مسلمان نوشتہ دیوار پڑھیں

ترقی کرتی دنیا نے جن روائتوں کو جنم دیا ہے ان میں سب سے اہم حقوق کی برابری ہے۔ کوئی کسی پر دھونس دھمکی چلاکر اپنی بات نہیں منوا سکتا۔ اس بات کو یقنی بنانے کیلئے اقوام متحدہ جیسے اداروں کی موجودگی بھی ضروری  ہے۔  دنیا جب جہالت کے اندھیروں میں غرق  تھی تو اللہ نے  محمد عربی ﷺ کو آخری نبی بنا کر بھیجا۔  پھر دنیا نے دیکھا کہ اسلام جو امن اور سلامتی کا مذہب ہے،  عرب کی سرحدوں سے نکلا  اور دنیا پر چھاگیا۔

افسوس ہے دنیا کو تہذیب و تمدن کی اہمیت سے روشناس کرانے والوں کو آج زندگی کے اصول سکھائے جا رہے ہیں۔  امن کا پیغام دنیا کو دینے والوں کو آج امن سے رہنے کی تلقین کی جارہی ہے۔ دنیا کو وقت کی اہمیت کا پتہ دینے والوں کو وقت کی قدر کرنا سکھائی جا رہی ہے۔  اس کی وجہ ہمارا راہ مستقیم سے بھٹکنا ہے۔  اتحاد اور بھائی چارے کا درس سنتے چلے جارہے ہیں اور آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ مسلسل تقسیم ہوئے جا رہے ہیں۔ آج جتنے مسلمان تقسیم ہوچکے ہیں شاید ہی کسی اور مذہب کے ماننے والوں میں اتنی افراتفری ہو۔ اس وقت ہمارے سامنے دو طرح کی صورت حال ہے۔  ایک تو یہ کہ قرآن اور حدیث کی روح  پر عمل کریں۔ ہم  ایک طرف امتی ہونے کے داعی بنے پھرتے ہیں اور اپنی زندگی اللہ اور رسولﷺ کی رضا اور عطاعت کیلئے وقف اور بتائے ہوئے راستے پر چل کر گزارنے کی قسمیں کھاتے نہیں تھکتے ۔ مگر جیسے ہی بات آتی ہے کسی عملی کردار ادا کرنے کی تو اپنے دائیں بائیں دیکھنا شروع کردیتے ہیں۔  ہم ہمیشہ سے دوہرے معیار کی زندگی گزارتے چلے آرہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا مسلمانوں کے ساتھ برا سلوک کرتی ہے۔ حال ہی میں امریکی حکومت  نے  بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وہ سمجھ چکے ہیں کہ ہم ایک چھت کے نیچے جمع ہوکر سوائے اس حکم کو رد کردینے کا اعلان کرنے کے سوا کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں۔ وہ جان چکے ہیں کہ  مسلمان ذاتی مفادات کیلئے اجتماعی مفادات کو نظر انداز کرتے ہیں۔  ہم اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ ایسے مسائل سارے مسلم ممالک کو امت کی شکل میں کھڑا کرنے میں مدد فراہم کریں گے۔ حالانکہ جب تک اس مقصد کے لئے مل کر کام نہٰن کیا جائے گا، اپنی زندگیاں تبدیل نہٰن کی جائیں گی، ایسا ممکن نہیں ہو سکتا۔

ان حالات و معاملات کا جائزہ لیں تو مسئلہ سمجھ آسکتا ہے۔ اب یہ سطحی سوچ اور فکر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔  ایک مسلمان ہونے کے ناتے ہمارا ایمان ہے کہ وہ سب ہوکر رہے گا جو آسمانوں میں طے کیا گیا ہے۔ لیکن یہ جاننے کی بھی ضرورت ہے کہ اللہ نے انسان کو اپنی حالت خود بدلنے کی صلاحیت اور اختیار بھی دیا ہے۔