موٹر سائیکل زد گان کا کوئی پرسان حال نہیں

کالم کا عنوان پڑھ کر آپ یقیناً چونک گئے ہوں گے۔ لیکن  سیلاب زد گان اور زلزلہ زد گان ہو سکتا ہے تو موٹر سائیکل زد گان کیوں نہیں ہو سکتے۔ ماضی قریب میں دو پہیوں والی سواری بائی سائیکل کی اہمیت تھی۔ بچے، بوڑھے، نوجوان اور طالب علم اپنے کام کاج، دفاتر، فیکٹریوں، سکولوں اور کالجوں میں جانے کیلئے اس کو استعمال کرتے تھے۔ ملک میں تقریبا چالیس لاکھ سے زائد بائیسکل زیر استعمال تھے۔ اس کے ساتھ سائیکل مستریوں کا بھی روز گار چل رہا تھا۔ کہاں آج کل بائی سایکل سڑکوں گلیوں اور چوکوں میں خال ہی خال دکھائی دیتے ہیں۔

زیادہ تر بڑی عمر کے بوڑھے جنہوں نے موٹر سائیکل نہیں سیکھا، اس کو استعمال کرتے ہیں یا چھوٹے بچے  گھروں کے اندر اور  گلیوں میں چلا رہے ہوتے ہیں۔  اس کی جگہ موٹر سائیکل نے لے لی ہے۔ کیا بچے بوڑھے اور نوجوان اس کے دیوانے ہوتے جا رہے ہیں۔ ملک میں لاکھوں موٹر سائیکلیں رواں دواں ہیں جن کو وقت کی قلت کے پیش نظر تیز رفتاری کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف تانگہ جس کے آگے گھوڑا لگایا جاتا تھا، شہروں کیا دیہاتوں سے بھی غائب ہو گیا ہے۔ بس موٹر سائیکل کے پیچھے رکشا لگا کر اس کو چنگ چی کا نام دیا گیا ہے۔ اگر اسے تیز رفتاری سے دوڑایا جائے تو اس کو ایک دم روکنا انتہائی مشکل کام ہے۔ اس میں بریک نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ موٹر سائیکل کی ڈیمانڈ اور مقبولیت میں اس قدر اضافہ ہو چکا ہے سکول جانے والا بچہ اپنے والدین سے چھٹی جماعت میں بھی موٹر سائیکل لے کر دینے کی فرمائش کرنا شروع کر دیتا ہے۔ یا وہ اپنے بڑے بھائی یا باپ کا موٹر سائیکل لے کر باہر نکل جاتا ہے۔ اور اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر چلانا شروع کردیتا ہے۔ 

ایسے سواروں کی زد میں  کوئی بھی شخص آکر اپنا بازو اور ٹانگ تڑوا بیٹھتا ہے یا وہ خود گر کر زخمی ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف ہمارے نوجوان بھی موٹر سائیکل کو تیز رفتاری سے چلانا اور خصوصاً ٹریفک کے ہجوم میں رانگ سائیڈ سے نکلانے کو اپنی مہارت اور بہادری سمجھتے ہیں۔  آپ سڑک عبور کرنے کیلئے کھڑے ہیں تو دوسری طرف سے موٹر سائیکل پر کوئی نوجوان سوار ہے تو وہ آپ کے قدم اٹھاتے ہی موٹر سائیکل کو ریس پر ہاتھ رکھ کر اس کی سپیڈ میں اضافہ کرکے  ڈرا دے گا۔ جس سے آپ سہم کر دبک جائیں گے۔ آج کل موٹر سائیکل سواروں کی خر مستیوں کی وجہ سے پیدل چلنا محال ہو گیا ہے۔ کیونکہ یہ شہ سوار کسی سمت سے آپ پر حملہ کرکے زخمی کر سکتے ہیں۔ کیونکہ ان کو ٹریفک کے قوانین کی پروا نہیں ہے۔ کہیں پر سنگل ویلنگ کی شکل میں آپ پر بلا نازل ہو سکتی ہے لہذا آپ نے خود ہی اس عفریت سے بچنا اور خبر دار رہنا ہے۔

گزشتہ دنوں ہمارے بزرگ دوست مرزا صاحب اپنی اہلیہ کے ہمراہ سڑک کنارے سواری کے انتظار میں کھڑے تھے کہ ایک نوجوان لڑکا جو کہ سنگل ویلنگ کے شوق میں مصروف تھا،  دونوں میاں بیوی پر آن گرا۔ مرزا صاحب کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور آج کل وہ بستر پر لیٹے ہوئے ہیں۔ جبکہ ان کی اہلیہ بھی زخمی ہو ئی۔ کل میرے دوست اور ممتاز شاعر شیخ پرویز صاحب المدیر لائبیری تشریف لائے تو لنگڑا کر چل رہے تھے۔ میں نے پوچھا شیخ صاحب کیا ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ موٹر سائیکل سوار کے زیرعقاب آ گیا تھا، جس سے پاؤں فریکچر ہو گیا ہے۔ یہ صورتحال ہمارے کئی جاننے والے کو در پیش ہوئی ہے۔ دوسری طرف موٹر سائیکل سوار بھی لا پرواہی سے تیز ڈرائیونگ سے حادثات سے دو چار ہوتے ہیں۔ اس حوالہ سے مختلف واقعات کے بارے میں علم ہوتا رہتا ہے کہ فلاں دوست کا بیٹا موٹر سائیکل سے گر گیا یا کسی کو ٹکر مار دی ہے۔ موٹر کار والوں کو بھی موٹر سائیکل سواروں سے شکوے رہتے ہیں۔ کیونکہ ان کی گاڑیوں پر لگائی گئی خراشیں اور ڈنٹ ان ہی کی عنایت ہوتے ہیں۔ ہمارے موٹر سائیکل سوار اس تیزی سے واردات کرکے  ٹریفک کے ہجوم میں غائب ہو جاتے ہیں کہ ان کو تلاش کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا ہے۔

پولیس بارہا سنگل ویلنگ کرنے والوں کے خلاف آپریشن کے باوجود انہیں روکنے میں ناکام رہی ہے۔ اس طرح متاثرین موٹر سائیکل کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو تا جا رہا ہے۔ کوئی خوش قسمت ہی ہوگا جو کہ ان کی دی ہوئی چوٹوں اور زخموں سے محفوظ رہا ہو۔ کم از کم میرا کوئی کرم فرما ان سے نہیں بچا ہے۔ اس طرح موٹر سائیکل متاثرین میں پیدل چلنے والے، گاڑیوں میں سوار اور خود موٹر سائیکل چلانے والے بھی شامل ہیں۔ لہذا ہوشیار اور چوکنا رہیے۔ آپ نے اپنی جان کی حفاظت کو خود یقینی بنانا ہے۔ ذرا سی بے احتیاطی کی صورت میں کوئی بھی حادثہ پیش آسکتا ہے۔ جو کہ سٹریٹ کرائم کی صورت میں آپ کی نقدی اور مال سے محروم کر سکتا ہے۔ موٹر سائیکل کا مختلف اشکال میں کثیر استعمال پاکستانیوں کا اہم کارنامہ ہے۔