افغانستان کا بحران مذاکرات سے حل ہو گا

افغانستان  اپنے داخلی بحران کے تناظر میں ایک بڑی مشکل صورتحال سے دوچار ہے ۔ یہ ناکامی محض آج کی موجود افغان حکومت کی ہی نہیں بلکہ اس حکومت کی براہ راست سرپرستی کرنے والے امریکہ کی بھی ہے ۔ کیونکہ امریکہ نے افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے جو بھی حکمت عملی اختیار کی اس میں کامیابی کم اورناکامیاں  زیادہ رہیں۔  اول پہلے طاقت کا بھرپور استعمال کیا گیا اور دوئم بعد میں اچھے اور برے طالبان کے درمیان تمیز قائم کرکے طالبان کے ساتھ مفاہمت کا ایجنڈا بھی چلایا گیا ۔ لیکن امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ناقص حکمت عملی نے افغانستان کو اس خطہ کی سیاست میں ایک خطرناک ملک بنا دیا ہے ۔

افغانستان کا بحران کیونکہ خطہ کے بحران سے جڑا ہوا ہے اور پاکستان براہ راست اس کا شکار ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان کے داخلی استحکام کو بہت سے سیاسی پنڈت براہ راست افغانستان کے داخلی استحکام کے ساتھ جوڑ کر دیکھتے ہیں ۔ یہ جو امریکہ سمیت بہت سے مغربی دانشور اور سیکورٹی ماہرین کا خیال تھا کہ طالبان امریکہ اور افغان حکومت کے سامنے کوئی بڑی مزاحمت پیدا نہیں کرسکیں گے ، غلط ثابت ہوا ۔ افغان طالبان نے امریکہ اور افغان حکومت کی پالیسیوں میں  تضادات اورخامیوں کو بنیاد بنا کر اپنے وجود کو ابھی تک کسی نہ کسی شکل میں قائم کررکھا ہے ۔ امریکہ اور افغان حکومت کی بے بسی یہ ہے کہ وہ موجودہ افغان طالبان کو اپنے قریب لانے یا کابل کی حکومت میں حصہ دار بنانے کی کسی بھی حکمت عملی میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔ دوہا اور اسلام آباد میں مزاکرات کا عمل امریکہ اور بھارت کی غلط حکمت عملی کی وجہ سے نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکا ۔ افغان حکومت جس کو امریکی سرپرستی حاصل ہے وہ طالبان کو مزاکرات کی ٹیبل پر نہ لاسکے ۔ طالبان اور افغان حکومت سمیت امریکی پالیسی ساز سب ہی اعتماد کے بحران کا شکار ہیں جو آگے بڑھنے میں مسائل پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔

اب امریکہ اور افغان حکومت اپنی داخلی حکمت عملیوں میں  ناکامی کو قبول کرنے کی بجائے دوسروں اور بالخصوص پاکستان پر الزام تراشی عائد کرکے اپنا دامن بچانا چاہتا ہے ۔ افغانستان کے داخلی عدم استحکام کو براہ راست پاکستان کے ساتھ جوڑا جارہا ہے اور اس میں افغان اور بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا باہمی گٹھ جوڑ ہے ۔ یہ  گٹھ جوڑ عالمی دنیا میں اس تصور کو اجاگر کررہا ہے کہ پاکستان ساری صورتحال کا براہ راست ذمہ دار ہے ۔ مسئلہ پاکستان کا نہیں بلکہ  امریکہ اور افغان حکومت کو اپنی داخلی پالیسیوں کا تجزیہ کرنا چاہیے کہ خود ان سے کیا غلطیاں سرزد ہورہی ہیں ۔ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ تو خود داخلی محاذ پر دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ لیکن اس کوعالمی اور بالخصوص علاقائی سطح پر مدد دینے کی بجائے اسی پر الزامات لگا کر ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مسئلہ کی اصل جڑ پاکستان ہے، اسی سے نمٹنا ہوگا ۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی کئی برس تک امریکہ کی مدد اور بھرپور حمایت سے افغانستان کے صدر رہے ہیں ۔ وہ خود بھی اپنی پالیسیوں کی وجہ سے ناکام  ہوئے اور طالبان کو بھی راضی نہ کرسکے ۔ حامد کرزئی نے اپنی صدارت کے آخری وقت میں امریکہ کی مدد سے بننے والے اس سیکورٹی معاہدہ پر بھی دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا ، جو بعد میں ڈاکٹر اشرف غنی نے صدر بننے کے بعد دستخط کیے تھے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ کی مدد سے صدارت اور سیاست کرنے والے حامد کرزئی اس وقت امریکہ کے سب سے بڑے ناقد ہیں اور حالیہ افغانستان کے بحران میں وہ امریکہ پر سب سے زیادہ تنقید کررہے ہیں ۔

سابق افغان صدر حامد کرزئی کا ایک حالیہ انٹرویوجو الجزیرہ ٹی وی کے انگریزی پروگرام ’’ اپ فرنٹ‘‘ کو دیا گیا ہے اس میں کئی اہم باتیں کی گئی ہیں ، جو توجہ طلب ہیں ۔ اول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کے حوالے سے جو حکمت عملی دی ہے،  جس میں اس نے افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد کو مزید بڑھانے کا اعلان کیا ہے ۔۔۔ کی مذمت کی اور کہا کہ یہ افغانستان کے قومی مفاد کے خلاف ہے۔  اس پر مزاحمت کرنا ہوگی ۔ دوئم طالبان کے خلاف افغان حکومت اور امریکہ کی پرتشدد کاروائیاں عملی طور پر جوابی ردعمل کی صورت میں دہشت گردی کو بڑھاوا دے رہی ہے ۔ سوئم چالیس فیصد افغانستان طالبان کے کنٹرول میں ہے جو کہ امریکی حکمت عملی کی ناکامی کا ثبوت ہے ۔ چہارم امریکہ افغانستان میں دہشت گردوں پر حملہ نہیں کررہا اور ان کی معاونت کرنے والے ٹھکانوں کو بھی نشانہ نہیں بناتا، بلکہ اس کے برعکس وہ قصبوں پر حملہ کررہا ہے جس سے افغان گھر ، بچے اور عورتیں نشانہ بن رہی ہیں ۔ پنجم عسکری رویے اور طاقت کے استعمال نے افغان عوام کو مزید تنہا کردیا ہے ۔

سابق افغان صدر حامد کرزئی نے ایک بنیادی نقطہ یہ اٹھایا ہے کہ وہ طالبان جو افغانستان سے تعلق رکھتے ہیں وہ واپس آجائیں اور اپنے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر امن کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ طالبان کا موقف ہے کہ  افغان حکومت  امریکہ کی کٹھ پتلی حکومت ہے اور اس کے پاس ہمیں دینے کے لیے کچھ نہیں۔ بلکہ اصل طاقت امریکہ ہے جو افغانستان کو غیر مستحکم کرنے کا ایجنڈا رکھتا ہے ۔ یہ سوال بھی حامد کرزئی کو سمجھنا ہوگا کہ اس وقت کی افغان حکومت کے پاس ایسا کیا ہے جو وہ ان طالبان کو بدلے میں دے کر راضی کرسکتے ہیں ۔ کیونکہ افغان طالبان کا موقف ہے کہ ہم نے اب تک جو کچھ حاصل کیا ہے وہ مزاحمتی سیاست کا نتیجہ ہے اور اگر ہم افغان حکومت کے بہکاوے میں آجائیں تو ہمیں نقصان ہوگا۔ افغان حکومت کا مسئلہ یہ ہے کہ ابھی تک وہ اپنے داخلی بحران سے ہی باہر نہیں نکل سکی ۔ اس کی اپنی سیاسی ، انتظامی اور قانونی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے ۔ یہ حکومت امریکہ کی مرہون منت  ہے اور یہ ہی وہ بداعتمادی ہے جو طالبان میں اس حکومت کے بارے میں پائی جاتی ہے۔ حامد کرزئی نے ایک اہم نقطہ یہ بھی اٹھایا ہے جس کا براہ راست تعلق پاکستان سے ہے ۔ ان کے بقول امریکہ افغانستان کو استعمال کرکے پاکستان پر دباؤ بڑھارہا ہے تاکہ وہ اپنے اہداف پاکستان سے حاصل کرسکے جس کا تعلق افغانستان سے نہیں ہے ۔ اس لیے میں امریکی ایجنڈے کا مخالف ہوں، کیونکہ وہ افغانستان کو ڈھال بنا کر ہمیں دوسروں کے خلاف کررہا ہے ۔ یقینی طور پر پاکستان سے ہمارے تعلقات خراب ہیں لیکن اس کا حل پاکستان سے افغان حکومت کے براہ راست مزاکرات سے ہے ۔ امریکہ سمیت دوسری قوتیں یقیناً اس میں ہماری مدد کریں ، لیکن اپنا ایجنڈا ہم پر مسلط نہ کریں ۔

حامد کرزئی نے افغانستان میں داعش کی موجودگی کی وجہ بھی امریکہ کو قرار دیا ہے ۔ ان کے بقول جب افغانستان کا مکمل کنٹرول امریکہ کے پاس ہے اور ان کی موجودگی میں داعش کا ابھرنا امریکہ کی ناکامی ہے یا اس کی سرپرستی میں یہ گروہ بنا ہے ۔ ان کے بقول انتہا پسندی اور دہشت گردی امریکہ کے لیے ایک بڑا ہتھیار ہے اور وہ اس کے پاکستان ، افغانستان سمیت سب کے خلاف اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ سابق افغان صدر امریکی انتظامیہ ، حکومت اور ان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو بھی افغانستان کے معاملات میں شک سے دیکھتے ہیں ۔ سابق افغان صدر اعتراف کرتے ہیں کہ ان کا جھکاؤ دوران اقتدار امریکہ کی طرف  تھا، لیکن جب انہوں نے امریکی ایجنڈے کی مزاحمت کی تو وہ ان کے خلاف ہوگئے ہیں ۔ بنیادی طور پر حامد کرزئی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ امریکہ کی افغان پالیسی ناکامی سے دوچار ہے۔ وہ اس میں کچھ نیا دیکھنا چاہتے ہیں ۔ لیکن یہ کام اسی صورت میں ممکن ہوگا کہ خود افغان حکومت امریکہ کی بے جا حمایت سے باہر نکل کر اپنے اہم قومی مفادات کو بھی سامنے رکھے ۔ اہم بات افغان طالبان کے ساتھ مفاہمت کی ہے ۔ کیونکہ افغانستان کا امن اور استحکام طالبان کے ساتھ مفاہمت کے ساتھ جڑ ا ہوا ہے ۔ لیکن حامد کرزئی کو یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ مسئلہ محض افغان حکومت اور امریکہ کا ہی نہیں بلکہ افغان اور بھارت انٹیلی جنس کا گٹھ جوڑ بھی ہے جو اس کی زمین کو استعما ل کرکے پاکستان اور افغانستان دونوں کو غیر مستحکم کررہا ہے ۔

افغانستان کو سمجھنا ہوگا کہ داخلی استحکام کے لیے اسے پاکستان پر اعتماد کرنا ہوگا ۔ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھ کر اپنی اپنی حکمت عملی وضع کرنا ہوگی ۔  دونوں ملکوں افغانستان اور پاکستان میں بداعتمادی پائی جاتی ہے اس کو ختم کرنا اولین ضرورت ہے ۔ کیونکہ بداعتمادی کے ماحول میں ہم ایک مضبوط تعلق ، خطہ کی سیاست اور خود اپنی سیاست کو مستحکم نہیں کرسکیں گے ۔