نظام میں اصلاح کی بجائے بجٹ کی سیاست نقصان دہ ہے
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 10 / دسمبر / 2017
- 4211
کسی بھی جمہوری سیاست اصلاحات اہم ہوتی ہیں۔ سیاسی حکومتیں جمہوری پلیٹ فارم سے معاشرے میں حقیقی تبدیلیوں کے لئے اقدامات کرتی ہیں۔ جمہوری معاشروں میں بڑے انقلاب نہیں آتے ، بلکہ انقلاب کی بجائے سیاسی طبقات اصلاحات کی مدد سے آگے بڑھتے ہیں ۔ جمہوری سیاست میں اصلاحات کا عمل کنجی کی حیثیت رکھتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہم اصلاحا ت کی سیاست کو طاقت فراہم نہیں کرسکے ۔ اگر اصلاحات کی سیاست میں عوام اہم نہ ہوں اوراس کی جگہ افراد یا خاندان کے مفادات بن جائیں تو پھر اصلاحات کے ایجنڈے کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عوام ، ریاست، حکومت اور اس کے اداروں کے درمیان ایک بڑی خلیج پیدا بنتی جارہی ہے جو اس ملک کے مفادات کے خلاف ہے ۔
ایسا نہیں کہ یہاں اصلاحات کا عمل نہیں ہے، یہ عمل کسی نہ کسی شکل میں جاری رہتا ہے ۔ لیکن اس حوالے سے کئی اہم مسائل ہیں جو ہمیں کسی بڑی کامیابی سے روکنے کا سبب بنتی ہے ۔ اول اصلاحات میں عوام کو بنیاد بنانے کی بجائے ایک مخصوص طبقہ کے مفادات کو تقویت دی جاتی ہے ۔ دوئم اصلاحات داخلی اور خارجی دباؤ پر کر تو دی جاتی ہے لیکن اس پر ہماری ریاست، حکومت اور اداروں کی سیاسی، انتظامی اور قانونی کمٹمنٹ کمزور ہوتی ہے۔ سوئم اصلاحات کو ایک باقاعدہ سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ اس کو بنیاد بنا کر عام آدمی کا ہر سطح پر استحصال کیا جاسکے ۔ چہارم جو اصلاحات ہوتی ہیں اس پر کمزور عملدرآمد کا نظام ، نگرانی کا فقدان اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے نظام میں حقیقی ترقی کا عمل بہت پیچھے رہ جاتا ہے ۔ پنجم کرپشن، بدعنوانی اور ادارہ جاتی کمزوری کا عمل بھی اصلاحات میں وہ نتائج نہیں دے سکا جو ہماری ضرورت تھی ۔
سوال یہ ہے کہ کیا اصلاحات کا عمل کسی ایک فریق یعنی محض سیاسی حکومتوں کا ہے تو جواب نفی میں ہی ہوگا ۔ کیونکہ یہاں یہ المیہ محض سیاست دانوں یا سیاسی جماعتوں کا نہیں بلکہ مجموعی طور پر ہماری سیاست اور ریاست سے متعلقہ فریقین کی ناکامی ہے کہ ہم اس ریاست میں بہتری پیدا کرنے کے امکانات کو کمزور کرنے کا سبب بنے ہیں ۔ اصلاحات کا مطلب محض اعلان کرنا ، قانون سازی کرنا ، پالیسی بنانا ہی نہیں ہوتا بلکہ اصل مسئلہ اس کے ساتھ ساتھ عملدرآمد کا نظام بھی ہوتا ہے ۔ پاکستان کا جائزہ لیں تو آپ کو سیاسی ، قانونی ، معاشی ، انتظامی اور ادارہ جاتی سطح پر بے تحاشہ قانون سازی اور پالیسیاں نظر آئیں گی۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ ہم بطور ریاست ان تمام تر اقدامات کو اپنے حق میں استعمال کرنے میں ناکام ہوئے ۔ عمومی طور پر ہمارا ملک Over Legislative and Policy پر مبنی ملک ہے ۔ ہمارا خیال ہے کہ قانون سازی اور پالیسیاں بنانے سے ملک کو جو مسائل درپیش ہیں ان کا علاج ممکن ہے ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا کیونکہ کوئی بھی فریق براہ راست ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں ۔ یہ وہ رویہ ہے جو ہماری ترقی اور شفاف نظام میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے ۔
اہم پہلو یہ ہے کہ جو بھی اصلاحات کی سیاست پر زور دیتا ہے اس سے اس کی کیا مراد ہے ۔ ہم عام اور متوسط یا محروم طبقات کو پس پشت ڈال کر اپنے لیے یا مخصوص طبقات کے مفادات کو تقویت دینے کے لیے اصلاحات کو بطور ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ہم بطور قوم بداعتمادی کا شکار ہیں اور کوئی بھی فریق دوسرے فریق پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ایسی بداعتمادی کی فضا میں لوگ کیوں کر اصلاحات کے عمل میں اپنی ملکیت کا احساس پیدا کریں گے۔ یہ بات سچ ہے کہ لوگوں کو اصلاحات کا عمل طاقت دیتا ہے لیکن یہ طاقت بہتر نتائج کے بغیر ممکن نہیں ہوتی ۔ اصلاحات کے عمل میں سب سے اہم پہلو عوام ہوتے ہیں ۔ اگر لوگوں کی حالت نہ بدلے اور ان پر منظم اور شفاف سرمایہ کاری نہ کی جائے تو پھر لوگوں کو سوائے استحصالی سیاست کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ جب ہم اصلاحات کی بات کرتے ہیں تو اس میں دو پہلو اہم ہوتے ہیں ۔ اول لوگوں کی بنیادی ضروریات جن میں تعلیم، صحت، روزگار، تحفظ، سیکورٹی ، ماحول، انصاف ، نقل وحمل، وسائل کی منصفانہ تقسیم ہوتی ہے ۔ دوئم ہم ادارہ جاتی عمل میں اصلاحات کی مدد سے اداروں میں شفافیت، لوگوں تک رسائی کو آسان بنانا ، پولیس، بیوروکریسی ، عدالتی نظام کو موثر بنانے کی طرف توجہ دیتے ہیں ۔ لیکن یہ دونوں معاملات کا اگر دیانت داری سے تجزیہ کیا جائے تو ہمیں نتائج کی صورت میں زیادہ مسائل دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ یہاں اصلاحات کے عمل میں نہ تو لوگ مضبوط ہوسکے اور نہ ہی ادارے مستحکم ہوئے۔ یاد رکھا جائے کہ اداروں کی مضبوطی کا براہ راست تعلق کمزور لوگوں کی طاقت سے ہوتا ہے ۔ اگر ادارے کمزور ہوں گے یا ان میں سیاسی مداخلت یا اقراپروری ہوگی تو اس کا نقصان بھی ہمیں کمزور لوگوں کی مزید بدحالی کی صورت میں دیکھنے کو ملتا ہے۔
یہ سوال اہمیت رکھتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ہم ابھی تک اصلاحات کے عمل کو سیاسی مداخلتوں سے باہر نہیں رکھ سکے ۔ جب ہم اداروں اور نظام کو قانون کی حکمرانی کے مقابلے افراد کے تابع بنا کر نظام کو چلائیں گے تو اس کے نتیجے میں سوائے بربادی کے ہمیں کچھ نہیں مل سکتا۔ پاکستان میں لوگوں کو فوجی نظام ، آمریت اور بادشاہت پر مبنی نظام کے مقابلے میں جمہوری نظام سے زیادہ توقع وابستہ ہوتی ہیں ۔ کیونکہ جمہوری نظام لوگوں کی ترقی میں زیادہ مواقع فراہم کرتا ہے ۔ لیکن جو نظام جمہوریت کی بنیاد پر چلایا جارہا ہے اس پر لوگ نالاں ہیں ، کیوں کہ اس نظام میں عام لوگوں کی کوئی اہمیت نہیں اور وہ اپنے آپ کو اس نام نہاد نظام میں لاتعلق سمجھتے ہیں جو ان کی نظام کے ساتھ کمٹمنٹ کو کمزور کرتا ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا سیاسی نظام قومی ، صوبائی ، سینٹ، مقامی نمائندو ں پر مشتمل ہے اور جس نظام کو وفاقی ، صوبائی اور مقامی حکومتیں قیادت فراہم کرتی ہیں ان کی ترجیحات میں اصلاحات اہم نہیں ۔ یہ سب لوگ انتظامی ڈھانچے کی ترقی اور ترقیاتی منصوبوں کو بنیاد بنا کر فنڈ کے حصول کی سیاست کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر قانون سازی کرنا ، پالیسی سازی اور نظام کو موثر اور شفاف بنانا ان کی اس نام نہاد جمہوری سیاست کا حصہ نہیں ۔ یہ لوگ محض ترقیاتی بجٹ کی سیاست کرتے ہیں ۔ جب سب وفاقی ، صوبائی اور مقامی ادارے محض بجٹ کی سیاست کریں گے تو اس سے اداروں میں ٹکراؤ پیدا ہوگا اور ایک دوسرے کے دائرہ کار سے باہر نکل کر کام کرنے کے رجحان کو طاقت ملتی ہے جو ریاستی نظام کے موثر ہونے کے خلاف ہے ۔ مسئلہ تو یہ ہے کہ یہ لوگ قومی اصلاحات توکجا خود اپنی سیاسی جماعتوں میں بھی وہ تبدیلی نہیں لاسکے جو جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے ضروری ہوتے ہیں ۔
مسئلہ یہ نہیں کہ سیاسی اور فوجی ادارے ایک دوسرے پر الزامات کی سیاست کو بنیاد بنا کر آگے بڑھے اور کہا جائے کہ ناکامی کے ذمہ دار ہم نہیں بلکہ دوسرا فریق ہے ۔ اپنی داخلی اور خارجی ناکامیوں کو قبول کرنے کا رجحان بھی ہونا چاہیے ۔ یاد رکھیں جب کسی بھی معاشرے میں پالیسیوں کی بنیاد پر اصلاحات کے ایجنڈے کو کمزور کرتے ہیں تو اس سے سیاسی نظام میں خلا پیدا ہوتا ہے ۔ اس خلا کا فائدہ غیر جمہوری طاقتیں اٹھاتی ہیں۔ غیر جمہوری قوتوں پر ضرور الزامات لگنے چاہیے لیکن خود جمہوری قوتوں کو بھی اپنا احتساب کرنا ہوگا کہ وہ کیوں اصلاحات کی سیاست میں ناکام ہوئے ہیں ۔ ہماری ناکامی کی ایک وجہ وہ اہل علم اور اہل دانش کا طبقہ بھی ہے جو ذاتی مفادات کے لئے اصلاحات کی سیاست کو مضبوط بنانے کی بجائے طاقت ور طبقات کی سیاست کا حصہ بن کر ان کے مفادات کو تقویت دیتا رہا ہے۔
یاد رکھا جائے کہ اگر ملک میں اصلاحات اور اس پر عملدرآمد کی سیاست کو طاقت فراہم نہ کی گئی تو یہ ریاست لوگوں میں اپنی اہمیت کھودے گی ۔ اس کا نتیجہ ایک کمزور ریاست، حکومت، ادارے، عوام سمیت جمہوری سیاست اور قانون کی حکمرانی کی صورت میں دیکھنے کو ملے گا جو ہمیں داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر سوائے رسوائی کے کچھ نہیں دے گا۔