سانحہ ماڈل ٹاؤن اور پنجاب حکومت کی مشکلات

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ریاستی وحکومتی دہشت گردی کی بدترین مثال سانحہ ماڈل ٹاون کی صورت میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ ایک طرف دہشت گردی کی بدترین مثال اور دوسری طرف حکمران طبقہ کی جانب سے قانون کی حکمرانی کا قتل ظاہر کرتا ہے کہ ہم کس طرز کی حکمرانی کی طرف گامزن ہیں۔  اس واقعہ کے بعد حکومت اور حکومتی اداروں نے یہ تاثر دیا کہ ان کے سامنے انسانی جانوں کا بہیمانہ قتل کی کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ اور اس پر محض تاخیری حربوں نے انصاف کے عمل کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ۔

کئی برس کے بعد یہ سامنے نہیں آسکا کہ پولیس کو آپریشن ، فائرنگ اور انسانی جانوں کے قتل کا حکم کس نے دیا تھا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ہولناک واقعہ کی  لائیو کوریج نے بہت کچھ واضح کردیا تھا کہ کون ان واقعات میں براہ راست ذمہ دار تھا اور کون قتل ہوا ، کس نے قتل کیا مگر انصاف کے قتل نے عملی طور پر ہماری ریاستی کمزوری اور بے حسی کے پہلو کو نمایاں کیا ۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ مقدمہ پس پشت چلا گیا ہے۔ لیکن ڈاکٹر طاہر القادری ، تحریک انصاف، چوہدری برادران اور وکلا سمیت میڈیا کی جانب سے تسلسل سے انصاف کے حصول کے لیے مزاحمتی کردار نے اس مسئلہ کو مردہ نہ ہونے دیا ۔ یہاں عوامی تحریک کے کارکنوں اور قیادت کو بھی داد دینی ہوگی کہ وہ مشکل حالات کے باوجود تھکے نہیں ، بلکہ دیگر فریقین کو بھی اس مسئلہ پر اپنے ساتھ کھڑے رکھا ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ تمام تر حکومتی کوششوں کے باوجود جسٹس باقرنجفی کمیشن رپورٹ سب کے سامنے آگئی ہے ۔ اس کمیشن کی رپورٹ کا مکمل متن واضح ہے کہ حکومت اس تمام مسئلے پر نااہل ثابت ہوئی اور اس کی بدنیتی نے اس واقعہ کی بنیاد ڈالی ۔ یہ رپورٹ حکومتی خواہش پر نہیں بلکہ عدالتی حکم پر سامنے آئی ہے ۔ اگر عدلیہ دباؤ نہ ڈالتی تو کمیشن کی رپورٹ سامنے نہ آتی ۔

جسٹس باقر نجفی کمیشن رپورٹ کا جائز لیں تو اس میں چند پہلو نمایاں ہیں ۔ اول سانحہ ماڈل ٹاون میں پنجاب حکومت کے معصوم ہونے پر شبہ ہے ۔ دوئم فائرنگ کا حکم کس نے دیا پولیس بتانے کو تیار نہیں ، اس واقعہ میں حکومتی سردمہری اور لاپرواہی نظر آتی ہے ۔ سوئم وزیر اعلی پنجاب کی جانب سے پولیس کو کارروائی سے روکنے کے دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوسکی ۔ چہارم رپورٹ نے تجویز کیا ہے کہ سانحہ کا ٹرائل غیر جانبدار اور شفاف کیا جائے ۔ پنجم پنجاب کی تمام اتھارٹیزکی غفلت اور لاپرواہی سے ان کے بے گناہ ہونے پر شک پیدا ہوتا ہے ۔ ششم حکومت کی اس واقعہ میں سچ تک پہنچنے کی نیت ٹھیک نہیں تھی اور نہتے کارکنوں کے خلاف پولیس کی اس طرح کی مزاحمت کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ اگرچہ اس رپورٹ میں براہ راست کسی فرد کا نام نہیں لیا گیا  لیکن پوری حکومت ، انتظامی مشینری پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جو ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اس واقعہ میں معصوم نہیں ۔

پنجاب حکومت کا موقف جسٹس باقر نجفی کمیشن رپورٹ سے مختلف ہے اور وہ اس رپورٹ کے متن پر سخت تحفظات رکھتی ہے ۔ حکومت کے بقول جسٹس باقر نجفی رپورٹ نقائص سے بھرپور ہے اور پولیس نے عوامی تحریک کی جانب سے کی جانے والی پولیس فائرنگ کے نتیجے میں فائرنگ کی ۔ وزیر قانون رانا ثنا اللہ کے بقول خطرناک اسلحہ کی مدد سے کھلم کھلا پولیس پر حملہ کیا گیا ۔ اگر یہ منطق مان لی جائے تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کسی پولیس والے کو نہ تو گولی لگی اور نہ ہی وہ نشانہ بنا ۔ صرف عام افراد کا قتل ظاہر کرتا ہے کہ پولیس کی دہشت گردی نے صورتحال کو بگاڑا ۔ پنجاب حکومت کی یہ منطق بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ پولیس کو اس بیہمانہ ایکشن کا حکم حکومت نے نہیں دیا ، بلکہ یہ پولیس کا جوابی ردعمل تھا۔ لیکن جن آنکھوں نے براہ راست ان واقعات کو دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ پہل کس نے کی ، کس نے بربریت پر مبنی یہ کھیل کھیلا ہے ۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ جسٹس باقر نجفی کمیشن خود پنجاب حکومت نے بنایا  لیکن جب رپورٹ ان کے خلاف آئی تو اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا گیا۔ حکومتی موقف کے مطابق  رپورٹ جاری نہ کرنے کی وجہ کوئی خوف نہیں بلکہ اس کے اجرا سے فرقہ وارانہ کشیدگی کے بڑھنے کا خطرہ تھا ۔ اب بھی جو رپورٹ جاری کی گئی وہ مکمل نہیں۔ ان ہی خدشات کو بنیاد بنا کر اس کے بعض حصے حذف کیے گئے ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ حکومت نے رپورٹ تو جاری کردی  لیکن اس سے رپورٹ کے مکمل اور نامکمل ہونے کی نئی بحث شروع ہوگئی ہے ۔ اسی طرح حکومت نے جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ کے مقابلے میں جسٹس ریٹائرخلیل الرحمن پر مشتمل ایک رکنی کمیٹی کی رپورٹ جاری کردی۔ اس رپورٹ میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے واقعے، کمیشن کی حیثیت اور اس کی سفارشات کے حوالے سے متعدد قانونی نکات اٹھاتے ہوئے اپنے حتمی تجزیہ میں حکومت کو تجویز کیا کہ وہ جستس باقر نجفی کی رپورٹ کو قبول نہ کرے ۔ کیونکہ یہ رپورٹ مفاد عامہ کے منافی ہے اور اس سے فرقہ ورانہ اہم آہنگی او رامن و عامہ کو شدید نقصان پہنچے کا اندیشہ ہے ۔

حکومت نے جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ کو پبلک نہ کرنے کے لیے جسٹس خلیل الرحمن کی رپورٹ کو سہارا بنایا اور اس کی رپورٹ نے حتمی طور پر وہی نتائج اخذ کیے جو حکومت کی ضرورت بنتے تھے ۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ حکومت نے جسٹس باقر نجفی کمیشن تو بنادیا تھا  لیکن اس کو کوئی ایسا اختیار نہ دیا گیا جو اصل میں ذمہ داران کا تعین کرسکے ۔ بس یہ کہا گیا کہ وہ واقعات کا تعین کرے ، یہ واقہ کس نے کیا ہے اس کا اختیار نہ تھا ۔ یہ جو دلیل حکومت کی طرف سے دی جارہی ہے کہ رپورٹ میں کسی کو ذمہ دار قرار نہ دیا گیا ، یہ ممکن نہیں تھا کیونکہ جب حکومت نے پنجاب ٹریبونل آرڈینینس 1959کے تحت اختیار ہی نہیں دیا گیا تو ذمہ داران کا تعین کیسے ہوتا۔ لیکن اس کے باوجود جسٹس باقر نجفی کو داد دینی ہوگی کہ اگرچہ انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا  لیکن اس رپورٹ کو اس انداز میں پیش کردیا کہ جو  لوگوں کو بتاسکتا ہے کہ اصل کردار کون تھے ۔ اس رپورٹ کا سب سے اہم پہلو پولیس پر ہے ۔ کمیشن کے بقول پولیس نے کوئی تعاون نہیں کیا اور نہ ہی ان کرداروں کی نشاندہی کی جس نے ان کو ایسا کرنے کا حکم دیا تھا ۔ رپورٹ کے بقول پولیس نے جان بوجھ کر حقائق کو دفن کیا ہے ۔ یہ ظاہرکرتا ہے کہ ہماری پولیس اس مسئلہ پر کس قدر حکومتی دباؤ کا شکار ہوگی ۔ اگر حکومتی موقف مان لیا جائے کہ یہ رپورٹ نامکمل اور نقائص سے بھرپور ہے  لیکن اس کو اتنے برس تک کیوں پس پشت ڈالا گیا اور کیوں حقائق لوگوں کے سامنے لانے سے گریز کیا گیا ، توجہ طلب مسئلہ ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ہماری ریاست اور حکومت ریاستی اداروں کی مدد یا گٹھ جوڑ سے انصاف کے مقابلے میں اپنی مرضی کا انصاف سامنے لانے کی منفی کوشش کرتی ہیں تو اس سے انصاف کا عمل بہت پیچھے رہ جاتا ہے ۔

اس لیے پنجاب کی حکومت، پولیس اورانتظامیہ لاکھ جھوٹ بول کر اپنا دامن بچانے کی کوشش کرے وہ اپنے آپ کو شفاف ٹرائل میں بے گناہ ثابت نہیں کرسکے گی۔ خود وزیر اعلی پنجاب کی پریس کانفرنس، عدالتی بیان سمیت مختلف معاملات میں جو تضادات ہیں اس سے بھی ان کا سیاسی او راخلاقی مقدمہ کمزور ہوا ہے ۔  اب یہاں اصل امتحان خود عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کا بھی ہے کہ اس رپورٹ کے اجرا کے بعد وہ اس مقدمہ کو کس حد تک مزاحمت کی صورت میں سیاسی اور قانونی محاذ پر لے کر جاتے ہیں ۔ کیونکہ انصاف کے لیے ضروری ہے کہ حکومت، اداروں اورعدلیہ پر دباؤ ڈالا جائے۔  اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ وفاقی اور پنجاب کی حکومت پہلے ہی سیاسی حالات میں بگاڑ کی وجہ سے ایک بڑے دباؤ سے دوچار ہے اور اس رپورٹ نے مزید مشکل بڑھادی ہے ۔

اس وقت ڈاکٹر طاہر القادری کو اس بنیاد پر بھی برتری حاصل ہے کہ اول حکومت مخالف جذبات بہت زیادہ ہیں ۔ دوئم حکومت کے مخالفین بھی اس مسئلہ پر خاموش نہیں اور سب سانحہ ماڈل ٹاون پر انصاف چاہتے ہیں ان میں پیپلز پارٹی بھی شامل ہوگئی ہے ۔ سوئم اس وقت حکومت اور عدالتوں کے درمیان جو محاذ آرائی جاری ہے اس کے بعد عدالتی ماحول حکومت کے خلاف نظر آتا ہے ۔ جسٹس باقر نجفی کمیشن رپورٹ نے حکومت کو ایک بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے ۔ اس بحران سے حکومت کیسے نکل سکے گی ، ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ۔