پاکستان کے حکمران اور خونی انقلاب کے دعوے
- تحریر بیرسٹر حمید بھاشانی خان
- جمعرات 14 / دسمبر / 2017
- 4721
اگر احتساب نہ ہوا تو خدا نخواستہ خونی انقلاب آ سکتا ہے ۔ یہ بات وزیر اعظم پاکستان نے جھنگ میں خطاب کرتے ہوئے دہرائی ہے ۔ یہ وزیر اعظم کے اپنے اوریجنل الفاظ نہیں ہیں۔ یہ الفاظ انہوں نے یا ان کے تقریر نویس نے دوسرے حکمرانوں سے مستعار لیے ہیں۔ یہ الفاظ موجودہ اور ماضی کے کئی حکمرانو ں کا پسندیدہ منتر رہے ہیں۔ مختلف ادوار میں یہ دھمکی نما بیان پاکستان کے مختلف حکمرانوں کی زبان سے تسلسل سے ادا ہوتا رہا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ اس بیان کا مخاطب کون ہے ۔ وہ کون ہے جس کو خونی انقلاب سے ڈرایا جاتا ہے ۔ وہ کون سی ایسی نادیدہ قوت ہے جو وسائل کی اصل مالک ہے ۔ جو حکمرانوں کو احتساب سے روکتی ہے ۔ جو ان کوغربت کے خاتمے کے لیے وسائل استعمال کرنے نہیں دیتی۔ جو نا انصافی کے خاتمے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے ۔ جو ان کو دولت کی منصفانہ تقسیم سے روکتی ہے ۔ ستم ظریفی یہ کہ حکمران یہ منتر اس وقت زیادہ زور شور سے دہراتے ہیں جب وہ بظاہر مضبوط اور با اختیار ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ منتر ایک وزیر اعلیٰ اس وقت زیادہ تواتر سے دہراتے تھے جب صوبہ کے خزانے اور اختیارت کی کنجی بلا شرکت غیران کے پاس تھی۔ اس وقت وہ بڑے تسلسل سے یہ کہتے تھے کہ اس ملک سے غربت ، نا انصافی اور ظلم ختم نہ ہوا توخونی انقلاب آ سکتا ہے ۔ اس منتر کے سا تھ ساتھ حکمران طبقات پاکستان کے انقلابی اور ترقی پسند شاعروں کے انقلابی شعر بھی عوام کو سناتے رہتے ہیں۔ جن میں بغاوت اور انقلاب کا پیغام ہوتا ہے ۔
صاف ظاہر ہے کہ حکمرانوں کے اس دھمکی آمیز پیغام کا مخاطب بے چارے عوام تو ہو نہیں سکتے ۔ تو ان کا مخاطب کون ہے ۔ وہ کون ہے جو ان کو غربت اور نا انصافی کے خاتمے کے لیے وسائل کے استعمال سے روک رہا ہے۔ اور حکمران اسے خونی انقلاب کی دھمکی دے رہے ہیں۔ یہ خوش کن بات ہے کہ حکمران کم از کم یہ مانتے ہیں بلکہ بار بار اس تلخ حقیقت کا اعلان کرتے ہیں کہ عام آدمی غربت کا شکار ہے ۔ ناانصافی کا شکار ہے اور اس صورت حال کا تدارک ضروری ہے ۔ تدارک تب ہی ہوگا جب غربت ختم ہوگی۔ نا انصافی ختم ہو گی۔ اگر وہ واقعی اس کا تدارک چاہتے ہیں تو انہیں یہ ماننا پڑے گا کہ ایسا تب ہی ممکن ہو سکے گا جب ملک میں وسائل کی منصفانہ تقسیم ہوگی۔ کسی بھی سماج میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کے دو طریقے ہوتے ہیں۔ پہلا طریقہ انقلاب ہوتا ہے ۔ انقلاب کے ذریعے قابض اور بالادست طبقات سے وسائل چھین کر غریب اور محروم طبقات میں تقسیم کر دیئے جاتے ہیں۔ جیسا کے 1917 کے بالشویک انقلاب اور 1949 کے ماؤسٹ انقلاب سمیت دنیا کے کئی چھوٹے بڑے ملکوں میں کیا گیا۔ دولت کی منصفانہ تقسیم کا دوسرا طریقہ ایک آئینی بندوبست یا عمرانی معاہدہ ہوتا ہے جس کے تحت ایک ارتقائی عمل میں بتدریج دولت کو مالدار طبقات سے لے کر غریب طبقات پر خرچ کیا جاتا ہے ۔
سویڈن اور ناروے وغیرہ میں اس طریقہ کار کی ایک جھلک دکھائی دیتی ہے ۔ ہمارے ہاں فی الوقت ان
میں سے کوئی ایک طریقہ بھی موجود نہیں۔ ایک مکمل انقلاب کے لیے ملک میں ایک بائیں بازو کی مقبول عام ترقی پسند پارٹی کی ضرورت ہے ۔ پاکستان میں ایسی پارٹی کے لیے معروضی اور مو ضوعی حالات تو موجود ہیں ، لیکن پارٹی نہیں۔ دوسرا طریقہ یعنی آئینی بندو بست یا عمرانی معاہدہ بھی ہمارے ہاں موجود نہیں۔ ملک میں ایک طرف جاگیرداری جیسا فرسودہ ترین نظام ابھی تک قائم ہے اور دوسری طرف ٹیکس جیسا بنیادی نظام بھی موجود نہیں جو دولت کی تقسیم کا کم از کم اور کمتر طریقہ ہے ۔ ہمارے ہاں سالانہ بجٹ کے ذریعے جو وسائل مختص کیے جاتے ہیں ان میں وسائل کا بیشتر حصہ طاقت ور اور با اثر قوتوں کو دے دیا جاتا ہے اور کم خوش قسمت اور پسے ہوئے طبقات کے حصے میں جو آتا ہے وہ ان کا مقدر بدلنے کے لیے نا کافی ہے ۔
حکمران اگر واقعی خونی انقلاب سے ڈرتے ہیں تو انہیں غربت، نا انصافی اور دولت کی منصفانہ تقسیم کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے ۔ ورنہ وہ انقلاب سے ڈرسکتے ہیں یا کسی کو ڈرا سکتے ہیں مگر اسے برپا ہونے سے نہیں روک سکتے۔ تاہم ضروری نہیں کہ اکیسویں صدی کے اس عشرے میں بھی انقلاب لازمی طور پر خونی یا پر تشدد ہی ہو۔ آج کی دنیا میں پر امن اور جمہوری انقلاب کے کہیں زیادہ امکانات ہیں۔ آج کے دور میں پاکستان سمیت کسی ملک میں گولی چلائے بغیر یا خون بہائے بغیر بھی انقلاب برپا ہو سکتا ہے حکمرانوں کو اس انقلاب سے ڈرنا چاہیے ۔