شناخت کا سوال اور فکری ابہام
- تحریر افتخار بھٹہ
- ہفتہ 09 / دسمبر / 2017
- 4220
پاکستان کے قیام کے فوراً بعد ہی سے ایک متفقہ شناخت کو سوچے سمجھے طریقے سے پر اسراریت کا جامہ پہناکر مشکلات کو دعوت دی گئی۔ تمام کثیر القومیتی اور کثیر الثقافتی کمیونٹیوں، نیز رنگا رنگ ریاستی اکائیوں کے مابین یکجہتی پیدا کرنے کا کام سر انجام دینے کی کوششش کی گئی ہے جن سب سے مل کر پاکستان بنا ہے۔ اس دو قومی نظریے کے ذریعے جس نے تقسیم ہند سے قبل علیحدہ خطہ حاصل کرنے میں بنیاد ی کردار ادا کیا تھا، ریاستی آقاؤں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش بھی کی۔ ہمارے بانی راہنماؤں نے مستقبل کے اثرات و نتایج زیر غور لائے بغیر ہی گو ناں گوں مسائل کا جواب اس سادہ ترین حل میں تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔
اس ابہام اور مخمصے کی صورتحال موجودہ وقت اثرات دکھا رہی ہے۔ کبھی تو یہ عظمت رفتہ یا ایک مفروضہ سنہرے ماضی کی صورت میں جلوہ گر ہ ہوتی ہے۔ یا پوری دنیا کو اپنا باج گزار دینے کی خواہش کی شکل میں اس کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ سوچ دشمنوں کو جنم دیتی ہے ۔ عام نوجوانوں کو گمراہ کرتی ہے۔ اور شناخت کا معاملہ ایک سنگین بحران کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ باوجود کہ ملک کو وجود میں آئے ہوئے 70 برس بیت چکے ہیں۔ پاکستانی نوجوانوں کی بڑی تعداد اپنی مٹی کے ساتھ اپنی نسبت جوڑنے کی بجائے مذہب کو اپنی اولین شناخت قرار دیتی ہے۔ اب ان جذبات کا اظہار گاڑیوں کے رجسٹریشن پلیٹ کے اوپر الباکستان لکھوا کر کیا جاتا ہے۔ اس میں جہاد افغاستان کے پس منظر میں عالمی ضرورت کے تحت ابھاری ہوئی سوچ کا عمل دخل ہے۔ جہاں پر شناخت کے حوالہ سے ہم مختلف گروہوں اور فرقوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ چند افراد روداری سیکولرزم اور انسان اقدار معاشی اور سماجی انصاف کے حوالہ سے بارود کے دھماکوں سے اٹی ہوئی فضا میں بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسری طرف اکثریت کے مائنڈ سیٹ جن میں ہماری اعلیٰ قیادت بھی شامل ہے مصلحت پسندی حاوی ہے۔ ہمارے اندر کا دشمن اپنے مطالبات کو منوانے کیلئے دھمکیاں پر اترآیا ہے۔
اس پیش منظر اور پس منظر میں اقتدار کے اہم ستونوں کے درمیان شخصیت اور ادارہ جاتی سوچ سے بالا تر ہو کر مکالمہ موجود نہیں۔ پاکستانی سانچے کو اپنی فکری شناخت میں ڈھالنے کے خواہشمند، بم دھماکوں کی شکل میں ریاست پر دباؤ بڑھانے جار ہے ہیں۔ آخر شناخت کے حوالہ سے فالٹ اور تضادات کا معاملہ کیا ہے ہم نے اس کی وجوہات تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ موجودہ انتشار اور بد امنی کی وجوہات جنرل ضیاء الحق کی آمریت یا پھر ذوالفقار علی بھٹو کے مذہبی طبقات کی خوشنودی حاصل کرنے جیسے اقدامات میں تلاش کرنا ایک بے سود کاوش رہے گی۔ یہ جڑیں ہماری اُس ثقافت کے انتخاب کے شعوری فیصلے میں ملتی ہیں جسے ہم اپنی شناخت قرا دینے پر مصر ہیں۔ یہ تصور بجائے خود بہت گمراہ کن ہے۔کہ ثقافت کو اپنی مٹی سے ورثے میں حاصل کرنے سے عاری ہیں۔ ہم یہ انتخاب کر کے پٹری سے اتر گئے ہیں اور آج ہمیں اس کا نتیجہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ نظریاتی فکر اندازی کی یہ جدو جہد ایسے ثقافتی عناصر کو گلے لگانے کی راہیں کھولتی ہے جو یہاں کی مٹی کیلئے یکسر اجنبی ہیں۔ یا پھر یہاں کے قدیمی اور مقامی حقائق اور تجربات سے بالکل متضاد ہے۔
قومی شناخت اپنے آپ کو کسی مذہب حتیٰ کہ ایسے ڈھیلے ڈھالے اخلاقی معیارات سے منسلک نہیں کرے گی جو حقیقی وجود اور عملی زندگی کے تقاضوں کی اہمیت کی نفی کرتے ہیں۔ بلکہ اس کی بنیاد جغرافیائی وجود اور قومی سلامتی کے تصور پر رکھے گی۔ قومی شناخت اپنے اغراض و مقاصد کے ضمن میں مذہبی شناخت کے بالکل بر عکس اس مادی اور زمینی دنیا اور اس کے تقاضوں کو مرکزی اہمیت دے گی۔ ثقافت اور نظریاتی اساس کی تعمیر کے عمل کے دوران اس فرق کو ملحوظ خاطر نہ رکھنے کے نتیجہ میں ایک ایسی قوم وجود میں آئے گی جو عملاً تو اپنے آپ کو جدید ریاستی نظام سے منسلک رکھتی ہے لیکن اپنے نظریات کے ذریعہ اس کو مسترد کرتی ہے۔ قومی شناخت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ ریاست اور معاشرہ سیکولر ہونا چاہیے۔ یہ آفاقی اصولوں پر کار بند ہو۔ معروضی صورتحال میں ہم لوگ کوئی حقیقی شناخت رکھنے کے دعویٰ سے دور ہو چکے ہیں۔ ایک بنیادی اور مضبوط تر قومی شناخت کا تعین ایسا معاملہ ہے جسے قومی تراجیحات میں سر فہرست ہونا چاہیے۔ اس کا درست تعین تنازعات اور انتشار کا ازالہ کرنے میں مدد دے گا۔
مختصر یہ کہ ایک ہندو ، مسیحی، سکھ یا مسلمان ہونے سے پہلے پاکستانی ہونا سب سے اہم ہے۔ ہمیں قومی شناخت کے حوالے سے ریاست کی بنیا یں فراہم کرنے کی ضرورت ہے جو نہ صرف معاشرے کو مساویانہ بنیاد پر زندگی گزرانے کی راہ کی طرف لے جائیں بلکہ ہمارے وسیع تر بین الاقوامی طرز عمل کا از سر نو تعین کرے۔ ملک کی بڑی بڑی سیاسی جماعتیں مختلف ایشوز کے حوالے سے ملک میں موجود مذہبی پریشر گروپس کے سامنے سرنگوں ہیں۔ اس سے محسوس ہوتا ہے ہمارا قومی بیانیہ کمزور ہو رہا ہے۔ یہ ہماری ریاست کیلئے ہر گز صحت مند نہیں ہے۔