جمہوریت کو کوئی نیا نام دیں!

دنیا بادشاہت سے بہت اچھی طرح سے واقف ہے اور بادشاہ یا ملکہ بننے کی خواہش ہردل کے کسی نہ کسی پنہاں گوشے میں دبکی بیٹھی رہتی ہے۔ بادشاہت میں طاقت کا منبع ایک فرد اوراس کا خاندان ہوتاہے۔ دنیا نے ترقی کے ساتھ ساتھ اس خاندانی حکمرانی سے جان چھڑا لی ۔ آج چند ممالک کے علاوہ بادشاہت صرف محلات یا ایک مہر تک محدود کر دی گئی ہے۔

بادشاہت کی ایک شاخ فوجی حکمرانوں کی صورت میں بھی ابھر کر آئی جسے آمریت کا نام دیا گیا۔ اس نظام کو چلانے کیلئے فوج کا جنرل ہی ملک کا سربراہ ہوتا ہے ۔ ایسی مثالیں اکیسویں صدی تک دیکھی جاتی رہیں۔ اسلام سے قبل بادشاہت ہی تھی مگر مذہب اور مذہبی پیشوا کا کردار کلیدی ہوا کرتا تھا۔ یعنی کلیسا بہت طاقتور تھا ۔ اسلام نے دنیا کو ایک نیا نظام حکومت دیا۔  جسے حقیقی جمہوری طرز حکومت بھی کہا جاسکتا ہے۔ جس میں علم ، ذہانت اور کردار کی بنیاد پر حکمران چنے جاتے ہیں اور دنیا اسے خلافت کے نام سے جانتی ہے۔  لیکن انسانیت کے دشمنوں کو یہ بات کہاں گوارا ہوسکتی تھی کہ حاکم اور محکوم کا فرق ختم ہوجائے۔

سادہ لفظوں میں جمہوریت عوام اپنے حکمران ووٹوں کی مدد سے خود چنیں۔ بظاہر تو یہ بات بہت بھلی معلوم ہوتی ہے کہ عوام بہتر سمجھتے ہیں کہ ان کے مسائل کون اچھی طرح سمجھتا ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ ان مسائل سے کس طرح سے نمٹا جائے گا۔ یہ معاملہ وہاں تک تو ٹھیک ہے جہاں وسائل کی دستیابی اور ان کی تقسیم کا عمل واضح اور یکساں ہو۔ جہاں کسی علاقے یا صوبے کے حقوق مسخ نہ کئے جائیں، جہاں مردم شماری جیسی اہم معلومات کو اپنی مرضی سے مرتب نہ کیا جائے، جہاں عدل و انصاف کیا جاتا ہو۔ وہاں تو جمہورت اپنی اصل روح کے ساتھ نافذ العمل کی جاسکتی ہے۔ جمہوری طرز حکومت کو بہت فروغ ملا کیوں کہ اس میں عوام کو حکمران چننے کا حق حاصل ہوتا ہے ۔  یہ نظام خلافت کے برعکس ہے۔ کیوں کہ اس میں ہر فرد کو ووٹ کا حق مل جاتا ہے۔

جمہوریت میں صدارتی نظام  بھی ہوتا  ہے۔ اس کی ایک مثال  امریکہ میں نافذ العمل ہے۔ اس بات پر دنیا کے بڑے بڑے قانون دان، اسکالر ز، فلاسفرز اور حکمران اس بات کی گواہی دے چکے ہیں کہ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو دنیا کو مشکلات سے نکال سکتا ہے۔ دنیا کو راہ راست پر لانے کیلئے جو کردار نظام خلافت نے ادا کیا دنیا آج بھی اس کی معترف ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے آج بھی خلافتِ راشدہ کی طرز پر اپنی حکومتی پالیسیاں مرتب دے رکھی ہیں اور سب سے بڑھ حضرت عمر فاروقؓ کے قوانین آج بھی نافذ العمل ہیں۔ دنیا آج بھی عمرؓ کے قوانین کی معترف ہے۔

یہ طے ہے کہ جب تک آپ کسی بھی نظام کا اطلاق مکمل طور پر نہیں کریں گے وہ نظام کامیاب ہو نہیں سکتا۔  جب نظام اپنی اصل حالت میں نافذ نہیں ہوسکتا تو پھر اس نظام سے حاصل ہونے والے فائدے بھی عارضی ہوتے ہیں۔ پاکستان میں آمریت کا دور دورہ رہا ہے اور جمہوریت  اس ملک میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے سے قاصر رہی ہے ۔ ہماری سیاسی جماعتوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کا حصہ ہمیشہ سے بہت اہم رہا ہے۔ یہ وہ جماعت ہے جو کسی حد تک تو جمہوریت کی روح سے آشنا ہے مگر عمل داری نہ ہونے کی وجہ سے بارہا زبوں حالی کا شکار رہی ہے۔ اس جماعت کے سربراہ  ذوالفقار علی بھٹو  کی صورت میں پاکستان کو عرصہ دراز کے بعد ایک ذہین ، بہادر اور نڈر سیاستدان میسر آیا تھا۔ اور وہ جانتے تھے کہ ملک کو درپیش سنگین مسائل سے نکالنے کیلئے ملک کی آبادی کی اکثریت کو اپنی طرف کرنا ہوگا۔  اور یہ اس اکثریت کی ضرورت تھی (جو آج بھی ہے) روٹی ، کپڑا اور مکان۔  یہ وہ تاریخی نعرہ ہے جو بھٹوصاحب نے پیپلز پارٹی کو بطور دل اور دماغ دیا اور اس نعرہ کی بنیاد پر اس جماعت نے  اپنی جڑیں عوام میں زیادہ مضبوط کر رکھی ہیں۔

اس کے باوجود پاکستان میں تمام سیاسی پارٹیوں نے ووٹ حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا ضروری سمجھا اور اچھی اقدار کو بھلا دیا گیا۔ جمہوری رویے ذاتی مفادات کی نذر ہو گئے۔ پاکستان میں ووٹ لینے کیلئے  دوسرے سیاستدانوں کی کردار کشی کی جاتی ہے۔  دنیا نے ترقی کی منازل طے کرلیں لیکن ہم جموہری سفر بھی اختیار نہیں کرسکے حالانکہ ہمارے پاس اسلامی نظام کی صورت میں بہترین رہنما اصول موجود تھے۔ جو جمہوریت ہم نے اس وقت اختیار کی ہوئی ہے ، وہ نہ تو اسلامی خلافت ہے اور نہ مغربی جمہوری طریقہ، اس لئے بہتر ہے اس کا کوئی نیا نام تلاش کیا جائے۔