حکومتی عملداری کو ریاستی اداروں نے شکست سے دوچار کیا

ہٹلر کا سٹار وزیر گوئبلز زندہ ہوتا تو پاکستانی انجینئرڈ میڈیا کے اینکروں، سیاسی مبصروں،  دفاعی تجزیہ نگاروں اور صحافیوں کے سامنے دونوں ھاتھ باندھ کر اپنی بے عقلی کا اعتراف کرتا اور شاگردی اختیار کرنے کی مودبانہ استدعا کرتا۔ مسلسل دروغ گوئی، ایک جھوٹ کے بعد دوسرا جھوٹ۔ حقائق پر کنفیوژن کی سموگ پھیلا کر عوام سے سچائی کو دور رکھنے کے لئے ہر قسم کے جائز اور ناجائز حربے آزمائے جا رہے ہیں۔

کیسا بھونڈا مذاق کہ دو ہزار لبیک والوں نے آٹھ ہزار سے زیادہ پولیس اور ایف سی کے تربیت یافتہ اہلکاروں کو پسپا کردیا۔ سول سیکورٹی اہلکاروں کے لئے ڈنڈوں، غلیلوں اور پتھروں سے مسلح سینکڑوں شدت پسند فرقہ پرستوں کو تتر بتر کرنا بھاری پڑ گیا۔ اور بالآخر  عدالتی حکم پر لبیک والوں کا دھرنا ختم کرنے کا حکومتی ایکشن ناکامی سے دوچار ہوا۔ سول سیکورٹی اداروں کی ایسی بے توقیری کی مثال پاکستان کی تاریخ میں ملنا شائد مشکل ہو۔ ہر جانب واویلا کہ حکومت اور خصوصا وزیر داخلہ، ریاستی رٹ نافذ کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔ قانون اور حکومت کی عملداری مذاق تو بنی مگر کیا اسے ریاستی عملداری کی شکست سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ وفاقی اور پنجاب حکومتوں، خصوصا وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی موقع پرستی، مصلحت پسندی اور نااہلی اپنی جگہ مسلّم، مگر کچھ حقائق ایسے بھی ہیں جن سے انکار ممکن نیہں۔ کیونکہ اس کا گہرا تعلق ملک کے جمہوری مستقبل، منتخب اور سول اداروں کی بالادستی سے ہے۔     

کیا اس حقیقت سے انکار ممکن ہے کہ ڈیڑھ گھنٹہ کے موثر پولیس ایکشن کے بعد دھرنے والے تتر بتر ہو چکے تھے اور پولیس دھرنا سٹیج کے قریب پہنچ چکی تھی۔ مگر اس کے پیچھے کیا راز ہے کہ پولیس اہلکاروں کو دھرنا راہنماوں کو کنٹینر سے اتار کر کسی اور جگہ منتقل کرنے یا گرفتار کرنے کے احکامات کیوں نہ دیئے گئے۔ یہ بات بھی جواب طلب ہے کہ کنٹینر کے قریب ایکشن کی قیادت کرنے والے آفیسر کے بار بار پر زور اصرار کے باوجود مزید کمک پہنچانے سے کس نے منع کیا۔ جبکہ علامہ رضوی منہ پر ماسک چڑھائے چند پیروکاروں کے جھرمٹ میں نفرت پھیلانے اور گالی گلوچ کرنے میں مصروف رہے۔  پولیس کا کامیاب ایکشن آنکھ جھپکتے ہی ناکامی میں کیسے بدل گیا اور سیکورٹی اہلکاروں نے کس کے حکم پر پسپائی اختیار کی۔ یہ دلیلیں بڑی بودی اور ناقابل یقین ہیں کہ تازہ دم ڈنڈہ بردار اور آنسو گیس گنز کے مسلح حملہ آوروں کے سیکورٹی اہلکاروں پر اچانک حملے نے یک دم پانسہ پلٹ دیا اور سیکورٹی اہلکاروں کو پہلے دفاعی پوزیشن اختیار کرنے اور پھر میدان چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔  حیرانی کی بات ہے کہ یہ تماشہ دور کھڑی رینجرز فورس کی آنکھوں کے سامنے ہوتا رہا۔ رینجرز کے کمانڈر کی سخاوت کو داد دیئے بنا رہا نہیں جاتا۔ ان گناہگار آنکھوں نے پہلی بار یہ منظر بھی دیکھا کہ پولیس اہلکاروں کو زخمی کرنے والوں، اربوں روپوں کی سرکاری اور نجی پراپرٹی تباہ کرنے والوں اور کئی دنوں تک عوامی زندگی کو اجیرن بنانے والے فرقہ پرستوں کو گھر واپسی کے لئے ہزار ہزار روپے نقد ادا کرکے با عزت رخصت کیا گیا۔ 

پولیس ایکشن کے کامیابی کی طرف بڑھتے قدم اسی وقت رک گئے تھے جب عسکری ترجمان نے اعلان کیا کہ یہ اپنے لوگ ہیں ان پر تشدد سے گریز کیا جائے اور بات چیت سے مسلہ حل کیا جائے۔ عسکری چیف نے ٹیلیفون پر یہ بات وزیر اعظم سے کی اور اسے میڈیا پر جاری کرنے کے نتائج فورا برآمد ہو گئے۔   سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کے اس بیان سے اختلاف کرنے کی گنجائش نہیں کہ اسلام آباد پولیس اور ایف سی میں اتنی صلاحیت اور قوت ہے کہ وہ چند ہزار مظاہرین پر قابو پا سکیں۔ اس کا ثبوت انہوں نے یہ کہہ کر دیا کہ انہیں سول سیکورٹی فورسز نے پختون خواہ کے وزیر اعلیٰ کی قیادت میں پندرہ ہزار مظاہرین کو اسلام آباد میں نہ صرف داخل نیہں ہونے دیا بلکہ انہیں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔   دو ہزار دھرنے والوں سے سول سیکورٹی اداروں کی منصوبہ بند پسپائی کو ریاست کی عمداری کی شکست سے کیسے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ ریاست کے طاقتور ترین سیکورٹی ادارے کھلے عام دھرنے والوں کے خلاف قوت کے استعمال سے گریز کرنے کی نصیحت کریں۔ اس کے بعد پولیس کے عام اہلکاروں اور اعلیٰ ترین عہدیداروں سے یہ توقع کیسے کی جاسکتی ہے کہ وہ ایکشن کو جاری رکھ کر عدالتی اور حکومتی احکامات کو کامیابی سے ہمکنار کرتے۔   

اسے جمہوری حکومت اور قانون نافذ کرنے والے سول اداروں کی طاقتور ترین سیکورٹی ریاستی اداروں کے ہاتھوں بے توقیری کہنا مناسب ہوگا۔ جمہوری سول حکومتیں، دفاعی، قومی سلامتی اور خارجہ امور سے متعلق پالیسی سازی میں برائے نام با اختیار تصور کی جاتی ہیں۔ اور اب دھرنا پسپائی کے بعد اندرونی امن و امان اور قانون کے نفاذ کا اختیار بھی عملی طور سے چھن گیا ہے۔ سوال یہ ہے کیا ریاستی اداروں پر پارلیمنٹ اور جمہوری حکومت کی بالادستی ایک سہانا خواب بننے والا ہے۔ کیا اعلیٰ عدلیہ آئین اور قانون کی پاسداری کرتے ہوئے جمہوری بالادستی قائم کرنے میں جمہور کے ساتھ کھڑی ہوگی یا ماضی کی طرح طاقتور کی ہاں میں ہاں ملا کر آئین اور قانون کی تشریح کرنے کی روایت برقرار رکھے گی۔

گوئبلز کو مات دینے والے میڈیا منیجروں اور مہروں کے کردار پربہت سارے سوالات تو اپنی جگہ پہلے ہی موجود ہیں۔