موجودہ اقدامات کی کس طرح مزاحمت کی جا سکتی ہے۔ اسرائیل مردہ باد اور امریکہ مردہ باد کے نعرے تو لگائے جا سکتے ہیں لیکن صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے پہلے فسلطینی عرب خود تو آپس میں اتحاد و اتفاق کر لیں۔ بر صورت ٹرمپ کے دھماکہ خیز اعلان نے فلسطینوں کی آزاد مملکت کے دار الحکومت کی صورت دیکھنے کی تمنا اور خواہش کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب امریکہ اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کے تمام امکانات ختم ہو چکے ہیں۔ ماضی قریب میں امریکہ نے اپنے مقاصد کے اہداف کیلئے کہیں پر داعش بنائی جس کو مضبوط کرنے میں ہمارے بعض اسلامی ممالک نے حصہ ڈالا۔ اب داعش کا تو عراق اور شام میں خاتمہ ہو چکا ہے مگر اس کے جنگجو ارد گرد کے ملکوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔ امریکہ مشرق وسطی میں اپنے اہداف کو مکمل کرنے کے قریب ہے۔ جبکہ افغانستان اور پاکستان میں ابھی ہمیں مزید چیلنجوں کا سامنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو آفات اور مشکلات سے محفوظ رکھے۔