جاوید ہاشمی کی مسلم لیگ (ن) میں واپسی سے کیا فرق پڑے گا
- تحریر حسین شہادت
- اتوار 10 / دسمبر / 2017
- 4804
تاریخ کا مطالعہ کئی شعبہ جاتِ زندگی میں بہت ضروری ہے ۔ گو کہ ہم تک تاریخ درست حالت میں نہیں پہنچی تاہم اس کی افادیت میں کمی نہیں آئی۔ تاریخ کا سبق ہمیں جاوید ہاشمی کی نواز شریف سے ملاقات کے بعد یاد آیا ہے۔
جاوید ہاشمی نے اپنی جوانی ہی سے سیاست کا آغاز کیا ۔ کچھ عرصہ قبل ان کا اعلان سامنے آیا کہ وہ سیاست سے عاجز آچکے ہیں ، اب وہ سیاست نہیں کریں۔ یہ وقتی طور پر سیاست سے ریٹائر منٹ تھی یا سیاسی بیان کہ انہوں چند قبل دوبارہ سیاست کرنے کا نہ صرف اعلان کردیا بلکہ نواز شریف سے ان کے گھر جاملے ۔ میاں صاحب نے ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا ۔ سیاسی دنیا کا دستور ہے کہ یہاں ریٹائر منٹ نہیں ملتی۔ جاوید ہاشمی بھی اسی قسم کے حالات کا شکار رہے ، جب تک وہ رخصت پر تھے انہوں نے سیاست پر بات چیت جاری رکھی اور ایک کتاب بھی لکھ ڈالی ۔ ملک میں آج بھی مکمل طور پر جمہوریت بحال نہیں ۔ اگر سیاست نہیں ہوگی تو ملکی سا لمیت اور آزادی پر سمجھوتے ہوں گے ۔ ہمیں عدل پر ہونے والے فیصلوں پر اعتماد ہے جبکہ نظریہ ضرورت کو دفن کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں کوئی ایسا نہیں جو اپنی فوج سے محبت نہیں کرتا ہو ، اس سے پیار نہ کرتا ہو، سیاست دان کا متبادل مل جاتا ہے لیکن فوج کا کوئی متبادل نہیں۔ فوج متنازع بننے کی بجائے سلامتی کیلئے کردار ادا کرے اور سیاست میں دلچسپی نہ لے۔
آمریت اور فوج کے پیشہ ورانہ کردار میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ ہم آئین کی سربلندی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ سیاسی جماعتوں کا لیڈر کون ہوگا اس کا فیصلہ ورکرز کریں گے۔ ہمیں سیاست کرنے کی آزادی دی جائے ۔ ساری زندگی لڑ لڑ کر دیکھ لیا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ ہماری اپنی بھی غلطیاں ہیں ، سیاسی لڑائیاں عدالت میں کیوں لے کر جاتے ہیں ۔سینیٹ کے چیئرمین میاں رضاربانی نے کہا کہ اداروں کو اپنی آئینی حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے۔ اداروں میں محاذ آرائی وفاق کیلئے خطرہ ہے ۔ ریاست کو اندرونی اور بیرونی خطرات لاحق ہیں ، ملک کے تمام ادارے اکٹھے ہوں گے تو یہی ہمارے لئے بہتر ہے ۔ پاکستان کی بنیاد اسلام پر رکھی گئی ہے لہٰذا آرٹیکل 2کہتا ہے کہ ریاست کا مذہب اسلام ہے ، پھر اسلام کو پاکستان کے اندر کس سے خطرہ ہوسکتا ہے ۔ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ وار لارڈازم جنم لینے کو ہے جس کا پاکستان متحمل نہیں ہوسکتا۔
ہاشمی صاحب اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ وہ نون لیگ میں شامل ہو رہے ہیں۔ لیکن4 دسمبر کو جاتی عمرہ میں ملاقات نے ان کے ایک اور بیان کو غلط ثابت کردیا۔ تقریب سے خطاب میں زندہ تاریخ کے جاوید ہاشمی نے کہا کہ ماضی میں سیاست دان ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہوئے ، بھٹونے تقریر کیلئے میرا کاندھااستعمال کیا اور پھر اقتدار میں آکر اسی کاندھے پر لاٹھیاں برسائیں۔ بھٹو صاحب کی پھانسی پر ہم نے کوئی احتجاج نہیں کیا۔ انہوں نے احتساب کا نعرہ لگاتے ہوئے سوال داغ دیا کہا کہ پاناما پیپرز کے دیگر کرداروں کو کون پوچھے گا۔ اب فیصلہ کن مرحلہ آگیا ہے اختیارات پارلیمان کو دے دئے جائیں وگر نہ کچھ بھی نہیں بچے گا۔
جاوید ہاشمی پاکستان کی سیاست میں تاریخ ساز شخصیت ہیں ، انہوں نے زمانہ طالب علمی ہی سے سیاسی سفر کا آغاز کیا۔ ان کی سیاست نے اسلامی جمعیت طلبہ میں آنکھ کھولی جو اس وقت کی سب سے منظم اور طلبہ سیاست کی اہم ترین تنظیم تھی ، وہ اپنی کارکردگی کے باعث جمعیت کی آنکھ کا تارہ بنے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد تحریک استقلال کا عروج دیکھ کر اس کا حصہ بنے۔ 23اگست 1977کو ضیاء الحق کی کابینہ کا حصہ بنے۔ 1985میں ضیاء سے ناراض گروپ میں چلے گئے جس کی قیادت فخر امام کررہے تھے۔ اور پہلی بار قومی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑ کر پالیمان میں پہنچے۔ 1993میں مسلم لیگ نون میں شامل ہوئے ۔ 2000میں نواز شریف کی جلاوطنی پر وہ پارٹی کے صدر بنے لیکن 2002کے عام انتخابات میں ملتان سے ہارگئے۔ میاں صاحب کو پارٹی چلانی تھی لہٰذا انہیں لاہور جتوایا۔ 2005میں ان پر بغاوت کا مقدمہ قائم ہوا اور سزا ہوئی ۔ 2008 میں ان کی اہمیت نون لیگ میں کم ہوئی اور انہیں اپوزیشن لیڈر نہ بنایا تو وہ پارٹی پالیسی سے ناراض ہوگئے ۔ تحریک انصاف میں اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے باعث شامل ہوئے لیکن خلافِ ضابطہ سرگرمیوں کے باعث وہاں سے نکالے گئے ۔ جبکہ ان کا بیان تھا کہ وہ پارٹی پالیسی پر تحفظات کے باعث نکلے۔ کہ یہاں فردِ واحد کی چلتی ہے ۔
قومی اسمبلی سے استعفیٰ دے کر اعلان کیا اب وہ ملکی سیاست میں حصہ نہیں لیں گے۔ جیسا کہ سیاست کے قاعدہ میں ریٹائر منٹ کا مضمون ہی نہیں ہے چنانچہ وہ گاہے بگاہے ، اپنی سوچ ، اپنے افکار اور سیاسی تجزیوں کے باعث سیاسی منظر نامہ کا حصہ رہے۔ عوام اب ماضی کی نسبت بہت باشعور ہیں۔ یہ ہر زاویہ سے معاملات کو پرکھنا جانتے ہیں ۔ جمہوری نظام میں عوام کو طاقت حاصل ہے کہ وہ اپنے اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے نمائندے چنے لیکن انہیں یہ نہیں معلوم کہ ان کا ظاہر اور باطن ایک جیسا ہے یا ملمع کاری کی گئی ہے۔ انصاف کے ادارے آج سے قائم نہیں یہ ایک مہذب میں معاشرے کے قیام کے ساتھ ہی وجود میں آئے تھے جو آج بھی تہذیب یافتہ قوموں کا حصہ ہیں۔ ہمارے لئے جاوید ہاشمی کی سیاست میں واپسی اتنی حیران کن نہیں جتنی ان کی نون لیگ سے وابستہ ہونے کی ہے ۔ وہ ایک نظریاتی سیاست دان ہیں ، سسٹم کے باغی کہلاتے ہیں۔ جمہوری نظام میں بادشاہت کے خلاف ہیں ، لیکن ان کی ذات کے جس پہلو کا ہمیں اب پتا چلا ہے وہ اتنہائیافسوسناک ہے۔
چوہدری نثار آج بھی پارٹی کاحصہ ہیں ، اختلاف رائے رکھتے ہیں ، مدلل اور جرا ت مندی سے اپنا موقف پارٹی سربراہ کے سامنے بیان بھی کرتے ہیں ۔ جاوید ہاشمی نے کبھی اس طرح سے نواز شریف سے بات نہیں کی ، آج بھی وہ جس جگہ موجود ہیں ، متنازع بن گئے ہیں ۔ نون لیگ میں بادشاہت اب اگلی پیڑ ھی کے سپرد ہورہی ہے جو والد کے نقش قدم کو چھو کر آگے بڑھے گی۔ ایسے میں ان کا کردار بے معنی ہوگا۔ عزت وا حترام اپنی جگہ درست لیکن ان کے مشوروں کو کون سنے گا ۔ انہوں نے آج تک جو سیاست کی اس میں بھی چڑھتے سورج کی پوجا نظر آتی ہے۔ آج وہ اس پارٹی کا حصہ بن رہے ہیں کہ شاید کوئی معجزہ ہوجائے اور پارٹی زندہ ہوجائے ۔ سانحہ ماڈل ٹاؤ ن کی رپورٹ منظر پر آگئی ہے ۔ ہمیں خدشہ ہے کہ کہیں جاوید ہاشمی یہاں وقت برباد کرنے کے ساتھ ساتھ بچی کھچی عزت بھی پامال نہ کربیٹھیں ۔