میاں رضا ربانی کا نغمہ بیدارئ جمہور
- تحریر پروفیسر فتح محمد ملک
- ہفتہ 09 / دسمبر / 2017
- 4418
میاں رضا ربانی کے افسانوں کے پہلے مجموعے Invisible People سے اکتسابِ فیض کے دوران میر تقی میر کا درج ذیل شعرمیرے دل کے دروازے پر مسلسل اور متواتر دستک دیتا رہا:
شعر میرے ہیں گو کہ خاص پسند
گفتگو پر مجھے عوام سے ہے
میاں رضا ربانی نے جس جذب و جنوں کے ساتھ بے کس و بے نوا خلقِ خدا کے مصائب و مشکلات پر دل سوزی اور دردمندی کا چلن اپنایا ہے، وہ عصری اردو افسانے میں نادر و نایاب ہے۔ جب سے صدر جنرل ضیاء الحق کے دورِ آمریت میں آزادئ اظہارپر پہرے بٹھا دیئے گئے تھے تب سے اردو فکشن نے حقیقت نگاری کی بجائے علامت و تجرید کا فن اپنا لیا تھا۔
ہر چند وہ دورِ آمریت رفت گزشت ہو چکا ہے تاہم ہمارا افسانہ نگار اب تک زندگی کے بدنما حقائق سے انقلابی انداز میں پنجہ آزمائی سے گریزاں ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میں رضا ربانی کے افسانوں میں خاک نشینوں کے مقدر کی دل سوز عکاسی پر میر تقی میر کوبے ساختہ پکار اُٹھا ہوں۔ کاش عوام سے یہ گفتگو عوام ہی کی زبان میں ہوتی ۔ یہ کہانیاں غریب اور مظلوم خلقِ خدا کے درد و درماں کی تلاش و جستجوکا ثمر ہیں۔ کتاب کا آغاز اعترافات Confessions سے ہوتا ہے۔ یہاں میاں رضا ربانی اپنے قاری کو تین پرندوں سے متعلق اپنے مشاہدات میں شریک کرتے ہیں۔ یہ پرندے ہیں ، مینا، کبوتر اور عقاب۔ یہ تین کے تین پرندے کتاب کے اس مختصر ابتدائیے میں انتہائی معنی خیز استعاروں کا روپ دھار لیتے ہیں۔ یہ پرندے خیر وشر کی کشمکش کی علامت بن جاتے ہیں جس نے ہمیں اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور جس کے افہام و تفہیم اور جس سے نجات کی تمنا میں میں رضا ربانی اپنی سیاسی اور ادبی زندگی میں جہد آزما ہیں۔ عملی سیاست کے خارزار میں بھی وہ ہمیشہ عینیت پسندی کے طلسم میں اسیر رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ سیماب وار تڑپتے پھڑکتے رہنا اُن کا مقدر بن کر رہ گیا ہے۔ اپنی اس تحریر کے اختتامی حصے میں اُنہوں نے بند کمرے کے درودیوار سے ٹکراتی پھڑپھڑاتی ہوئی مینا کو اپنی پریشان خیالی کا استعارہ قرار دیا ہے۔ یہ مینا نہیں وہ خیال ہے جو جذب و جنوں میں رقصاں درویش کی مانند اُن کے بے چین دل و دماغ میں لپٹتا ، جھپٹتا، جھپٹ کر پلٹتا پھرتا ہے۔ اسی طرح کبوتر پر عقاب کی لپٹ جھپٹ دراصل فرعون صفت رؤسا کی افتادگانِ خاک کاخون بہاتے رہنے کی فطرتِ ثانیہ کی تمثیل ہے۔
پہلی کہانی Impressioned Law میں اس بھانک حقیقت کو بے نقاب کیا گیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں قانون جرائم پیشہ افراد کی قید میں ہے۔ اس کہانی کا مرکزی کردار ایک ایسی بڑھیا ہے جو ایک مدت انصاف کی تلاش میں سرگرداں رہنے کے بعد اپنے حواس کھو بیٹھی ہے۔ وہ اپنے گم شدہ بیٹے کی تلاش میں ماری ماری پھر رہی ہے۔ وہ جس شخص کو بھی دیکھتی ہے اُس کے سامنے فریاد کرنے لگتی ہے: ’’میں ماں ہوں قانون امیر اور طاقتور کا ہے۔ مجھے نہ قانون ملا نہ مجسٹریٹ ملا۔‘‘ یہ بڑھیا ہر طرف سے مایوس ہو کربالآخر اپنا مقدمہ اللہ کی عدالت میں لے جاتی ہے۔ The Flowers of Dust کا مریض پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہسپتال میں بیٹھا ہے مگر علاج کو ترس رہا ہے۔ امیر کے لیے ایک قانون اور غریب کے لیے دوسرا۔پولیس جرائم کے انسداد کی بجائے مجرموں کی سرپرست ہے۔ ایسے میں سکولوں سے گھروں کو واپس لوٹتے ہوئے بچے اغوا کر لیے جاتے ہیں اور پھر پولیس ہی کی سرپرستی میں جرائم کی دنیا کے کارندے بن جاتے ہیں۔ ان بدنما حقائق کے تجربات اور مشاہدات اس کہانی کی ایک کردار سکینہ کا شوہر یہ سوال اُٹھانے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ہم اپنے ٹوٹے ہوئے خوابوں کے ریزے کب تک چُن چُن کر جمع کرنے میں مصروف رہیں گے۔ سکینہ کے بیمار شوہر کو علاج مکمل کرنے سے بہت پہلے ہی ہسپتال سے ڈسچارج کردیا جاتا ہے تاکہ اُس کا بستر ایک بااثر مریض کو دیا جا سکے۔
افسانہ بعنوان A dead man walks میں جیل کی زندگی کی حقیقت افروز عکاسی کی گئی ہے۔ یہاں بھی زندگی جرائم پیشہ عناصر کی گرفت میں پڑی سسکتی ہے، یہاں بھی ڈرگ مافیا اور دیگر جرائم پیشہ افراد کی حکمرانی ہے۔ افسانہ Pigeons ایک ایسے معاشرے کی تصویر ہے جہاں زندگی اہلِ شر کے گھر کی کنیز ہے۔جہاں عام آدمی روز افزوں مصائب اور حکمران طبقہ بے انتہا حرص و ہوس میں مبتلا ہے۔ Camelot was not to Be کی مرکزی کردارسحر کی ایسی بیٹی ہے جسے اس کا باپ ایک نودولتیے تاجرکے ہاتھ بیچ دیتا ہے مگر بیٹی اسے اپنا رفیقِ حیات ماننے پر مرجانے کو ترجیح دیتی ہے۔ وہ مر جاتی ہے مگر اس کے ہاتھ نہیں آتی۔ یہ غریب و غیورخاتون ابن الوقتی اور ضمیر فروشی کے خلاف بغاوت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے موت کے گلے میں باہیں ڈال دیتی ہے اور یوں ہوس کار نودولتیے کی اس کے ساتھ وصل کی تمنا حسرت بن کر رہ جاتی ہے۔
میاں رضا ربانی کا ادبی مزاج اور سیاسی عمل ایک دوسرے کے تکمیلی جزو ہیں۔ اُن کے ہاں سیاسی آئیڈیلزم اور ادبی و فکری عینیت پسندی کچھ اس طرح سے یک دِگر آمیز ہے کہ ایک کو دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا ایک ثبوت پاکستان میں واقفیت کی اہمیت پر ان کی انگریزی تصنیف ہے۔ پاکستان کی آئینی تاریخ کا یہ تنقیدی جائزہ سیاست سے شروع ہو کر ادب پر تمام ہوتا ہے۔ یہاں سیاست ادب کے آئینے میں منعکس ہے تو ادب سیاست کی تفسیر و تعبیر کی کلید ہے۔ یہاں عوام کے حقِ حکمرانی کی تمناؤں کی صورت گری سعادت حسن منٹو اور کرشن چندر کے افسانوں کی سیاسی رمزیت کو اجاگر کرتی چلی جاتی ہے۔ کاش ہم یہ نغمۂ بیدارئ جمہور زبانِ غیر کی بجائے اپنی قومی زبان میں سُنتے!