اداروں کا تصادم ریاست کی ناکام کا سبب بنتا ہے

پاکستان کی حکومت اور حکومت سے مراد ایسے تمام ادارے ہیں جو بالواسطہ یا بلا واسطہ حکومتی فیصلوں اور خاص طور سے حکومت پاکستان کی پالیسی پر اثرات مرتب کرتے ہیں، پر تنقید کا یہ مطلب لیا جانا بالکل غلط ہوگا کہ تنقید نگار خدانخواستہ مملکت خدا داد کو دشمنی کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یا کسی بھی اور وجہ سے کسی سے تنقید کا حق چھیننا بھی دراصل پامالی حقوق کا ایک قابل مذمت طریقہ ہے۔ پاکستان کا موجودہ انسانی حقوق کا ریکارڈ نہایت خراب ہے۔ پاکستان میں لا قانونیت کا عالم یہ ہے دہشتگردوں کو تو چھوڑیں، قانون کے نفاذ کے ذمہ دار افراد خود بھی قانون کی پاسداری  ضروری نہیں سمجھتے۔

جب قانون کی پاسداری، اس کے نفاذ کے ذمہ دار افراد اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین پر عمل نہیں کرتے یا خود کو قانون سے بالاتر جانتے ہیں تو پھر ایسے ملک میں صرف جنگل کا قانون ہی چلتا ہے۔ بلکہ جنگل کا قانون بھی یہاں ناکام ہو جاتا ہے۔ نفاذ قانون کے ذمہ دار افراد کی ساری دنیا میں یہ مجبوری ہوتی ہے کہ انہیں جرائم کی بیخ کنی کرنا ہوتی ہے مگر قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے۔ اور مقننہ کے لیے یہی ایک بہت بڑا چیلنچ ہوتا ہے کہ کسی بھی مشکل سے مشکل وقت میں اس کے پسینے نہ چھوٹیں۔ وہ کسی بھی بڑے سے بڑے جرم کے سامنے قانون کی بندوق  پھینک کر لاقانونیت کے گولے نہ برسانا شروع کردے۔  اگر ایسا ہو تو پھر مجرموں اور قانون کے رکھوالوں کا فرق مٹ جاتا ہے۔ ملک نہ صرف انارکی کا شکار ہو جاتا ہے بلکہ ایسی مملکت اقوام عالم میں اپنا مقام کھو دیتی ہے۔ اگر حکومت سیاسی، پرامن جلسے جلوسوں ، اخباری بیانات ، لکھنے پڑھنے اور بولنے کی آزادی سلب کرے گی تو اسے یقین رکھنا چاہیے کہ اس کے مخالفین قلم پھینک کر بندوق اٹھائیں گے اور طاقت کے استعمال کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔

دنیا کی تمام مذہب اقوام ۔۔۔ اگر کچھ بچ رہی ہیں تو، اور کلّی نہیں تو جزوی مہذب ضرور، کا یہ شعار رہا ہے کہ قانون سب کے لیےہو اور سرکشی کے سامنے حکومتی ادارے لاقانونیت کا سہارا لے کر معاشرے کو عدم تحفظ کے دنگل میں نہ لاکھڑا کریں۔ قانون کے نفاذ میں لاقانونیت حکومت سے اس کا حق اختیار حکومت چھین لیتی ہے اور سرکش عناصر کے ساتھ ساتھ عوام کی ایک بڑی تعداد بھی حکومت کی مخالفت پر اتر آتی ہے۔ قانون سازی کا عمل ایک متحرک عمل ہے اور  اسے وقت کی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے مسلسل جاری رکھنا ضروری ہے۔  یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جسے  حکومت نہ صرف عوام کی امنگوں کو پورا کرسکتی اور کامیاب  پالیسی بنانے میں کام لاتی ہے بلکہ حقیقی دشمنوں کی سر کوبی کے لیے بھی استعمال کرتی ہے۔ لیکن ایسی کوئی پالیسی جو عوام کو درپیش دشواریوں اور روزمرہ کی زندگی میں مشکلات کے خلاف آواز اٹھانے سے روکے یا اس کے خلاف آواز اٹھانے پر طاقت کا استعمال کیا جائے،  دراصل حکومت وقت کی نااہلی اور ناکامی کا اعلان ہوتا ہے۔

نفاذ قانون کے حوالے سے حکومت کو یہ گمان ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ اس کا کوئی ادارہ یا فرد  ملکی مفاد کو سامنے رکھ کر قانون کو اپنے ہاتھ میں لے رہا  ہے۔ بلکہ اسے جاننا چاہیے کہ ادارے اور افراد جو خود قانون کے توڑنے کے مرتکب ہوں انہیں بھی اس جرم کی پوری سزا ملے۔  ملک میں  قانون کے دوہرے معیارکا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ عوام کا حکومت پر سے اعتباراٹھ چکا ہے۔ اور لوگ کسی کے بھی بہکاوے میں آکر اس سے اپنے مطالبے پورے ہونے  ان کی امید لگائے اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ اس پر اعتبار کرتے ہیں۔ اور بھلے برے کی تمیز کے بغیر ہی اس کے کہے پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ جب حکومت کے مختلف ادارے  افراد اور گروہوں کو سامنے  لاکر حکومت کے خلاف طاقت کے اظہار کے لیے استعمال کریں، اور باہمی چپقلش کونمٹانے کی کوشش کریں  تو یہ ایسی مجرمانہ حرکت سے  ریاست کی رٹ کو کمزور ہوتی ہے اور ملک کی سالمیت کو داؤ پر  لگائی جاتی ہے۔

پاکستان کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ ریاست میں کس کا راج ہے۔ عدلیہ کا، انتظامیہ کا، قانون کے نافذ کرنے والے اداروں کا یا ان سب سے بالاتر کسی اور ادارے کا۔ ملک کی بری سے بری حکومت کو بھی عوام کے سامنے اور دنیا  کے سامنے یوں سرعام رسوا کرکے عوام یا کسی عوامی ادارے یا تحریک کو قانون اور حکومت کا مذاق بنانے کی ترغیب دینا کسی بھی طرح سے درست روایت نہیں۔ دوسری جانب اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ کسی بھی حکومت کے سربراہ یا دوسرے افراد کو کھلی چھٹی ہونی چاہیے کہ وہ مطلق العنان ہو جائیں۔ نہیں ایسا ہر گز نہیں ہونا چاہیے۔ مگر حکومت اور سربراہ و ارکان حکومت اور دوسرے تمام ادارے کا وقار بحال رہنا چاہیے۔  ملک اداروں سے چلتا ہے۔ اور اداروں کی ٹوٹ پھوٹ اس کے سربراہ یا ماتحت افراد کی ذات سے منسلک کرنا اور پسند نا پسند کے مطابق انہیں بنانا اوربگاڑنا اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنا ہے۔ 

دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کی صف میں کھڑے ہونے اور ناکام ریاست کے طوق کو اتارنے کے لیے سب سے پہلا قدم غیر جانبداراور مضبوط مقننہ کی تشکیل ہی ہے۔  قانون کی بالادستی کی ذمہ داری اس کے بنانے والوں، اسے نافذ کروانے والوں اور اس کی نگہداشت کر نے والوں پر سب سے پہلے عائد ہوتی ہے۔