عمران خان اہل ہو کر بھی بھنور میں ہیں، شہباز شریف نکل گئے ہیں

سپریم کورٹ نے ایک ہی دن میں دو بڑے فیصلے سنا دیئے ہیں۔ ان دو فیصلوں نے ملک کے سیاسی منظر نامہ سے نہ صرف ابہام کافی حد تک کم ہو گیا ہے بلکہ منظر نامہ صاف بھی ہو گیا۔ لیکن یہ سب وقتی ہے۔ بے شک عمران خان کو پہلے مرحلہ میں اہل قرار دے دیا گیا ہے لیکن ساتھ ساتھ بیرونی فنڈنگ کا کیس الیکشن کمیشن میں بھیج کر عمران خان پر نا اہلی کی تلوار ختم نہیں کی گئی۔ نااہلی کی تلوار عمران خان کے سر سے وقتی طور پر ہٹی ہے لیکن یہ واپس آسکتی ہے۔ بیرونی فنڈنگ کا کیس الیکشن کمیشن کو بھجوا کر میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان کے خلاف گھیر ا مزید تنگ کر دیا گیا ہے۔ ان کو بنی گالہ سے کلین چٹ مل گئی ہے۔ لیکن بیرونی فنڈنگ کے کیس میں وہ ابھی پھنسے ہوئے ہیں۔

ایک طرف سپریم کورٹ نے عمران خان کو اہل قرار دیا ہے ۔ دوسری طرف سپریم کورٹ نے حدیبیہ کیس کھولنے سے بھی انکا ر کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے شہباز شریف کو بھی ایک طرح سے اہل قرار دے دیا گیا ہے۔ اور جس طرح عمران خان کے لئے اگلے انتخابات میں حصہ لینے کی راہ ہموار کر دی گئی ہے۔ اسی طرح شہباز شریف کے لئے بھی راہ ہموار کر دی گئی ہے۔  جہاں تک جہانگیر ترین کی نااہلی کا تعلق ہے تو اس سے پاکستان کے بڑے سیاسی منظر نامہ پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ وہ اتنے بڑے لیڈر نہیں تھے کہ ان کی نااہلی سے ملک کے سیاسی منظر نامہ پر کوئی بڑ ا فرق پڑے ۔ وہ تحریک انصاف میں بے شک بہت اہم تھے۔ وہ نمبر ٹو تھے لیکن ان کی نمبر ٹو حیثیت بھی متنازعہ تھی۔ ہم کسی بھی طرح جہانگیرترین کا نون لیگ میں شہباز شریف سے موازنہ نہیں کر سکتے۔ جہانگیر ترین کی نااہلی سے کسی بھی طرح تحریک انصاف کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

مجھے تو سپریم کورٹ کا فیصلہ پانامہ کے فیصلے کی دوسری قسط ہی لگ رہا ہے۔ جس طرح پانامہ میں پہلے مرحلہ میں نواز شریف کو نا اہل نہیں قرار دیا گیا تھا بلکہ ان کے خلاف ایک مضبوط جے آئی ٹی بنا دی گئی تھی۔ اور بعد میں اس جے آئی ٹی کی رپورٹ پر انہیں نا اہل اقرار دیا گیا۔ اب بھی عمران خان کے خلاف بیرونی فنڈنگ کا کیس الیکشن کمیشن کو بھیج دیا گیا ہے۔ اگر الیکشن کمیشن اب یہ فیصلہ دیتا ہے کہ عمران خان نے بیرونی فنڈنگ قبول کی ہے تب بھی عمران خان پر نااہلی کی تلوار دوبارہ لٹک سکتی ہے۔ اس طرح عمران خان کو ملنے والی کلین چٹ ابھی مشروط ہے۔ وہ ابھی قانون کے دائرے سے باہر نہیں آئے۔ لیکن سیاسی طورپر یہ کہا جا سکتا ہے کہ وقتی طور پر عمران خان کو کلین چٹ مل گئی ہے۔ اور ان کے لئے راہ ہموار ہو گئی ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن کا فیصلہ کسی بھی وقت منظر نامہ کو دوبارہ بدل سکتا ہے۔ اور آج کی خوشیاں کل کے غم میں بدل سکتی ہیں۔ سپریم کورٹ کے ان دونوں فیصلوں سے عمران خان کی سیاسی برتری میں اضافہ ہوا ہے۔ اور وہ بے شک اگلے انتخابات میں وزیر اعظم کے مضبوط امیدوار بن کر ابھر آئے ہیں۔ نواز شریف کی نااہلی کا جہانگیر ترین کی نا اہلی سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

حدیبیہ کیس نہ کھلنے سے میرے ان دوستوں کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں جو کسی نہ کسی طرح شہباز شریف کو گیم سے آؤٹ کرنا چاہتے تھے۔ حدیبیہ ان کی واحد امید تھی۔ میرے ان دوستوں کو اب شہباز شریف کا مقابلہ میدان سیاست میں اگلے انتخابات میں کرنا ہوگا۔ میرے خیال میں یہ منطق بھی دم توڑ گئی ہے کہ اسٹبشلمنٹ شہباز شریف کو آگے نہیں لانا چاہتی۔ اور یہ دلیل بھی ختم ہو گئی ہے نواز شریف کبھی بھی شہباز شریف کو آگے نہیں آنے دیں گے۔ اب نہ تو اسٹبلشمنٹ کے پاس شہباز شریف کو روکنے کا کوئی جواز ہے اور نہ ہی نواز شریف کے پاس شہباز شریف کو روکنے کا کوئی راستہ ہے۔ نواز شریف کو اب نون لیگ کا تاج شہباز شریف کو دینا ہی ہوگا۔  حدیبیہ کے فیصلے نے نواز شریف کے اس بیانیہ کو بھی مسترد کر دیا ہے کہ ان کے اور ان کے خاندان کے خلاف کوئی سازش کی جا رہی ہے۔ یہ بیانیہ بھی ختم ہو گیا کہ ان کی سیاست ختم کرنے کا کوئی سکرپٹ موجود ہے۔ اور ایک باقاعدہ سکرپٹ کے تحت ان کے اور ان خاندان کے خلاف مقدمات کے فیصلے آرہے ہیں۔ اب جبکہ ایک اہم کیس میں شریف فیملی کے حق میں فیصلہ آگیا ہے تو کیا کہا جائے گا۔ نواز شریف نے جس عدلیہ کے خلاف  ‘مجھے کیوں نکالا‘  کی مہم چلائی تھی اب وہ عدلیہ کی جانب سے اپنے حق میں فیصلے پر کیا کہیں گے۔ اب کیا یہ فیصلہ بھی کسی اشارے پر آیا ہے۔ حدیبیہ کیس کے فیصلے نہ صرف عدلیہ کے وقارمیں اضافہ ہوا ہے بلکہ اس سے عدلیہ کے خلاف چلائی جانے والی مہم بھی دم توڑ گئی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا ہے کہ نواز شریف کی عدلیہ کے خلاف مہم اب کیسے چلے گی۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ عدالتیں قانون اور آئین کے مطابق فیصلے کرتی ہیں ۔ عدالتوں کو سیاسی تقاضوں کا خیال نہیں ہوتا۔ لیکن مصیبت یہ ہے کہ ہم عدلیہ کے فیصلوں کے سیاسی محرکات تلاش کرتے ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاستدانوں کے مقدمات میں فیصلوں کے سیاسی محرکات ہوتے ہیں۔ ان کی ایک سیاسی حیثیت ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے ملک کی سیاست پر اثرات بھی ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے عدلیہ کے فیصلے سیاسی بن جاتے ہیں۔ تاہم پھر بھی ہمیں ان کو آئین و قانون کے دائرے میں ہی دیکھنا چاہئے۔  جہاں تک حدیبیہ کیس کے فیصلے کا تعلق ہے تو اس سے فی الحال فوری طور پر نواز شریف کو کوئی ریلیف نہیں ملا۔ گو کہ یہ فیصلہ نواز شریف کے حق میں آیا ہے لیکن اس سے ان کی مشکلات میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ وہ نا اہل کے نااہل ہی رہیں گے حتی کے نواز شریف کی بیٹی مریم صفدر کی مشکلات میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی۔ ان کے ریفرنس ویسے ہی چلتے رہیں گے اور ان ریفرنس میں ان کی سزا کے حوالہ سے جو بھی امکانات ہیں وہ ویسے ہی رہیں گے ۔ اس طرح ان کی مشکلات میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی۔ نواز شریف کے بیٹوں کی مشکلات میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی۔ اسی طرح حقیقت یہ بھی ہے کہ حدیبیہ کے فیصلے کے بعد اسحاق ڈارکی مشکلات میں بھی کوئی کمی نہیں آئے گی۔ وہ جس بھنور میں پھنسے ہیں اس سے نہیں نکل سکیں گے۔ ان کے خلاف ریفرنس ویسے ہی موجود رہیں گے۔ ان کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ بھی نہیں رکیں گے۔ اس طرح حدیبیہ کے فیصلے سے ملک کے سیاسی منظر نامہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

اگر کسی کو ریلیف ملا ہے تو وہ شہباز شریف ہے۔ اگر کسی کو کلین چٹ ملی ہے تو بھی شہباز شریف ہیں۔ اس طرح حدیبیہ کے سپریم کورٹ کے فیصلے نے  صرف شہباز شریف کو ریلیف دیا ہے۔ صرف ان کا راستہ صاف ہوا ہے۔ کیا اگلے انتخابات میں اب شہباز شریف اور عمران خان کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ منظر نامہ اسی طرف جا رہا ہے۔ اب تو نون لیگ کے پاس بھی اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے کہ وہ شہباز شریف کو عمران خان سے مقابلہ کرنے کے لئے گرین سگنل دے دیں۔ سپریم کورٹ کے ان فیصلوں سے الیکشن کمیشن کی طاقت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتیں جس طرح الیکشن کمیشن کو ربڑ سٹمپ سمجھتی ہیں، وہ  تاثر ختم ہوگا۔ اور الیکشن کمیشن کو ایک فعال ادارہ بننے میں مدد ملے گی۔ حال ہی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے اکاؤنٹس کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں وقت پر جمع نہیں کروائیں۔ تاہم جب تک ملک میں الیکشن کمیشن مضبوط نہیں ہوگا۔ جمہوریت مضبوط نہیں ہو سکتی۔ الیکشن کمیشن کی حیثیت جمہوریت میں ایک ایمپائر کی سی ہے اور ایمپائر جتنا مضبوط ہوگا میچ اتنا ہی اچھا ہوگا۔

پاکستان کے اگلے منظر نامہ کو جو بھی سکرپٹ ہے اس میں عمران خان کی پوزیشن ابھی واضع نہیں ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ انہیں ابھی مائنس بھی نہیں کیا جا رہا ہے لیکن مائنس کی تلوار ختم بھی نہیں کی جا رہی۔ ان کے بارے میں ابھی ابہام باقی ہے۔