کتابوں سے محبت کرنے والے!
- تحریر شیخ خالد زاہد
- بدھ 13 / دسمبر / 2017
- 8692
علم ایک ایسا زیور ہے جسے کوئی چرا نہیں سکتا۔ اس زیور کی آرائش سب سے سوا ہوتی ہے ۔ ساری دنیا علم کی محبت میں گرفتار ہے۔ پڑھنے کی رغبت والوں کیلئے کتابوں کا ایک ٹھیلا بھی انہیں اپنی جانب مبذول کر لیتا ہے ۔ پاکستانیوں کی علم دوستی کا منہ بولتا ثبوت پاکستان کے تقریباً ہر شہر میں واقع اردو بازار ہیں۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ اردو بازار کیوں ۔ کیا صرف وہاں اردو میں لکھی گئی کتابیں ہی دستیاب ہیں یا پھر اردو سے محبت کا سبب ہے کہ انہیں یہ نام دیا گیا۔
تاہم ان اردو بازاروں میں نئی اور پرانی دنیا جہان کی کتابیں دستیاب ہوتی ہے ۔ ان بازاروں میں کافی حد تک لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے مگر یہ ہجوم نصابی کتابوں اور نصابی سرگرمیوں سے متعلق خریداری کرنے والوں کا زیادہ ہوتا ہے۔ کیا ان بازاروں کا بنیادی مقصد صرف یہی ہے ۔ گزشتہ دنوں کراچی میں کتابوں کا میلہ محدود انداز میں لگایا گیا۔ وہاں موجود منتظم نے بتایا کہ یہ کتابی میلہ کافی سالوں سے اس جگہ لگا رہے ہیں۔ کتاب سے محبت کرنے والوں کی محبت ان تک پہچانے میں ان کی مدد کررہے ہیں۔ الیکٹرونک میڈیا کے اس دور میں کتاب فہمی کیلئے ایسے اقدامات قابلِ تعریف اور قابلِ ستائش ہیں ۔ کراچی کی اہم ترین تقریبات میں ایک کراچی بین الاقوامی کتب میلہ بھی ہے جو بارہ برس سے منعقد ہورہا ہے۔ کراچی میں سجنے والا یہ کتابوں کا میلہ سردیوں میں گرمجوشی پیدا کردیتا ہے اور یحقیقت میں علم سے محبت کرنے والوں کیلئے کسی پر تکلف اور پر تعیش ضیافت سے کم نہیں ہوتا ۔ کتابوں کا میلہ بین الاقوامی سطح کا ہوتا ہے ۔ کراچی بین الاقومی کتابوں کا میلہ (Karachi International Book Fair) کا ہر سال دسمبر میں انعقاد ہوتا ہے۔ اور کتابوں سے محبت کرنے والے دسمبر کا انتظار کرتے ہیں تاکہ اس میلہ کی رونق کا حصہ بن سکیں۔ میلے میں پہنچ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ کسی ساحل پر کھڑے ہوں اور آپ کے سامنے حد نگاہ سمندر ہی سمندر ہو، پانی ہی پانی ہو ۔ سمندر تو کراچی کی قدرتی خصوصیت ہے مگر اس کتب میلے کو لگانے والے نے کراچی میں کتابوں کا سمندر لاتے ہیں۔ پاکستانی اشاعتی اداروں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اشاعتی ادارے بھی اس میلے کی رونق میں چار چاند لگاتے ہیں۔
اس سال یہ میلہ 7 دسمبر کو شروع ہؤا اور 11 دسمبر کو اختتام پذیر ہوا۔ پاکستان بھر سے ناشرین اور اشاعتی اداروں نے اس میں بھرپور شرکت کی۔ علم کے رسیاؤں کو رعائتی قیمتوں پر نادر و نایاب کتابوں تک رسائی دی۔ اتنی ساری نادر و نایاب کتابیں اور وہ بھی ایک ہی چھت کے نیچے کسی خواب سے کم نہیں۔ کیونکہ یا تو ایسا تصویروں میں ہوتا ہے یا پھر خوابوں میں۔ اس میلے میں ہماری کیفیت تو کچھ ایسی ہوجاتی ہے کہ شدت کی پیاس ہو اورسمندر جتنے پانی کے سامنے کھڑے ہوں اور اتنا پانی دیکھ کر پیاس ہی مرجائے۔ اس میلے کی خاص بات ہے کہ یہاں ہر عمر کے لوگوں کیلئے کتابیں دستیاب ہوتی ہیں اور قیمتیں بھی مناسب ہوتی ہیں۔
میلے منعقد کرنے والے داد و تحسین کے مستحق ہیں۔ میلے میں افادیت کے لئے ضروری ہے کہ میلے میں روزانہ کی بنیاد پر طے شدہ وقت کے مطابق لکھاریوں کو مدعو کیا جائے۔ اس طرح حاضرین کو اپنی پسند کے ادیبوں سے ملاقا ت کا موقع بھی میسر آسکے گا اور میلے کی رونق میں بھی اضافہ ہوگا۔ اسی طرح مشاعرہ کا اہتمام کیا جائے۔ اسی طرح ان لکھاریوں کے ساتھ عام لوگوں کے سوال جواب کے مختلف ادوار روزانہ کی بنیاد پر کروائیں جائیں ۔
کتاب میلہ کراچی کے مرکز میں واقع ایکپسو سینٹر میں لگایا جاتا ہے۔ اس میلے کی مرہون منت یہ پیغام بھی ساری دنیا کو پہنچتا ہے کہ اہل پاکستان علم دوست ہیں۔ میلے سے یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ کتابوں سے محبت کرنے والے آج اس الیکٹرونک دنیا میں بھی بہت ہیں۔