ڈالر کی روپے پر یلغار
- تحریر
- جمعہ 15 / دسمبر / 2017
- 3511
ہونی کی دو ناگزیر خصوصیات ہیں، ایک یہ کہ جلد یا بدیر ہونی ہو کر رہتی ہے ، دوسرے یہ کہ ہونی عموماٌ اس وقت وارد ہوتی ہے جب اس کے ہونے کی تکلیف دوہری ہو تی ہے۔ پاکستان کی کرنسی روپیہ آج کل اسی ہونی کے گرداب میں ہے۔ گزشتہ ہفتے یک دم انٹر بینک مارکیٹ میں آغاز پر ہی اس کی قدر میں دھڑام سے کمی ہوئی، اس کے بعد گھبراہٹ کا ایک سلسلہ ایسا شروع ہوا جو کئی دن چلا۔ ایک تو یہ افتاد اچانک آئی، اس پر مستزاد بنکوں نے درآمد کنندگان کو کچھ اس قدر مزید گھبراہٹ میں مبتلا کیا کہ جیسے ڈالر نایاب ہونے کو ہے، جس بھاؤ ملے لے لو۔ چار دن کی ہڑبونگ کے بعد انٹر بنک مارکیٹ میں کچھ ٹھہراؤ آیا تو درآمد کنندگان کی جان میں جان آئی، اس کے ساتھ ہی تبصروں اور تجزیوں کا سلسلہ چل نکلا۔ ایسے ایسے تبصرے سننے اور پڑھنے کو ملے کہ اپنا لکھا پڑھا بھول گئے۔ اکثر نے ایک خالصتاٌ ٹیکنیکل مسئلے کو جس آسانی سے سیاسی تعصب میں ڈوبی تنقید کی سان پر چڑھایا وہ دیدنی تھا۔
سیاست اور موسم پر تبصرہ کرنا اس لئے آسان ہوتا ہے کہ اس کے لئے نہ کسی تیاری کی ضرورت ہوتی ہے نہ کوئی خاص معلومات درکار ہوتی ہیں۔ موسم کے لئے سال کے بارہ مہینے ایک سے تبصرے سے کام چلایا جا سکتا ہے، آجکل موسم بدل رہا ہے، شہر بھر میں پھیلنے والی وائرل بیماریوں کی وجہ آجکل کا موسم ہے، احتیاط ضروری ہے کہ آجکل موسم بہت خراب چل رہا ہے، اس بار بارشیں پچھلے سال سے کم ہوئی ہیں وغیرہ وغیرہ۔
سیاست کے لئے بھی یہ آسانی اب فراواں ہے، جیسے اور جب چاہے آپ سیاست پر تبصرہ اور تجزیہ کر سکتے ہیں۔ گفتگو میں تعصب اور تضحیک کی مقدار حسب ظرف کر لیں تو رنگ شرطیہ چوکھا آتا ہے۔ معلومات کا ہونا ضروری نہیں، کسی بھی سازشی تھیوری یا افواہ کا غبارہ پھلا کر دوسروں کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔ دھاک بٹھانی ہو تو کوئی ایک آدھ حوالہ باوثوق ذرائع کا دے ڈالیں کہ ابھی رات ہی رازداری میں پتہ چلا۔ یوں آپ رازداری کی شرط کے لفافے میں ایک ہی بات سو لوگوں تک پورے اعتماد سے پہنچا سکتے ہیں۔ سننے والے کو سننے کے بعد اس اندر کی خبر کو رازداری کے ساتھ کسی اور جگہ پہنچانے کی اتنی جلدی ہوتی ہے کہ وہ خبر کے حسن و قبح کے چکر میں نہیں پڑتا، یوں دھاک بٹھانا اتنا آسان ہو گیا کہ اس قدر ممکن کبھی نہ تھا۔ اللہ بھلا کرے تین درجن نیوز چینلز کا، موضوعات کی بھی کمی نہیں ہونے پاتی۔
کچھ عرصہ قبل تک البتہ معیشت پر تبصرہ یا تجزیہ کرنے کی یہ آسانی اس قدر میسر نہ تھی۔ معیشت میں سو طرح کے اعداد و شمار ہوتے ہیں۔ درجنوں معروف اشاریے ہوتے ہیں۔ ہر گزرتے دن، ہفتے، مہینے اور سال میں یہ اعداد و شمار اپ ڈیٹ ہوتے رہتے ہیں۔ مزید یہ کہ اعداوشمار کے مختلف ذرائع ہوتے ہیں۔ اسٹیٹ بنک اور ادارہ شماریات سے لے کر درجنوں ادارے اعداوشمار پیش کرتے یا ترتیب دیتے ہیں۔ عالمی اداروں سے بھی اعدادوشمار کی ایک مسلسل فیڈ چلی آتی ہے۔ معیشت پر بات کرنے میں ایک مشکل تو یہ ہے کہ جب تک صحیح اور تازہ ترین اعدوشمار آپ کے پاس نہ ہو بات میں سقم کا اندیشہ رہتا ہے۔ اس پر دوسری مشکل یہ کہ ان اعدادوشمار کی ترتیب اور ان کے آپس میں تال میل سے معاشی رجحانات اور معاملات کی وضاحت ممکن ہو پاتی ہے جس کی مہارت کم کم احباب کو ہوتی ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ شاید اسی لئے معیشت پر بات کرنے والے عموماٌ بڑے ٹھہراؤ اور غیر جذباتی ہو کر گفتگو کرتے۔
اب جہاں اور بہت کچھ بدلا ہے یہ انداز بھی بدل چکا ہے۔ اب تو اکثر احباب معیشت پر بھی موسم اور سیاست کی سی آسانی سے تبصرہ کر لیتے ہیں اور تجزیہ پیش کر دیتے ہیں۔ فارمولا اس مہارت کا سادہ سا ہے، دو چار ضروری اعداوشمار یاد ہوں جن کا اپ ڈیٹ اور صحیح ہونا کوئی خاص ضروری نہیں کہ سننے والوں میں سے اکثر کو ان اعدادوشمار سے شناسائی خال خال ہی ہوتی ہے۔ دوسرے یہ کہ کھینچ تان کر بات کو سیاست سے جوڑ دیں، اللہ اللہ خیر صلّا۔ جس انداز میں اسحاق ڈار نے معیشت کو چلایا اس سے بہت سے اختلافات ہو سکتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) سے بھی اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اب جو ماحول بن رہا ہے اس میں یہ اختلافات اس نہج کو پہنچ رہے ہیں جہاں دلیل اور توازن کے ساتھ کی عمومی ضرورت نہیں۔ سو، اس صورتحال میں معیشت پر تبصرے کے لئے اکونومی کی سوجھ بوجھ اور اعداوشمار کے گورکھ دھندے سے شناسائی کا جھنجھٹ بھی غیر ضروری سا ہو کر رہ گیا ہے۔
جن چند معاملات پر اسحاق ڈار اپنے موقف پر ڈٹے رہے ان میں ایک روپے کی قدر میں مارکیٹ اکونومی کے مطابق کمی بیشی سے انکار تھا۔ ایک حد تک ان کا موقف اُس وقت درست تھا جب انہوں نے حکومت سنبھالی تو زرمبادلہ کے قلیل ذخائر کی وجہ سے ملکی معیشت میں ڈالرائزیشن کا خطرناک رجحان پیدا ہو گیا۔ روپے کی گرتی ہوئی قدر دیکھتے ہوئے سٹّہ باز سرگرم عمل ہو گئے۔ اس وقت انہوں نے مشکل فیصلہ کرتے ہوئے اسٹیٹ بنک کی مداخلت کی اور روپے کو پہلے لیول کے لگ بھگ لے آئے۔ اس سال جولائی میں روپے کی قدر میں ایک بار پھر کمی ہوئی تو اسحاق ڈار نے روپے کی قدر کو مستحکم کرنے میں اسی طرح کی سرگرمی دکھائی۔ گورنر اسٹیٹ بنک کی مدت ملازمت میں توسیع نہ کی ، بلکہ پہلی بار ایک انتظامی افسر کو اسٹیٹ بنک کا گورنر بنایا گیا۔ بظاہر لگتا تھا کہ ان کی گرفت اسٹیٹ بنک پر مزید مستحکم ہو گئی ہے لیکن پھر پانامہ کیس کی کھلتی پرتوں سے نئی سے نئی حیرانیاں برآمد ہوتی چلی گئیں۔ پاکستان کی برآمدات میں کمی اور جمود میں ایک حد تک روپے کی قدر میں بروقت ایڈجسٹمنٹ نہ ہونے کا کردار بھی ہے لیکن کئی دیگر عوامل بھی کم اہم نہیں۔ اس دوران میں درآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ ایک حد تک سی پیک کی برآمدات کا بھی اس میں حصہ تھا لیکن درآمدات میں منافع کی کشش زیادہ تھی جس میں روپے کی غیر حقیقی قدر بھی ایک ذیلی وجہ رہی۔ تجارتی خسارہ بڑھا توزرِ مبادلہ کے ذخائر برقرار بلکہ بڑھانے کے لئے بیرونی قرضوں میں اضافہ بھی ہوا۔ اس دوران بجٹ خسارہ بھی کافی کم سطح پر لایا گیا۔ اعداوشمار کی صحت پر ماہرین کا اختلاف اپنی جگہ لیکن حکومت کی معاشی نظامت معیشت کو اُس نازک مقام نکال لائی جہاں یہ ساڑھے چار سال پہلے تھی۔
سیاسی رقابتوں کے اس جوبن میں لیکن معیشت پر گفتگو میں توازن اور غیر جذباتی انداز اب بے محل ٹھہرا۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر غیر حقیقی رہی ہے۔ آئی ایم ایف اور ماہرین اس امر کی نشاندہی کرتے رہے ہیں۔ روپے کی قدر کے معیشت پر ہمہ گیر اثرات ہیں۔ خام مال، تیار مصنوعات، تیل، کھانے پینے کی اشیاء سمیت درآمدات مہنگی ہونے سے افراطِ زر بڑھنا یقینی ہے، ٹرانسپورٹ کرائے، بجلی اور گیس کے نرخوں ، قرضوں کی واپسی سمیت معیشت کے تمام اشاریے دباؤ میں آئیں گے۔ اس پالیسی کے حسن و قبح پر تبصرہ و تجزیہ ہو سکتا ہے اور ہونا چاہیے لیکن ہر بات کی تان صرف اور صرف سیاست پر توڑنے کی روش نامناسب ہے۔ روپے کی قدر گزشتہ چند دنوں میں 105.50 سے 111/112 تک گری۔ تین چار روز کی افراتفری اور گھبراہٹ کے بعد اب 110/111 کے لگ بھگ روپے ڈالر کی قدر اپنا لیول بنا رہی ہے ۔ روپے کی قدر میں یہ ایڈجسٹمنٹ بہت دیر سے ادھار تھی ۔ یہ امر بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ انہی دنوں اوپن مارکیٹ میں گھبراہٹ دیکھنے میں نہیں آئی، اسٹیٹ بنک کی طرف سے واضح اشارے تھے کہ ڈالرائزیشن کی صورت میں مداخلت سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ اس واضح پیغام سے اوپن مارکیٹ میں بھی استحکام رہا اور اب انٹر بنک میں بھی ضروری ایڈجسٹمنٹ کے بعد استحکام پیدا ہو رہا ہے۔
کرنسی کی قدر میں ایڈجسٹمنٹ دنیا بھر کے ممالک میں ہوتی ہے لیکن جس انداز میں حالیہ ایڈجسٹمنٹ کو سیاسی عینک اور فقط حکومت کو کوسنے اور تضحیک کا نشانہ بنانے کا ذریعہ بنایا گیا وہ صحت مند رجحان نہیں ہے۔ موسم اور سیاست پر گفتگو کرنا ہمیشہ آسان رہا لیکن اب معیشت کے پیچیدہ اور مشکل اسرار بھی اسی آسانی سے زیرِ بحث ہیں۔ کوئی بتلا رہا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی سے ہر پاکستانی 1785 روپے کا مزید مقروض ہو گیا ہے۔ کوئی خبردار کر رہا ہے کہ مہنگائی کا بم گرنے کو ہے و علیٰ ہٰذالقیاس۔ البتہ یہ سننے کو ہمارے کان ترس گئے کہ صاحبو، اس مشکل کا حل یوں بھی ہے اور یوں بھی ہے۔