بارٹر سسٹم سے نئی ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن تک
- تحریر افتخار بھٹہ
- جمعہ 15 / دسمبر / 2017
- 12360
خریدو فروخت کیلئے ادائیگی کا نظام تاریخ انسانی جتنا پرانا ہے۔ زمانہ قدیم میں کرنسی کی عدم موجودگی میں اشیاء کے بدلے اشیاء کا تبادلہ کیا جاتا تھا جو کہ بارٹر سسٹم کہلاتا تھا۔ اس نظام میں وزنی اشیاء کو تبادلہ کیلئے لے جانا خاصا مشکل کام تھا تو سوچا گیا خریدو فروخت کیلئے کسی دھات کا سہارا لیا جائے جس کا وزن بھی کم ہو۔ چنانچہ سونا اور چاندی کو اپنایا گیا جبکہ سستی چیزوں کی خریداری اور فروخت کیلئے سستی دھاتوں کے چھوٹے سکوں کو استعمال کیا جاتا تھا۔ جو سونے اور چاندی کے درہم کے متناسب ہوتی تھیں ۔
سونے اور چاندی کو لے جانے کیلئے مناسب حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہوتی تھی لہذا لوگوں نے سونے اور چاندی کے سکے صرافہ بازاروں میں جمع کروا کر اس کی رسیدوں کو سیکیورٹی بنا کر خریدو فروخت شروع کر دی جس سے بیکنگ کا نظام وجود میں آیا۔ اس رسید کی مالیت کے برابر سونا ضمانت کے طور پر موجود ہوتا تھا پھر نظریہ ضرورت کے تحت سونے کی مقدار کم ہونے لگی۔ یاد رہے پچھلی صدی کے دوران بعض ممالک میں نئے کرنسی نوٹ کے اجراسے قبل سونے یا چاندی کو بطور ریزروسینٹرل بینک میں رکھا جاتا تھا۔ 1971میں امریکہ نے ڈالر کے بدلے مساوی سونا رکھنے کی شرط کو ختم کر دیا۔ اس طرح یہ رسیدیں کرنسی کے نوٹ کی صورت میں تبدیل ہو گئیں ۔ اب مرکزی بینک ان تمام معاملات کو کنٹرول کرتا ہے۔ کاغذی کرنسی کے پیچھے حکومتی گارنٹی ہوتی ہے اور اس کی ضمانت سے قیمت کو مقرر کیا جاتا ہے۔ دنیا میں زیادہ سودوں کا لین دین امپورٹ ایکسپورٹ اور قرضوں کی تقسیم کا کام ڈالر اور یورو میں ہوتا ہے۔ اس سے قبل پاؤنڈ کی بھی عالمی منڈی میں اہمیت تھی مگر یورپی یونین کے قیام اور یورو کے متعارف ہونے کے بعد اب پاؤنڈ میں عالمی سطح پر زیادہ لین دین نہیں ہوتا۔ گو کے اس کرنسی کو عالمی منڈی میں اہمیت حاصل ہے۔
اس وقت چین دنیا کی تجارت پر چھایا ہوا ہے تمام دنیا میں اس کے مال کی خریدو فروخت کی مارکیٹیں موجود ہیں۔ اس کے پاس زرمبادلہ کے فاضل ذخائر موجود ہیں جس کی سرمایہ کاری کے ذریعے وہ اپنی مجموعی قومی پیدا وار کی شرح نمو کو بر قرار رکھے ہوئے ہے۔ امریکہ نے تجارت کے عوض چین کو 12ٹرلین ڈالر کے بانڈز جاری کر رکھے ہیں۔ تمام دنیا کی کاٹیج انڈسٹری چینی سستی مصنوعات کی کھپت سے متاثر ہوئی ہے۔ دنیا کے زیادہ تر ممالک ڈالر اور یورو میں زر مبادلہ کے ذخائر رکھتے ہیں مگر دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین نے ڈالر اور یورو کی اجارہ داری کو ختم کرنے کیلئے بیس ممالک کے تعاون سے نیا بینک قائم کیا ہے جس کے ذریعے زر مبادلہ کے ذخائر اب چینی اور دیگر کرنسیوں میں رکھے جا سکیں گے۔ یاد رہے کہ چین نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے اپنی کرنسی کے ریزرو رکھنے کے حوالے سے مطالبہ کو تسلیم کروایا ہے۔اس طرح ڈالر، یورو اور پونڈ کے بعد چینی کرنسی چوتھی پوزیشن منوانے میں کامیاب ہو گئی ہے ۔
قیام پاکستان کے وقت ایک ڈالر چار روپے کا تھا جو کہ اب 110روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ا ڈالر کی حیثیت میں اضافے کی وجہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا دباؤ برآمدات کی کمی کی وجہ سے تجارتی خسارے کا بڑھ جانا ہے۔ جس سے بیرونی قرضہ جات کی مالیت میں اضافہ ہوا ہے پاکستانی روپے کی قیمت گرنے سے درآمدی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ سونے کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ پیٹرول، ڈیزل، کھانے کا تیل ، خشک دودھ، دالیں اور مختلف درآمدی اشیاء 8 فیصد سے20فیصد مہنگی ہو سکتی ہیں ۔ برآمدکندگان کو پاکستانی روپے کی قیمت کم ہونے سے فائدہ ہو سکتا ہے کیونکہ انہیں ڈالر کے ذریعے زیادہ پاکستانی روپیہ حاصل ہوگا۔ اسٹیٹ بینک کے ترجمان کے مطابق ڈالر کی قیمت میں اضافہ ملکی معاشی اشاریوں کا عکاس ہے ایکسچینج ریٹ میں تبدیلی ادائیگوں کے عدم توازن کو روکے گی ۔ مرکزی بینک کے ذرائع کے مطابق وہ صورتحا ل پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس ضمن میں کوئی مداخلت نہیں کر رہا ہے بلکہ ڈالر کے ریٹ کا تعین ماکیٹ فورسز پر چھو ڑ دیا گیا ہے جو کہ طلب دیکھنے کے بعد ڈالر کا ریٹ تعین کریں گی ۔ فار یکس ایسو سی ایشن کا مطالبہ ہے حکومت ڈالر کے ریٹ کا تعین کرے تاکہ مارکیٹ سے غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہو۔ ڈالر کی قدر بڑھنے سے ایک طرف مہنگائی میں اضافے کا خطرہ ہے تو دوسری طرف بیرونی قرضوں کی مالیت میں اضافہ ہوگا اور دوسری کرنسیوں کی قیمت بھی بڑھ جائے گی۔
عالمی بینکاری سسٹم جہاں پر ترسیلات کو تیزی سے منتقل کرنے کے اقدامات کیے گئے ہیں آن لائن سروس سے کروڑوں افراد ستفادہ حاصل کر رہے ہیں۔ کئی بینک اور فارن ایکسچینج کمپنیاں قائم ہو گئی ہیں مگر روپے کو بینک سے لانے اور جانے کے رسک موجود ہے چنانچہ بینکوں نے پلاسٹک منی متعارف کروائی ہے۔ اس کی مثال کریڈیٹ اور ڈیبٹ کارڈ ہیں جس سے ہوٹلوں ، شاپنگ مال اور دیگر اخراجات و خریداری کی ادائیگیاں کی جا سکتی ہیں۔ اب خصوصی پن والے کریڈیٹ کارڈ متعارف کروائے گئے ہیں جس کے کوڈ کے بارے میں صرف کھاتے دار کو علم ہوتا ہے۔ کریڈیٹ کارڈ کے سسٹم میں کچھ نقاص موجود تھے جس سے اکاؤنٹ سے بیلنس ہیک کیا جا سکتا تھا اور سائبر کرائم میں اضافہ ہواہے۔ چنانچہ اب آئن لائن کی ادائیگی اور ای کامرس ادائیگی کا نظام پھیل رہا ہے۔ چینی کمپنی علی بابا نے دنیا میں سب سے زیادہ خریدو فروخت آن لائن کے ذریعے کی ہے۔ دنیا میں منی لانڈرنگ کو روکنے کیلئے سخت اقدامات اٹھائے گئے ہیں جس میں رقوم کی دستاویزات کے بغیر منتقلی مشکل ہو رہی ہے۔ حال ہی میں یورپی یونین نے کئی مالیاتی اداروں کئی ممالک میں منی لانڈنگ کے سلسلہ میں بلیک لسٹ کر دیا ہے۔ پاکستان میں حبیب بینک کی نیو یارک برانچ کو منی لانڈرنگ کے الزام میں جرمانہ کیا گیا ہے۔ کمرشل بینک غیر معمولی Transactionسے قبل دستاویزات طلب کر سکتے ہیں کیونکہ بڑی رقوم کی منتقل کی نگرانی مرکزی بینک کرتے ہیں۔ شک و شبہ کی بنیاد پر رقم کو منجمد اور روکا جا سکتا ہے۔
انہی مشکلات کے پیش نظر کرنسیوں کی قدر کے اتار چڑھاؤ کے خطرات کو کم کرنے کیلئے ستوشی نکو موتو نے 2008میں ایک سافٹ ویئر Block chainٹیکنالوجی کے ذریعے ڈیجیٹل الیکٹرانک کرنسی بٹ کوائن متعارف کروائی جس کو Minigکہتے ہیں یہ کام Minerسر انجام دیتے ہیں۔ ڈیجیٹل کرنسی میں کسی بینک کی مداخلت نہیں ہے۔ بٹ کوائن کی قیمت 16ہزار امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ بٹ کوائن کے ذریعے حسابات پیدا کیے جاتے ہیں۔ دنیا میں کچھ شہروں میں اس سے اشیاء خریدی جا سکتی ہیں۔ جنوری 2011سے اب تک ایک لاکھ تاجروں نے بٹ کوائن میں سرمایہ کاری کی۔ بٹ کوائن کی قدر کا انحصار سرمایہ کاروں کی سپلائی اور ڈیمانڈ پر ہے لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے اگلی صبح اس کی قیمت8ہزار ڈالر رہے جائے ۔ منی لانڈرنگ کے خدشات کے پیش نظر امریکہ اور چین نے بٹ کوائن پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس ضمن میں پاکستان اور بھارت بھی پابندی لگا سکتے ہیں۔ بٹ کوائن کا لین دین خفیہ طریقے سے ہوتا ہے جس کی کوئی منی ٹریل نہیں ہوتی ہے۔ نئی انٹر نیٹ کرنسی بٹ کوائن ایک کہانی لگے گی ۔
دنیا میں گزشتہ صدی سے ٹیکنالوجی کا انقلاب آیا ہوا ہے ، آئے روز نت نئی ایجادات اور جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کروایا جا رہا ہے۔ موبائل کمپنیوں کے درمیان بہتر فونز متعارف کروانے کا مقابلہ جاری ہے۔ نوکیا اپنی مارکیٹ کھو بیٹھا ہے اس کی جگہ اپیل آئی فون اور سمارٹ فونز نے حاصل کر لی ہے۔ Uberکے سافٹ وئیر کو دنیا کی ٹیکسی کمپنیاں استعمال کر رہی ہیں۔ آئن لائن خریدو فروخت کے ذریعے اربوں ڈالر کمپنیوں کے کھاتوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ 2020میں بجلی کی تاریں متعارف کروائی جا رہی ہیں جس سے پیٹرول اور ڈیزل کی کھپت میں کمی واقع ہوگی۔ لہذا اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ بٹ کوائن مستقبل کی کرنسی بن جائے گی جس پر سرحدوں اور بینکوں کا اطلاق نہیں ہوگا۔ معاشی پابندیوں کے باوجود اس پر لین دین کو نہیں روکا جا سکے گا ۔
بٹ کوائن ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اس ضمن میں رائے کو ختمی نہ سمجھا جائے میرے خیال میں اس میں رسک کا عنصر زیادہ موجود ہے۔ نئی ٹیکنالوجی متعارف ہونے کے بعد بٹ کوائن پر شب خون مارنے میں دنیا کے مرکزی بینک کامیاب ہو سکتے ہیں۔ یہ تبدیلیوں کا عہد ہے جس میں ٹیکنالوجی کی ایجادات کے نئے مظاہر سامنے آ سکتے ہیں۔ بہر صورت مارکیٹ میں مضبوط اقتصادی نظام سائنس ٹیکنالوجی اور ویلیو ایڈیڈ برآمدات کرنے والے ممالک کی کرنسیوں کی اجارہ داری قائم رہے گی۔