خام خیالی سے لبرل ازم تک
- تحریر افتخار بھٹہ
- بدھ 20 / دسمبر / 2017
- 6189
ہم پاکستان کی نظریاتی سیاست کا تجزیہ کریں تو معلوم ہوگا یہاں پر دائیں بازو کی جماعتیں اور پریشر گروپس مضبوط ہوئے ہیں جبکہ ترقی پسند اور روشن خیال جماعتیں اور اس مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے کمزور ہوئے ہیں۔ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد جنہیں سوشلسٹ کہا جاتا ہے اگر وہ معاشی مساوات کے حامی ہوں جبکہ جو لوگ آزادانہ خیالات اور روش خیالات کا اظہا ر کرتے ہیں انہیں سیکو لر کہا جاتا ہے۔ سیکولر ازم سے مراد رواداری اور دوسروں کے نظریات کو سننا اور برداشت کرنا ہے۔
پاکستان میں بائیں بازو کے گروپ منتشر دکھائی دیتے ہیں کیونکہ اس سے تعلق رکھنے والی جماعتیں ابھی تک ستر کی دہائی سے باہر نہیں نکل سکی ہیں۔ اور بے مقصد نظریاتی بحثوں میں مصروف ہیں جبکہ ان کے ساتھ ایک نیا۔ بیانیہ یہ بھی سامنے آیا ہے جنہیں لبرل کہا جاتا ہے۔ پیپلزپارٹی کے قیام کے بعد لبرل اور رجعت پسندی کی اصطلاحات سننے کو ملیں۔ لغت کے مطابق ہر وہ شخص جو کہ دوسروں کے طر ز زندگی اور نظریات کا احترام کرتا ہے وہ سیکولر یا لبرل کہلاتا ہے۔ پاکستان میں لبرل کو کئی القابات سے نوازا جاتا ہے دیسی اور جعلی لبرل ، منڈی کے لبرل، فاشٹ لبرل اور اب خون کے پیاسے لبرل۔ 2012 میں ہندوستانی صحافی پرکھا دات کو ایک ٹیلی ویژن انٹر ویو دیتے ہوئے عمران خان نے پاکستانی لبرلز کو فاشٹ قرار دیا تھا۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشن کو جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں روشن خیال طبقہ ان آپریشنز کی حمایت کرتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے خلاف ہیں۔ انہوں نے برملا طور پر پاک فوج کو فاٹا میں بھیجنے کی مخالفت کی تھی۔ یاد رہے کہ کپتان نے نیٹو سپلائی کو روکا طالبان سے مذاکرات پر زور دیا، ڈرون حملوں کی مخالفت کی اور حال ہی میں سمیع الحق کے ساتھ سیاسی اتحاد قائم کر لیا ہے۔ جماعت اسلامی اس کے ساتھ پہلے ہی صوبہ پختونخواہ کی حکومت میں اتحادی ہے۔
عمران خان کا شاید یہ مقصد ہو کہ انتہا پسندوں کو اپنے ساتھ ملانے سے قومی دھارے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ تضاد یہ ہے کہ خان دوسری طرف کراچی آپریشن پر یقین رکھتا ہے۔ کپتان کے لبرل ازم کے خلاف تازہ بیان کا یہ خلاصہ ہے جس میں عمران خان نے پہلے لبرل ازم کی تعریف اور مفہوم کو برطانوی جمہوریت کے تناظر میں بلا شبہ درست انداز میں بیان کیا لیکن پھر الزام لگایا پاکستان لبرل کے منہ کو خون لگ گیا ہے کیونکہ لبرلز انتہا پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کی حمایت کرتے ہیں۔ جن کے بارے میں کپتان کے دل میں نرم گوشہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کے بقول اے پی ایس پشاور، داتا دربار لاہور، کراچی میں عبداللہ شاہ غازی، اے این پی کے دفاتر اور دیگر مذہبی مقامات پر حملے کرنے اور دھماکوں میں ملوث افراد انتہائی پر امن تھے۔ اور ان کے منہ کو خون نہیں لگا تھا۔ بلکہ امن اور شانتی کی بات کرنے والے پڑھے لکھے لوگ ہیں مختلف نظریات اور مذاہب کو برداشت کرنے والے مٹھی بر لبرلز اور روشن خیال ہی اصل میں دہشت گرد ہیں۔
دوسری طرف سوشل میڈیا پر کپتان کے بیان پر تنقید کرنے والے بیشتر لبرلز اس حقیقت سے نا واقف ہیں۔ ماضی میں کئی لبرلزپر اسلام دشمنی اور غیر محب وطنی کے الزامات لگائے گئے۔ کئی کو غدارقرار دے کر جیلوں میں ڈالا گیا۔ سچ بولنے کی وجہ سے قتل ہو چکے ہیں اور کئی تو لبرل ازم کے بیانیے سے منحرف ہو کر خاموشی اختیار کر چکے ہیں۔ لبرل کون ہیں اور لبرل ازم کی اصطلاح کا کیا مطلب ہے۔ یہ لفظ آزادی سے ماخوذ ہے۔ لبرل دور جدید نظریات کے حامی ہوتے ہیں۔ یہ نظریات یورپ میں اٹھارویں صدی میں مقبول ہوئے جب لوگوں نے باد شاہتوں کے خلاف عوام کی بالا دستی کی جدو جہد شروع کی۔ انسانی غلامی کےخلاف تحریکیں اسی عہد میں شروع ہوئیں۔ مشہور لبرل فلاسفرز نے جان لاک ایڈم سمتھ، تھامسن پن ، تھامسن جیفرسن اور جان سیکورٹ شامل ہیں۔ موجودہ دور کے امریکی یہودی دانشور نوم چامسکی جو کہ لبرل ہیں پاکستان میں معروف ہیں۔ ہندوستان کی دانشور خاتون ارون دتی رائے کے لبرل خیالات ہندوستان کی قدامت پسند سوچ میں انسانی حقوق کے حوالہ سے نمایاں آواز ہیں۔ لبرل ازم ایک سیاسی ٹرم ہے جس کا مقصد انسانی حقوق کی پاسداری ، تحریر و تقریر کی آزادی ، چرچ اور ریاست کی علیحدگی ، جائیداد رکھنے کا حق، کاروبار کی آزادی وغیرہ شامل ہیں۔ اس کو کلاسک لبرل ازم کہا جاتا ہے۔ جبکہ ماڈرن لبرل ازم انسانی حقوق جس میں علاج معالجہ، روز گار اور تعلیم کی سہولیات شامل ہیں جس کو اب سوشل ڈیمو کریسی کہا جاتا ہے۔
ان نظریات کی بظاہر پرچارک پاکستان پیپلزپارٹی ہے۔ گزشتہ دنوں ملتان میں منعقد ہونے والے جلسہ عام میں بلاول بھٹو زرداری نے ڈیمو کریسی کے تخت پارٹی کے منشور کے خد و خال بیان کیے۔ لبرلز کے لئے بائیں اور قدامت پسند کیلئے دائیں کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ لبرلز بعض اوقات ترقی پسند کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ پاکستان میں دو قسم کے لبرلز ہیں۔ ایک پرائیویٹ سیکٹرفری مارکیٹ اکانومی اور پرائیوٹ پراپرٹی کے حامی ہیں دوسرامارکس ازم کا حامی ہے۔ یہ دونوں گروپ مذہبی آزادیوں انسانی حقوق اور جمہوریت کے حامی ہیں۔ یہ دونوں علاقائی امن اور ہمسایوں کے ساتھ بہتر تعلقات کے حامی ہیں۔ لبرل انسانی حقوق کے خلاف ہونے والے ظلم و ستم اور زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ پاکستان میں لبرل ازم کے حوالے سے آواز اٹھانے میں اے این پی کی قیادت اور پیپلزپارٹی شامل ہیں جن کی قیادتوں پر انتہا پسندوں نے حملے کیے۔ عاصمہ جہانگیر، آئی اے رحمان، حسین نقی، شفقت تنویر مرزا، پرویز ہوود بھائی وغیرہ لبرل ازم کے علمبردار ہیں۔ بیشتر این جی اوز کی قیادت جو کہ بائیں بازو کے منحرف راہنماؤں اور کارکنوں پر مشتمل ہے، وہ اپنے بہتر روز گار کی خاطر لبرل ایجنڈے کی حمایت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستان میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے نظریاتی افراد میں سجاد ظہیر ، فیض احمد فیض، حبیب جالب، سی آر اسلم، میجر اسحاق محمد، محمد افضل بنگش، حسن نثار، شیخ رشید احمد اور معراج محمد خان وغیرہ شامل ہیں۔ موجودہ دور میں سوشلسٹ سماج کیلئے جدو جہد کرنے والوں میں سید طفیل عباس، ڈاکٹر لال خان، عابد حسن منٹو، حسین نقوی ، فاروق طارق، فنوس گجر، اختر حسین، پروفیسر عزیز الدین، ابرار احمد، لال بینڈ اور دوسرے گروپ شامل ہیں۔ بائیں بازو کی جماعتوں میں عوامی مرکز پارٹی ، پاکستان برابری پارٹی ، کمیونسٹ مزدور کسان پارٹی ،طبقاتی جدو جہد گروپ، نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن، قومی مزدور محاذ وغیرہ شامل ہیں۔ سیکو لرازم اور لبرل ازم کے حوالے سے پیپلز پارٹی ہی ملک گیر جماعت ہے جبکہ نیشنل پارٹی اور اے این پی وغیرہ قوم پرست جماعتیں ہیں۔ مگر بظاہری سیکولر آؤٹ لک رکھتی ہیں۔ پاکستان کی دھرتی کے صوفی شاعر بھلے شاہ، شاہ عبدالطیف بھٹائی، شاہ حسین، رحمان بابا اور وارث شاہ لبرل نظریات کے حامی تھے۔ اور ہمیشہ انسانی روا داری اور محبتوں کی بات کی تھی۔ موجودہ سیاسی اور سماجی منظر نامے پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا دائیاں بازو سیکولرازم کےخلاف جنگ جیت چکا ہے۔ اب دائیں بازو کی جماعتیں ہی سیاسی افق پر چھائی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔
ان کی جیت کی وجہ ریاست کی مختلف ادوار میں ان جماعتوں اور پریشر گروپوں کی سر پرستی ہے۔ ایوب خان سے لے کر ضیاء الحق تک ان گروہوں کو سویت یونین کے خلاف افغان جنگ اور دیگر ادوار میں ابھارا گیا جبکہ بائیں بازو کے لوگ زیر اعتاب رہے۔ صدر مشرف ظاہری طور پر لبرل تھا مگر اس نے اپنے اقتدار کو محفوظ بنانے کیلئے مذہبی جماعتوں پر متحدہ مجلس عمل بنا کر انہیں شریک اقتدار کیا، جس کے پختونخواہ کی سیاست سماجیت اور ثقافت پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ مذہبی انتہا پسندی میں اضافہ ہوا۔ بائیں بازو کے لوگ ماضی میں ہمیشہ زیر عتاب رہے ہیں اور آج بھی بعض جماعتیں سیکو لر ازم کے حوالے سے بیان بازی میں مصروف ہیں۔ آج ان گروپوں کو جمہوریت اور انسانی حقوق کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جس سے سماج کو مذہبی فرقہ وارانہ سطح پرمنافرتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ لبرل خیالات ہی تھے جو انسانی تاریخ کے تین انقلابات کی بنیا د بنے۔ اس میں پہلا انگلستان کا انقلاب تھا جس میں شاہ انگلستان جمز دوم کا تختہ الٹا گیا۔ 1765سے1783کے درمیان مختلف بغاوتوں کے ذریعے 13ریاستوں پر مشتمل ریاست ہائے متحدہ امریکہ قائم ہوئی۔ تیسرا فرانسیسی انقلاب تھا جس نے فرانسی بادشاہت کو ختم کیا۔
لبرل ریڈ یکل نظریات نے جدید انسانی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ دنیا میں کمیونسٹ انقلاب چین ، روس، شمالی کوریا وغیرہ میں برپا ہوئے جس میں محنت کشوں کی بھرپور شراکت شامل تھی۔ تاریخی اعتبار سے روشن خیالی (لبرل ازم) ایک تخلیقی اور اصلاحی تحریک تھی اور اس کی بنیاد آزادی تھی۔ ہمارے دور میں لبرل ازم کو قدامت پسند نظریات رکھنے والے لوگوں کی مخالفت کا سامنا ہے۔ روشن خیالی طاقت کا سر چشمہ عوام کو سمجھتی ہے۔ عوام کو رجعت پسندوں کی رومانیت پسندی اور خیالی دنیا سے نکال کر عقلی سائنس پر مبنی طرز فکر عمل کی دعوت دیتی ہے تاکہ یہاں پر انسان دوست نظریات پر مبنی سماج کے قیام کو یقینی بنایا جا سکے۔ جس کیلئے تمام روشن خیال اور ترقی پسند گروپوں کو ایک سیاسی پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے۔ ہمارے بائیں بازو کے بعض رہنما پیپلز پارٹی پر بے جا تنقید کرتے رہتے ہیں مگر انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے پاکستان میں سیکو لرازم کی سب سے بڑی حامی پیپلز پارٹی ہے۔ اور اس کے زوال پذیر ہونے کی وجہ سے پاکستان میں روشن خیال سیاست کے باب کو بند ہو سکتا ہے۔